Saeed Law Associates

Saeed Law Associates It's a Legal, Taxation and corperate consultancy Firm

29/08/2026

پنی انکم ٹیکس ریٹرن بروقت اور درست طریقے سے فائل کروانا چاہتے ہیں تو آج ہی ہم سے رابطہ کریں۔ ہماری ماہر ٹیم آپ کی آمدن، اخراجات، اثاثہ جات اور دیگر ٹیکس معلومات کا جائزہ لے کر درست اور بروقت انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں آپ کی رہنمائی کرے گی۔

کیا Input Tax صرف کسی چیز کے نام یا مفروضے کی بنیاد پر مسترد کیا جا سکتا ہے؟ ATIR کراچی کا اہم فیصلہ📍 فورم: اپیلیٹ ٹربیو...
26/08/2026

کیا Input Tax صرف کسی چیز کے نام یا مفروضے کی بنیاد پر مسترد کیا جا سکتا ہے؟ ATIR کراچی کا اہم فیصلہ
📍 فورم: اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو، کراچی
📍 مقدمہ: M/s Omyapack (Pvt.) Ltd. بمقابلہ DCIR, Zone-II, MTO Karachi
📍 حوالہ: 2026 SLD 3429
📍 متعلقہ قانون: Sales Tax Act, 1990
محکمہ نے مختلف خریداریوں، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات پر حاصل کیے گئے Input Tax کو ناقابلِ قبول قرار دے کر تقریباً 37.24 ملین روپے کی Sales Tax Demand قائم کی، جبکہ اس کے ساتھ Penalty اور Default Surcharge بھی عائد کیا گیا۔
Taxpayer کا مؤقف
Taxpayer نے مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ نے کئی خریداریوں کو صرف ان کی عمومی نوعیت یا نام کی بنیاد پر ناقابلِ قبول قرار دیا، جبکہ اصل سوال یہ تھا کہ یہ اشیاء حقیقتاً manufacturing process میں کس مقصد کے لیے استعمال ہوئی ہیں۔
مثلاً Feeding Silo اور اس کا Structure محض تعمیراتی سامان نہیں تھا بلکہ coating machine کی تنصیب اور operation کے لیے استعمال ہونے والا mechanical structure تھا، جو manufacturing process سے براہِ راست منسلک تھا۔
ATIR نے کیا قرار دیا؟
ATIR نے واضح کیا کہ Input Tax کی admissibility صرف کسی چیز کے نام سے طے نہیں ہوگی بلکہ اس کے حقیقی استعمال کو دیکھا جائے گا۔
Tribunal نے قرار دیا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ:
کیا goods taxable business میں استعمال ہوئے؟
کیا Section 8 کے تحت ان پر کوئی statutory exclusion لاگو ہوتی ہے؟
کیا supporting tax invoices قانون کی شرائط پوری کرتی ہیں؟
اسی لیے متعدد disputed purchases کا معاملہ factual verification کے لیے DCIR کو واپس بھیج دیا گیا، تاکہ goods کی اصل نوعیت، actual use اور متعلقہ documents کا جائزہ لے کر speaking order جاری کیا جائے۔
بجلی کے Input Tax کا اہم نکتہ
محکمہ نے تقریباً 27.03 ملین روپے کا بجلی کا Input Tax اس بنیاد پر مسترد کیا کہ supplier کے پاس Taxpayer کو فراہم کرنے کے لیے surplus electricity موجود نہیں تھی اور transaction کا مقصد Input Tax بڑھانا تھا۔
Taxpayer نے valid tax invoices، banking channel کے ذریعے payment، supplier کی Sales Tax Returns میں Output Tax اور valid NEPRA licence کا ریکارڈ پیش کیا۔
ATIR نے قرار دیا کہ محکمہ نہ transaction کو fictitious ثابت کر سکا، نہ supplier کی قانونی اہلیت کو challenge کیا اور نہ ہی ایسی کوئی مخصوص قانونی ممانعت دکھائی جس کے تحت یہ Input Tax ناقابلِ قبول ہو۔
لہٰذا محض assumption یا conjecture کی بنیاد پر Input Tax disallow نہیں کیا جا سکتا۔ یہ Rs. 27.032 million کی disallowance ختم کر دی گئی۔
Petroleum Products کا Input Tax
محکمہ نے تقریباً Rs. 1.048 million کا Input Tax صرف ایک پرانے CBR Letter کی بنیاد پر مسترد کیا۔
ATIR نے قرار دیا کہ departmental clarification یا executive instruction، قانون کے تحت حاصل شدہ حق کو ختم نہیں کر سکتی۔
چونکہ محکمہ نے یہ ثابت نہیں کیا کہ petroleum products manufacturing process میں استعمال نہیں ہوئے، اور نہ ہی Sales Tax Act میں کوئی مخصوص ممانعت دکھائی گئی، اس لیے یہ disallowance بھی ختم کر دی گئی۔
اہم قانونی اصول
Input Tax کو صرف کسی چیز کے نام، عمومی تاثر، مفروضے یا departmental clarification کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اصل اہمیت goods کے حقیقی استعمال، supporting documents اور Sales Tax Act میں موجود واضح قانونی ممانعت کی ہے۔
اور جہاں معاملہ factual verification کا ہو، وہاں Tax Authority کو مکمل حقائق اور documents کا جائزہ لے کر speaking order جاری کرنا ہوگا۔
نتیجہ
کچھ Input Tax claims verification کے لیے DCIR کو remand کیے گئے، جبکہ بجلی اور petroleum کے متعلق Input Tax disallowances Tribunal نے ختم کر دیں۔

