Attorney's Alliance

Attorney's Alliance A Law Firm Deals in all legal matters:
Civil,Criminal,Banking,Family,Labour,Child Custody, SECP Com

21/09/2024
04/07/2023

زمین کی خریدوفروخت پر نئے ٹیکسز کی تفصیل

شٹام ڈیوٹی : 3٪
ضلع کونسل فیس : 01٪

ایف بی آر مشتری۔ 3٪ فائلر اور نان فائلر 6٪

ایف بی آر بائع - 3 ٪ فائلر اور 10.5٪ نان فائلر

ٹوٹل برائے فائلر = 10٪
ٹوٹل برائے نان فائلر = 20.5٪
*پراپرٹی کی خرید و فروخت کی سرکاری فیس کا نیاشیڈول آگیا ہے لہذا اب آپکو زمین کی قیمت کا 20٪ بطور سرکاری فیس جمع کرانا ہوگا ۔*
*3٪ اشٹام ڈیوٹی ، 1٪تحصیل کونسل فیس ، 10٪ خریدکنندہ ایف بی آر فیس 6٪فروخت کنندہ ایف بی آر فیس-

20/06/2023

زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔

1- موضع :
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے ۔
2- کھیوٹ نمبر:
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں بہت سارے لوگوں اور خاندانوں کی زمین شامل ہوتی ہے اس کی تقسیم مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دے دیے جاتے ہیں، مثلا یہ ایک سو ایکڑ ایک خاندان کے پاس ہے اسے ایک نمبر دے دیا کہ فلاں موضع کا یہ کھیوٹ نمبر ہے جو فلاں خاندان کے ان ان حصہ داروں کے پاس ہے۔ یا مختلف خاندانوں یا لوگوں کی زمین کو ملا کر بھی ایک کھیوٹ بنایا جاتا ہے۔ اس کا نمبر تبدیل ہو سکتا ہے جب کوئی زمین فروخت کرتا ہے یا ایسی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو آپ کے کھیوٹ کا نمبر بدل جاتا ہے۔
3- کھتونی نمبر:
موضع بھی بن گیا، اس میں کھیوٹ نمبر بھی لگ گئے اب کھیوٹ میں بہت سارے مالکان ہیں کسی کے پاس پانچ ایکڑ ہے کسی کے پاس دس اور کسی کے پاس دو ایکڑ تو ان کو کیسے پہچانے گے کہ اس کھیوٹ میں کونسے بندے کی کتنی زمین ہے تو اس کے لیے ہر حصہ دار کو ایک کھتونی نمبر لگا دیا جاتا ہے۔ مثلا کھیوٹ نمبر 1 میں دس ایکڑ زمین ہے اور دو مالک ہیں پانچ پانچ ایکڑ کے تو ان دونوں کو الگ الگ نمبر دے دیا جائے گا پانچ پانچ ایکڑ کا جسے کھتونی نمبر کہتے ہیں۔ یہ نمبر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے جب کوئی اپنے حصے سے فروخت کر دے کسی کو یا ایسی کوئی دوسری تبدیلی ہو۔
4- خسرہ نمبر:
اب ایک کھتونی میں جو پانچ ایکڑ تھے (جو ہم نے مثال میں لیے پانچ ایکڑ، حقیقت میں ان کی تعداد جو بھی ہو گی) ہر ایکڑ کو ایک خاص نمبر دیا جاتا ہے جو خسرہ نمبر کہلا تا ہے۔ یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا چاہے کوئی فروخت کرے مگر کھیت کا خسرہ نمبر ایک ہی رہے گا۔ اور اس میں کھیت کی چاروں طرف سے پیمائش بھی لکھی ہوتی ہے کہ اس خسرہ نمبر کا جو کھیت ہے اس کی لمبائی چوڑائی وغیرہ کیا ہے۔
5- مساوی: (شجرہ)
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے، کہاں کس کا کھیت ہے کہاں راستہ ہے کہاں کیا ہے سب اس میں ہوتا ہے۔ پٹواری کے پاس یہ نقشہ ایک کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا بھی کہا جاتا ہے۔
6- جمع بندی:
اس میں ایک موضع کے کسی کھیوٹ کی کسی کھتونی کے کس خسرہ میں کتنے مالک ہیں سب کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ مالک کون ہے اور زمین کاشت کون کر رہا ہے ٹھیکہ پر یا کیسے۔ زمین کی فرد بھی اسی رجسٹر کی تفصیل کی بنیاد پر جاری ہوتی ہے۔
7- گرداوری:
آپ جس رقبہ کے مالک ہیں یا مزارع ہیں اس رقبہ میں کیا کاشت ہوتا ہے یا کیا کاشت کیا ہوا ہے اس کی تفصیل بھی پٹواری درج کرتا ہے اسے گردوری کہتے ہیں۔

