26/09/2026
مشترکہ وراثتی جائیداد بطور حقِ مہر: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ مشترکہ وراثتی جائیداد کا کوئی شریک مالک اپنی وراثتی حصے سے زائد جائیداد منتقل نہیں کر سکتا۔ نکاح نامے میں درج حقِ مہر بھی صرف اسی حد تک مؤثر ہو سکتا ہے جس حد تک شوہر یا نکاح نامے پر دستخط کرنے والے شخص کا جائیداد میں اپنا قانونی حصہ ہو۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی عدالتی فیصلے کو دھوکا دہی یا غلط بیانی کی بنیاد پر چیلنج کرنا ہو تو ضابطۂ دیوانی کی دفعہ 12(2) کے تحت درخواست اسی عدالت میں دائر کی جائے گی جس نے حتمی فیصلہ صادر کیا ہو۔ ماتحت عدالت کا فیصلہ اعلیٰ عدالت کے حتمی فیصلے میں ضم ہونے کے بعد چیلنج بھی اعلیٰ عدالت کے حتمی فیصلے کو کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی کہ نکاح رجسٹرار حقِ مہر میں جائیداد درج کرنے سے پہلے شوہر کے ملکیتی حق کی تصدیق کریں، تاکہ غیر ضروری مقدمات سے بچا جا سکے۔
حوالہ: Noman Rasheed and others v. Mst. Nighat Miandad and others, 2026 SCMR 1298
فیصلہ: سپریم کورٹ آف پاکستان، مورخہ 6 اپریل 2026
⸻
مقدمے کا خلاصہ
بیوی نے حقِ مہر اور دیگر ریلیف کے لیے اپنے شوہر اور ساس کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ نکاح نامے میں ایک مکان حقِ مہر کے طور پر درج تھا اور مقدمے کے نتیجے میں بیوی کو مکان کے قبضے کی ڈگری ملی۔ شوہر اور اس کی والدہ نے بعد میں مؤقف اختیار کیا کہ مکان شوہر کے والد کی ملکیت تھا، جو نکاح سے پہلے وفات پا چکے تھے؛ اس لیے مکان پہلے ہی تمام قانونی ورثاء میں منتقل ہو چکا تھا اور شوہر یا اس کی والدہ پورا مکان حقِ مہر میں نہیں دے سکتے تھے۔
سپریم کورٹ نے اصول طے کیا کہ شریک وارث صرف اپنا وراثتی حصہ منتقل کر سکتا ہے؛ دوسرے ورثاء کے حصوں پر ایسا تصرف ان کے حقوق کے خلاف مؤثر نہیں ہوگا۔ تاہم دفعہ 12(2)، ضابطۂ دیوانی کی درخواست اسی عدالت کے سامنے دائر کرنا لازم ہے جس نے حتمی فیصلہ دیا ہو۔ جب اعلیٰ عدالت ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے حتمی فیصلہ دے دے تو ماتحت عدالت کا فیصلہ اعلیٰ عدالت کے فیصلے میں ضم ہو جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے درخواست خارج کی، مگر غیر فریق قانونی ورثاء کو متعلقہ حتمی فیصلے کے خلاف دفعہ 12(2) کے تحت مناسب فورم سے رجوع کرنے کی آزادی دی۔ عدالت نے نکاح رجسٹراروں کو بھی ہدایت کی کہ حقِ مہر میں جائیداد درج کرنے سے پہلے ملکیت کی تصدیق کریں