The House Of Law

The House Of Law provide legal services

03/09/2026

مڈھ رانجھا، سرگودھا کا اسلم اپنی فیملی کے ساتھ دوسرے گاؤں میں ایک فوتگی پر گیا ہوا تھا۔ پیچھے گھر میں اس کی سترہ سالہ کنواری بیٹی انعم اکیلی موجود تھی کہ مناظر علی نامی ایک شخص اسلم کے گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر آیا اور انعم کو ایک کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کرنے لگا۔ انعم نے شور و واویلا کیا تو دو راہگیر آواز سن کر گھر کے اندر آ گئے۔ انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر مناظر علی اپنی شلوار اٹھا کر وہاں سے فرار ہوگیا۔ یہ 2 جولائی 2020ء کا دن تھا۔ اسلم نے اسی روز وقوعے کی ایف آئی آر درج کروا دی۔

انعم کا طبی معائنہ کیا گیا، جس کے مطابق اس کے خفیہ اعضاء پر تشدد، تازہ زخموں کے نشانات اور پردۂ بکارت تازہ پھٹا ہوا پایا گیا۔ مزید تفتیش کے لیے اندام نہانی (ویجائنا) کے اندرونی اور بیرونی نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے گئے۔ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے طبی معائنے کے مطابق وہ جنسی عمل انجام دینے کے قابل پایا گیا۔

مقامی عدالت میں مقدمے کا ٹرائل چلا۔ استغاثہ کی جانب سے ڈاکٹروں، تفتیشی افسر، متاثرہ لڑکی اور چشم دید گواہ سمیت کل 9 گواہ پیش کیے گئے۔ دوسری جانب ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسے ایک پرانی خاندانی دشمنی کی بنیاد پر جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ اپریل 2022ء میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 25 سال قیدِ بامشقت اور متاثرہ لڑکی کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

ہائیکورٹ میں ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ فرانزک رپورٹ میں مخلوط ڈی این اے پایا گیا، جو متعدد افراد کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ڈی این اے کا غیر سپرم والا حصہ ملزم سے میچ نہیں ہوا، اس لیے ملزم کو شک کا فائدہ ملنا چاہیے۔ مزید یہ کہ مقدمہ سابقہ دشمنی کی بنا پر جھوٹا درج کروایا گیا۔ مدعی اسلم کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔ سرکاری وکیل نے استغاثہ کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے ماتحت عدالت کے فیصلے کا دفاع کیا۔

ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے رواں ماہ 8 جولائی کو اپیل کی سماعت کی اور جسٹس سید شہباز علی رضوی نے فیصلہ تحریر کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ فرانزک لیبارٹری میں جنسی زیادتی کے نمونوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے؛ ایک سپرم والا حصہ اور دوسرا بغیر سپرم والا حصہ۔ فرانزک سائنس کے اصولوں کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ ملزم کا ڈی این اے ان دونوں حصوں میں موجود ہو، کیونکہ غیر سپرم والے حصے میں بنیادی طور پر متاثرہ لڑکی کے اپنے جسمانی خلیات ہوتے ہیں۔ اس لیے اس حصے سے ملزم کا ڈی این اے میچ نہ ہونا جنسی زیادتی کے وقوع کی نفی نہیں کرتا۔

اصل اور بنیادی ثبوت ’’سپرم والے حصے‘‘ کا ڈی این اے ہوتا ہے، کیونکہ یہی اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ ملزم کا نطفہ، یعنی سپرم، متاثرہ لڑکی کے جسم میں منتقل ہوا۔ دوسرے حصے، یعنی بغیر سپرم والے حصے میں ملزم کے ڈی این اے کی عدم موجودگی، پہلے سے میچ شدہ سپرم ڈی این اے کی اہمیت اور سچائی کو کم نہیں کر سکتی۔ نطفے والے حصے (S***m Fraction) کا جب علیحدہ ٹیسٹ کیا گیا تو اس میں پایا جانے والا نطفہ، یعنی سپرم، صرف اور صرف ملزم مناظر علی کا ثابت ہوا۔

مخلوط ڈی این اے کی حقیقت یہ ہے کہ جب متاثرہ جگہ سے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں تو ان میں متاثرہ فرد کے اپنے جسمانی خلیات اور ملزم کا نطفہ آپس میں مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونی جلدی خلیات یا ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ڈی این اے کا پروفائل سائنسی زبان میں ’’مخلوط‘‘ (Mixture of Individuals) ظاہر ہو سکتا ہے۔

