Advocate Rana Nauman Ashraf

Advocate Rana Nauman Ashraf We're providing legal services all over Pakistan. Contact us for Legal Consultancy.
03073765212.

29/04/2026

PLJ -2026- SC- 21

🚨 بڑی خبر: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ - اب بلاوجہ
گرفتاری نہیں ہوگی! 🚨
​سپریم کورٹ آف پاکستان نے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest Bail) کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور جدید قانونی اصول واضح کر دیا ہے۔
​فیصلہ کیا ہے؟ ⚖️
​عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ:
​"اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت خارج ہونے کی صورت میں وہ بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار بن جائے گا، تو ایسی صورت میں ملزم کو جیل بھیجنا محض ایک 'کاغذی کارروائی' (Procedural Formality) ہوگی جس کا کوئی تعمیری مقصد نہیں ہے۔"
​اس کا آسان مطلب کیا ہے؟
​اکثر کیسز میں پولیس اور مخالف فریق صرف ملزم کو ذلیل کرنے کے لیے جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ اگر کیس ایسا ہے جس میں بعد میں ضمانت ملنی ہی ملنی ہے، تو ملزم کو صرف "رسم پوری کرنے" کے لیے جیل میں ڈالنا انسانی وقار اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

​📖 PLJ 2026 Supreme Court (Criminal) 21
کیس: محمد اختر بنام سرکار (Muhammad Akhtar Vs State)
۔

2026  PCrLJ  472.    Summoning of witness---Scope---Application filed by the petitioner for summoning of Control Room Wi...
28/04/2026

2026 PCrLJ 472.

Summoning of witness---Scope---Application filed by the petitioner for summoning of Control Room Wireless Operator/Moharrar as Court witness was dismissed---Validity---Petitioner/accused had sought the summoning of Control Room Wireless Operator/Moharrar along with record/register regarding Rapts dated 18.05.2023 as Court Witness maintaining that on the said date, three calls were made at Rescue 15 with the report that one person inflicted injuries to another person and according to the 3rd call an information was laid to the effect that one person gave information that somebody made fire shot at his cousin, who passed away at hospital---Said witness and record was essential for a just decision of the case---Petitioner/accused claimed that according to calls made to Rescue 15 on 18.05.2023, no person was mentioned as accused, as such its production was necessary for the just decision of the case---Said documents/Rapts were relevant under Art.24 of Qanun-e-Shahadat, 1984---Summoning, production and use of the said documents may make the the existence or non-existence of a fact highly probable or improbable, as such were essential for the just decision of the case---"Just" means right, fair and well founded---Moreover, it is always duty of the Court to make every effort that no aspect of the case should be left unattended, therefore, the Trial Court, while passing the impugned order dated 17.05.2025, refusing to summon the said witness along with record, committed material irregularity---Trial Court failed to exercise discretion judiciously and did not record any substantial reason for rejecting the application, despite the witness being relevant and material.

2026  PCrLJ  577     Striking down right of cross-examination---Legality---Petitioner's right of cross-examination of tw...
28/04/2026

2026 PCrLJ 577

Striking down right of cross-examination---Legality---Petitioner's right of cross-examination of two prosecution witnesses was closed---Validity---Perusal of record revealed that petitioner was booked in the present case whereby charge against him was framed and subsequently the prosecution was directed to lead its evidence---On 16.05.2025 due to the non- appearance of the petitioner before the Trial Court not only his right to cross-examine the prosecution witness was closed but his non-bailable warrants of arrest were also issued---Thereafter on 14.06.2025 right of the petitioner to cross-examine another prosecution witness was also closed---Trial Court did not consider it appropriate to appoint State Counsel to cross-examine those two material witnesses nor put any question to them and passed the impugned order without any legal justificationwhile ignoring the fact that accused was facing charge of capital offence---Article 10 of the Constitution guaranteed legal aid to an arrested person---Said constitutional right had been protected by the codified law---Section 340(1), Cr.P.C., statutorily recognized the right of an accused to be defended---Such right of an accused of an offence entailing capital punishment was further elaborated under Chapter 24-C of Volume-III of the High Court (Lahore) Rules and Orders---Said provisions were crystal clear that a person arrested had a constitutional right to the services of a counsel, therefore, he must be given reasonable opportunity to engage a counsel and the counsel engaged must be given reasonable opportunity to defend him---Basic principle underlying this exercise appeared to be that no one should be condemned unheard---Impugned orders prima facie appeared to be passed in sheer violation of law---Thus, the orders dated 16.05.2025 and 14.06.2025 passed by Trial Court were not sustainable in the eye of law, therefore, same were set- aside---As a sequel thereof, petitioner was afforded reasonable opportunity to cross-examine both the prosecution witnesses---If counsel of petitioner did not appear to cross-examine the witnesses, the Trial Court shall be at liberty to appoint counsel at State expenses to meet the requirement of law-

28/04/2026

(Guardians & Wards Act, Custody Case)
⚖️ دفعہ 25 گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ — نابالغ بچی کی حوالگی
نابالغ بچی کی کسٹڈی (حوالگی) کے معاملے میں بنیادی اصول بچی کی فلاح و بہبود (Welfare of Minor) ہوتا ہے۔
باپ چونکہ نابالغ کا قدرتی سرپرست (Natural Guardian) ہوتا ہے، اس لیے اسے ترجیحی حق حاصل ہوتا ہے۔
اس کیس میں:
درخواست گزار نانی (maternal grandmother) تھی، جس نے بچیوں کی حوالگی باپ سے مانگی۔
عدالت نے قرار دیا کہ:
باپ ہی قدرتی سرپرست ہے
بچی اسکول میں زیرِ تعلیم ہے
اس کی فلاح باپ کے ساتھ ہی ہے
📖 محمدن لا (Muhammadan Law) کی دفعات
🔹 پیرا 353
اگر ماں موجود نہ ہو تو خواتین رشتہ داروں کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔
🔹 پیرا 355 (اہم)
اگر خواتین رشتہ دار نہ ہوں تو پھر مرد رشتہ داروں کی ترتیب یہ ہوگی:
باپ
دادا
سگا بھائی
سوتیلا بھائی
سگے بھائی کا بیٹا
سوتیلے بھائی کا بیٹا
چچا
سوتیلے چچا
باپ کا بیٹا
چچا کے بیٹے
📌 شرط:
کوئی مرد غیر شادی شدہ لڑکی کی کسٹڈی نہیں لے سکتا جب تک وہ محرم رشتہ دار نہ ہو۔
📌 اگر کوئی بھی اہل نہ ہو تو عدالت سرپرست مقرر کرے گی۔
🏛️ عدالت کا فیصلہ
دونوں نچلی عدالتوں نے شواہد کا درست جائزہ لیا
یہ ثابت ہوا کہ:
باپ بچوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکتا ہے
بچی تعلیم حاصل کر رہی ہے
باپ نے دوسری شادی بھی نہیں کی
👉 اس لیے عدالت نے قرار دیا کہ: بچی کی فلاح باپ کے ساتھ ہے
⚖️ آئینی درخواست (Article 199)
عدالت نے واضح کیا کہ:
ہائی کورٹ آئینی اختیار میں اپیل کورٹ کا کردار ادا نہیں کر سکتی
صرف اس بنیاد پر فیصلہ تبدیل نہیں ہو سکتا کہ:
شواہد کو مختلف انداز میں دیکھا جا سکتا تھا
📌 نتیجہ
باپ کو نابالغ بچیوں کی کسٹڈی کا حق دیا گیا
نانی کی درخواست مسترد کر دی گئی
آئینی درخواست خارج کر دی گئی.

