MAli Law Company

MAli Law Company We make highly quality legal solutions accessible and affordable to all.
1. Registration of company and firm
2. Import and Export License
3.
(1)

NTN & SNTN registration
4. Income and Sales Tax Return
5. Cooperate , Taxation , Services
The Federal Board of Revenue (FBR) has issued regulations that require tax preparation firms to provide an annual statement of firm privacy policies. Here is our policy:

We handle all information you provide us with the utmost confidentiality. Your personal information will only be shared wi

th members of our firm who need to know this information in order to complete the work you have hired our firm to do. We will not disclose your personal information to anyone outside our firm without your express written permission to do so, or unless we are legally required to do so. For example, if a mortgage lender contacts our office for a copy of your return or information about it, we will ask that you provide written permission prior to our responding to that request. If you feel the nature of any subject matter to be discussed requires protected communications, please raise that issue so that we can discuss your possible need to consult with an attorney for legal advice.

ٹیکس سسٹمز اپڈیٹنیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026عزیزو!ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ای...
11/05/2026

ٹیکس سسٹمز اپڈیٹ
نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026

عزیزو!

ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ایس۔آر۔او 2026 (1) 835 کے تحت نیا ٹیکس فارم جاری کر دیا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو سات دن کے اندر اپنے اعتراضات، تجاویز اور ردعمل جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔

اس فارم میں جو درج ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں ان کے تحت اب آپ کو اپنی ہر قسم کی مالی سرگرمیوں کی مکمل سمری بھی فراہم کرنی پڑے گی۔

1)۔
تنخواہ دار طبقے کو اپنے ایمپلائر کا نام، اس کا رجسٹریشن نمبر اور ٹیکس کٹوتی کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

2)۔
پراپرٹی کا کرایہ پہلے سمپلی ایک اینٹری میں ڈال دیتے تھے لیکن اب الگ الگ ہر پراپرٹی کو مینشن کرکے بتانا پڑے گا کہ کس جگہ سے کتنا کرایہ آیا ہے اور اس کے ڈیڈکٹیبل اخراجات کیا ہیں۔

3)۔
ادر انکم میں بھی پہلے سب لوگ ایک سادہ سی اینٹری ڈال دیتے تھے اب اس کی بھی انسٹیٹیوشن وائز تفصیلات دینی ہوں گی۔

4)۔
اسی طرح زرعی انکم میں بھی ایک اینٹری ڈال دی جاتی تھی لیکن اب زرعی زمین کی تفصیلات بھی کھیت نمبر وغیرہ کیساتھ یعنی زمین کی لوکیشن بھی ساتھ میں فراہم کرنی پڑے گی۔

5)۔
ٹیکس ڈیڈکشنز کا بھی سارا نظام انٹیگریٹڈ ہے، آپ بتائیں گے فلاں نے پیسے کاٹے ہیں تو اس کا ہاں یا نہ کا ریفرینس خود بخود اپڈیٹ ہوجائے گا۔

6)۔
بزنس میں کتنی رقم پیمنٹ کی ہے یا وصول کی ہے اور اس پر دونوں طرف سے کتنا کتنا ٹیکس کاٹا گیا ہے یہ بھی بتانا پڑے گا۔

اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اب ٹیکس ڈیڈکشن جہاں نہیں ہوئی ہوگی وہاں فوراً سیکشن 161 کے تحت سوال کھڑا ہوجائے گا جو کافی تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔

یعنی جو بزنس ودہولڈنگ ایجنٹ بنتے ہیں ان سے یہ رقم وصول کر لی جائے گی۔

مثال کے طور پر بیشمار کمپنیاں ایسی ہیں جو ملازموں سے ٹیکس نہیں کاٹتیں، اب ایک ملازم بتاتا ہے کہ فلاں کمپنی سے میں لاکھ روپیہ مہینہ لیتا ہوں تو انٹیگریٹڈ سسٹم اب ٹیکس آفیسر کو خود بتائے گا کہ فلاں کمپنی کے دس ایمپلائیز نے بتایا ہے کہ وہ اتنی اتنی تنخواہ لیتے ہیں لیکن ایمپلائر نے کسی ایک کا بھی ٹیکس نہیں کاٹا۔

اب اس کیس میں جتنا ٹیکس ایمپلائر نے کاٹنا تھا اور نہیں کاٹا تو وہ اس ایمپلائر سے وصول کر لیا جائے گا۔

اس کے بعد ایمپلائر ملازموں سے کہے گا کہ پچھلے سال کا بل آگیا ہے مجھے لہذا یہ ٹیکس کٹواؤ اور ملازم کہیں گے صاحب ہم نے تو ریٹرن کیساتھ اپنی جیب سے ٹیکس جمع کرا دیا تھا اسلئے اب ہم آپ کو کیوں دیں لہذا وہ لائبلٹی ایمپلائر کے سر ہی پڑے گی۔