SC Big Judgment Alert ⚖️Bank Statement Alone is NOT "Definite Information"The Supreme Court of Pakistan in Civil Petitio...
26/08/2026

SC Big Judgment Alert ⚖️

Bank Statement Alone is NOT "Definite Information"

The Supreme Court of Pakistan in Civil Petition No. 862/2024 dated 27.02.2025 has dismissed FBR’s appeal.

Key Holding: FBR cannot reopen your assessment u/s 122 of Income Tax Ordinance, 2001 just on the basis of bank statements. Bank transactions do not automatically mean taxable income.

This is a major relief for taxpayers facing unjust notices.

Contact us if need further guidance.

*🚨URGENT: IRIS System Security Update – Immediate Action Required**Dear All,**Please note that IRIS 2.0 will soon implem...
09/08/2026

*🚨URGENT: IRIS System Security Update – Immediate Action Required*

*Dear All,*
*Please note that IRIS 2.0 will soon implement a critical security upgrade to enhance data protection.*

*🔒What’s Changing?*
Older security protocols TLS+ 1.0 and TLS 1.1 will be disabled.

*⚠️Action Required (Within 15 Days):*
To avoid any disruption in access to IRIS, ensure that your system and browser support TLS 1.2 or TLS 1.3.

*💻Recommended Browsers:*
> Google Chrome (v30+)
> Mozilla Firefox (v27+)
> Microsoft Edge (All versions)
> Internet Explorer (v11)
> Safari (v7+)
> Opera (v17+)

*📌Important for Windows XP Users:*
If system upgrade is not possible, you may temporarily use Opera 36 (supports TLS 1.2). However, upgrading to a modern operating system is strongly advised for security reasons.

*🔍Compatibility Check:*
You may verify your browser compatibility via SSL testing tools.

*❗Note: Please exercise caution when installing updates. FBR/PRAL will not be responsible for third-party tools or websites.*

*📞Support: Helpline:* 051111772772

*Action Needed:*
Kindly update your systems on priority to avoid any filing delays or access issues.

کیا Double Taxation Treaty (DTT) ملکی ٹیکس قانون پر فوقیت رکھتی ہے؟ سپریم کورٹ پاکستان کا اہم فیصلہفورم: سپریم کورٹ آف پ...
07/08/2026

