Randhawa Law Associates

Randhawa Law Associates Law Firm

09/11/2023

•Immigration Lawyer• Work & Study Visa Consultancy• Travel & Tourism Package & Air Ticketing Service•

19/10/2023
18/11/2020

* معنی جانیں .....*

* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* سیکشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
* دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
* دفعہ 499 * = ہتک عزت
* دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔

تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
* پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

* (1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا * -

ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔

* (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔

عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

* (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -

سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔

* (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -

زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

*(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*

آئی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

*یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔* _
منقول

Case Law
14/10/2020

Case Law

22/07/2020
22/07/2020

🔴 آرڈر,ججمٹ اور ڈگری میں کیا فرق ہے؟

ضابطہ دیوانی کی دفعہ 33 کے مطابق ڈگری ہمیشہ ججمنٹ کو فالو کرتی ہے جبکہ دفعہ 2(9)کے مطابق ججمنٹ جج کی طرف سے دیا گیا بیان ہے جوکہ ڈگری یا آرڈر کے وجوہات پر دی جاتی ہے

⚫ #ججمنٹ میں تمام واقعات,شہادت ,کیس لاز وغیرہ اور آخر میں خلاصہ لکھا جاتا ہے

⚫ #ڈگری کوضابطہ دیوانی کی دفعہ 2(2)میں بیان کیا گیا ہے اور ڈگری ہمیشہ ججمنٹ کے آخری حصہ یعنی خلاصہ پر ہی مشتمل ہوتی ہے اور اس میں زیادہ تفصیل نہیں ہوتی آسان الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈگری ججمنٹ کے ذیلی حصہ پر مشتمل ہوتی ہے

ڈگری کی تاریخ ہمیشہ ججمنٹ کے تاریخ سے شمار ہوتی ہے یعنی ججمنٹ کی تاریخ ڈگری کی تاریخ ہوتی ہےجبکہ

⚫ #آرڈر ایک مختصر سا حکم ہوتا ہے جوکہ ہر تاریخ پر دیا جاتا ہے اگر دوران پروسیڈنگ کوئی اہم حکم نامہ جاری کرنا ہو تو بذریعہ آرڈر جاری ہوگا

22/07/2020

🔹سامان جہیز کو محفوظ کرنے کا طریقہ کار🔹

ماں باپ بے پناہ ارمانوں سے بیٹی کے نئے گھر کے لیے سامان جہیز کی خریداری کرتے ہیں اس وقت انکے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا کہ کبھی انکی بیٹی کا گھر بھی ٹوٹ سکتا ہےاور اسی سامان کے لیے انکو عدالتوں کی خواری بھی اٹھانا پڑسکتی ہے

حالانکہ شادی کے وقت اگر سامان جہیز کی لسٹ بنانے یا وصولی کی رسید بنانے کا اصرار کیا جاے تو سسرال والے اس چیز کو بدگمانی اور بدشکونی کا نام دیتے ہیں

مستقبل میں کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ خریداری کے وقت رسیدات کو سنبھال کر رکھیں اور سامان جہیز کی لسٹ بنا کر لڑکے والوں سے لسٹ کے اوپر دستخط کروالیے جائیں تو یہ مضبوط دستاویزی شہادت بن جاے گی

اگر گھر آبادی نہ ہوسکے اور رشتہ ٹوٹ جاے تو سامان جہیز لینے کی بجاے اسکی متبادل رقم وصولی کا مطالبہ کرنا چاہیے

ایک مقدمہ 2000SCMR662میں عدالت نے سامان جہیز کے عوض سامان واپسی کی بجاے متبادل رقم ادا کرنے کا حکم دیا

ایک اور مقدمہ 2004 SCMRکے صفحہ نمبر 1739پر قرار دیا گیا ہے کہ صرف رسیدات پیش کرنا کافی نہیں بلکہ عدالت میں ثابت کرنا بھی ضروری ہے

اگر شوہر کہے کہ اس نے سامان جہیز بیوی کو واپس کردیا ہے تو یہ ثابت شوہر کو کرنا ہوگا کہ کب اور کس مقام پر سامان جہیز واپس کیا ہے
تاہم سپریم کورٹ نے ایک حالیہ فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ عدالت سامان جہیز کی رسیدات پیش کیے بغیر بھی مقدمہ بیوی کے حق میں ڈگری کرسکتی ہے ملاہذہ ہو
2017 SCMR 321

ایک اور حالیہ فیصلہ 2018 سی ایل سی صفحہ نمبر 241 پر لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیوی سامان جہیز وصولی کے لیے شوہر کے ساتھ ساتھ سسرال کے دیگر افراد کے اوپر بھی مقدمہ دائر کرسکتی ہے

22/07/2020

نکاح اور اس میں موجود کالمز کی تفصیل و اہمیت

نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے۔ جو فریقین کے درمیان ایجاب وقبول کے عمل سے مکمل ہو جاتا ہے۔ نکاح نامہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ اس کے ذریعے حقوق و فرائض کا تعین ہوتا ہے۔

اکثر لوگ نکاح نامہ کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نکاح نامہ کی ضرورت کا احساس دلایا جائے کیوں کے عورت کو مذہب اورقانون نے اپنے مستقبل کے بارے میں جن تحفظات کویقینی بنانے کی اجازت دے رکھی ہے

وہ نکاح نامہ کے کالم صحیح کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اس لئے نکاح نامہ کے کالم انتہائی احتیاط سے پر کرنے کی ضرورت ہے۔

عام معلومات ( کالم 1 تا 12)

ان کالموں میں دولہا٬ دولہن کا نام ولدیت٬ ضلع٬ عمر٬ یونین کونسل٬ فریقین کی طرف سے وکیل٬ گواہ٬ شادی کی تاریخ اور یہ کی دلہن کنواری٬ بیوہ یا مطلقہ ہے درج کرنا ہوتا ہے

حق مہر (کالم 13تا16)

حق مہر کا نکاح نامہ میں اندراج ضروری ہے۔ جو عورت کا مذہبی اور قانونی حق ہے۔ ارشادات رسول اور عمل رسول کا خلاصہ ہے کہ جو حق مہر شوہر آسانی کے ساتھ ادا کرسکے اور بیوی بھی اس پر راضی ہو وہ شرعی حق مہر ہے ۔

نکاح کے کالم نمبر 14 میں اسکی نوعیت لکھی جاتی ہے کہ وہ معجل ہے یا مؤجل۔

اس طرح اگر مہر کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر ادا کیا گیا ہو تو کالم نمبر 15 میں اس کی مقدار درج کی جاتی ہے۔

اگر حق مہر کے عوض کوئی جائیداد وغیرہ دی گئی ہو تو کالم نمبر 16میں اس کی مکمل تفصیل اس کے آگے اور پیچھے کیا ہے۔ اور اس وقت اس کی قیمت کیا ہے درج کی جاتی ہے۔ تاکہ بعد میں دھوکا نہ ہو۔

خاص شرائط ( کالم نمبر 17)

کالم نمبر 17 خاص شرائط سے متعلق ہے جس کی خاص اہمیت ہے اس میں ناچاقی کی صورت میں نان و نفقہ کس طرح ادا ہوگا

اور رہائش کے بارے میں بھی لکھا جا سکتا ہے کہ شادی کے بعد دیہات میں رہائش ہو گی یا شہر میں اور شادی کے بعد تعلیم یا ملازمت جاری رکھنے کی اجازت ہوگی یا نہیں وغیرہ اس میں درج کی جاتی ہیں۔

اس شق میں جہیز کی تفصیل بھی درج کی جاسکتی ہے۔

طلاق تفویض (کالم نمبر 18)

اس شق میں عورت مرد سے طلاق کا حق مانگ سکتی ہے اور اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کا حق دے دیا ہے اور اس بارے میں کوئی شرائط مقرر کی ہیں تو وہ بھی اس خانہ میں درج کی جائیں گی۔

اور عورت جب چاہے مقررہ شرائط کو پورا کر کے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شوہر کی زوجیت سے آزاد کر سکتی ہے۔

عورت کو اس کا نوٹس چیئرمین ثالثی کونسل کو دینا ضروری ہے کے اس نے طلاق تفویض کا حق استعمال کیا ہے۔

شوہر کے حق طلاق پر پابندی( کالم نمبر 19)

اس کالم میں شوہر کے حق کے طلاق پر شرائط مقرر مقرر کی جاتی ہیں۔ مثلا حق مہر کی فوری ادائیگی اور بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ماں کی ہوگی وغیرہ

حق مہر اور نان و نفقہ کی دستاویز کا اندراج (کالم نمبر 20)

اگر شادی کے موقع پر حق مہر اور نان و نفقہ کے بارے میں کوئی دستاویز تیار کی گئی ہو تو اس کا اندراج کالم نمبر 20 میں کیا جاتا ہے

دوسری شادی کیلئے اجازت نامہ( کالم نمبر 21٬22)

دوسری شادی کی صورت میں عائلی قوانین کے تحت پہلی بیوی اور چیئرمین ثالثی کونسل کا اجازت نامہ لینا ضروری ہے

اور دوسری شادی کی صورت میں بوقت نکاح کالم نمبر21 کو ضروری پر کرنا چاہیے اس میں دوسری شادی کی اجازت ملنے کی تاریخ درج کرنی ہوتی ہے۔

نکاح نامہ کو نکاح رجسٹرار مکمل کرکے یونین کونسل میں رجسٹرڈ کرواتا

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Randhawa Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share