علی ہذا القیاس جو لوگ بزنس پیمنٹس پر بھی ڈیو ٹیکس نہیں کاٹتے ان کو بھی یہی پرابلم فیس کرنی پڑے گی۔

7)۔
ایک اچھی بات جو اس نئے فارم میں نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ریفنڈ کیلئے آپ کا ایک مین بینک اکاؤنٹ اس میں انٹیگریٹ ہو جائے گا اور ودہولڈنگ کے سارے ثبوت اپلوڈ ہو جانے کے بعد آپ کو آٹومیٹک طریقے سے ریفنڈ مل جایا کرے گا، اس کی منظوری کیلئے آئیندہ آپ کو ٹیکس آفس نہیں جانا پڑے گا۔

مجوزہ فارم کی قانونی حیثیت:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فارم ابھی تجویز کیا گیا ہے اور اطلاع عام کیلئے سات دن کی قانونی مہلت کے بعد بزنس چیمبرز اور ٹیکس بارز سے حاصل ہونے والے ردعمل کے تحت تھوڑا بہت تبدیل بھی ہو سکتا ہے، پھر یہ بجٹ کیساتھ ہی منظور ہو کے نافذ العمل ہو جائے گا۔

احتیاط برائے سال 2026:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنخواہ دار طبقہ جن کی تنخواہ ٹیکس ایبل ہے لیکن ایمپلائر ٹیکس نہیں کاٹتا وہ اپنا ریٹرن ایمپلائر کیساتھ مشورہ کرکے جمع کرائیں ورنہ جب اس کو نوٹس آئے گا تب وہ آپ سے ٹیکس مانگے گا اور آپ جیب سے ٹیکس ادا کر چکے ہوں گے۔

اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ کا ایمپلائر جون میں آپ کا سال بھر کا ٹیکس جمع کرا دے، اس سے دونوں کی بچت ہو جائے گی، ممکن ہے لیٹ ٹیکس جمع کرانے پر اس کو پانچ چھ فیصد جرمانہ ہوجائے لیکن یہ اس سے بہتر ہے کہ لاکھوں روپے کا بل اس کو آجائے اور پھر وہ آپ سے کاٹنے بیٹھ جائے۔

گزشتہ سال میں نے ہر پارٹی کا ریٹرن ان کے بینک اکاؤنٹس کو بہت تفصیل کیساتھ سمرائز کرکے بنایا تھا تاکہ ان کو کوئی ٹکر نہ لگے، اس وجہ سے میرے کافی ریٹرن لیٹ ہوگئے تھے لیکن میں نے کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کیا۔

اندریں حالات آپ کو بھی یہی کرنا چاہئے کہ اپنا ٹیکس ریٹرن کسی ایسے بندے سے جمع کرائیں جسے قانون اور مالیاتی امور پر یکساں عبور حاصل ہو تاکہ وہ بینک کو سمرائز کرکے نان بزنس ٹرانزیکشنز کو الگ کرے پھر انکم اسٹیٹمنٹ اور الاؤ۔ایبل اخراجات کو ڈیفائن کرکے آپ کا ریٹرن سیف زون میں لاکے فائنل کرے۔

گورنمنٹ نے اس سال تاریخ میں پہلی بار مئی میں فارم جاری کیا ہے ورنہ یہ مڈجولائی میں ہی آیا کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ گورنمنٹ ٹیکس فائلنگ کو پہلی جولائی سے شروع کرانا چاہتی ہے تاکہ کنسلٹینٹس کو نوے دن کا پورا فائلنگ ٹائم مل جائے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس بار ٹیکس ریٹرن بنانے میں کنسلٹینٹ کا دو گنا ٹائم لگے گا جو ریوینیو بورڈ کو بھی نظر آرہا ہے لہذا ایک تو تیس جون کے فوراً بعد اپنا ڈیٹا کنسلٹینٹ کو لازمی فراہم کر دیں۔

دوسرا، کنسلٹینٹ اگر فیس میں اضافے کا تقاضا کرے تو اس کی یہ بات بھی ماننی چاہئے کیونکہ پروفیشنل کنسلٹینٹ کبھی بھی کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کرتے لہذا اضافی وقت دینے کیلئے اضافی فیس بھی ان کو ملنی چاہئے۔
For more information just Contact MAli Law Company & Mujahid Ali

💐💐💐

02/05/2026

‏سوال :- اگر عدت کی مدت 90 دن پوری ہونے سے پہلے شوہر فوت ہو جائے تو کیا بیوی اپنے شوہر کی جائیداد میں وارث تصور ہوگی؟