کیا Double Taxation Treaty (DTT) ملکی ٹیکس قانون پر فوقیت رکھتی ہے؟ سپریم کورٹ پاکستان کا اہم فیصلہ
فورم: سپریم کورٹ آف پاکستان
مقدمہ: Commissioner Inland Revenue v. M/s MSC Switzerland Geneva & Others
حوالہ: 2023 SCMR 1011 | 2023 SLD 1398
محکمہ کا مؤقف تھا کہ Section 4B کے تحت عائد کیا گیا Super Tax ایک علیحدہ اور خصوصی ٹیکس ہے، جسے تمام متعلقہ کمپنیوں کو ادا کرنا ہوگا۔ محکمہ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ Double Taxation Treaties (DTTs) اس Super Tax پر لاگو نہیں ہوتیں، اس لیے Treaty کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔
دوسری جانب Taxpayers نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ Double Taxation Treaties واضح طور پر Taxes on Income پر لاگو ہوتی ہیں، اور Section 107 کے تحت اگر Treaty کی کوئی شق مقامی قانون سے مختلف ہو تو Treaty کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ متعلقہ Treaties مستقبل میں عائد ہونے والے identical یا substantially similar taxes کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کرتی ہیں۔
سپریم کورٹ نے Taxpayers کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ Double Taxation Treaty ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، اور Section 107 کے تحت اس کی واضح شقیں مقامی ٹیکس قانون پر فوقیت رکھتی ہیں۔ اگر Treaty میں کوئی واضح رعایت یا کم شرح مقرر ہو تو اس پر عمل کیا جائے گا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ Super Tax بھی Treaty کے Article 2 کے تحت ایسے Taxes میں شامل ہو سکتی ہے جو identical یا substantially similar ہوں، لہٰذا متعلقہ Treaty کے مستحق Taxpayers کو Treaty کے مطابق ہی ٹیکس دینا ہوگا۔
FBR نے اس فیصلے کے خلاف Review Petitions دائر کیں، تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Review، Appeal کا متبادل نہیں۔ جب تک فیصلے میں کوئی ظاہر اور نمایاں قانونی غلطی (Error Apparent on the Face of Record) موجود نہ ہو، صرف پہلے والے دلائل دہرا کر Review نہیں مانگی جا سکتی۔ اسی بنیاد پر تمام Review Petitions مسترد کر دی گئیں۔
اہم قانونی اصول
Section 107 کے تحت Double Taxation Treaty کی واضح شقیں مقامی ٹیکس قانون پر فوقیت رکھتی ہیں۔
Treaty مستقبل میں عائد ہونے والے identical یا substantially similar taxes پر بھی لاگو ہو سکتی ہے، اگر Treaty میں ایسی شق موجود ہو۔
Review Petition دوبارہ سماعت (Re-hearing) کا ذریعہ نہیں؛ یہ صرف واضح قانونی یا ریکارڈ کی نمایاں غلطی کی اصلاح کے لیے ہوتی ہے۔

کیا Section 122(5A) کی کارروائی میں Brought Forward Assets پر Section 111 کے تحت Addition کی جا سکتی ہے؟ ATIR ملتان کا ا...
06/08/2026

کیا Section 122(5A) کی کارروائی میں Brought Forward Assets پر Section 111 کے تحت Addition کی جا سکتی ہے؟ ATIR ملتان کا اہم فیصلہ
📍 فورم: اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو، ملتان
📍 حوالہ: ITA No. 92/MB/2026 (Tax Year 2016)
محکمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ Taxpayer نے پہلی مرتبہ Wealth Statement جمع کروائی لیکن اس کے ساتھ مطلوبہ Year-wise Reconciliation فراہم نہیں کی، لہٰذا Section 111 کے تحت Equipment، Animals اور Jewellery کی مالیت کو Unexplained Assets قرار دے کر Addition کی گئی۔ بعد ازاں Remand Proceedings میں بھی محکمہ نے یہی مؤقف برقرار رکھا۔
دوسری جانب Taxpayer نے مؤقف اختیار کیا کہ Remand کے دوران اس نے Tax Years 2014 اور 2015 کی Wealth Statements، متعدد سالوں کی Wealth Reconciliation اور متعلقہ دستاویزی ریکارڈ پیش کر دیا، جس سے واضح ہو گیا کہ یہ Assets موجودہ سال میں حاصل نہیں کی گئیں بلکہ Brought Forward Assets تھیں۔ اس لیے Section 111(2) کے تحت انہیں دوبارہ Tax Year 2016 میں Unexplained قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ATIR نے سب سے پہلے دو بنیادی قانونی سوالات طے کیے:
اگر Assets پہلے ہی گزشتہ سال کی Wealth Statement کا حصہ ہوں اور موجودہ سال میں صرف Brought Forward ہوئی ہوں، تو کیا انہیں دوبارہ Section 111 کے تحت Tax کیا جا سکتا ہے؟
اگر کسی Asset کی تخلیق کا ذریعہ پہلے ہی Tax یا Exempt Income کے طور پر ظاہر کیا جا چکا ہو، تو کیا بعد میں اسی Asset کو دوبارہ Unexplained قرار دیا جا سکتا ہے؟
ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد Tribunal نے قرار دیا کہ محکمہ نے ایک اہم حقیقت کو نظر انداز کیا کہ Remand Proceedings سے پہلے ہی Taxpayer گزشتہ سالوں کی Wealth Statements اور مکمل Reconciliation جمع کرا چکا تھا۔ مزید یہ کہ محکمہ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ گزشتہ سال سے موجود Assets میں ایسا کون سا نیا سرمایہ شامل ہوا تھا جسے موجودہ سال کی Unexplained Investment کہا جا سکے۔
ATIR نے کیا قرار دیا؟
ATIR نے قرار دیا کہ جو Assets پہلے ہی گزشتہ سال کی Wealth Statement کا حصہ ہوں اور صرف Brought Forward ہوں، انہیں موجودہ Tax Year میں Section 111 کے تحت دوبارہ Unexplained Assets قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح اگر Asset کی تخلیق کا ذریعہ پہلے ہی Tax یا Exempt Income کے ذریعے Explain ہو چکا ہو تو اسی سرمایہ کو دوبارہ Tax نہیں کیا جا سکتا۔
نتیجہ
ATIR نے Taxpayer کے مؤقف کو قبول کرتے ہوئے محکمہ کی جانب سے کی گئی Addition برقرار نہیں رکھی اور واضح کیا کہ Brought Forward Assets کو موجودہ سال کی Unexplained Investment سمجھ کر Section 111 کے تحت دوبارہ Tax نہیں کیا جا سکتا، جب ان کی سابقہ Wealth Statements اور Reconciliation ریکارڈ پر موجود ہو۔
اہم قانونی اصول
Section 111 کا اطلاق صرف اس سرمایہ یا Asset پر ہو سکتا ہے جس کا ذریعہ متعلقہ سال میں Explain نہ کیا جا سکے۔ گزشتہ سالوں سے چلی آنے والی (Brought Forward) Assets کو، مناسب Wealth Statements اور Reconciliation کی موجودگی میں، دوبارہ Unexplained قرار دے کر Tax نہیں کیا جا سکتا۔

