Riffat Bashir

Riffat Bashir Basic rule of survival is humanity �

مسکرانے سے چہرے کے پٹھوں کی ورزش ہوتی ہے اور چہرے پر رونق آتی ہے۔ لہذا سب پریشانیاں بھول کر ایک بار کھل کے مسکرائیں۔ خوب...
24/08/2021

مسکرانے سے چہرے کے پٹھوں کی ورزش ہوتی ہے اور چہرے پر رونق آتی ہے۔ لہذا سب پریشانیاں بھول کر ایک بار کھل کے مسکرائیں۔ خوبصورتی میں اضافہ ہو گا۔
ایڈووکیٹ رفعت بشیر

18/08/2021

بی بی پاک دامن
میں ایک مسیحی ہوں اور مذہب سے بالا تر ہو کر یہ بیان کرتی ہوں کہ میدان کربلا ایک انتہائی انسانیت سوز واقعہ ہے۔ جس کی اسلامی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
میدان کربلا میں مسیحی مرد مشنریوں نے مسلم عورتوں کی عزتوں کا تحفظ کیا۔ ان عورتوں کو با پردہ رکھا۔ یہاں تک کہ خدا خود انکا محافظ ہوا۔
آج مسیحی مردوں پہ فخر کا اظہار ضروری ہے جب 400 مسلم مرد خود اپنی ہی عورت کی عزت نیلام کر دیں۔ اور وہ عورت بنام "عائشہ" ہو۔
اسلام میں "عائشہ صدیقہ" ایک انتہائی عزت واحترام والا نام ہے۔ جسے انتہائی بےدردی سے بے عزت و تار تار کیا گیا۔ ایک عورت کی کوکھ سے جنم لینے والوں نے ایک عورت کو ہی بے حرمت نہیں کیا بلکہ پیدا کرنے والے رب کو بھی انتہائی تکلیف دی۔
یہ شرم کا یا ڈوب مرنے کا مقام نہیں۔ پاکستانی معاشرہ اس حد سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ یہ "خطرناک زومبی" معاشرہ فی الفور تلف کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور ہم آج اتنے بے چین اور باولے کیوں ہو رہے ہیں؟ معاشرتی زوال ایک دم تو شروع نہیں ہوا۔
یہ تو پچھلی چند دہایوں سے چوری چھپے اور اب ظاہرً ہو رہا ہے جب مسیحی یا ہندو بچیوں کی عزت نیلام ہوتی تھی تب ہر بندا "مجھے کیا" اور "غیر مذہب" کی سمجھ کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بات نہیں کرتا تھا۔ بلکہ مذہب کی آڑ میں کبھی کبھار تو جشن بھی منایا جاتا تھا اور مجرموں کو تحفظ دیا جاتا تھا۔ جو آج بھی جاری و ساری ہے۔
اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے تحفظ کے لئے مذہب سے بالا تر ہو کر ایک آواز ہو کر مجرموں کو سزا دلوائیں۔ ورنہ صرف مسیحی یا ہندو بچیاں ان درندوں کا شکار نہیں ہوں گی۔ بلکہ ان عادی بھیڑیوں اور درندوں کی زد میں اپنی مسلم بہنیں بیٹیاں بھی آئیں گی۔ اگر آج بھی ہم نے اپنی آنکھیں بند رکھی اور مذہب کے نام پر چپ رہے تو ان عادی مجرموں کا اگلا شکار خدا نخواستہ آپ کا گھر بھی ہو سکتا ہے۔ خدارا ایک دوسرے کی آواز بنیں۔
خدا ہر بہن بیٹی کو بلکہ عورت کو ہر روپ میں محفوظ رکھے اور کوئی بھی زومبی بد نیتی سے کسی بھی بہن بیٹی کو چھو نہ سکے۔
رب الافواج ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین
ایڈووکیٹ رفعت بشیر
😭