جواب / سپریم کورٹ کا فیصلہ
سوات کے شاہ بخت راوان نے مورخہ 27 اگست کو اپنی بیوی مُسرت کو طلاقِ بدعت (اکٹھی تین طلاقیں) لکھ کر بھیج دی۔ ابھی تین ماہ کی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی کہ 3 اکتوبر کو راوان صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے۔ انتقال کے بعد راون کی والدہ نے اسکے بچوں سمیت سول عدالت میں مقدمہ دائر کردیا کہ مرحوم کا ساری وراثت مسرت کو چھوڑ کر ہمارے نام کی جائے کیونکہ راوان نے اپنی زندگی میں ہی تین طلاقیں دیکر اسے اپنی زوجیت سے نکال دیا تھا لہذا اسکا کوئی حصہ وراثت میں نہ ہے۔

مسرت کو جب اس کیس کا پتہ چلا تو وہ بھی اس کیس میں اس موقف کے ساتھ فریق بن گئی کہ اگرچہ مجھے طلاق دیدی گئی تھی لیکن ابھی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی تو میں بھی اسکی بیوہ ہوں لہذا مجھے بھی میرا شرعی حصہ دیا جائے۔ سول عدالت نے مسرت کے موقف کو رَد کردیا۔ مسرت نے اس حکم کیخلاف ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی وہ خارج ہوگئی، اس فیصلے کیخلاف وہ پشاور ہائیکورٹ چلی گئی۔

ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ وراثت، مرنے والے کی وفات کے ساتھ کھلتی ہے۔ طلاق کو ابھی 90 دن مکمل نہیں ہوئے تھے جبکہ مسلم فیملی لا آرڈیننس 1961ء کی دفعہ 7 کے تحت طلاق کو موثر ہونے کیلئے 90 دن گزرنا ضروری ہیں۔ ہائیکورٹ نے مسرت کا مؤقف درست مانا اور حکم دیا کہ راوان کے ترکہ میں سے مسرت کو بطور بیوہ، شرعی حصہ دیا جائے۔
راوان کے دیگر ورثاء نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ سپریم کورٹ میں گذشتہ سال چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس اپیل کو سنا اور جسٹس شکیل احمد نے فیصلہ تحریر کیا۔ سپریم کورٹ میں ان لوگوں نے موقف اپنایا کہ چونکہ طلاقیں تین تھیں، لہذا طلاق نامہ 27 اگست کو ہی مؤثر ہوگیا تھا اور عدت مکمل ہونے سے قبل راون کی موت سے صلح و رجوع کے امکانات بھی ختم ہوگئے، لہذا مسرت بی بی راوان کی بیوی نہ رہی اور یوں وراثت میں بھی حصہ دار نہ ہے۔
سپریم کورٹ کے سامنے تصفیہ طلب امر یہ تھا: "کیا طلاق بدعت (تین طلاقوں) کی عدت کے دوران اگر خاوند کی وفات ہوجائے تو بیوی/ بیوہ متوفی کے ترکہ میں حقدار ہے؟"

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اسلام میں نکاح ایک سول معاہدہ ہے، عیسائیت کی طرح فقط ایک روحانی رسم نہیں ہے۔ نکاح سے متعلق قرآنی آیات اشارہ کرتی ہیں کہ نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جو آپس میں محبت، ہمدردی اور ساتھ دینے کیلئے ہے۔ طلاق کی تین اقسام ہیں، حسن، احسن اور بدعت (تین طلاقیں ایک ساتھ دینا)۔ طلاقِ بدعت کا تصور قرآن و حدیث میں نہیں ملتا اسے تو حضرت عمر رض نے اپنی خلافت میں طلاق کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے اسے تین طلاق تسلیم کیا تھا۔

عدالت نے طلاق کے حوالے سے قرآنی آیات نقل کرکے کہا کہ یہ آیات تقاضا کرتی ہیں کہ طلاق دینے کے بعد فریقین میں صلح و صفائی کروانے کا وقت اور موقع دیا جائے جبکہ طلاق بدعت (بیک وقت تین طلاق) واپسی کا راستہ ہی ختم کر دیتی ہے لہذا طلاق بدعت قرآنی منشاء کے خلاف ہے، اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