judgment against surety and death of judgment debtors.*“مدیون کی وفات ضامن کو نہیں بچا سکتی — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیص...
28/04/2026

judgment against surety and death of judgment debtors.

*“مدیون کی وفات ضامن کو نہیں بچا سکتی — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ”*

*2025 LHC 2559*
*"سیکشن 145 سی پی سی کے تحت ضامن کی ذمہ داری کا قانونی تجزیہ"مدیون کی وفات کے بعد ضامن کے خلاف ڈگری کا نفاذ: ضابطہ دیوانی کی روشنی میں""ضامن کے خلاف ڈگری کی تعمیل: کیا سی پی سی ضامن کو مدیون کے برابر رکھتا ہے؟"*

2025 LHC 2559
فیصلہ ۔۔۔
"مدیون (قرض دار) کی وفات کے بعد بھی ضامن اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوتا، جب تک ضمانت نامے میں ایسی کوئی شرط موجود نہ ہو جو اس کے برعکس ہو۔ قانون کی رو سے، محض مدیون کی وفات ضامن کو اس کے عہد سے آزاد نہیں کرتی۔

دیوانی مقدمات کے ضابطہ 1908 کے سیکشن 145 کے تحت، اگر کوئی شخص کسی ڈگری یا اس کے کسی حصے کی تکمیل، کسی جائیداد کی واپسی، یا عدالتی حکم کے تحت کسی رقم کی ادائیگی کی ضمانت دیتا ہے، تو اس حد تک جس میں اس نے خود کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ہو، اس کے خلاف بھی ڈگری نافذ کی جا سکتی ہے۔"

مقدمہ: WP. 63942 of 2024
فریقین: رشید احمد بمقابلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج
فیصلہ: عدالت میں علانیہ سنایا گیا – 17 مارچ 2025
ریفرنس: 2025 LHC 2559
قانونی تجزیاتی جائزہ
(مدیون کی وفات کے بعد ضامن کی ذمہ داری سے متعلق)

1. بنیادی قانونی اصول:
قانونی اصول کے مطابق، جب کوئی شخص کسی مالی یا عدالتی ذمہ داری کی ضمانت دیتا ہے، تو وہ اس حد تک اس کی ادائیگی یا تکمیل کا ذمہ دار ہوتا ہے جتنا کہ اس نے ضمانت نامہ میں قبول کیا ہو۔ اس اصول پر ضمانت (Suretyship) کا قانون قائم ہے۔

2. ضابطہ دیوانی (Code of Civil Procedure, 1908):
سیکشن 145 - ضامن کے خلاف نفاذ ڈگری:
یہ دفعہ واضح طور پر بیان کرتی ہے:

"اگر کوئی شخص کسی ڈگری یا حکم کے نفاذ کی ضمانت دیتا ہے، تو اس کے خلاف بھی وہی ڈگری نافذ ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس نے اس حد تک خود کو ذمہ دار بنایا ہو۔"

تجزیہ:
یہ دفعہ ضامن کو مدیون کے ساتھ برابر کا فریق تسلیم کرتی ہے اور اس کے خلاف بھی عمل درآمد ممکن ہے، خواہ مدیون وفات پا چکا ہو۔

3. قانون شہادت (Qanun-e-Shahadat Order, 1984):
ضامن کی ذمہ داری کے تعین میں ضمانت نامے کی تحریری صورت اہمیت رکھتی ہے۔ اگر ضمانت نامے میں وفات کے بعد بری الذمہ ہونے کی کوئی شرط نہ ہو تو ضامن ذمہ دار رہے گا۔

4. عائلی قوانین (Family Laws):
اگر کیس خاندانی یا نان نفقہ سے متعلق ہو (مثلاً بیوی یا بچوں کے حقوق)، تو درج ذیل نکات لاگو ہوں گے:

مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961، دفعہ 9: بیوی نان نفقہ کی دعوے دار ہے۔

اگر مدیون کی وفات ہو جائے، تو بھی ضامن کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے (بشرطیکہ وہ نفقہ یا بقایا جات کی ادائیگی کی ضمانت دے چکا ہو)۔

سی پی سی کی روشنی میں، فیملی کورٹس کا فیصلہ بھی ڈگری کے زمرے میں آتا ہے، اور اس کی تعمیل کیلئے ضامن کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

5. آئین پاکستان، 1973:
آرٹیکل 4 - قانون کے تحت جینے کا حق:
ہر شہری کو قانون کے مطابق تحفظ حاصل ہے، جس میں عدالتی احکامات کی تعمیل بھی شامل ہے۔

آرٹیکل 9 - زندگی اور آزادی کا تحفظ:
یہ آئینی حق ضامن اور مدیون دونوں پر لاگو ہوتا ہے، لیکن قانون کے مطابق، ذمہ داریوں کی تعمیل زندگی کے اس حق کا تقاضا ہے۔

نتیجہ:
اگر ضامن نے عدالت میں ضمانت دی ہو (تحریری یا زبانی)، تو مدیون کی وفات کے باوجود وہ اپنی ذاتی ضمانت کے مطابق ذمہ دار رہے گا۔

سی پی سی کی دفعہ 145، اور قانون شہادت کی روشنی میں، جب تک ضمانت نامے میں خلاف شرط نہ ہو، ضامن بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔

فیملی کیسز میں، اگر بیوی یا بچوں کا مالی حق متعلقہ ہے، تو ان کا حق مقدم ہے، اور ضامن سے بھی رقم کی وصولی کی جا سکتی ہے۔
*vvip judgment against surety and death of judgment debtors*
*"سیکشن 145 سی پی سی کے تحت ضامن کی ذمہ داری کا قانونی تجزیہ"مدیون کی وفات کے بعد ضامن کے خلاف ڈگری کا نفاذ: ضابطہ دیوانی کی روشنی میں""ضامن کے خلاف ڈگری کی تعمیل: کیا سی پی سی ضامن کو مدیون کے برابر رکھتا ہے؟"
2025 LHC 2559
فیصلہ ۔۔۔
"مدیون (قرض دار) کی وفات کے بعد بھی ضامن اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوتا، جب تک ضمانت نامے میں ایسی کوئی شرط موجود نہ ہو جو اس کے برعکس ہو۔ قانون کی رو سے، محض مدیون کی وفات ضامن کو اس کے عہد سے آزاد نہیں کرتی۔

دیوانی مقدمات کے ضابطہ 1908 کے سیکشن 145 کے تحت، اگر کوئی شخص کسی ڈگری یا اس کے کسی حصے کی تکمیل، کسی جائیداد کی واپسی، یا عدالتی حکم کے تحت کسی رقم کی ادائیگی کی ضمانت دیتا ہے، تو اس حد تک جس میں اس نے خود کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ہو، اس کے خلاف بھی ڈگری نافذ کی جا سکتی ہے۔"

مقدمہ: WP. 63942 of 2024
فریقین: رشید احمد بمقابلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج
فیصلہ: عدالت میں علانیہ سنایا گیا – 17 مارچ 2025
ریفرنس: 2025 LHC 2559

قانونی تجزیاتی جائزہ
2025 LHC 2559 — WP No. 63942 of 2024
رشید احمد بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہ
فیصلہ مؤرخہ: 17-03-2025
از Lahore High Court

اہم قانونی نکتہ
اس فیصلہ میں عدالتِ عالیہ نے یہ اصول واضح کیا کہ:

“مدیون (Judgment Debtor) کی وفات بذاتِ خود ضامن (Surety) کو اس کی ضمانتی ذمہ داری سے بری نہیں کرتی، الا یہ کہ ضمانت نامہ میں کوئی واضح شرط اس کے برعکس موجود ہو۔”

یہ اصول ضابطہ دیوانی 1908 کی دفعہ 145 CPC کی تشریح پر مبنی ہے، جو ضامن کو محدود حد تک مدیون کے برابر ذمہ دار قرار دیتی ہے۔

1۔ دفعہ 145 CPC کی قانونی حیثیت
دفعہ 145 CPC کا متن مفہومًا یہ ہے کہ:

اگر کسی شخص نے:

کسی ڈگری کی ادائیگی کی ضمانت دی ہو؛

کسی مال/جائیداد کی واپسی کی ضمانت دی ہو؛

یا کسی عدالتی حکم کے تحت رقم کی ادائیگی یا کسی فعل کی انجام دہی کی ضمانت دی ہو؛

تو اس کے خلاف بھی اسی عدالت کے ذریعے عمل درآمد ہو سکتا ہے۔

اہم قانونی اثر
یہ دفعہ ضامن کے خلاف الگ مقدمہ دائر کرنے کی ضرورت ختم کرتی ہے۔

یعنی:

Ex*****on can proceed directly against the surety.

یہی اصول عدالت نے اس کیس میں اپنایا۔

2۔ ضامن کی ذمہ داری “Co-Extensive” ہے یا محدود؟
عام اصول کے مطابق Contract of Guarantee میں ضامن کی ذمہ داری principal debtor کے ساتھ co-extensive ہوتی ہے، مگر:

پاکستانی قانون میں دفعہ 145 CPC کے تحت ذمہ داری ہمیشہ اسی حد تک ہوگی:

“to the extent to which he has rendered himself personally liable.”

یعنی:

اگر ضمانت نامہ میں رقم محدود ہو تو ذمہ داری بھی محدود ہوگی؛
اگر شرط مشروط ہو تو نفاذ بھی اسی شرط کے تابع ہوگا۔

عدالت نے یہی کہا کہ ضمانت نامہ (Surety Bond) کی زبان فیصلہ کن ہے۔

3۔ مدیون کی وفات کے بعد قانونی پوزیشن
عام طور پر مدیون کی وفات کے بعد:

اس کی جائیداد ورثاء / Legal Heirs کے ذریعے نمائندگی کرتی ہے؛

ڈگری اس کے ترکہ سے وصول کی جاتی ہے۔

لیکن جہاں ضامن موجود ہو وہاں:

قانون ضامن کو مستقل ذمہ دار مانتا ہے۔

کیونکہ ضمانت ایک independent undertaking ہے۔

لہٰذا مدیون کی وفات:

نہ ex*****on روکتی ہے؛

نہ surety کو discharge کرتی ہے؛

نہ decree-holder کو پہلے ورثاء کے خلاف جانے پر مجبور کرتی ہے۔

یہ اس فیصلہ کا بنیادی ratio decidendi ہے۔

4۔ قانونِ شہادت کا اطلاق
Qanun-e-Shahadat Order, 1984 کے تحت:

جب ضمانت نامہ تحریری ہو تو:

زبانی شہادت اس کی شرائط بدلنے کیلئے قابل قبول نہیں؛

اصل دستاویز کی wording دیکھی جائے گی۔

لہٰذا اگر surety bond میں یہ نہیں لکھا کہ:

“liability shall cease on death of judgment debtor”

تو عدالت ایسی شرط فرض نہیں کرے گی۔

5۔ عملدرآمد (Ex*****on Proceedings) میں ضامن کے حقوق
اگرچہ ضامن ذمہ دار ہے، مگر اسے یہ حقوق حاصل ہیں:

(i) اعتراضات دائر کرنے کا حق
سیکشن 47 CPC کے تحت ex*****on، discharge یا satisfaction سے متعلق سوال اٹھا سکتا ہے۔

(ii) حدِ ذمہ داری پر اعتراض
کہ:

ضمانت مخصوص رقم تک تھی؛

مخصوص مدت تک تھی؛

مشروط تھی؛

شرط پوری نہیں ہوئی۔

(iii) Fraud / Misrepresentation
اگر ضمانت دھوکہ سے لی گئی ہو۔

مگر محض یہ کہنا کہ:

“اصل مدیون فوت ہو گیا”

کافی دفاع نہیں۔

6۔ فیملی مقدمات میں اطلاق
یہ فیصلہ خاص طور پر فیملی لا پریکٹس میں اہم ہے۔

مثلاً:

