Awan & Awan Law Associates

Awan & Awan Law Associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Awan & Awan Law Associates, Lawyer & Law Firm, 2nd Floor , Miccope centre , 1-Mazang Road, Lahore.

We provide comprehensive legal services in Criminal, Civil, and Service Laws before superior and subordinate courts across Lahore, Islamabad, Rawalpindi, and Mianwali.

مشترکہ وراثتی جائیداد بطور حقِ مہر: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہسپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ مشترکہ وراثتی جائیداد...
26/09/2026

مشترکہ وراثتی جائیداد بطور حقِ مہر: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ مشترکہ وراثتی جائیداد کا کوئی شریک مالک اپنی وراثتی حصے سے زائد جائیداد منتقل نہیں کر سکتا۔ نکاح نامے میں درج حقِ مہر بھی صرف اسی حد تک مؤثر ہو سکتا ہے جس حد تک شوہر یا نکاح نامے پر دستخط کرنے والے شخص کا جائیداد میں اپنا قانونی حصہ ہو۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی عدالتی فیصلے کو دھوکا دہی یا غلط بیانی کی بنیاد پر چیلنج کرنا ہو تو ضابطۂ دیوانی کی دفعہ 12(2) کے تحت درخواست اسی عدالت میں دائر کی جائے گی جس نے حتمی فیصلہ صادر کیا ہو۔ ماتحت عدالت کا فیصلہ اعلیٰ عدالت کے حتمی فیصلے میں ضم ہونے کے بعد چیلنج بھی اعلیٰ عدالت کے حتمی فیصلے کو کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی کہ نکاح رجسٹرار حقِ مہر میں جائیداد درج کرنے سے پہلے شوہر کے ملکیتی حق کی تصدیق کریں، تاکہ غیر ضروری مقدمات سے بچا جا سکے۔

حوالہ: Noman Rasheed and others v. Mst. Nighat Miandad and others, 2026 SCMR 1298
فیصلہ: سپریم کورٹ آف پاکستان، مورخہ 6 اپریل 2026

⸻

مقدمے کا خلاصہ

بیوی نے حقِ مہر اور دیگر ریلیف کے لیے اپنے شوہر اور ساس کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ نکاح نامے میں ایک مکان حقِ مہر کے طور پر درج تھا اور مقدمے کے نتیجے میں بیوی کو مکان کے قبضے کی ڈگری ملی۔ شوہر اور اس کی والدہ نے بعد میں مؤقف اختیار کیا کہ مکان شوہر کے والد کی ملکیت تھا، جو نکاح سے پہلے وفات پا چکے تھے؛ اس لیے مکان پہلے ہی تمام قانونی ورثاء میں منتقل ہو چکا تھا اور شوہر یا اس کی والدہ پورا مکان حقِ مہر میں نہیں دے سکتے تھے۔

سپریم کورٹ نے اصول طے کیا کہ شریک وارث صرف اپنا وراثتی حصہ منتقل کر سکتا ہے؛ دوسرے ورثاء کے حصوں پر ایسا تصرف ان کے حقوق کے خلاف مؤثر نہیں ہوگا۔ تاہم دفعہ 12(2)، ضابطۂ دیوانی کی درخواست اسی عدالت کے سامنے دائر کرنا لازم ہے جس نے حتمی فیصلہ دیا ہو۔ جب اعلیٰ عدالت ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے حتمی فیصلہ دے دے تو ماتحت عدالت کا فیصلہ اعلیٰ عدالت کے فیصلے میں ضم ہو جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے درخواست خارج کی، مگر غیر فریق قانونی ورثاء کو متعلقہ حتمی فیصلے کے خلاف دفعہ 12(2) کے تحت مناسب فورم سے رجوع کرنے کی آزادی دی۔ عدالت نے نکاح رجسٹراروں کو بھی ہدایت کی کہ حقِ مہر میں جائیداد درج کرنے سے پہلے ملکیت کی تصدیق کریں

⚖️ جہیز/حقِ مہر میں کسی تیسرے شخص کی جائیداد شامل کرنے کے لیے مالک کی واضح رضامندی ضروری ہےسپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار...
26/09/2026