فیصلے کے مطابق فقہ جعفریہ، شافعیہ اور مالکیہ طلاق بدعت کو بالکل تسلیم نہیں کرتیں، فقہ حنبلی بعض صورتوں میں اسے ایک طلاق شمار کرتی ہے۔ فقہاء کے اس اختلاف نے قانون سازوں کو وجہ دی کہ وہ اس پر ایک متفقہ قانون بنا دیں، چنانچہ فیملی لا آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت طلاق (ایک ہو یا زائد) 90 دن سے قبل مؤثر ہی نہیں ہوسکتی، اس تین ماہ کے عرصہ میں نکاح بالکل باقی رہے گا اور صلح صفائی کی کوشش کی جائے گی۔ یہی قرآن کا منشاء ہے لہذا یہ دفعہ قرآنی احکامات کے عین مطابق ہے۔

طلاق کے بعد عدت کا ایک اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر فریقین صلح کرنا چاہیں تو کرسکیں جو طلاق بدعت کی صورت میں ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ 'رحمت بی بی کیس 1988ء' میں بھی یہ قرار دے چکی ہے کہ دوران عدت شوہر کی وفات سے بیوی وراثت سے محروم نہیں ہوگی۔

لہذا اس کیس میں بھی شوہر (راوان) کی دی ہوئی تین طلاقیں، قرآنی احکامات اور مسلم فیملی لا آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت 90 دن کی مدت پوری نہ ہونے کی وجہ سے مؤثر نہیں ہوئیں، اس لیے خاتون مُسرت اب بھی قانونا بیوہ اور وراثت کی حقدار ہے۔ سپریم کورٹ نے راون کے دیگر ورثاء کی اپیل خارج کردی۔

سبطِ حسن نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اُس نے نفقہ، جہیز، زچگی اخراجات اور حق مہر کی وصولی کیلئے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر ...
21/04/2026

سبطِ حسن نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اُس نے نفقہ، جہیز، زچگی اخراجات اور حق مہر کی وصولی کیلئے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کردیا۔ یہ حق مہر نکاح نامہ میں درج ہونے کے بجائے ایک اسٹامپ پیپر پر تھا، جس کیمطابق شوہر نے اقرار کیا کہ طلاق کی صورت میں وہ اپنی بیوی کو 40 لاکھ روپے بطور حق مہر ادا کرے گا۔ فیملی کورٹ نے یہ اسٹامپ پیپر والے حق مہر کا کلیم مسترد کردیا۔ بیوی نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کردی۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے بعد از ریمانڈ کارروائی میں بیوی کا موقف تسلیم کرتے ہوئے اسے 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیا۔ شوہر نے اس کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے فروری 2024ء میں کیس کی سماعت کی۔ جہاں شوہر کے وکیل نے دلائل دیے کہ یہ اسٹامپ پیپر شوہر نے دراصل میڈیکل اسٹور کے لائسنس کی تجدید کیلئے نکلوایا تھا۔ لیکن بیوی نے اسے چوری کرکے اس پر یہ جعلی معاہدہ تحریر کرلیا۔ اور، بالفرض اگر اس معاہدے کو درست تسلیم بھی کرلیا جائے تو چونکہ یہ طلاق کو مالی جرمانے سے مشروط کرنا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے "بشیر صدیقی" کیس کی رُو سے درست نہیں۔ بیوی کے وکیل نے کہا کہ یہ طلاق کو جرمانے سے مشروط کرنا نہیں بلکہ حق مہر میں اضافے کا معاہدہ ہے، جو بالکل درست ہے۔

ہائیکورٹ نے لکھا کہ چونکہ یہ متنازعہ معاہدہ بیوی کے حق میں تھا تو عدالت میں اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی اُسی پر تھی۔ خاتون نے اصل معاہدہ کے ہمراہ اس کے دونوں گواہوں کو بھی عدالت میں پیش کیا جنہوں نے اس کے اصل ہونے کی تائید کی۔ دورانِ جرح بیوی سے معاہدے کے جعلی ہونے پر کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ جبکہ شوہر نے جرح میں تسلیم کیا کہ اسٹامپ پیپر خود اسی نے نکلوایا تھا اور اسکے دونوں اطراف اسی کے اصل دستخط موجود ہیں۔

پشت پر اسٹامپ پیپر نکلوانے کی غرض میں واضح درج ہے کہ یہ شوہر اور بیوی کے مابین معاہدے کیلئے ہے (نہ کہ میڈیکل سٹور کیلئے)۔ اگرچہ معاہدے کے کاتب اور اسٹامپ فروش کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، لیکن اس کا نقصان شوہر کو ہی ہوا کیونکہ یہ ثابت کرنا اس کی ذمہ داری تھی کہ اسٹامپ میڈیکل سٹور کیلئے لیا گیا تھا۔ شوہر نے چوری کا دعویٰ تو کیا لیکن اس نے نہ تو کوئی FIR یا رَپٹ درج کروائی اور نہ ہی اسٹامپ کی منسوخی کی کوئی درخواست دی۔ لہذا یہ معاہدہ بلاشبہ ثابت شدہ ہے۔