اہم نوٹ: زمین خریدتے وقت ہمیشہ خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر زمین خریدیں۔

مثلا فرض کریں ایک بندہ دو ایکڑ کا مالک ہے اس کا کھیوٹ نمبر 1 اور اس کے دو ایکڑ کھیوٹ نمبر 1 کی الگ الگ کھتونی نمبر 5 خسرہ نمبر 50 اوردوسرا ایکڑ کھتونی نمبر 10 میں خسرہ نمبر 100 ہیں۔ آپ اس سے ایک ایکڑ خریدنا چاہتے ہیں اور وہ آپ جو پسند کرتے ہیں اس کا خسرہ نمبر 50 ہے مگر اسے فرد اس 50 نمبر خسرہ کی نہیں بلکہ پوری رقبے کی کھیوٹ سے ملتی ہے جس میں وہ آپ کے نام ایک ایکڑ کروا دیتا ہے تو اب قانوناَ آپ اس کے دونوں ایک میں خسرہ نمبر 50 اور خسرہ نمبر 100 میں آدھے آدھے ایکڑ کے مالک بن جائیں گے اور اگر خسرہ نمبر 50فرد ہی آپ کو دے گا تو اس کی بنیاد پر وہی ایکڑ پورا آپ کے نام لگے گا۔ بیشک وہ آپ کو آپ کا پسند کیا ہوا خسرہ نمبر 50 ہی کاشت کے لیے دے رہا ہو مگر مستقبل میں آپ کے بچوں میں جھگڑا ہو سکتا ہے کہ آپ کے یا اس کے بچے کہیں آپ کا آدھا ایکڑ یہاں بول رہا ہے یہاں جاؤ ہمارا وہاں ہے ہم وہاں جائیں گے وغیرہ۔ یہ تو دو ایکڑ کی مثال تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی زیادہ ایکڑ کے مالک سے زمین خرید لیں تو بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ ایکڑ نہیں بلکہ کوئی دوسرا دیا تھا لہذا اسے کاشت کرو جا کر وہ چاہے بنجر ہو۔ اس لیے زمین لینے سے پہلے تسلی کر لیا کریں۔

06/02/2023
06/02/2023

بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ غیر قانونی قرار۔ صارفین کے لیے بڑا ریلیف۔
نیپرا کو بڑا جھٹکا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی صاحب نے آج
06.02.2023 کو تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے

22/11/2022

اشٹام فروشی کے قوانین

جو بھی شخص اشٹام فروش ہو مگر اسے پاس تحریر دستاویز کا لائسنس نہ ہو تو کسی بھی قسم کی تحریر مثلاً سیل ڈیڈ ,رہن نامہ ,معاہدہ بیع یا کسی بھی قسم تحریر لکھنے کا مجاز نہیں ہے
2014 سی ایل سی 1374

اشٹام فروشی کا رجسٹر پرائیوٹ دستاویز نہیں ہے بلکہ پبلک ڈاکومنٹ یعنی سرکاری دستاویز ہے اور عدالت میں بطور ثبوت پیش کیے جاسکتے ہیں
2005 ایم ایل ڈی 1861

مزید مذکورہ بالا کیس لاء میں قرار دیا گیا کہ اشٹام فروشی کے رجسٹر کی مصدقہ نقول قانون شہادت کے آرٹیکل 87 کے تحت حاصل کی جاسکتی ہے