میں مسیحی ہوں اور یہ سر زمین میرے آباؤ اجداد کی ہے۔  پاکستان کی آزاد شہری ہونا میرا فخر  ہے۔ اور اس دھرتی سے وفاداری میر...
14/08/2021

میں مسیحی ہوں اور یہ سر زمین میرے آباؤ اجداد کی ہے۔ پاکستان کی آزاد شہری ہونا میرا فخر ہے۔ اور اس دھرتی سے وفاداری میرے خون میں شامل ہے۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
ایڈووکیٹ رفعت بشیر

نامرد:"میرا شوہر نامرد ہے اور مجھے خلع چاہیے"وہ تنسیخ نکاح کا عام سا کیس تھا۔ اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی۔ دو پیارے سے بچے ...
28/07/2021

نامرد:

"میرا شوہر نامرد ہے اور مجھے خلع چاہیے"
وہ تنسیخ نکاح کا عام سا کیس تھا۔

اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی۔ دو پیارے سے بچے تھے کیوٹ اور معصوم سے لیکن خاتون بضد تھی کہ اسکو ہر حال میں خلع چاہیے، جبکہ میرا موکل مدعا علیہ (شوہر) شدید صدمے کی کیفیت میں تھا - - -

ِجج صاحب اچھے آدمی تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لیجا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ مدعاعلیہ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتون بات چیت کے لئیے راضی ہوگئی۔

چیمبر میں دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:-
" ہاں خاتون۔! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے"؟ - -

" وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہیں". - -
میں اسکی بے باکی پر حیران رہ گیا۔ میرے منہ سے ایک موٹی سی گندی سی گالی نکلتے نکلتے رہ گئی۔ البتہ منہ میں تو دے ہی ڈالی۔ ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اس خاتون کی کچھ بات ہی الگ تھی۔

اسکے شوہر نے ایک نظر شکایت اس پر ڈالی اور میری طرف امداد طلب نظروں سے گھورنے لگا۔ میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے - -
بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھا
اور تیز تیز سوال کرنا شروع کر دیے۔
جب اس سے پوچھا :-
" کیا اس کا اپنے مرد سے گزارہ نہیں ہوتا"؟ - -
تو کہتی ہے کہ:-
" ماشاءاللہ دو بچے ہیں ہمارے۔ یہ جسمانی طور پہ تو بالکل ٹھیک ہیں" - - -

" تو بی بی پھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہوئے"؟ - -
میں نے استفسار کیا۔۔۔

وکیل صاحب! میرے بابا دیہات میں رہتے ہیں اور زمینداری کرتے ہیں۔ ہم دو بہنیں ہیں اور میرے والد ہمیں کبھی" دھی رانی" سے کم بلایا ہی نہیں جبکہ میرے شوہر مجھے" کتی " کہہ کے بلاتے ہیں - - -" یہ کونسی مردانہ صفت ہے وکیل صاحب ؟- - "
مجھ سے کوئی چھوٹی موٹی غلط ہو جائے تو یہ میرے پورے میکے کو ننگی ننگی گالیاں دیتے ہیں؟ - -" آپ ہی بتائیں جی اس میں میرے مائیکے کا کیا قصور ہے - - - یہ مردانہ صفت تو نہیں نا کہ دوسروں کی گھر والیوں کو گالی دی جائے - -
وکیل صاحب۔! میرے بابا مجھے شہزادی کہتے ہیں - - - اور یہ غصے میں مجھے " کنجری" کہتے ہیں - -
وکیل صاحب ! مرد تو وہ ہوتا ہے نا جو کنجری کو بھی اتنی عزت دے کہ وہ کنجری نہ رہے اور یہ اپنی بیوی کو ہی کنجری کہہ کر پکارتے ہیں - - - یہ کوئی مردانہ بات تو نہیں ہوئی نہ - - - ؟؟
وکیل صاحب اب آپ ہی بتائیں کیا یہ مردانہ طور پر کمزور نہیں ہیں" ؟ - -
میرا تو سر شرم سے جھک گیا تھا۔ اس کا شوہر بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا
" اگر یہی مسئلہ تھا تو تم مجھے بتا سکتی تھیں نا۔ مجھ پر اس قدر ذہنی ٹارچر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔" ؟
شوہر منمنایا۔۔۔