طلاق کی صورت میں 40 لاکھ روپے حق مہر، شادی کو زبردستی قائم رکھنے کی شرط نہیں بلکہ حق مہر میں اضافہ ہے، جو قانونی طور پر جائز ہے ۔"محمدن لا" کے پیرا نمبر 287 اور سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے متعدد فیصلوں کی روشنی میں یہ طے شدہ قانون ہے کہ حق مہر کی رقم شادی سے پہلے اور بعد میں بھی مقرر اور اسمیں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔

ہائیکورٹ نے بیوی کو 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیتے ہوئے شوہر کی رِٹ پٹیشن خارج کردی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ نکاح نامہ میں یا بعد میں، کسی معاہدے میں یہ لکھوانا کہ"طلاق کی صورت میں شوہر بیوی کو اتنی رقم یا جائیداد دے گا"، درست ہے یا نہیں؟ اس پر اعلی عدلیہ کے فیصلوں میں اختلاف ہے۔ لیکن موجودہ کیس میں بیوی نے غالباََ وکیل سے مشورہ کرکے طلاق سے مشروط اس رقم کو "حق مہر" لکھوا لیا جو بلا اختلاف درست ہے۔ اس لیے معاہدے لکھتے لکھاتے وقت چیٹ جی پی ٹی سے نہیں بلکہ کسی وکیل سے مشورہ کرنا چاہیے۔

  Registration Services Contact Us for Professional Services For Income Tax General Sales Tax (GST)SECP PSW (WeBoc)PRAIP...
03/04/2026

Registration Services Contact Us for Professional Services For
Income Tax
General Sales Tax (GST)
SECP
PSW (WeBoc)
PRA
IPO

لاہور ہائیکورٹ کا نیا نظاممقدمہ کرنے والوں کی بائیومیٹرک تصدیق کے قواعد (SOPs) – خلاصہ1️⃣ قواعد کا مقصدان قواعد کا بنیاد...
13/03/2026

لاہور ہائیکورٹ کا نیا نظام
مقدمہ کرنے والوں کی بائیومیٹرک تصدیق کے قواعد (SOPs) – خلاصہ
1️⃣ قواعد کا مقصد
ان قواعد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ:
📌 مقدمہ کرنے والے افراد کی درست شناخت یقینی بنائی جائے۔
📌 جعلی یا کسی اور کے نام پر مقدمہ کرنے کو روکا جائے۔
📌 عدالتی کارروائی میں شفافیت اور اعتماد بڑھایا جائے۔
یہ نظام قومی عدالتی پالیسی کے تحت متعارف کروایا گیا ہے۔
2️⃣ کن افراد کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی
درج ذیل افراد کے لیے بائیومیٹرک تصدیق ضروری قرار دی گئی ہے:
📌 مقدمہ دائر کرنے والا مدعی
📌 جواب داخل کرنے والا مدعا علیہ
📌 ضامن (Surety)
📌 عدالت میں بیان دینے والا شخص
📌 عدالت کے حکم سے رقم نکلوانے والا شخص
یعنی تقریباً ہر اہم فریق کو بائیومیٹرک تصدیق کرانا ہوگی۔
3️⃣ اگر ایک شخص کئی مقدمات کرے
اگر کوئی شخص:
کئی مقدمات دائر کرے
تو
📌 ہر مقدمہ کے لیے الگ بائیومیٹرک تصدیق ضروری ہوگی۔
ایک تصدیق کئی مقدمات کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔
4️⃣ اگر ایک مقدمہ میں کئی فریق ہوں
اگر ایک کیس میں:
کئی مدعی ہوں
یا
کئی مدعا علیہ ہوں
تو:
📌 ہر فرد کی الگ الگ بائیومیٹرک تصدیق ہوگی۔
البتہ اگر ایک شخص قانونی طور پر سب کی نمائندگی کر رہا ہو تو صرف اسی کی تصدیق کافی ہوگی۔
5️⃣ زیر حراست ملزمان
اگر کوئی فریق جیل میں ہو تو:
📌 اس کی بائیومیٹرک تصدیق جیل یا لاک اپ میں کی جائے گی۔
📌 اس کا انتظام جیل حکام کریں گے۔
6️⃣ ضمانت کے مقدمات میں بائیومیٹرک
ضمانت کے معاملات میں:
🔹 پری اریسٹ بیل میں ملزم کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔
🔹 پوسٹ اریسٹ بیل میں جیل حکام تصدیق کروائیں گے۔
البتہ کم عمر ملزم اس سے مستثنیٰ ہوگا بشرطیکہ:
NADRA کا B-Form یا FRC جمع کرایا جائے
والد یا سرپرست کا حلف نامہ شامل ہو
7️⃣ نابالغ افراد کے مقدمات
اگر مقدمہ نابالغ سے متعلق ہو تو:
📌 نابالغ کی بائیومیٹرک تصدیق ضروری نہیں ہوگی۔
📌 مقدمہ سرپرست یا Next Friend کے ذریعے دائر ہوگا۔
📌 سرپرست کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔
8️⃣ بیرون ملک رہنے والے افراد
اگر کوئی فریق بیرون ملک رہتا ہو تو:
📌 پاکستان میں اس کا مختار نامہ ہولڈر بائیومیٹرک تصدیق کروائے گا۔
📌 مختار نامہ کو پاکستانی سفارتخانہ سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے۔
9️⃣ شناختی کارڈ بلاک یا گم ہونے کی صورت
اگر کسی شخص کا CNIC:
بلاک ہو
گم ہو
یا ایکسپائر ہو
تو:
📌 دیگر شناختی دستاویزات
📌 اور حلف نامہ
کے ذریعے شناخت کی جا سکتی ہے۔
🔟 بائیومیٹرک تصدیق کا طریقہ
طریقہ کار یہ ہوگا:
1️⃣ لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ سے Tracking ID حاصل کی جائے۔
2️⃣ 48 گھنٹوں کے اندر NADRA e-Sahulat Centre جا کر بائیومیٹرک تصدیق کرائی جائے۔
3️⃣ تصدیق کی رسید کیس کے ساتھ جمع کرائی جائے۔
1️⃣1️⃣ عدم تعمیل کا نتیجہ
اگر بائیومیٹرک تصدیق نہ کرائی گئی تو:
📌 مقدمہ Defective قرار دیا جائے گا۔
📌 دفتر Deficiency Memo جاری کرے گا۔
📌 کیس واپس کر دیا جائے گا۔
⚖️ قانونی اہم نکات (وکلاء کے لیے)
اہم قانونی اثرات:
📌 جعلی مدعی یا مدعا علیہ کے ذریعے مقدمات دائر کرنا مشکل ہو جائے گا۔
📌 ضامنوں کی جعلی ضمانتوں کا خاتمہ ہوگا۔
📌 عدالت میں اصل فریق کی موجودگی اور شناخت یقینی ہوگی۔