اگر شوہر:

نان نفقہ؛

حق مہر؛

بچوں کے اخراجات

کی ادائیگی کیلئے ضمانت دے یا ضامن پیش کرے؛

تو decree-holder wife یا minors، ضامن کے خلاف ex*****on کر سکتے ہیں۔

یہ اصول Family Courts Act, 1964 کے تحت family decrees پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔

آپ کی پریکٹس میں Child Custody / Maintenance matters میں یہ نظیر بہت مؤثر ہے۔

7۔ آئینی پہلو
عدالت کے احکامات کی effective enforcement، آئینِ پاکستان 1973 کے تحت rule of law کا حصہ ہے۔

خصوصاً:

Constitution of Pakistan کا آرٹیکل 4
اور
آرٹیکل 10-A (Fair Trial)

یہ تقاضا کرتے ہیں کہ:

decree-holder کو موثر remedy ملے؛

surety کو fair hearing ملے۔

یہ فیصلہ دونوں حقوق میں توازن پیدا کرتا ہے۔

Ratio Decidendi
ضامن کے خلاف براہِ راست ex*****on maintainable ہے۔

مدیون کی وفات surety کو discharge نہیں کرتی۔

Surety bond کی شرائط فیصلہ کن ہیں۔

Separate suit کی ضرورت نہیں۔

ضامن کی liability bond کے مطابق limited یا co-extensive ہو سکتی ہے۔

قانونی اہمیت برائے وکلاء
یہ فیصلہ درج ذیل مقدمات میں cite کیا جا سکتا ہے:

Ex*****on against surety

Family maintenance decrees

Recovery suits

Stay orders کے عوض furnished securities

Bail bonds / indemnity related civil enforcement matters

موزوں قانونی عنوانات
“Death of Judgment Debtor Does Not Discharge Surety under Section 145 CPC”

“Ex*****on Against Surety after Death of Principal Debtor”

“Surety’s Liability in Ex*****on Proceedings: Scope of Section 145 CPC”

“ضامن کی ذمہ داری مدیون کی وفات سے ختم نہیں ہوتی”

“دفعہ 145 سی پی سی کے تحت ضامن کے خلاف براہ راست عملدرآمد”

*“رجسٹرڈ دستاویزات کی قانونی حیثیت اور تاخیر سے رجسٹریشن کے اثرات (Section 23 Registration Act)”**“سول مقدمات میں Finali...
28/04/2026

*“رجسٹرڈ دستاویزات کی قانونی حیثیت اور تاخیر سے رجسٹریشن کے اثرات (Section 23 Registration Act)”*
*“سول مقدمات میں Finality of Litigation اور Section 12(2) CPC کے غلط استعمال کی روک تھام”*
*“Concurrent Findings of Fact اور آئینی رِٹ دائرہ اختیار کی حدود”*
C.A. No. 112 of 2023
Uploaded 24-04-2026
امین الدین خان، چیف جسٹس
تفصیلی فیصلہ ۔۔۔۔
یہ اپیل، سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سی۔پی۔ایل۔اے نمبر 2314/2019 میں دی گئی اجازت کے بعد، آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان، 1973 کے آرٹیکل 185(3) کے تحت، آئینی (ستائیسویں ترمیم) ایکٹ، 2025 سے پہلے دائر کی گئی، لاہور ہائی کورٹ کے مورخہ 14.05.2019 کے فیصلے کے خلاف ہے، جس کے ذریعے رِٹ پٹیشن نمبر 18211/2009 خارج کر دی گئی تھی۔

2۔ تنازعہ کے فیصلہ کے لیے متعلقہ حقائق یہ ہیں کہ مدعی/جواب دہندہ نمبر 1 نے 17.04.1985 کو دعویٰ برائے ڈیکلریشن دائر کیا، جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ وہ متنازعہ جائیداد کا مالک ہے، جیسا کہ دستاویز میں درج ہے، اور اس نے جواب دہندہ نمبر 2 کے حق میں رجسٹرڈ پاور آف اٹارنی اور اس کی بنیاد پر موجودہ اپیل کنندہ کے حق میں رجسٹرڈ بیع نامہ کے ذریعے پلاٹ کی منتقلی کو چیلنج کیا۔ ریکارڈ کے مطابق، جواب دہندہ نمبر 2، جو مبینہ طور پر اٹارنی تھا، عدالت میں پیش ہوا اور تحریری جواب داخل کر کے مقدمہ لڑا، بعد ازاں غائب ہو گیا، جبکہ اپیل کنندہ نے بھی تحریری جواب داخل کر کے مقدمہ کی مخالفت کی۔ مکمل سماعت، شہادت کے اندراج، اور مکمل ٹرائل کے بعد، دعویٰ مورخہ 17.04.1993 کے فیصلے کے ذریعے منظور کر لیا گیا۔ اپیل کنندہ کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج لاہور نے خارج کر دی۔ پھر سول ریویژن نمبر 2427/1995 لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی، جو بھی خارج ہو گئی۔ معزز جج ہائی کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے متفقہ نتائج سے اتفاق کیا اور قرار دیا کہ یہ نتائج ریکارڈ پر موجود شہادت سے ثابت ہیں، لہٰذا مداخلت کی ضرورت نہیں، چنانچہ درخواست خارج کر دی گئی۔

3۔ اس کے بعد اپیل کنندہ نے سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت درخواست دائر کی، بنیادی طور پر اس بنیاد پر کہ سول ریویژن کے فیصلے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ مدعی اور اس کے والد (جو بطور P.W.4 پیش ہوئے) نے عدالت کے ساتھ فراڈ کیا اور یہ غلط دعویٰ کیا کہ پاور آف اٹارنی کی تیاری کے وقت مدعی نابالغ تھا۔ ہائی کورٹ نے بغیر شہادت ریکارڈ کیے، درخواست میں بیان کردہ حقائق کو درست مانتے ہوئے، مورخہ 27.03.2001 کے فیصلے کے ذریعے درخواست منظور کر لی۔