⚖️ جہیز/حقِ مہر میں کسی تیسرے شخص کی جائیداد شامل کرنے کے لیے مالک کی واضح رضامندی ضروری ہے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی تیسرے شخص کی ملکیتی جائیداد کو حقِ مہر کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، جب تک مالک کی واضح، غیر مبہم اور قابلِ اعتماد رضامندی ثابت نہ ہو۔

مقدمہ: Sher Alam Khan v. Mst. Fozia Tabassum Afridi and others
حوالہ: 2026 SCMR 1293
فیصلہ: 30 مارچ 2026

اس مقدمے میں ایک کنال پلاٹ کو حقِ مہر میں شامل کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ پلاٹ کے مالک سسر نے نکاح نامے پر دستخط کرنے اور بعد میں کیے گئے مبینہ معاہدے کی تصدیق سے انکار کیا۔ سپریم کورٹ نے ریکارڈ میں موجود شواہد کا جائزہ لیا، جن سے مبینہ معاہدے پر دستخط اور مالک کی رضامندی ثابت نہ ہو سکی۔ ریونیو ریکارڈ بھی پلاٹ کی ملکیت سسر کے نام ظاہر کرتا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے پلاٹ کو حقِ مہر قرار دینے والی حد تک ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم کر دیے، جبکہ باقی فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ماتحت عدالتیں اہم شواہد نظرانداز کریں یا قانون کے خلاف نتیجہ اخذ کریں تو محض “متفقہ نتائجِ حقیقت” کی بنیاد پر ایسی قانونی غلطی برقرار نہیں رہ سکتی۔

قانونی اصول: تیسرے شخص کی جائیداد کو حقِ مہر میں شامل کرنے کے لیے مالک کی رضامندی واضح طور پر ثابت کرنا ضروری ہے۔

مقدمے کا مختصر خلاصہ

بیوی نے حقِ مہر میں سونے کے زیورات، رقم اور ایک کنال پلاٹ کی وصولی کا دعویٰ کیا۔ پلاٹ کے مالک، جو شوہر کے والد تھے، نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ نہ نکاح نامے کے فریق تھے اور نہ ہی انہوں نے پلاٹ حقِ مہر میں دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ مبینہ بعد از نکاح “کابین نامہ” کے اجرا اور دستخط بھی ثابت نہ ہو سکے، جبکہ متعلقہ ریونیو ریکارڈ میں پلاٹ سسر کی ملکیت ظاہر تھا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تیسرے شخص کی ملکیت کو اس کی واضح اور ثابت شدہ رضامندی کے بغیر حقِ مہر نہیں بنایا جا سکتا۔ چنانچہ پلاٹ کو حقِ مہر قرار دینے کا فیصلہ ختم کر دیا گیا، تاہم باقی نتائج برقرار رہے

 الحمدللہ! اعوان اینڈ اعوان لاء ایسوسی ایٹس کی ایک اور کامیابیکیس: امتیاز حسین بنام وفاقِ پاکستان وغیرہاپیل نمبر: 114(R...
20/09/2026

 الحمدللہ! اعوان اینڈ اعوان لاء ایسوسی ایٹس کی ایک اور کامیابی

کیس: امتیاز حسین بنام وفاقِ پاکستان وغیرہ
اپیل نمبر: 114(R)CS/2023
فورم: وفاقی سروس ٹربیونل، اسلام آباد
فیصلے کی تاریخ: 23.07.2026

اپیل کنندہ امتیاز حسین، سیکشن آفیسر (BS-17)، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، اس سے قبل NESCOM/SPD میں باقاعدہ سرکاری ملازم تھا۔ اس نے CSS امتحان پاس کرنے کے بعد proper channel کے ذریعے، بغیر کسی تعطل کے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن جوائن کیا۔ سابقہ ادارے میں اس کی تنخواہ زیادہ تھی، لیکن محکمے نے صرف اس بنیاد پر پے پروٹیکشن دینے سے انکار کر دیا کہ NESCOM/SPD میں Special Pay Scales رائج تھے۔

وفاقی سروس ٹربیونل نے قرار دیا کہ Special Pay Scale اور Basic Pay Scale کا فرق، مقدمے کے مخصوص حالات میں، پے پروٹیکشن سے انکار کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ جو ملازم proper channel کے ذریعے بغیر وقفے کے نئی سرکاری ملازمت اختیار کرے، اسے اس کی سابقہ آخری تنخواہ کے مقابلے میں مالی نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ اسی نوعیت کے دیگر ملازمین کو فائدہ دے کر اپیل کنندہ کو محروم رکھنا امتیازی اور قانون کے خلاف ہے۔