FBR Launches IRIS 3.0 — Pakistan’s Leap Into a Smarter Digital Tax EraThe Federal Board of Revenue (FBR) has officially ...
20/10/2025

FBR Launches IRIS 3.0 — Pakistan’s Leap Into a Smarter Digital Tax Era

The Federal Board of Revenue (FBR) has officially launched IRIS 3.0, Pakistan’s most advanced and user-friendly digital tax system to date. This major upgrade marks a defining step in Pakistan’s digital transformation journey — one where technology meets transparency and citizens finally get a tax system built for their ease.

---

A New Chapter in Tax Digitalization

The launch of IRIS 3.0 is more than just a software update. It’s a full-scale reimagining of how Pakistan manages, processes, and files taxes. Built around automation, artificial intelligence, and real-time data integration, IRIS 3.0 ensures that taxpayers — whether individuals or businesses — can file returns smoothly, accurately, and without the confusion of past systems.

Finance Minister Muhammad Aurangzeb called the new system a “game-changer” for improving Pakistan’s ease of doing business and promoting voluntary tax compliance. The initiative supports the Digital Pakistan Vision, focusing on transparency, accountability, and citizen empowerment.

---

What’s New in IRIS 3.0

FBR’s digital platform has undergone a complete transformation. Here’s what stands out:

Pre-Filled Returns: Income, salary, and withholding data are automatically pulled from verified databases — no more manual entries.

AI-Powered Validation: Smart algorithms review your data instantly and flag any issues before submission.

One-Click Filing: Complete your entire filing process in minutes.

Smart Dashboard: Check tax history, refunds, and compliance alerts in one intuitive interface.

Mobile-Friendly Design: Fully optimized for smartphones — manage taxes anytime, anywhere.

Advanced Security: Two-factor authentication and multi-layer encryption protect every account.

Automated Refunds: Track your refunds in real time, with zero manual follow-ups.

With these features, IRIS 3.0 puts Pakistan on par with global digital tax administrations.

---

How It Works

1. Login: Access the IRIS 3.0 portal using your CNIC and secure credentials.

2. Auto-Data Import: Your verified income and withholding details are auto-filled.

3. AI Review: The system checks every field for accuracy.

4. E-Sign & Submit: Digitally sign your return and submit it in seconds.

5. Instant Acknowledgment: Receive your receipt and tracking ID immediately.

This streamlined process cuts filing time from hours to minutes — a first in Pakistan’s tax history.