22/11/2022

اگر مدعی سے راضی نامہ ہوگیا تو کیا مجرم کی سزا معاف ہوجائے گی؟ ⚖️

ایسے جرم جس میں متاثرہ پارٹی مخالف پارٹی سے صلح کرلے تو ایسے جرم کو قابل صلح جرم یا انگریزی میں compundable offence کہتے ہیں۔ اس سے متعلق ضابطہ فوجداری کا سیکشن 345 ڈیل کرتا ہے جس میں ان تمام جرائم کے بارے میں بتایا گیا ہے جس میں اگر ایک متاثرہ شخص ملزم سے صلح کرلے تو عدالت اس ملزم کو رہا کردے گی۔ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 345 میں بتاۓ گۓ چند جرائم کے بارے میں آپکو بتاتا ہوں جس میں متاثرہ پارٹی ملزم سے راضی نامہ کرسکتی ہے جیسا کہ تعزیرات پاکستان کے سیکشن 352، 355،358 کے تحت کیے گئے جرم یعنی کسی شخص نے دوسرے شخص پر حملہ کیا ہو اور اسی طرع تعزیرات پاکستان کا سیکشن 374 یعنی کسی کو زبردستی مزدور بنایا گیا ہو یا سیکشن 447، 448 مطلب کسی کے گھر میں داخل ہونا جرم کی نیت سے اور ہتک عزت یعنی Defamation کیس میں بھی ایک متاثرہ شخص یا مدعی ملزم سے راضی نامہ کرسکتا ہے۔ یہ چند سیکشن بتاۓ ہیں اور آپ سیکشن 345 میں پوری لسٹ دی گئی ہے۔

کب عدالت کی اجازت درکار ہوگی راضی نامہ کرنے کے بعد؟

اسی سیکشن 345 ضابطہ فوجداری کے سیکشن میں بتایا گیا ہے ان جرائم کے بارے میں جس میں مدعی ملزم سے راضی نامہ تو کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے عدالت سے اجازت لینا لازمی ہوگی۔ مثلا ً قتل عمد 302، زخمی کرنا کسی شخص کو 337، اسقاط حمل 338A اور دیگر چند ایک جرائم میں راضی نامہ ہونے کے بعد عدالت کی اجازت درکار ہوگی۔

کن جرائم میں راضی نامہ نہیں ہوسکتا؟

باقی دیگر جرائم میں راضی نامہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کوئی جرم فقط ایک شخص کے خلاف نہیں ہوتا بلکہ وہ ریاست کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے کریمنل کیسز میں ریاست فریق ہوتی ہے مقدمے میں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص بس لوٹتا ہے سڑک پر اب یہ جرم صرف ان بس مسافر کے خلاف نہیں ہے بلکے ملک پاکستان کے خلاف ہے ایک جرم سے معاشرے میں افراتفری ہوتی ہے، بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اب اگر متاثرہ شخص راضی نامہ کر بھی لے پھر بھی اس کو سزا ہوگی۔ اس کے علاوہ نئ ترمیم کے ذریعے کارو کاری اور غیرت کے نام پر قتل کرنے پر بھی راضی نامہ نہیں ہوسکتا جیسے قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ اسی کی مثال ہے جس میں بھائی نے اپنی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کیا پرچہ ہوا جس میں قندیل بلوچ کی والدہ مدعی بنی بعد میں اپنے بیٹے کو سزا سے بچانے کے لیے راضی نامہ کر لیا لیکن عدالت نے اس کو تسلیم نہ کیا..

31/10/2022

Tax Returns submissions date extended till
30 Nov 2023...

Finance act ammendment... Taxes increased.
31/10/2022

Finance act ammendment...
Taxes increased.

New rates for with holding tax & Gain tax...
31/10/2022

New rates for with holding tax & Gain tax...

Address

2nd Floor 51/3 J. Z House Lawrence Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Attorney's Alliance posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Attorney's Alliance:

Share

Category