نتیجتاً، ٹربیونل نے اپیل منظور کرتے ہوئے مورخہ 12.01.2023 کا متنازع حکم کالعدم قرار دیا اور جواب دہندگان کو ہدایت کی کہ اپیل کنندہ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں شمولیت کی تاریخ سے، سابقہ ادارے میں حاصل کردہ آخری تنخواہ کے مطابق، پے پروٹیکشن بمعہ تمام نتیجہ خیز مالی و سروس فوائد فراہم کیے جائیں۔

اپیل کنندہ کی جانب سے ملک سلیم اقبال اعوان، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے مقدمے کی کامیاب پیروی کی


الحمدللہ کل ہمارے لاہور بنچ لاہور ہائیکورٹ میں یہ کیس فکس ہیں
20/09/2026

الحمدللہ کل ہمارے لاہور بنچ لاہور ہائیکورٹ میں یہ کیس فکس ہیں

الحمدللہ کل ہمارے راولپنڈی بنچ لاہور ہائیکورٹ میں یہ کیس فکس ہیں
20/09/2026

الحمدللہ کل ہمارے راولپنڈی بنچ لاہور ہائیکورٹ میں یہ کیس فکس ہیں

اہم سروس لا فیصلہ — بلا ثبوت محکمانہ سزا کالعدمShahid Abbas Gillani v. Regional Police Officer, Rawalpindi Region and ot...
19/09/2026

اہم سروس لا فیصلہ — بلا ثبوت محکمانہ سزا کالعدم

Shahid Abbas Gillani v. Regional Police Officer, Rawalpindi Region and others
2026 PLC (C.S.) 1055
Punjab Service Tribunal
Appeal No. 3146 of 2024
فیصلہ مؤرخہ: 27 مئی 2025

پنجاب سروس ٹربیونل نے پولیس انسپکٹر کی برطرفی ختم کرتے ہوئے اسے ملازمت پر بحال کردیا۔

ٹربیونل نے قرار دیا کہ محکمانہ انکوائری میں محض الزامات دہرانا کافی نہیں۔ الزام ثابت کرنا محکمہ کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے قابلِ اعتماد شہادت پیش کرنا، گواہان کے بیانات قلم بند کرنا اور ملازم کو مؤثر دفاع کا پورا موقع دینا ضروری ہے۔ کسی ملازم کو اس کے دفاع کی مبینہ کمزوری، مفروضوں یا قیاس آرائیوں کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاسکتی۔

انکوائری افسر نے نہ کوئی استغاثہ کا گواہ پیش کیا، نہ اپیل کنندہ کے بیان پر جرح کی اور نہ ہی کوئی ٹھوس مواد ریکارڈ پر لایا۔ مزید برآں، اصل تفتیش سب انسپکٹر کے سپرد تھی، اس لیے محض SHO ہونے کی بنیاد پر اپیل کنندہ کو ناقص تفتیش کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا تھا۔

ٹربیونل نے یہ بھی واضح کیا کہ دو مختلف چارج شیٹس پر شروع کی گئی الگ الگ کارروائیوں کو ایک ہی مشترکہ حکم کے ذریعے نمٹانا قانونی طور پر درست نہیں؛ ہر چارج شیٹ کی کارروائی آزادانہ طور پر مکمل کرنا ضروری ہے۔

چنانچہ برطرفی اور محکمانہ اپیل مسترد کرنے کے احکامات کالعدم قرار دے کر اپیل کنندہ کو ملازمت پر بحال کردیا گیا، جبکہ ملازمت سے باہر رہنے کی مدت کو واجب الادا رخصت شمار کرنے کا حکم دیا گیا۔

قانونی اصول:
“محکمانہ سزا الزام، قیاس یا انکوائری افسر کی محض سفارش پر نہیں بلکہ ریکارڈ پر موجود ٹھوس، قابلِ اعتماد اور ملزم ملازم سے منسوب شہادت کی بنیاد پر ہی دی جاسکتی ہے۔”

