The House Of Law

The House Of Law provide legal services

کراچی کے سعید احمد نے 18 سال معروف ملٹی نیشنل کمپنی نیسلے میں کام کیا اس دوران کبھی ان پر مس کنڈکٹ کا الزام نہیں لگا۔ پچ...
04/02/2026

کراچی کے سعید احمد نے 18 سال معروف ملٹی نیشنل کمپنی نیسلے میں کام کیا اس دوران کبھی ان پر مس کنڈکٹ کا الزام نہیں لگا۔ پچھلے کچھ عرصے سے انہیں دانتوں میں درد کی شکایت تھی۔ یکم ستمبر 2015ء کو وہ کراچی کے ایک معروف ڈینٹل سرجن ڈاکٹر کریم کے پاس گئے، انہوں نے دانتوں کا روٹ کینال تجویز کیا۔ علاج کروالیا، 10 ہزار روپے خرچ آیا، جسکی واپسی کیلئے سعید نے پالیسی کے مطابق کمپنی کے ہاں کلیم جمع کروا دیا۔

نیسلے کمپنی نے Allianz نامی انشورنس کمپنی سے بل کی تصدیق کروائی جس نے متعلقہ کلینک سے چیک کرکے رپورٹ دی کہ علاج پر دراصل 7 ہزار روپے خرچ آیا ہے، 3 ہزار روپے ٹرانسپورٹ کے نام پر شامل کیے گئے ہیں۔

یکم دسمبر 15ء کو سعید احمد کو کمپنی کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری ہوگیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے 10 ہزار روپے کا جعلی بِل جمع کروایا ہے، جبکہ علاج پر صرف 7 ہزار روپے خرچ آیا ہے۔ سعید نے نوٹس کا جواب دیا، الزامات کا انکار کیا اور 4 دسمبر کو 10 ہزار روپے کا کلینک سے تصدیق شدہ بِل بھی جمع کروا دیا۔ اس کے باوجود 8 مارچ 2016ء کو کمپنی کے انکوائری آفیسر نے سعید کو مِس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیدیا، کمپنی نے انہیں نوکری سے نکال دیا۔

سعید نے اپنی برطرفی کے حکم کو NIRC (عدالت) میں چیلنج کردیا۔ سنگل بنچ نے قرار دیا کہ سعید نے تسلیم کیا کہ انہیں انکوائری میں اپنی صفائی کا پورا موقع دیا گیا لیکن اسکے باوجود وہ اپنے حق میں کوئی دستاویز یا گواہ پیش نہ کرسکا۔ سنگل بنچ نے سعید کی درخواست خارج کردی اور برطرفی برقرار رکھی۔ سعید نے اس کیخلاف این آئی آر سی کے فل بنچ میں اپیل کردی۔

فل بنچ نے کہا کہ کلینک کی جانب سے تین قسم کی دستاویزات ہیں، 1۔ کلیم کیساتھ لگی 10 ہزار روپے کی رسید، 2۔ انشورنس کمپنی کو دی گئی 7 ہزار کی رسید اور 3۔ دسمبر میں سعید کو جاری کیا گیا 10 ہزار کا مصدقہ بِل۔ ایسی صورتحال میں انکوائری آفیسر کو چاہیے تھا کہ وہ خود ڈاکٹر کو گواہ کے طور پر بلا کر پوچھتا کہ ان میں سے درست کون سی ہے؟ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ لہذا انکوائری درست نہ ہوئی اور ملازم کا مس کنڈکٹ ثابت نہ ہوا۔فل بنچ نے اپیل منظور کرلی اور نوکری مع تمام واجبات بحال کردی۔

کمپنی نے اس کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں رِٹ دائر کردی۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ معاملہ میڈیکل کلیم میں جعلسازی کرتے ہوئے بوگس بِل جمع کروانے کا ہے۔ سائل نے انکوائری دوران اپنے اوپر لگے اس جعلسازی کے الزم کو چیلنج نہیں کیا۔ ہائیکورٹ نے سنگل بنچ NIRC کےحکم کو درست قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرفی کے حکم کو برقرار رکھا۔