وقوعے کی ایف آئی آر بلا تاخیر درج ہوئی، لڑکی کا بروقت طبی معائنہ ہوا اور گواہان کے بیانات میں کوئی اہم تضاد سامنے نہیں آیا۔ میڈیکل رپورٹ میں پھٹن، سوجن، سرخی اور تازہ پھٹا ہوا پردۂ بکارت جیسی علامات پائی گئیں، جو جنسی زیادتی کے وقوع سے مطابقت رکھتی ہیں۔ سابقہ دشمنی کا دفاع بھی کمزور ہے۔ ایک باپ اپنی نوجوان کنواری بیٹی کو محض کسی رشتہ دار کے ناکام مقدمے کی بنیاد پر بدنام نہیں کرے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالت کا فیصلہ درست ہے اور ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کے خلاف عائد تمام سزائیں برقرار رکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ شناخت خفیہ رکھنے کی غرض سے ’’اسلم‘‘ اور ’’انعم‘‘ نام فرضی ہیں۔

پنجاب میں تمام اسلحہ ڈیلرز کو 26 اگست تک دکان میں موجود تمام سامان کی آن لائن پورٹل پر انوینٹری درج کرنے کا حکم,26 اگست ...
20/08/2026

پنجاب میں تمام اسلحہ ڈیلرز کو 26 اگست تک دکان میں موجود تمام سامان کی آن لائن پورٹل پر انوینٹری درج کرنے کا حکم,26 اگست کے بعد کریک ڈاؤن شروع کردیا جائے گا،محکمہ داخلہ پنجاب کا نوٹیفکیشن جاری

لاہور ہائی کورٹ نے 26 اگست کو عید میلاد النبی کے سلسلے میں چھٹی کا اعلان کر دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت عدالتیں اور...
20/08/2026

لاہور ہائی کورٹ نے 26 اگست کو عید میلاد النبی کے سلسلے میں چھٹی کا اعلان کر دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت عدالتیں اور بینچ 26 اگست کو بند رہیں گے۔

پنجاب بھر کے وکلاء کی خدمت میں عرض ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے اس نوٹیفیکیشن کی کلاز iii(e) کے مطابق عدم پیروی خارج ہو جانے ...
02/08/2026

پنجاب بھر کے وکلاء کی خدمت میں عرض ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے اس نوٹیفیکیشن کی کلاز iii(e) کے مطابق عدم پیروی خارج ہو جانے والے دعوے کی بحالی کے لیئے دی جانے والی درخواست اگر اسی وکیل کے ذریعے دائر کی جا رہی ہے تو اس کے لیئے بائیو میٹرک تصدیق کی ضرورت نہیں ہے

مالی سال 2026-2027 کیلیے دیت کی رقم مبلغ ایک کروڑ ترانوے لاکھ باون ہزار  تین سو نوے روپے (Rs. 19,352,390) مقرر۔The feder...
28/07/2026

مالی سال 2026-2027 کیلیے دیت کی رقم مبلغ ایک کروڑ ترانوے لاکھ باون ہزار تین سو نوے روپے (Rs. 19,352,390) مقرر۔
The federal government has declared the value of Diyat (blood money) at Rs. 19,352,390 (Nineteen Million Three Hundred Fifty-Two Thousand Three Hundred and Ninety only) for the financial year 2026-2027.

فیملی کورٹ نے سیکشن 17-A کا استمال  کرتے ہوئے شوہر کا حق دفاع ختم کر دیا ۔️ یہ کیسجہیز کی واپسی کا تھا۔سیکشن 17-A صرف Ma...
20/07/2026

فیملی کورٹ نے سیکشن 17-A کا استمال کرتے ہوئے شوہر کا حق دفاع ختم کر دیا ۔

️ یہ کیس
جہیز کی واپسی کا تھا۔

سیکشن 17-A صرف Maintenance (نان نفقہ) کے کیسز پر لاگو ہوتا ہے۔

• Family Courts Act 1964 کا سیکشن 17-A عدالت کو
صرف اس صورت میں اختیار دیتا ہے کہ:

اگر Maintenance کا کیس ہو اور مدعا علیہ (Defendant) نان نفقہ دینے میں ناکام ہو
تب عدالت اس کا حقِ دفاع ختم کر سکتی ہے

17 -A
کا استمال کرکے شوہر کا حق دفاع غلط طور پر ختم کیا گیا

لاہور ہائیکورٹ جسٹس احمد ندیم ارشد نے میری رٹ پٹیشن نمبر 59060 /25 میں فیملی کورٹ کے حکم کو کالعدم کر ار دے کر شوہر کا حق دفاع بحال کر دیا ۔

عدالتی سمجھوتہ (Compromise) صرف معاہدہ نہیں بلکہ قابلِ نفاذ عدالتی حکم ہوتا ہے — سپریم کورٹ آف پاکستانسپریم کورٹ آف پاکس...
19/07/2026

عدالتی سمجھوتہ (Compromise) صرف معاہدہ نہیں بلکہ قابلِ نفاذ عدالتی حکم ہوتا ہے — سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر کسی مقدمے میں فریقین عدالت کے سامنے باہمی رضامندی سے سمجھوتہ (Compromise) کر لیں اور عدالت اس سمجھوتے کی بنیاد پر مقدمہ نمٹا دے، تو ایسا حکم صرف ایک نجی معاہدہ نہیں رہتا بلکہ مکمل قانونی حیثیت رکھنے والا عدالتی حکم (Judicial Order) بن جاتا ہے، جو تمام فریقین پر لازم اور قابلِ نفاذ ہوتا ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگرچہ بعض اوقات سمجھوتے کی بنیاد پر باقاعدہ ڈگری (Formal Decree) تیار نہ بھی کی جائے، تب بھی عدالت کے ریکارڈ پر موجود سمجھوتہ اور اس کی بنیاد پر جاری کیا گیا عدالتی حکم اپنی قانونی قوت برقرار رکھتا ہے۔ ایسے حکم کی پابندی کرنا تمام فریقین پر لازم ہے اور اس پر عمل درآمد کرانے کے لیے متعلقہ فریق عدالتِ عمل درآمد (Executing Court) سے رجوع کرنے کا مکمل قانونی حق رکھتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمہ میں یہ بھی واضح کیا کہ سابقہ کارروائی کے دوران دیا گیا تحریری یقین دہانی (Undertaking) اور بعد ازاں عدالت کے روبرو ریکارڈ ہونے والا سمجھوتہ دونوں مل کر فریقین کے درمیان ایک حتمی اور لازم عدالتی فیصلہ (Binding Adjudication) بن گئے تھے۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ وہ صرف ایک غیر رسمی یا نجی انتظام تھا، بلکہ وہ مکمل قانونی اثر رکھنے والا عدالتی حکم تھا۔

اسی بنیاد پر سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے اپنے حقوق کے نفاذ کے لیے عدالتِ عمل درآمد سے رجوع کرکے بالکل درست قانونی راستہ اختیار کیا، کیونکہ عدالت کے سامنے کیا گیا سمجھوتہ اور اس کے تحت دی گئی یقین دہانی قانوناً نافذ العمل تھیں اور ان پر عمل درآمد کرایا جا سکتا تھا۔

📍قانونی اصول (Legal Principle):

عدالت کے روبرو ہونے والا سمجھوتہ، عدالت کی جانب سے ریکارڈ کیے جانے کے بعد محض ایک معاہدہ نہیں رہتا بلکہ ایک قابلِ نفاذ عدالتی حکم بن جاتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی فریق ایسے سمجھوتے یا عدالتی یقین دہانی کی خلاف ورزی کرے تو دوسرا فریق عدالتِ عمل درآمد کے ذریعے اس پر عمل درآمد کروا سکتا ہے، خواہ اس سمجھوتے کی بنیاد پر باقاعدہ ڈگری تیار نہ ہوئی ہو۔

پنجاب پراپرٹی اونرشپ پروٹیکشن  ایکٹ کے تحت لاہور سمیت پنجاب بھر کی عدالتوں نے باقاعدہ طور پر کیسسز کی سماعت شروع کردی ہے
17/07/2026

پنجاب پراپرٹی اونرشپ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت لاہور سمیت پنجاب بھر کی عدالتوں نے باقاعدہ طور پر کیسسز کی سماعت شروع کردی ہے

کاروباری حضرات کیلیے نیا پورٹل کھولا ہے پنجاب گورنمنٹ نے تمام 52 کاروبار جو لسٹ میں دئیے گئے ہیں انکی اپروول اب آن لائین...
17/06/2026

کاروباری حضرات کیلیے نیا پورٹل کھولا ہے پنجاب گورنمنٹ نے تمام 52 کاروبار جو لسٹ میں دئیے گئے ہیں انکی اپروول اب آن لائین پورٹل سے ہوگی !

13/06/2026

The ATL surcharge has been revised in the Federal Budget 2026–27 as follows:

For individuals, the surcharge has been increased from Rs. 1,000 to Rs. 25,000.

For AOPs, the surcharge has been increased from Rs. 10,000–50,000

For companies, the surcharge has been increased from Rs. 20,000 to Rs. 100,000.

Address

Office No. 4, 5, 6 First Floor Al-Hamad Palaza 13 Fan Road
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 18:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The House Of Law posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share