🔻وراثتی انتقال کروانے کا طریقہ..........🔻1-❗️فوت ہونے والے یعنی متوفی کے وارثان میں سے کوئی بندہ متوفی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ ...
05/08/2026

🔻وراثتی انتقال کروانے کا طریقہ..........
🔻
1-❗️فوت ہونے والے یعنی متوفی کے وارثان میں سے کوئی بندہ متوفی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ یونین کونسل سے بنوائے گا۔

2-❗️نادرا سے ایف آر سی سرٹیفکیٹ جاری کروانا ہو گا.

3۔❗️دو عدد بیان حلفی ایک وارثان میں کیسی کا اور ایک متعلقہ گاؤں کے نمبردار کا بیان حلفی میں تمام زندہ وارثان کو ظاہر کرنا ہو گا.

4۔❗️اخبار اشتہار دینا ہو گا.

5۔❗️ڈیتھ سرٹیفکیٹ ،ایف آر سی سرٹیفکیٹ ،بیان حلفی، اخبار اشتہار لے کر متعلقہ پٹواری کے پاس جانا ہو گا پٹواری آپ کے ایف آر سی سرٹیفکیٹ اور دیگر کاغذات کے مطابق شجرہ تیار کر دیے گا۔

6۔❗️شجرہ تیار ہونے کے بعد جناب تحصیلدار کی عدالت میں پیش ہونا ہو گا ۔ جس میں تحصیلدار کے سامنے کم از کم وارثان میں سے ایک بندے کا حاضر ہونا ضروری ہے ساتھ نمبردار اور ایک پتی دار یعنی گواہ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ یہ شجرہ بلکل ٹھیک ہے۔شجرہ کی تصدیق کے بعد جناب تحصیلدار صاحب فیصلہ لیکھے گا جس میں شرعی حصص کے مطابق تمام وارثان کو شرعی حصہ دے گا اور اپنے دستخط کر دے گا.