4۔ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں سول اپیل نمبر 2540/2001 کے ذریعے چیلنج کیا گیا، جو 08.04.2003 کو منظور ہوئی اور معاملہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھیج دیا گیا۔ learned Civil Judge, First Class, Lahore نے 11.11.2008 کو درخواست خارج کر دی۔ اس کے خلاف دائر ریویژن بھی 14.09.2009 کو خارج ہوئی، اور رِٹ پٹیشن نمبر 18211/2009 بھی لاہور ہائی کورٹ نے 14.05.2019 کو خارج کر دی، لہٰذا یہ اپیل دائر کی گئی۔ اجازت 14.02.2023 کے حکم کے ذریعے دی گئی۔ اگرچہ اجازت دیتے وقت ایک جامع حکم جاری کیا گیا تھا، تاہم اُس وقت اپیل کنندہ کے وکیل کی جانب سے بیان کردہ بعض حقائق مکمل طور پر درست نہیں تھے، اس لیے اس حکم کو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے فریقین کے وکلاء کو تفصیل سے سنا اور ریکارڈ و ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کا جائزہ لیا۔

5۔ اپیل کنندہ کے وکیل کا بنیادی زور اس نکتے پر تھا کہ اصل دعویٰ میں پاور آف اٹارنی کو چیلنج کرنے کی ایک بنیاد مدعی کی نابالغی تھی، مگر اس بنیاد پر کوئی ایشو فریم نہیں کیا گیا۔ جبکہ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران مدعی کے وکیل نے بیان دیا کہ وہ اس بنیاد پر زور نہیں دے رہا۔ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ نابالغی ایک بنیاد تھی، مگر اس پر ایشو فریم نہیں ہوا۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ اگر مدعی نے متعلقہ وقت پر اس بنیاد پر زور نہیں دیا تو وہ بعد میں سیکشن 12(2) سی پی سی کی درخواست کی بنیاد نہیں بنا سکتا، خاص طور پر جب مدعی کے حق میں ڈگری ہائی کورٹ تک برقرار رہی ہو۔ مزید یہ کہ جب pleadings کی بنیاد پر کوئی ایشو بنتا ہو، تو ایشو کا فریم نہ ہونا یا نہ کروانا ری ٹرائل یا سیکشن 12(2) یا ریویو جیسا علاج فراہم نہیں کرتا۔ اگر کوئی فریق مناسب وقت پر مخصوص ایشو فریم کروانے پر زور نہ دے، تو بعد میں اس بنیاد پر فیصلہ کالعدم یا مقدمہ واپس بھیجنے کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ فریق اپنی pleadings کے مطابق شہادت پیش کر سکتا ہے۔ اگر مدعی نے ٹرائل کے دوران نابالغی کی بنیاد ترک بھی کر دی ہو، تب بھی یہ سیکشن 12(2) کی درخواست کی بنیاد نہیں بن سکتی۔

6۔ فریقین کے وکلاء کو سننے کے بعد، اور مقدمہ کے میرٹ میں جائے بغیر، ہماری رائے یہ ہے کہ جب کوئی فریق مقدمہ یا کارروائی کو مکمل طور پر contest کرے، جیسا کہ موجودہ مقدمہ میں اس نے تین فورمز تک کیا، اور ناکام رہا، تو اسے سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت درخواست دینے کا حق نہیں رہتا۔ ایسا فریق اپنی بات پیش کرنے اور دوسرے فریق کے دعوے کی تردید کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے، اور اگر اس سے کوئی غلطی یا غفلت ہو جائے تو یہ سیکشن 12(2) کا حق پیدا نہیں کرتی۔ لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی فریق مقدمہ contest کرے اور ہائی کورٹ تک فیصلوں کو چیلنج کرے، تو کیا بعد میں اگر اسے کچھ نئے حقائق معلوم ہوں تو وہ سیکشن 12(2) یا ریویو پٹیشن دائر کر سکتا ہے؟

7۔ اس عدالت کے سامنے درج ذیل سوالات قابلِ فیصلہ ہیں:

(i) سول معاملات میں ہائی کورٹ جب رِٹ دائرہ اختیار استعمال کرے، تو کیا وہ پہلے سے ماتحت عدالتوں کی طرف سے جانچی گئی شہادت کا دوبارہ جائزہ یا نئی تشریح کر سکتی ہے؟

(ii) اگر کوئی دستاویز تیار ہونے کے چھ ماہ سے زیادہ عرصہ بعد رجسٹریشن کے لیے پیش کی جائے، تو سیکشن 23 رجسٹریشن ایکٹ کا کیا اثر ہوگا؟ اگر رجسٹر ہو جائے تو کیا وہ درست ہوگی یا ناقص رجسٹریشن شمار ہوگی؟

8۔ سول مقدمات میں، جب ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ شہادت کی بنیاد پر متفقہ نتیجہ برائے حقیقت پر پہنچ جائیں، تو ہائی کورٹ اپنے رِٹ دائرہ اختیار میں صرف اس بنیاد پر اپنا نتیجہ مسلط نہیں کر سکتی کہ کوئی دوسرا نقطۂ نظر بھی ممکن تھا۔ سپریم کورٹ نے محمد حسین منیر بنام سکندر (PLD 1974 SC 139) میں قرار دیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کا اختیار محدود ہے کہ وہ صرف یہ دیکھے کہ ماتحت فورم نے اپنے اختیار کے اندر رہ کر کام کیا یا نہیں۔ حقیقت کی غلطی، خواہ کتنی ہی سنگین ہو، رِٹ دائرہ اختیار میں درست نہیں کی جا سکتی جب تک وہ اختیاری نقص (jurisdictional defect) پیدا نہ کرے۔

9۔ چونکہ تسلیم شدہ طور پر پاور آف اٹارنی 04.02.1980 کو تیار ہوئی جبکہ 05.08.1981 کو رجسٹر ہوئی، یعنی تقریباً ڈیڑھ سال بعد، جبکہ سیکشن 23 رجسٹریشن ایکٹ کے مطابق دستاویز کو تیاری کے چھ ماہ کے اندر رجسٹریشن کے لیے پیش ہونا چاہیے۔ تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ رجسٹرڈ دستاویزات کو مضبوط ثبوتی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور قانون انہیں تحفظ دیتا ہے۔ چونکہ رجسٹریشن تصدیق کے عمل کے بعد ہوتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ درستی کا قانونی قرینہ منسلک ہوتا ہے، اور یہ فرض کیا جائے گا کہ رجسٹرڈ دستاویز درست ہے۔ اس ضمن میں انجمنِ خدام القرآن، فیصل آباد بنام لیفٹیننٹ کرنل (ر) نجم حمید (PLD 2020 SC 390) اور عبدالعزیز عبد الحمید (2022 SCMR 842) پر انحصار کیا گیا۔