18/09/2026
شراکت داری کے کاروباری تنازع کو فوجداری مقدمہ نہیں بنایا جا سکتالاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شراکت داری کے کاروبار ...
08/09/2026

شراکت داری کے کاروباری تنازع کو فوجداری مقدمہ نہیں بنایا جا سکتا

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شراکت داری کے کاروبار میں حسابات، آمدن یا نقصان سے متعلق اختلاف بنیادی طور پر دیوانی نوعیت کا معاملہ ہے۔ محض کاروباری نقصان یا معاہدے کی خلاف ورزی کی بنیاد پر دفعہ 406 تعزیراتِ پاکستان کے تحت امانت میں خیانت کا مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔

فوجداری خیانت ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ:

1۔ مخصوص مال یا جائیداد باقاعدہ طور پر ملزم کے سپرد کی گئی ہو؛ اور
2۔ ملزم نے بددیانتی سے اسے اپنے استعمال میں لا کر اصل مالک کو نقصان پہنچایا ہو۔

عدالت نے واضح کیا کہ شراکت داری کے اثاثوں پر تمام شراکت داروں کا مشترکہ حق ہوتا ہے۔ لہٰذا کسی شریک کے خلاف دفعہ 406 صرف اسی صورت میں لاگو ہوسکتی ہے جب کسی خاص معاہدے کے تحت کوئی مخصوص اثاثہ بطور امانت اس کے حوالے کیا گیا ہو اور اس نے اسے بددیانتی سے خوردبرد کیا ہو۔

زیرِ سماعت مقدمے میں فریقین کے درمیان اسٹون کریشر کے کاروبار، نقصان اور حسابات کا تنازع تھا۔ شکایت کنندہ پہلے ہی حسابات کے تعین کے لیے سول مقدمہ دائر کر چکا تھا اور معاملہ ثالثی میں بھی بھیجا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر بظاہر مخالف فریق پر دباؤ ڈالنے کے لیے درج کرائی گئی اور دفعہ 406 کے بنیادی اجزاء موجود نہیں تھے۔

چنانچہ لاہور ہائی کورٹ نے محمد فہیم کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے عبوری ضمانت کی توثیق کردی۔

حوالہ:
Muhammad Saleem and others v. The State and others
2024 MLD 309 (Lahore)
فیصلہ مورخہ: 23 فروری 2022

مختصر خلاصۂ مقدمہ

محمد سلیم نے اسٹون کرشنگ پلانٹ خریدا اور شکایت کنندہ کے ساتھ مل کر کاروبار شروع کیا۔ شکایت کنندہ نے تقریباً 19 ماہ کاروبار چلایا لیکن نقصان ہوا۔ بعدازاں محمد سلیم اور محمد فہیم نے کاروبار سنبھالا، مگر بہتر نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ فریقین نے کاروباری نقصان اور آمدن کے بارے میں ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے کی مشینری ملزمان کے سپرد کی گئی تھی جسے انہوں نے خوردبرد کرلیا، لہٰذا دفعہ 406 کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی۔ دوسری طرف حسابات کے تعین کا سول مقدمہ پہلے ہی زیرِ التوا تھا اور معاملہ ثالثی میں بھی جا چکا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:

* مخصوص مشینری کو بطور امانت سپرد کرنے کا عنصر ثابت نہیں ہوا۔
* تنازع دراصل شراکت داری کے کاروبار، آمدن، نقصان اور حسابات سے متعلق تھا۔
* شراکت دار فرم کے اثاثوں پر مشترکہ حق رکھتے ہیں۔
* خصوصی معاہدے کے تحت مخصوص اثاثہ سپرد کیے بغیر دفعہ 406 لاگو نہیں ہوتی۔
* ایف آئی آر بظاہر دوسرے فریق پر دباؤ ڈالنے کے لیے درج کرائی گئی تھی۔

نتیجتاً محمد فہیم کی قبل از گرفتاری ضمانت دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی گئی۔ محمد سلیم کی درخواست اس کی عدم حاضری کے باعث پہلے ہی خارج ہو چکی تھی

محکمانہ تاخیر کا نقصان ملازم کو نہیں دیا جا سکتا — سپریم کورٹفیس بک پوسٹ:سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرکاری ملازمین کی ترقی...
06/09/2026

