04/03/2026
آیت اللہ سیستانی کا فتویٰ مشرقِ وسطیٰ میں وہ "ایٹمی ہتھیار" سمجھا جاتا ہے جس کے سامنے جدید ترین میزائل اور ٹیکنالوجی بھی بے بس ہو جاتے ہیں۔
4 مارچ 2026 تک کی صورتحال کے مطابق، آیت اللہ سیستانی کے فتوے کے اثرات اور ان کی خاموشی کی وجوہات درج ذیل ہیں:
آیت اللہ سیستانی کے فتوے کے خطرات اور اثرات
اگر آیت اللہ سیستانی اور بشیر نجفی "جہاد" یا "دفاع" کا فتویٰ دے دیتے ہیں، تو امریکہ اور اسرائیل کے لیے درج ذیل ہولناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں:
عراق میں امریکی موجودگی کا خاتمہ: عراق میں موجود 2,500 امریکی فوجی چند گھنٹوں میں لاکھوں مسلح افراد کے نشانے پر آ جائیں گے۔ 2014 میں داعش کے خلاف ان کے ایک فتوے نے "حشد الشعبی" (PMF) جیسی بڑی فوج کھڑی کر دی تھی۔ اب بھی وہی تاریخ دہرائی جا سکتی ہے۔
سویلین مزاحمت کا آغاز: یہ فتویٰ صرف فوجیوں کے لیے نہیں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی "مقدس فریضہ" بن جائے گا، جس سے امریکہ کے لیے پورے خطے میں لاجسٹکس اور سپلائی لائنز کو برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔
عراقی حکومت کی مجبوری: عراقی حکومت، جو ابھی تذبذب کا شکار ہے، فتوے کے بعد ایک لمحہ بھی امریکہ کا ساتھ نہیں دے سکے گی اور اسے فوری طور پر امریکی افواج کو ملک سے نکالنے کا قانونی حکم دینا پڑے گا۔
ابھی تک فتویٰ کیوں نہیں دیا؟ (خاموشی کی وجوہات)
آیت اللہ سیستانی اپنی "خاموشی" (Quietism) اور دور اندیشی کے لیے مشہور ہیں۔ ان کے فتویٰ نہ دینے کی چند بڑی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:
عراق کو میدانِ جنگ بننے سے بچانا: وہ جانتے ہیں کہ فتویٰ دینے کا مطلب عراق کو براہِ راست امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایک ایسی جنگ میں جھونکنا ہے جس کی قیمت عراقی عوام کو چکانی پڑے گی۔ وہ عراق کی خودمختاری اور امن کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔
سفارتی گنجائش باقی رکھنا: نجف کا مدرسہ ہمیشہ "آخری حربے" کے طور پر کام کرتا ہے۔ اگر وہ ابھی فتویٰ دے دیں گے، تو صلح یا مذاکرات کے تمام دروازے بند ہو جائیں گے۔ وہ عالمی طاقتوں کو ایک موقع دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو لگام دیں اور جنگ بندی کی طرف بڑھیں۔
ایران کے اندرونی حالات کا مشاہدہ: علی خامنہ ای کی شھادت کے بعد وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ایران کی نئی قیادت (کونسل) حالات کو کیسے سنبھالتی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ نجف کا کوئی قدم تہران میں طاقت کے توازن کو متاثر کرے۔
فرقہ وارانہ فساد کا خدشہ: وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اقدامات سے خطے میں فرقہ وارانہ رنگ نہ آئے۔ وہ اس جنگ کو صرف "شیعہ بمقابلہ مغرب" نہیں بلکہ "مظلوم بمقابلہ ظالم" کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
موجودہ صورتحال: 1 مارچ 2026 کو انہوں نے صرف تعزیتی بیان جاری کیا جس میں ایرانی عوام کو "اتحاد" کی تلقین کی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ فی الحال "اخلاقی مدد" دے رہے ہیں، لیکن اگر اسرائیل نے نجف یا کربلا کے قریب کوئی حرکت کی یا ایران پر زمینی حملہ کیا، تو وہ اپنا "حتمی کارڈ" (فتویٰ) استعمال کر سکتے ہیں۔