10۔ چونکہ یہ اپیل ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے، اور ہائی کورٹ کے سامنے سیکشن 12(2) کی درخواست کی برخاستگی اور ریویژنل کورٹ کے حکم کو آرٹیکل 199 کے تحت چیلنج کیا گیا تھا، اس لیے اپیل کنندہ پر لازم تھا کہ وہ ماتحت عدالتوں کی طرف سے کسی اختیاری نقص کو ظاہر کرتا، مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔ لہٰذا رِٹ پٹیشن درست طور پر خارج کی گئی۔ ہم ہائی کورٹ کے نتائج سے اختلاف نہیں کرتے؛ لہٰذا یہ اپیل ناکام ہو کر خارج کی جاتی ہے۔
قانونی تجزیاتی جائزہ
“سیکشن 12(2) CPC کی حدود، ہائی کورٹ کا آئینی دائرہ اختیار، اور رجسٹرڈ دستاویزات کی قانونی حیثیت — C.A. No.112 of 2023 کا جامع تجزیہ”

یہ فیصلہ نہایت اہم ہے کیونکہ اس میں تین بنیادی قانونی و آئینی اصول واضح کیے گئے ہیں:

سیکشن 12(2) CPC کا دائرہ کار

آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کی حدود

سیکشن 23 رجسٹریشن ایکٹ کے تحت تاخیر سے رجسٹریشن کا اثر

1۔ مقدمہ کا پس منظر (Background of Litigation)
مدعی نے دعویٰ برائے ڈیکلریشن دائر کیا کہ:

وہ جائیداد کا اصل مالک ہے؛

اس کے خلاف بنائی گئی Power of Attorney جعلی / غیر مؤثر ہے؛

اس پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر موجودہ اپیل کنندہ کے حق میں Sale Deed بھی غیر قانونی ہے۔

ٹرائل کورٹ نے دعویٰ منظور کیا،
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے اپیل خارج کی،
ہائی کورٹ نے Civil Revision خارج کی۔

یعنی Concurrent Findings of Fact قائم ہو گئے۔

اس کے بعد شکست خوردہ فریق نے Section 12(2), CPC کا سہارا لیا۔

2۔ سیکشن 12(2) CPC کا قانونی دائرہ
Code of Civil Procedure, 1908 کی Section 12(2):

“Where a judgment has been obtained by fraud, misrepresentation or want of jurisdiction, the Court may, on application, set aside such judgment.”

مقصد:
یہ provision appeal in disguise نہیں۔

یہ صرف درج ذیل صورتوں میں قابلِ استعمال ہے:

(i) Fraud
جب عدالت کو دھوکہ دے کر فیصلہ لیا گیا ہو۔

مثلاً:

جعلی دستاویز؛

جعلی گواہ؛

دانستہ concealment۔

(ii) Misrepresentation
غلط بیانی سے عدالت کو mislead کرنا۔

(iii) Want of Jurisdiction
عدالت کو اختیار ہی نہ ہو۔

3۔ سپریم کورٹ کا اصول
سپریم کورٹ نے واضح کیا:

اگر کوئی فریق:

ٹرائل میں شریک رہا؛

شہادت دی؛

اپیل کی؛

ریویژن کی؛

اور ہر فورم پر ناکام رہا،

تو وہ بعد میں Section 12(2) استعمال نہیں کر سکتا۔

کیونکہ:

Law helps the vigilant, not those who sleep over their rights.

یہ اصول finality of litigation کا تحفظ کرتا ہے۔

4۔ Finality of Litigation کا اصول
قانون چاہتا ہے کہ:

“There must be an end to litigation.”

اگر ہر ہارا ہوا شخص بعد میں 12(2) لگا دے تو:

فیصلوں کی finality ختم؛

عدالتیں مفلوج؛

انصاف غیر یقینی۔

سپریم Court نے اسی principle کو protect کیا۔

5۔ ایشو فریم نہ ہونا — کیا اثر؟
اپیل کنندہ کا موقف تھا:

“Minority” کا ground تھا مگر issue frame نہ ہوا۔

Order XIV CPC
Order XIV, Code of Civil Procedure
کے تحت Issues pleadings سے بنتے ہیں۔

مگر عدالت نے کہا

اگر:

issue frame
نہ ہوا؛

party
نے insist نہ کیا؛

evidence
پھر بھی lead کی جا سکتی تھی؛

تو بعد میں یہ ground نہیں بن سکتا۔

اہم اصول:

Non-framing of issue is not always fatal.

جب prejudice ثابت نہ ہو۔

6۔ آرٹیکل 199 آئین کے تحت ہائی کورٹ کی حدود
Constitution of Pakistan کا Article 199:

ہائی کورٹ supervisory jurisdiction استعمال کرتی ہے۔

یہ:

Appellate Court نہیں؛

Revisional Court نہیں؛

Trial Court نہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا:

ہائی کورٹ evidence کی reappraisal نہیں کر سکتی۔

7۔ PLD 1974 SC 139 کا اصول
Muhammad Hussain Munir v. Sikandar میں اصول:

ہائی کورٹ صرف دیکھے گی:

jurisdiction تھا؟
illegality تھی؟
procedural defect تھا؟

صرف factual error writ میں درست نہیں ہو گی۔

8۔ Concurrent Findings of Fact
جب:

Trial Court

Appellate Court

ایک ہی نتیجہ دیں،

تو High Court عام طور پر مداخلت نہیں کرے گی۔

مداخلت صرف:

misreading؛

non-reading؛

jurisdictional defect؛

perversity

پر ہو گی۔

9۔ رجسٹریشن ایکٹ — سیکشن 23
Registration Act, 1908 کی Section 23:

دستاویز ex*****on کے چار ماہ/چھ ماہ (مخصوص حالات) میں رجسٹر ہو۔

یہاں پاور آف اٹارنی:

04.02.1980

رجسٹر:

05.08.1981

یعنی تاخیر۔

10۔ کیا تاخیر رجسٹریشن کو باطل کرتی ہے؟
سپریم کورٹ نے کہا:

صرف تاخیر کافی نہیں جب تک:

fraud؛

illegal registration؛

collusion

ثابت نہ ہو۔

کیونکہ رجسٹرڈ دستاویز کے ساتھ presumption of truth ہوتا ہے۔

11۔ Presumption attached to Registered Document
رجسٹرڈ دستاویز:

verified ہوتی ہے؛

public record بنتی ہے؛

evidentiary value رکھتی ہے۔

PLD 2020 SC 390

Anjuman-e-Khuddam-ul-Quran Faisalabad v. Lt Col (R) Najam Hameed

2022 SCMR 842

Abdul Aziz Abdul Hameed case

12۔ Review اور Section 12(2) میں فرق
Review = error apparent on face of record.

12(2) = fraud / misrepresentation / want of jurisdiction.