سعید صاحب نے ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی جس کی سماعت تین رکنی بنچ نے گذشتہ سال جولائی میں کی اور بنچ کے سربراہ جسٹس محمد علی مظہر نے فیصلہ تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملازم پر مِس کنڈکٹ کے الزام کا بارِ ثبوت کمپنی پر ہوتا ہے نہ کہ ملازم پر۔ دانتوں کے ایک ہی علاج کی مختلف دستاویزات کی صورت میں انکوائری آفیسر کی ذمہ داری تھی کہ وہ ڈاکٹر یا کلینک کے نمائندے کو طلب کرتا جو آکر بتاتا کہ ان میں سے درست کون سی ہے؟ لیکن ایسا نہ کرکے کمپنی نے ثبوت دینے (بارِ ثبوت) کی ذمہ داری ادا نہیں کی۔

کمپنی کا دعویٰ کہ سائل کو صفائی کا مکمل موقع دیا گیا، غلط ہے۔کیونکہ متضاد رسیدوں کی موجودگی میں ڈاکٹر کو نہ بلانا فطری انصاف اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کے منافی ہے۔ یہ بوجھ سائل پر نہیں ڈالا جاسکتا کہ وہ اپنے صفائی میں گواہ پیش کرے بلکہ یہ کمپنی کی ذمہ داری تھی کہ وہ متعلقہ گواہوں کے ذریعے ثابت کرتی کہ سائل مِس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے، جو اس کیس میں نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے سعید احمد کو سابقہ تمام مراعات کے ساتھ بحال کرنے کا حکم دیدیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعید احمد کے وکیل امتیاز سولنگی سپریم کورٹ کے وکیل نہیں ہیں، انہیں سپریم کورٹ نے خصوصی اجازت دیتے ہوئے سنا، وہ اور سعید احمد جو نیسلے جیسی کمپنی کیخلاف سپریم کورٹ تک اپنے حق کیلئے لڑے، دونوں ہی داد کے مستحق ہیں۔

22/01/2026

Team House Of Law Traveling To Islamabad

پنجاب کی تمام عدالتوں میں کسی بھی  #کیس،  #دعوی، جواب دعوی،  #درخواست ،  #جواب  #درخواستحتی کہ  #منچلکہ  #جات داخل کرتے ...
15/01/2026

پنجاب کی تمام عدالتوں میں کسی بھی #کیس، #دعوی، جواب دعوی، #درخواست ، #جواب #درخواست
حتی کہ #منچلکہ #جات داخل کرتے وقت

بھی
ائی #نادرہ #
کی بائیومیٹرک تصدیق ضروری قرار دے دی گئی ہے۔ اور اس کی مقررہ فیس بھی ادا کی جائے گی۔

09/01/2026

*لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز پنجاب کو نوٹیفیکیشن برائے فریقینِ مقدمہ کی بائیومیٹرک تصدیق جاری*

نوٹیفکیشن کے مطابق نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے 11 جولائی 2025 کو منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے کی روشنی میں، ضلع جوڈیشری پنجاب میں مقدمات دائر کرتے وقت فریقینِ مقدمہ کی بایومیٹرک تصدیق لازم ہوگی، جس کا اطلاق مؤثر تاریخ 2026-01-20 سے ہوگا، اس اقدام کا مقصد جعل سازی اور کسی اور کی جگہ پیش ہونے (امپرسونیشن) کو روکنا اور عدالتی کارروائیوں میں شفافیت اور دیانت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے،

اس ضمن میں معزز اتھارٹی نے ہدایت جاری کیں ہیں کہ ہر نوعیت کے مقدمات دائر کرنے والے تمام فریقین، بشمول درخواست گزاران، مدعا علیہان/جوابی فریقین جو تحریری بیانات اور جوابی تحریریں جمع کروائیں، نیز ضمانتی مچلکے جمع کروانے والے ضامن، اور وہ افراد جو عدالت میں بیان حلفی یا بیانات دیتے ہیں (جہاں ضروری ہو)، سب کی بایومیٹرک تصدیق نادرا (NADRA) کے سہولت مراکز سے کروائی جائے، یہ سہولت مراکز عدالتوں کے احاطے کے اندر یا باہر واقع ہوں گے، اور یہ عمل مقررہ طریقہ کار کے مطابق اور طے شدہ فیس کی ادائیگی پر مکمل کیا جائے گا،

ان احکامات پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور اس عدالت کو باقاعدہ طور پر تعمیلی رپورٹ ارسال کریں۔

07/01/2026

جنوری سے لاہور ہائیکورٹ لاہور اور تمام بنچوں میں بائیو میٹرک تصدیق لازمی کروانے کا حکم ہو چکا ہے لہذا تمام پٹشنرز اور تمام سائلین بوقت دائرگی موجود ہونے چاہئیں