محکمانہ تاخیر کا نقصان ملازم کو نہیں دیا جا سکتا — سپریم کورٹ

فیس بک پوسٹ:

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی ملازم مروجہ سروس رولز کے تحت ترقی کے لیے مطلوبہ اہلیت پوری کر چکا ہو تو اسے انہی قواعد کے مطابق ترقی کے لیے زیرِ غور لائے جانے کا قانونی حق اور جائز توقع حاصل ہو جاتی ہے۔

محکمہ محض اس بنیاد پر ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کا اجلاس مؤخر نہیں کر سکتا کہ ترقی کے نئے قواعد زیرِ غور ہیں۔ اگر محکمے کی اپنی انتظامی کوتاہی یا تاخیر کے دوران نئے قواعد نافذ ہو جائیں تو ان قواعد کو سابقہ تاریخ سے نافذ کرکے پہلے سے اہل ملازمین کو ترقی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:

• سروس رولز میں ترمیم اصولاً مستقبل کے لیے نافذ ہوتی ہے۔
• ایسی ترمیم جو ملازم کی سنیارٹی یا ترقی کے لیے پہلے سے حاصل شدہ اہلیت کو متاثر کرے، اسے سابقہ تاریخ سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
• قواعد کو سابقہ اثر دینے کے لیے بنیادی قانون میں واضح اختیار ہونا ضروری ہے۔
• DPC کو نہ قواعد میں ترمیم کا انتظار کرتے ہوئے اجلاس مؤخر کرنے کا اختیار ہے اور نہ ہی یہ فیصلہ کرنے کا کہ نئے قواعد سابقہ تاریخ سے نافذ ہوں گے۔
• محکمانہ غفلت اور تاخیر کا نقصان اہل ملازمین پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے محکمے کی درخواستیں خارج کر دیں

مقدمے کا خلاصہ:

عنایت اللہ اور دوسرے ملازم کو 1986 میں سب انجینئر BS-12 تعینات کیا گیا، بعدازاں ان کی اسامی BS-16 میں اپ گریڈ ہوئی۔ مروجہ قواعد کے تحت وہ اسسٹنٹ انجینئر BS-17 کے عہدے پر ترقی کے لیے اہل ہو گئے اور ان کے ورکنگ پیپرز بھی تیار کر لیے گئے۔

تاہم محکمہ نے یہ کہتے ہوئے DPC کا اجلاس ملتوی کردیا کہ ترقی کے نئے قواعد زیرِ غور ہیں۔ بعد میں 20 جنوری 2023 کو نئے قواعد نافذ ہوئے، جن کے تحت ان ملازمین کو ترقی کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ محکمانہ اپیلوں کا فیصلہ نہ ہونے پر انہوں نے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل سے رجوع کیا۔ ٹربیونل نے اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں ان قواعد کے مطابق ترقی کے لیے حق دار قرار دیا جو ان کے اہل ہونے کے وقت نافذ تھے۔

محکمہ سپریم کورٹ گیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ترقی کا باقاعدہ حکم جاری ہونے تک کسی ملازم کو ترقی کا مستقل حق حاصل نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ ترقی بذاتِ خود ناقابلِ تنسیخ حق نہیں، لیکن اہلیت پوری کرنے والے ملازم کو اس وقت نافذ قواعد کے تحت ترقی کے لیے زیرِ غور لائے جانے کا حق اور جائز توقع ضرور حاصل ہوتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ DPC کے اجلاس میں تاخیر مکمل طور پر محکمے کی انتظامی ناکامی تھی، جس کا نقصان ملازمین کو نہیں دیا جا سکتا۔ بعد میں بنائے گئے قواعد کو سابقہ اثر دے کر پہلے سے حاصل شدہ اہلیت ختم کرنا غیر قانونی، من مانی اور اصولِ جائز توقع کے منافی ہے۔ چنانچہ سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے محکمے کی درخواستیں خارج کر دی گئیں

06/09/2026

Address

2nd Floor , Miccope Centre , 1-Mazang Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 07:30 - 21:00
Tuesday 07:30 - 21:00
Wednesday 07:30 - 21:00
Thursday 07:30 - 21:00
Friday 07:30 - 21:00
Saturday 07:30 - 16:00

Telephone

+923006090812

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awan & Awan Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Awan & Awan Law Associates:

Shortcuts

Share