ہر error = 12(2) نہیں۔

13۔ Constitutional dimension
یہ فیصلہ آئینی طور پر:

Article 4
Due process.

Article 10A
Fair trial.

Article 175
Judicial hierarchy.

Article 199
Writ powers.

کو explain کرتا ہے۔

14۔ Practitioners کے لیے Practical Guidelines

اگر مدعی ہیں:
تمام grounds plead کریں
issue frame
کروائیں
evidence lead
کریں

اگر مدعا علیہ ہیں:
ہر issue پر اعتراض اٹھائیں
omission فوراً challenge کریں

اگر 12(2) دائر کرنی ہے:
صرف یہ ثابت کریں:

fraud
misrepresentation
want of jurisdiction

15۔ Ratio Decidendi
اس فیصلہ کا ratio:

Contesting defendant who unsuccessfully litigated up to High Court cannot invoke Section 12(2) CPC merely on discovery of new facts or own omission.

اور:

High Court in writ jurisdiction cannot reappraise evidence or disturb concurrent findings unless jurisdictional defect exists.

16۔ نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔
سپریم کورٹ نے appeal dismiss کی کیونکہ:

appellant contest
کر چکا تھا؛
concurrent findings
تھیں؛
jurisdictional defect
نہیں تھا؛
12(2) misuse
ہو رہی تھی۔

یہ فیصلہ سول مقدمات میں:

abuse of process
روکنے؛

finality protect
کرنے؛

writ limits clarify
کرنے؛

registered documents protect
کرنے

کے لیے سنگ میل ہے۔

*“کنٹریکٹ ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری — تین سال سروس مکمل، مستقلی آپ کا قانونی حق!”**“کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود مستقلی مم...
28/04/2026

*“کنٹریکٹ ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری — تین سال سروس مکمل، مستقلی آپ کا قانونی حق!”*
*“کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود مستقلی ممکن — لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ”*
*“محکمہ کی تاخیر اب آپ کے حق کو ختم نہیں کر سکتی!”*
یہ فیصلہ Lahore High Court کا ہے جس میں مسٹر جسٹس Shahid Karim نے قرار دیا

*Once three years’ continuous service is completed, right of consideration accrues; departmental delay or expiry of contract cannot defeat statutory entitlement.”*

2026 LHC 1090
تفصیلی فیصلہ ۔۔۔۔
درخواست گزاروں نے آئینی درخواست دائر کی تھی کہ 04-11-2025 کا حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے، جس کے ذریعے ان کی سروسز کو Punjab Regularization of Services Act, 2018 کے تحت مستقل کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ یہ ایکٹ بعد میں Punjab Regularization of Services (Repeal) Act, 2025 کے ذریعے منسوخ ہو گیا۔

حکومت نے انکار کی یہ وجوہات بیان کیں:

درخواست گزار 5 سالہ کنٹریکٹ پر Punjab Public Service Commission کے ذریعے بھرتی ہوئے تھے، جو 05-03-2022 کو ختم ہوگیا۔

کنٹریکٹ کی بروقت توسیع یا تجدید نہیں ہوئی۔

کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد وہ قانونی طور پر ملازم نہ رہے۔

چونکہ مستقل کرنے کے وقت ان کا کنٹریکٹ موجود نہیں تھا، اس لیے وہ 2018 کے ایکٹ کے تحت اہل نہ تھے۔

ایکٹ منسوخ ہو چکا، اس لیے کوئی قانونی بنیاد باقی نہیں رہی۔

اگرچہ انہوں نے کنٹریکٹ ختم ہونے سے پہلے درخواست دی، مگر انتظامی تاخیر سے کوئی حق پیدا نہیں ہوتا۔

عدالت نے قرار دیا:

یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ درخواست گزاروں کا کنٹریکٹ 05-03-2022 کو ختم ہوا، مگر اس کے بعد بھی وہ محکمے کی رضا مندی سے کام کرتے رہے۔

10-01-2023 کے جواب میں خود محکمے نے تسلیم کیا کہ درخواست گزار ابھی بھی مختلف مقامات پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

اس سے بادی النظر میں یہ سمجھا جائے گا کہ ان کا کنٹریکٹ ضمنی طور پر (by implication) بڑھ گیا تھا۔

عدالت نے مزید کہا:

حکومت کا یہ مؤقف غلط ہے کہ صرف وہی ملازمین مستقل ہو سکتے ہیں جو غور کے وقت سروس میں ہوں۔
Section 1(3) of Punjab Regularization of Services Act, 2018 کے مطابق:

"یہ ایکٹ ان تمام کنٹریکٹ ملازمین پر لاگو ہوگا جنہوں نے تین سال مسلسل سروس مکمل کر لی ہو۔"

عدالت نے کہا کہ اصل شرط صرف تین سال مسلسل سروس کی تکمیل ہے، نہ کہ یہ کہ غور کے وقت کنٹریکٹ زندہ ہو۔

اگر تین سال بعد کنٹریکٹ ختم ہو جائے اور محکمہ دانستہ کیس نہ بھیجے، تو ملازم کا حق ختم نہیں ہو سکتا۔

مزید برآں Section 3(2) of Punjab Regularization of Services Act, 2018 کے مطابق تین سال مسلسل سروس والا ملازم مستقل تقرری کے لیے اہل ہوگا بشرطیکہ:

مستقل آسامی موجود ہو

وہ اہل ہو

اسپیشل پے پیکج پر نہ ہو

کارکردگی تسلی بخش ہو

کنٹریکٹ پر رہنے کا انتخاب نہ کرے

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ چونکہ درخواست گزار Punjab Public Service Commission کی سفارش پر بھرتی ہوئے تھے، اس لیے Section 4(1) of Punjab Regularization of Services Act, 2018 کے مطابق ان کا کیس براہِ راست اپائنٹنگ اتھارٹی کو بھیجا جانا چاہیے تھا، Scrutiny Committee کو نہیں۔

عدالت نے کہا کہ اصل غلطی محکمہ کی بیوروکریٹک سستی (bureaucratic inertia) تھی، جس کی سزا ملازمین کو نہیں دی جا سکتی۔

نتیجہ
درخواست منظور کر لی گئی۔

04-11-2025 کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا۔

حکومت کو حکم دیا گیا کہ درخواست گزاروں کو 21-11-2022 کے ورکنگ پیپر کے مطابق مستقل بنیادوں پر تعینات کرے۔