---

Building Trust Through Transparency

According to Chairman Rashid Mahmood Langrial, the new system has already shown results. Pakistan’s tax-to-GDP ratio increased from 8.83% in FY 2023–24 to 10.33% in FY 2024–25 — the highest jump in over two decades.

The credit goes to data-driven systems, automation, and a stronger focus on taxpayer facilitation — all central pillars of IRIS 3.0.

---

Designed for People, Not Paperwork

The FBR has placed user experience at the heart of its design. From a cleaner login interface and multilingual support to video tutorials, chatbot guidance, and a 24/7 helpline, the platform ensures that even first-time filers can navigate it easily.

Every feature reflects one principle: make tax filing stress-free, simple, and smart.

---

Global Praise for Pakistan’s Digital Leap

At a recent World Bank conference in Washington, D.C., IRIS 3.0 was showcased as a model for developing nations. Officials from Egypt, Malaysia, and Indonesia commended Pakistan’s homegrown innovation and its rapid progress in digital governance.

World Bank Regional Director Sandeep Mahajan called the system a “milestone in South-South cooperation,” emphasizing Pakistan’s strong political will and technological integration.

---

Why It Matters to Taxpayers

Whether you’re a salaried individual or running a company, IRIS 3.0 delivers tangible benefits:

Faster, simpler filing

Error-free data validation

Real-time refund tracking

Fully paperless process

Stronger security

Accessible across devices

This means less hassle, fewer errors, and more control for every taxpayer.

---

Empowering FBR from Within

Digital transformation also means retooling the human side. FBR staff have been extensively trained on data analytics, AI systems, and digital governance to ensure the smooth rollout of IRIS 3.0.

The organization is now shifting from manual inspections to data-based monitoring and predictive analysis, boosting efficiency and reducing corruption risks.

Next, FBR plans to link IRIS 3.0 with other national databases — including NADRA, SECP, and provincial revenue boards — to enable a unified reporting structure across Pakistan.

---

The Road Ahead: Digital Revenue 2025

IRIS 3.0 is just one milestone in the broader Digital Revenue 2025 roadmap, which aims to connect all fiscal operations under a single digital umbrella.

Future upgrades include:

Smart Refunds: Auto-approvals based on verified data.

Online Payments: Real-time bank integrations for instant tax deposits.

Provincial Integration: Synchronizing provincial and federal tax systems.

Data Insights: Using analytics to forecast revenue trends and guide policy.

These initiatives will establish a unified, transparent, and data-driven fiscal ecosystem nationwide.

---

Confidence at Home and Abroad

The Federation of Pakistan Chambers of Commerce and Industry (FPCCI) and other business groups have praised FBR for easing compliance, especially for SMEs that can now file taxes online without relying on consultants.

By cutting compliance costs and simplifying filing, FBR aims to expand the tax base and encourage voluntary participation — a win-win for both the government and the people.

---

A Step Toward Fiscal Strength and Growth

The launch of IRIS 3.0 isn’t just about technology — it’s about Pakistan’s economic stability. Transparent and efficient tax collection strengthens public trust, reduces leakages, and helps channel revenue into infrastructure, education, and social welfare.

With this system, every rupee collected can now be traced, accounted for, and reinvested where it matters most.

---

In Conclusion

IRIS 3.0 represents more than a software upgrade — it’s a revolution in governance. By merging AI, automation, and real-time data, Pakistan has taken a bold step toward a modern, efficient, and transparent tax environment.

As FBR Online Tax Filing 2025 becomes the new norm, millions of Pakistanis will experience what it truly means to have a smart, secure, and people-first tax system.

فائلر کے بارے میں خطرناک غلط فہمی 🚫مارکیٹ میں کچھ پراپرٹی رجسٹری ڈیلرز 🏠 یا گاڑی ٹرانسفر ایجنٹس 🚗 عوام کو یہ غلط مشورہ د...
18/08/2025