7۔❗️ پٹواری شجرہ کے مطابق انتقال درج کر دے گا اور تحصیلدار صاحب کے دے ہوے حصص کے مطابق رقبہ تقسیم کر دے گا اور تحصیلدار اس انتقال کو منظور کر دے گا ۔۔

Amendment In Punjab Private Housing Schemes Rules 2022.پنجاب میں پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم کے قوانین 2022 میں ترمیم 01-07-202...
22/07/2026

Amendment In Punjab Private Housing Schemes Rules 2022.
پنجاب میں پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم کے قوانین 2022 میں ترمیم
01-07-2026

کیا صرف مجموعی (Lump Sum) Cash Purchases کی بنیاد پر Section 161 کے تحت Withholding Tax Demand بنائی جا سکتی ہے؟ اسلام آ...
21/07/2026

کیا صرف مجموعی (Lump Sum) Cash Purchases کی بنیاد پر Section 161 کے تحت Withholding Tax Demand بنائی جا سکتی ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ Section 161 کے تحت کسی taxpayer کو withholding tax کی عدم کٹوتی کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے محکمہ صرف مجموعی (lump sum) cash purchases پر انحصار نہیں کر سکتا۔ محکمہ پر لازم ہے کہ وہ متعلقہ transactions، متعلقہ suppliers اور ہر اس payment کی واضح نشاندہی کرے جس پر قانون کے مطابق withholding tax کٹنا چاہیے تھا لیکن نہیں کٹا۔
اس مقدمے میں محکمہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ taxpayer نے نقد خریداریوں پر withholding tax نہیں کاٹا، لہٰذا Section 161 کے تحت tax demand درست ہے۔ دوسری جانب Tribunal نے "paid" اور "payable" کی بنیاد پر taxpayer کے حق میں فیصلہ دیا۔ تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Tribunal کی یہ reasoning درست نہیں، کیونکہ Section 153(7)(iii) کی روشنی میں صرف یہ کہنا کہ ادائیگی نقد ہوئی، withholding obligation سے استثنا پیدا نہیں کرتا۔
تاہم عدالت نے اس کے باوجود محکمہ کی Reference مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ Supreme Court کے فیصلے Commissioner Inland Revenue v. MCB Bank Ltd (2021 SCMR 1325) کے مطابق Section 161 کے تحت کارروائی کرنے سے پہلے محکمہ کو ہر متعلقہ transaction اور متعلقہ party کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ یہ واضح کرنا ہوگا کہ کس ادائیگی پر، کس تاریخ کو اور کتنی withholding tax کٹنی چاہیے تھی مگر نہیں کٹی۔ صرف مجموعی خریداریوں کی بنیاد پر tax demand عائد نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ Section 161 "fishing expedition" یا "roving inquiry" کی اجازت نہیں دیتا۔ Commissioner پہلے خود ریکارڈ کا جائزہ لے کر application of mind کرے گا، متعلقہ transactions کی شناخت کرے گا، اور اس کے بعد ہی taxpayer کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ محض taxpayer پر یہ بوجھ ڈال دینا کہ وہ خود ثابت کرے کہ کون سی خریداری threshold سے کم تھی، قانون کے مطابق نہیں۔
اس مقدمے میں محکمہ نے مختلف suppliers سے کی گئی متعدد نقد خریداریوں کو اکٹھا کر کے یہ مؤقف اختیار کیا کہ taxpayer نے withholding tax سے بچنے کے لیے خریداریوں کو تقسیم کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس reasoning کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ قانون میں ایسی کوئی ممانعت موجود نہیں کہ ایک کاروبار مختلف suppliers سے threshold سے کم مالیت کی متعدد خریداری نہیں کر سکتا۔ اگر محکمہ کسی transaction کو قانون کی خلاف ورزی قرار دینا چاہتا ہے تو اسے ہر متعلقہ transaction کو الگ الگ ثابت کرنا ہوگا، محض مجموعی اعداد و شمار کی بنیاد پر liability پیدا نہیں کی جا سکتی۔
اہم قانونی اصول
Section 161 کے تحت withholding tax demand برقرار رکھنے کے لیے محکمہ پر لازم ہے کہ وہ متعلقہ transactions اور متعلقہ parties کی واضح شناخت کرے، یہ ثابت کرے کہ کس payment پر withholding tax کٹنا چاہیے تھا، اور application of mind کے بعد کارروائی کرے۔ صرف lump sum cash purchases یا عمومی الزامات کی بنیاد پر tax demand قانون کے مطابق نہیں۔
حوالہ: Commissioner Inland Revenue v. M/s Amson Vaccine (Private) Limited — ITR No. 234/2015, Islamabad High Court, فیصلہ مورخہ 20.05.2026 (2026 SLD 2997).

چھوٹے دکانداروں کے لئے آسان ریٹرن.
18/07/2026

چھوٹے دکانداروں کے لئے آسان ریٹرن.

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saeed Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Saeed Law Associates:

Shortcuts

Share

Category