اگر مجسٹریٹ ملزم کو249A ض ف کے تحت بری کردے تو حکم بریت کیخلاف صرف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔سیشن کورٹ میں نگر...
04/01/2026

اگر مجسٹریٹ ملزم کو249A ض ف کے تحت بری کردے تو حکم بریت کیخلاف صرف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔سیشن کورٹ میں نگرانی قابل سماعت نہ ہے۔
حکم بریت کیخلاف رٹ بھی قابل سماعت نہ ہے
Against order of acquittal under section 249-A, Cr.P.C. criminal revision under section 439, Cr.P.C. is not competent. Similarly, writ petition against order of acquittal is also not competent in the light of section 417(2), Cr.P.C.
Criminal Proceedings
59534/22
Hajra javaid Makhdoom Vs Muhammad Tehmas Nasir etc
Mr. Justice Muhammad Tariq Nadeem
19-12-2023
2023 LHC 6869

27/12/2025
22/12/2025

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی آنر شپ ارڈیننس پر عملدرآمد روک دیا
لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس کے تحت دیے گیے قبضوں کو واپس کردیا
پنجاب حکومت کا بس چلے تو آئین کو بھی معطل کردے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم
چیف سیکرٹری صاحب حکومت کو بتائیے کہ یہ قانون رہ گیا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں نکل جائے گا اور یہ فیصلہ ڈی سی کرے گا، چیف جسٹس عالیہ نیلم
آپ نے سول سیٹ اپ، سول رائٹس کو ختم کردیا آپ نے عدالتی سپرمیسی کو ختم کردیا ہے، چیف جسٹس عالیہ نیلم

سرگودہا کے نواحی گاؤں میں بکری سے غیر فطری فعل کرنے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا
14/12/2025

سرگودہا کے نواحی گاؤں میں بکری سے غیر فطری فعل کرنے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

صدیق گھمن نامی ایک شہری کی فیس بک پر "شازیہ سعید" نامی دوشیزہ سے دوستی ہوگئی۔ باتوں باتوں میں شازیہ نے صدیق صاحب سے نیا ...
08/12/2025

صدیق گھمن نامی ایک شہری کی فیس بک پر "شازیہ سعید" نامی دوشیزہ سے دوستی ہوگئی۔ باتوں باتوں میں شازیہ نے صدیق صاحب سے نیا موبائل فون گفٹ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ گھمن صاحب کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، تم اپنا ایڈریس بھیجو میں ابھی بھجواتا ہوں۔ شازیہ نے کہا "گھمن تو مروائے گا، میرے گھر موبائل بھجوا کر، یوں کر کہ فلاں TCS کے دفتر کورئیر کروادے میں خود وہاں سے ریسیو کرلوں گی"۔ گھمن صاحب نے نیا OPPO کا فون خریدا اور TCS کی "سیلف کولیکشن" سروس لی کہ یہ موبائل TCS آفس سے صرف شازیہ کو دیا جائے، اسکے عوض گھمن نے موبائل کے انشورنس چارجز بھی ادا کیے۔
چند روز بعد شازیہ نے صدیق گھمن کو فیس بک پر میسج کرکے بتایا کہ مجھے موبائل مل گیا ہے۔ لیکن اس کے بعد رابطہ شابطہ ختم۔۔۔۔کوئی رپلائی نہیں اور بالآخر گھمن صاحب بلاکڈ۔

گھمن نے ہمت نہیں ہاری، TCS سے رابطہ کیا کہ تم نے شازیہ کو موبائل دیا تھا تو اسکا کوئی اتہ پتہ ہوگا وہ مجھے دیا جائے۔ TCS والوں نے ریکارڈ دیکھ کر بتایا کہ ہمارے پاس تو شازیہ نہیں بلکہ عامر نامی لڑکا آیا تھا کہ میں شازیہ کا بھائی ہوں، بہن دفتر نہیں آسکتی تو موبائل مجھے ریسیو کروا دیا جائے، ہم نے کروا دیا۔ گھمن اس پر تپ گیا کہ جب میں نے 'سیلف کولیکشن' سروس لیتے وقت یہ تاکید کہ تھی موبائل صرف شازیہ کو ہی دیا جائے تو پھر تم نے کسی اور کو کیوں دیا؟ گھمن نے TCS کو لیگل نوