Advocate Mian Faisal

Advocate Mian Faisal Deal in Civil-Criminal , Trade Mark , Family & Cyber-crimes litigation

29/03/2026

وفاقی آئینی عدالت نے کم عمری میں شادی کے نکاح کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کردیا اور کہا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہل کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے 18 سال سے کم مسیحی لڑکیوں کی مسلمان لڑکوں سے شادی پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ چائلڈ میرج ایکٹ 1929ء کے تحت کم عمری کی شادی پر سزا ہوسکتی ہے، نکاح ختم نہیں ہوسکتا، کم عمری کی شادی پر قانون میں صرف فوجداری سزا کا تذکرہ موجود ہے، چائلڈ میرج ایکٹ 1929 میں کم عمری کا نکاح ختم ہونے کا کوئی ذکر موجود نہیں،

کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے لڑکی کا قبول اسلام اور شہریار نامی لڑکے سے نکاح درست تسلیم کر لیا اور اپنے فیصلے میں کہا کہ لڑکی نے نکاح سے پہلے اسلام قبول کیا جس کا ڈیکلریشن بھی موجود ہے،

واضح رہے کہ لاہور کی رہائشی لڑکی نے اسلام قبول کر کے شہریار نامی لڑکے سے شادی کی تھی، بعد ازاں لڑکی کے والد نے اغوا کا مقدمہ جولائی 2015 میں درج کروایا، جسے خارج کر دیا گیا تھا، لڑکی نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ اس نے مرضی سے شادی کی ہے اور اسے اغوا نہیں کیا گیا،

بعد ازاں لڑکی کے والد نے کم عمر ہونے پر حبس بےجا کی درخواستیں دائر کیں،جو آئینی عدالت تک سے خارج ہو گئیں،

عدالت کے مطابق لڑکی کے والد نے FIR میں بیٹی کی عمر 13 سے 14 سال جب کہ دلائل میں 12 سال 9 ماہ بتائی، عدالت نے قرار دیا کہ والد کے بیانات میں تضاد ہے، نادرا ریکارڈ کے مطابق لڑکی اور اس کی چھوٹی بہن کی عمر میں 8 ماہ سے کم کا فرق ہے، جن دستاویزات پر انحصار کیا گیا وہ شک سے بالاتر نہیں،

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے نکاح کیا ہے،

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آئینی تشریح کے لیے حتمی فورم سپریم کورٹ نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت ہی ہے، سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں آئینی عدالت کا حکم ماننے کی پابند ہیں، آئینی عدالت سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں پر عملدرآمد کی پابند نہیں، سپریم کورٹ کے جو فیصلے آئین یا قانون سے متصادم ہوں آئینی عدالت وہ نظیریں ماننے کی پابند نہیں۔
Read Complete Judgment ⬇️
https://www.adalatonline.pk/caselaw/f-c-p-l-a-no-536-of-2025/

28/03/2026

توہین عدالت کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے اہم اصول طے کردیئے

عدالت عظمٰی نے مبینہ توہین کنندہ پر فرد جرم سے پہلے ابتدائی سماعت لازمی قرار دے دی، سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کالعدم قرار دے دئیے،

عدالت نے واضح کیا کہ فردِ جرم عائد کرنے سے قبل ابتدائی سماعت لازمی قانونی تقاضا ہے اور مبینہ توہین کنندہ کو اس میں صفائی کا موقع دینا ضروری ہے، قانون کے مطابق عدالت اسی وقت فردِ جرم عائد کر سکتی ہے جب ابتدائی سماعت کے بعد وہ مطمئن ہو،

سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے سنگل اور ڈویژن بینچ کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کیس میں قانون کے مطابق دوبارہ کارروائی کی جائے، عدالت نے نشاندہی کی کہ سنگل بینچ نے ابتدائی سماعت کے بغیر براہِ راست فردِ جرم کی تاریخ دی جبکہ ڈویژن بینچ نے بھی اس قانونی سقم کو نظر انداز کیا،

*Read Complete Judgment ⬇️*
https://www.adalatonline.pk/caselaw/crl-a-10-k-2024/

27/02/2026

اس مقدمہ میں ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ نابالغ بچے کی تحویل (custody) کے معاملات میں واحد اور فیصلہ کن اصول “بچے کی فلاح و بہبود” (welfare of minor) ہے، نہ کہ صرف ماں یا باپ کا فطری حق یا ماں کا غیر شادی شدہ ہونا۔

عدالت نے اپیلیٹ کورٹ کے اس نظریے کو غلط قرار دیا کہ اگر ماں نے دوسری شادی نہ کی ہو تو باپ کے لیے کم سن بچے کی تحویل کا کوئی دائرہ باقی نہیں رہتا۔ عدالت کے مطابق ایسا کوئی مطلق اصول موجود نہیں، بلکہ ہر کیس اپنے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔ جب باپ یہ ثابت کر دے کہ وہ بہتر تعلیم، بہتر ماحول، بہتر طرزِ زندگی اور بچے کی مجموعی فلاح و بہبود فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کے حق میں معقول دستاویزی شواہد موجود ہوں، تو محض اس بنیاد پر کہ ماں غیر شادی شدہ ہے، بچے کی تحویل اس سے نہیں چھینی جا سکتی۔

مزید برآں، چونکہ نابالغ لڑکا سات سال کی عمر کے قریب تھا، اس لیے مسلم پرسنل لا کے تحت باپ، بطور قدرتی سرپرست، تحویل کا حق بھی رکھتا ہے، بشرطیکہ بچے کی فلاح اس کے ساتھ وابستہ ہو۔ اسی بنیاد پر ہائیکورٹ نے اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر گارڈین کورٹ کا فیصلہ بحال کیا، جو کہ مکمل طور پر بچے کی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے دیا گیا تھا.
(2025 YLR 2669)

کہا جاتا ہے کہ یہ پینٹنگ تاریخ کی سب سے ذہین تصویروں میں سے ایک ہے، جو سوویت فنکار "فیودور ریشیتنیکوف" کی تخلیق ہے۔تصویر...
06/01/2026

کہا جاتا ہے کہ یہ پینٹنگ تاریخ کی سب سے ذہین تصویروں میں سے ایک ہے، جو سوویت فنکار "فیودور ریشیتنیکوف" کی تخلیق ہے۔

تصویر میں ایک لڑکا اسکول سے واپس آ رہا ہے، وہ امتحانات میں زیادہ نمبر حاصل کرنے میں ناکام رہا، اس کی فیملی اُسے مایوس نظروں سے دیکھ رہی ہے، اور اُسے ملامت اور ردّ کیے جانے کے جذبات سے برتاؤ کر رہی ہے، اُس کا بھائی اُس پر طنزیہ نظر ڈال رہا ہے۔

فنکار نکتہ اُٹھاتا ہے:
"اس کے ساتھ ویسا سلوک کرو جیسا کُتا کرتا ہے جو اُسے ناکام یا کامیاب دونوں صورتوں میں محبت کرتا ہے، وہ اُسے اُس کی ذات کی وجہ سے چاہتا ہے، نا کہ کامیابیوں کی وجہ سے، ایسی محبت جو ’بے شرط‘ ہوتی ہے۔"

30/05/2025
A wife cannot be forced to live with her husbandwithout her consent and liking. She need not come out with logicalobject...
25/12/2024

A wife cannot be forced to live with her husbandwithout her consent and liking. She need not come out with logicalobjective and sufficient reasons regarding her claim of Khula, it isenough to show that she had developed a fixed aversion against herhusband and as per her own statement to the effect that she haddeveloped hatred against the husband she was entitled to thedissolution of marriage on the ground of Khula. (Pld 2019 Lahore 160)

خواتین کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں صرف ایک کلک پر ویمن سیفٹی ایپ کے ذریعے مدد حاصل کر سکتیں ہیں.
01/12/2024

خواتین کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں صرف ایک کلک پر ویمن سیفٹی ایپ کے ذریعے مدد حاصل کر سکتیں ہیں.

29/11/2024

لاہور ہائیکورٹ نے دوسری شادی کے بعد بیوہ کو سرکاری نوکری سے برطرف کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

سرکاری ملازم شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو نائب قاصد کی نوکری دی گئی، بعدازاں لڑکی کی دوسری شادی کی وجہ سے اسکو نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق بیوہ کو ملنے والی نوکری اُسکی دوسری شادی پر ختم نہیں ہوسکتی، شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو دوسری شادی پر سرکاری نوکری سے برطرف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بیوہ شادی کر سکتی ہے، ہمارے مذہب میں یہ ایک عورت کا بنیادی حق ہے۔‎

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ بیوہ کو دوسری شادی کی بنیاد پر نوکری سے نکالنا شرعی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے، جس قانون کی بنیاد پر بیوہ کو نوکری سے نکالا گیا اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے، عدالت نے سنگل بینچ کا فیصلہ اور بیوہ کو نوکری سے نکالنے نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

( PLJ 2024 Lahore 811 )

A girl who has attained puberty may contract marriage with a man of her choice and it is not necessary for her to obtain...
27/11/2024

A girl who has attained puberty may contract marriage
with a man of her choice and it is not necessary for her
to obtain the consent of her Wali.

22/09/2024

"تم دھیرے سے مرنا شروع کر دیتے ھو"
اگر تم سفر نہیں کرتے،
اگر تم مطالعہ نہیں کرتے،
اگر تم زندگی کی آواز کو نہیں سنتے،
اگر تم اپنی حوصلہ افزائی نہیں کرتے،

"تم دھیرے سے مرنا شروع کر دیتے ھو"

اگر تم اپنی عادات کے قیدی بن گئے ھو،
اگر تم روز ایک ہی پگڈنڈی (راہ) پر چلتے جاتے ھو،
اگر تم اپنی روزانہ کی معمولات میں تغیر نہیں لاتے،
اگر تم مختلف رنگوں میں نہیں ڈھلتے،
اگر تم انجانے لوگوں سے باتیں نہیں کرتے،

" تم دھیرے سے مرنا شروع کر دیتے ھو"

اگر تم اپنے خوابوں کا پیچھا نہیں کرتے،
اگر تم زندگی میں کم از کم ایک بار خود کو سمجھدار رائے(نصیحت) سے فرار کی اجازت نہیں دیتے،

" دھیرے سے مرنا ترک کردو"

(چلی کے شاعر " پیبلو نیرودا" کے کچھ اشعار کا اردو ترجمہ)

Address

Lahore
54000

Telephone

+923344299905

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Mian Faisal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Advocate Mian Faisal:

Share