" آپ کو کیا لگتا ہے آپ جب میری ماں بہن کے ساتھ ناجائز رشتے جوڑتے ہیں تو میں خوش ہوتی ہوں۔۔؟ - -
اتنے سالوں سے آپکا کیا گیا یہ ذہنی تشدد برداشت کر رہی ہوں اس کا کون حساب دے گا؟ " - -
بیوی کا پارہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔۔

خیر جیسے تیسے منت سماجت کر کے سمجھا بجھا کے انکی صلح کروائی ۔۔
میرے موکل نے وعدہ کیا کہ وہ آئئندہ اب کبھی اپنی بیوی کو گالی نہیں دے گا اور پھر وہ دونوں چلے گئے۔۔۔

میں کافی دیر تک وہیں چیمبر میں سوچ بچار کرتا رہا کہ گالیاں تو میں نے بھی اس خاتون کو اس کے پہلے جواب پر دل ہی دل میں بہت دی تھیں تو شاید میں بھی نامرد ہوں اور شاید ہمارا معاشرہ نامردوں سے بھرا پڑا ہے
مقبول احمد ٹوانہ

28/07/2021

ذہنی ٹینشن تھوڑی کم کیجئے
میرا نام لیجئے' خود پہ دم کیجئے

میرا بے عیب برّہ 🙏🏻جو روح القدس کی قدرت سے بغیر باپ کے ایک بے داغ کنواری سے پیدا ہوا۔ دکھ اٹھا کے بیگناہ ہوتے ہوئے بھی م...
21/07/2021

میرا بے عیب برّہ 🙏🏻
جو روح القدس کی قدرت سے بغیر باپ کے ایک بے داغ کنواری سے پیدا ہوا۔ دکھ اٹھا کے بیگناہ ہوتے ہوئے بھی میرے گناہ اپنے سر لے کے صلیبی موت گوارا کی۔ 3 دن قبر میں عالم اسفل میں نجات کی خوشخبری دی اور تیسرے روز مردوں میں سے جی اٹھ کر موت پر فتح حاصل کر کے زندہ آسمان پر گیا اور باپ کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا اور اب ہماری عدالت کرنے دوبارہ اے گا۔ میرے گناہوں کا کفارہ دے کر میرے واسطے جنّت کے دروازے کھول دیے۔ پس جو کوئی اس پر ایمان لاۓ گا ہلاک نہ ہو گا بلکہ ہمیشہ کی زندگی پاۓ گا۔ خداوند کا جلال ظاہر ہو۔ امین
ایڈووکیٹ رفعت بشیر

عید قربانکیوں نہ اس عید پر جانور کی جگہ اپنی انّا، غصہ، حسد، ناراضگی، جھوٹ، لالچ اور بدگوئی کی قربانی کی جائے؟کیوں نہ اپ...
20/07/2021

عید قربان
کیوں نہ اس عید پر جانور کی جگہ اپنی انّا، غصہ، حسد، ناراضگی، جھوٹ، لالچ اور بدگوئی کی قربانی کی جائے؟
کیوں نہ اپنے اندر کے جانور کو قربان کر دیں جو ہمیں ایک دوسرے کی حق تلفی، عیب جوئی، مظلوم سے نا انصافی اور رشتوں میں دراڑیں ڈالنے پہ اکساتا ہے۔
اصل قربانی کسی کی خوشی کی خاطر اپنی خوشی کو قربان کرنا ہے جس میں پچھتاوا نہ ہو۔ رشتوں کی مضبوطی کی ایک وجہ قربانی ہے۔ جس میں ایک اپنے خوابوں کی قربانی کرتا ہے تا کہ دوسرے کو خوشی مل سکے۔
آؤ آج عہد کریں کہ اس عید پہ ہم برائی قربان کر کے اچھائی کو پروان چڑھایں گے۔ تا کہ نہ صرف رب راضی ہو بلکہ حقیقی معنوں میں خدا کی مرضی پوری ہو۔آمین
ایڈووکیٹ رفعت بشیر