کنٹریکٹ کی توسیع ضروری نہیں، اور اس کے بغیر بھی مستقل کرنے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
قانونی تجزیاتی جائزہ
“کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کا حق، محکمانہ تاخیر، اور ‘تین سال مسلسل سروس’ کی قانونی تشریح—2026 LHC 1090 کا جامع قانونی تجزیہ”

یہ فیصلہ Lahore High Court از مسٹر جسٹس Shahid Karim سروس لاء میں ایک نہایت اہم نظیر ہے، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ محکمانہ تاخیر، بیوروکریٹک سستی، یا کنٹریکٹ کی رسمی میعاد ختم ہونا کسی ایسے ملازم کے حقِ مستقلی کو ختم نہیں کر سکتا جس نے قانون کے مطابق اہلیت حاصل کر لی ہو۔

1) مقدمہ کا بنیادی سوال
اصل سوال یہ تھا کہ:

کیا ایسا کنٹریکٹ ملازم جس نے تین سال مسلسل سروس مکمل کر لی ہو، لیکن محکمہ کی تاخیر سے اس کا کیس فیصلہ نہ ہو سکا اور اس دوران کنٹریکٹ ختم ہو گیا، وہ مستقلی کے حق سے محروم ہو جائے گا؟

عدالت کا جواب: ہرگز نہیں۔

2) متعلقہ قانون
(الف) Punjab Regularization of Services Act, 2018
Section 1(3)
عدالت نے بعینہٖ نقل کیا:

“It shall apply to all persons employed on contract in a department, who have completed three years continuous service before or after the commencement of the Act.”

قانونی تشریح:
یہ دفعہ دو چیزیں واضح کرتی ہے:

all persons employed on contract
یعنی ہر کنٹریکٹ ملازم؛

completed three years continuous service
اصل شرط تین سال مسلسل سروس کی تکمیل ہے۔

عدالت نے لفظ “completed” کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ:

The crucial words are “completed three years continuous service”.

یعنی جب تین سال مکمل ہو گئے تو حق پیدا ہو گیا۔

(ب) Section 3(2)
“Notwithstanding anything contained in the Act, the contract employees who have continuously been serving as such for a period not less than three years shall be eligible to be considered for appointment on regular basis if…”

شرائط:

(a)
مستقل آسامی موجود ہو۔

(b)
ملازم پوسٹ کے لیے اہل ہو۔

(c)
Special Pay Package
پر نہ ہو۔

(d)
Performance satisfactory
ہو۔

(e)
خود کنٹریکٹ جاری رکھنے کا انتخاب نہ کرے۔

قانونی نکتہ
لفظ “shall be eligible” mandatory ہے،
directory
نہیں۔

(ج) Section 4(1)
“The case of a contract employee appointed on the recommendations of the Commission shall be submitted to the appointing authority for regularization without reference to the Commission or the Scrutiny Committee.”

یہاں لفظ shall لازمی حکم ہے۔

درخواست گزار چونکہ Punjab Public Service Commission کے ذریعے آئے تھے، لہٰذا کیس براہ راست اپائنٹنگ اتھارٹی کو جانا تھا۔

محکمہ نے غیر قانونی طور پر Scrutiny Committee کو بھیج دیا۔

3) Impugned Order کی خامیاں
(i) Misconstruction of law
حکومت نے کہا:

only those contract employees could be considered whose contracts are valid…

عدالت نے اسے erroneous and misconstruction of law قرار دیا۔

(ii) Subjective observation
عدالت نے کہا:

This observation is merely subjective…

یعنی قانون کی بنیاد پر نہیں۔

(iii) Whims of authority
عدالت نے کہا:

consideration … cannot be at the whims of the relevant office

یعنی افسر کی مرضی پر حق منحصر نہیں۔

4) Implied extension doctrine
اگرچہ تحریری توسیع نہ تھی، مگر ملازمین کام کرتے رہے۔

لہٰذا عدالت نے قرار دیا:

the contracts … will have been extended by implication.

یہ اصول درج ذیل قانونی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے:

Acquiescence

Estoppel

Legitimate Expectation

5) Bureaucratic inertia
عدالت نے لفظ استعمال کیا

bureaucratic inertia

یعنی محکمانہ سستی۔

قانونی اصول:

Actus Curiae Neminem Gravabit
عدالت/ریاست کے فعل سے کسی کو نقصان نہ ہو۔

6) Repeal Act, 2025 کا اثر
Punjab Regularization of Services (Repeal) Act, 2025 بعد میں آیا۔

لیکن accrued / vested rights محفوظ رہتے ہیں۔

اصول:

Section 6 of General Clauses Act, 1897

repeal shall not affect accrued rights.

درخواست گزار کا حق repeal سے پہلے پیدا ہو چکا تھا۔

7) Legitimate Expectation
جب:

07-12-2020 کو scrutiny شروع ہوئی؛

01-04-2022 کو recommendation ہوئی؛

21-11-2022 کو working paper بنا؛

تو petitioners کے حق میں legitimate expectation پیدا ہوئی۔

8) Promissory Estoppel
ریاست نے:

کام لیا

consideration
کی

processing
کی

پھر انکار کیا۔

ریاست اپنے conduct سے مکر نہیں سکتی۔

9) Judicial Review under Article 199
یہ حکم Article 199 کے تحت کالعدم ہوا کیونکہ:

illegality

misreading

non-reading

arbitrary exercise of power

malafide in law

موجود تھے۔

10) Ratio Decidendi
اصلی ratio

تین سال مسلسل سروس مکمل ہوتے ہی
regularization consideration
کا حق پیدا ہو جاتا ہے؛
subsisting contract
شرط نہیں؛
departmental delay
حق ختم نہیں کرتی؛
repeal accrued rights
ختم نہیں کرتا۔

11) Relief Granted
عدالت نے

impugned order set aside
کیا

respondents
کو regular appointment کا حکم دیا

contract extension
غیر ضروری قرار دی۔

12 ..یہ فیصلہ درج ذیل مقدمات میں حوالہ بن سکتا ہے

Contract regularization
Service extension disputes
Legitimate expectation
Bureaucratic delay
Repeal and accrued rights
PPSC appointees cases

قانونی اصول و خلاصہ کلام

“جیسے ہی تین سال کی مسلسل ملازمت مکمل ہو جائے، ریگولرائزیشن/مستقلی کے لیے غور کیے جانے کا قانونی حق پیدا ہو جاتا ہے؛ محکمانہ تاخیر یا کنٹریکٹ کی میعاد ختم ہونا اس قانونی حق کو ختم نہیں کر سکتا۔”

Address

Lahore

Telephone

+923073765212

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Rana Nauman Ashraf posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share