فائلر کے بارے میں خطرناک غلط فہمی 🚫
مارکیٹ میں کچھ پراپرٹی رجسٹری ڈیلرز 🏠 یا گاڑی ٹرانسفر ایجنٹس 🚗 عوام کو یہ غلط مشورہ دیتے ہیں:
"آپ فی الحال عارضی طور پر فائلر بن جائیں، اپنی رجسٹری یا گاڑی ٹرانسفر کروا لیں، اس کے بعد چاہیں تو سسٹم چلائیں یا چھوڑ دیں۔"
⚠️ یہ انتہائی غلط اور نقصان دہ سوچ ہے!
📌 حقیقت یہ ہے کہ:
ایک بار NTN یا فائلر اسٹیٹس لینے کے بعد، ہر سال بروقت انکم ٹیکس گوشوارہ u/s 114 اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ u/s 116 جمع کروانا زندگی بھر کی قانونی ذمہ داری ہے۔
یہ ذمہ داری اس بات سے آزاد ہے کہ آپ کی آمدنی ہے یا نہیں، یا آپ کاروبار کرتے ہیں یا نہیں۔
📜 گوشوارہ جمع نہ کروانے پر قانونی سزائیں — سیکشن 182، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001
❌ تنخواہ دار افراد: ایک سال کا جرمانہ 10,000 روپے
❌ کاروباری افراد: ایک سال کا جرمانہ 50,000 روپے
❌ اضافی سزا: واجب الادا ٹیکس کا 📈 %200 تک جرمانہ
💡 یاد رکھیں:
"عارضی فائلر" بننے کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس لیے وقتی فائدہ اور مستقل نقصان کا سودا نہ کریں۔
ہر سال بروقت ریٹرن فائل کریں تاکہ نہ صرف قانون کی پابندی ہو بلکہ غیر ضروری جرمانوں اور زیادہ ٹیکس
سے بچا جا سکے۔
MAli Law Company

1۔ نان فائلرز اب موٹرسائیکل، رکشہ اور ٹریکٹر کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں خرید سکیں گے۔2۔ نان فائلرز کسی کار کمپنی یا ڈیلر سے...
31/12/2024

1۔ نان فائلرز اب موٹرسائیکل، رکشہ اور ٹریکٹر کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں خرید سکیں گے۔

2۔ نان فائلرز کسی کار کمپنی یا ڈیلر سے نئی گاڑی نہیں بک کرا سکیں گے۔

3۔ نان فائلرز اگر اوپن مارکیٹ سے گاڑی لے لیں گے تو اپنے نام پر رجسٹر یا ٹرانسفر نہیں کرا سکیں گے۔

4۔ ٹرانسپورٹ کمپنیز اپنے لئے بس یا ٹرک خریدنا چاہیں تو اس کیلئے اجازت لینی پڑے گی۔

5۔ ٹیکس ریٹرن میں اپنی مالی حیثیت ظاہر کئے بغیر جائیداد لیں گے تو اس کی رجسٹری نہیں ہو سکے گی، مالی حیثیت ظاہر کی ہے لیکن جائیداد خریدنے کیلئے بینک ٹو بینک پیمنٹ نہیں کریں گے تو اس جائیداد کی کل مالیت پر جرمانہ عائد ہو جائے گا، جائیداد ضبط بھی ہو سکتی ہے۔

6۔ اب ٹیکس ڈیپارٹمنٹ آپ کے بینک اکاؤنٹس کو ڈائریکٹ دیکھ سکے گا کہ اس میں کتنی رقم آئی گئی ہے اور آپ نے ریٹرن میں کتنی انکم دکھائی ہے اور کتنی ٹرانزیکشن چھپائی ہے۔

7۔ نان فائلرز اب بیسک بینک اکاؤنٹ یا آسان اکاؤنٹ کے علاوہ کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں کھلوا سکیں گے، بیسک یا آسان اکاؤنٹ میں آپ سال بھر کے اندر تقریباً پانچ لاکھ سے زیادہ رقم کریڈٹ نہیں کر سکتے۔

8۔ نان فائلرز کے موجودہ سیلریڈ اینڈ بزنس اکاؤنٹس جن میں ٹیکس ایبل سطح کا کریڈٹ آتا ہے یہ فائلر نہیں ہوں گے تو ان کے اکاؤنٹس فریز ہو سکتے ہیں۔

9۔ اب ہر قسم کے بینک اکاؤنٹ سے رقم جمع کرانے اور نکالنے پر ایک لمٹ نافذ ہوگی، اس کی وجہ یہ کہ لاکھوں لوگ انکم ٹیکس میں مائینر سی انکم دکھاتے ہیں جبکہ ان کے اکاؤنٹ میں کئی گنا زیادہ رقم آئی گئی ہوتی ہے لہذا کسی فارمولے سے اس کو لمیٹائز کیا جائے گا تاکہ لوگ صحیح انکم بتائیں اور اس سے سوا گنا یا ڈیڑھ گنا تک کریڈٹ کی لمٹ لے لیں۔

10۔ سیلزٹیکس ایبل دکاندار، ٹریڈرز اینڈ ریٹیلرز، جو سیلزٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں ان کے بینک اکاؤنٹس اور پراپرٹیز فریز یا سِیل کی جا سکتی ہیں۔

For more details contact now MAli Law Company & 0322 5276801
29/06/2024

For more details contact now MAli Law Company & 0322 5276801

Address

Hajveri Tower Chok Chuburji Lahore
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MAli Law Company posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share