اچھا چرواہا اور الہی محبت:فادر جی چرچ میں اچھے چرواہے پر لیکچر دے رہے تھے اور اسے پتا ہی نہ چلا کب آنسو پلکوں کی اوٹ سے ...
19/07/2021

اچھا چرواہا اور الہی محبت:
فادر جی چرچ میں اچھے چرواہے پر لیکچر دے رہے تھے اور اسے پتا ہی نہ چلا کب آنسو پلکوں کی اوٹ سے نکل کر اس کے گالوں کو تر کرگئے۔ کئی مہینوں سے لگاتار دعا کرتی انمول خدا سے کچھ نالاں سی ہو چلی تھی۔ لیکن آج اس پہ اچھے چرواہے کی محبت' فکر' احساس اور قربانی کا پہلو پوری طرح عیاں ہو چکا تھا۔ ہمارا اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کو نام سے پُکارتا ہے۔ وہ اُس کی آواز کو پہچانتی ہیں
وہ اپنی بھیڑوں کی صیح گلہ بانی کرتا ہے اور اسکی بھیڑیں بھی اسکی آواز سنتی ہیں اور پہچانتی ہیں۔
خدا اتنا نرم دل' رحیم' مہربان اور شفیق ہے کہ فقط چند آنسو اسے رنجیدہ کر دیتے ہیں۔وہ قہر کرنے میں دھیما اور شفقت کرنے میں غنی ہو جاتا ہے۔ وہ پچھتانے پر بھی آمادہ ہے۔ اسے اپنی بھیڑوں سے اس قدر پیار ہے کہ اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ یہ اس نے آج جانا۔ اب اس کی سوچ سمجھ کے زاویے بدل چکے تھے۔ وہ خدا کی الہی محبت کو پہچان چکی تھی۔
فقط جذب کے عالم میں چند آنسو' آہوں اور سسکیوں سے کی ہوئی التجا' الوہیت پر ایمان اور ایک بھرپور امید۔
اب وہ منزل کو بہت قریب سے دیکھ رہی تھی۔ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چھو رہی تھی اور روح شادمانی اور مسروری سے گنگنا رہی تھی۔ الہی محبت کا تجربہ بہت ہی دلکش اور ایمان افروز تھا۔ اور امید کی کرنیں اس کے چاروں اوور تھی۔
بے شک خداوند میرا چوپان ہے مجھے کوئی کمی نہ ہو گی۔ ہیلیلویا
ایڈوکیٹ رفعت بشیر

Whenever you open your mouth to judge a mother's love, pain and sacrifice, bite your tongue first.Pregnancy hurts.Birth ...
15/07/2021

Whenever you open your mouth to judge a mother's love, pain and sacrifice, bite your tongue first.
Pregnancy hurts.
Birth hurts.
Breastfeeding hurts
Watching your baby cry hurts
Not sleeping well, it hurts.
Serving everyone and being the last hurts.
Not having time for yourself - hurts.

The mother needs help, not to be criticized,
she needs love and not to be judged,
she takes care of everyone, but she needs to take care of herself as well.
Motherhood is not as gentle as it seems, motherhood is beautiful, yes, but it is very difficult.
What's beautiful is the love that a mother has for her child, that love is capable of enduring everything!

خدا مجھ سے جڑے ہر رشتے کو پھلدار بنائے۔ آمین
10/07/2021

خدا مجھ سے جڑے ہر رشتے کو پھلدار بنائے۔ آمین

09/07/2021
                photo credit: Riffat Bashir
09/07/2021



photo credit: Riffat Bashir

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Riffat Bashir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Riffat Bashir:

Share

Category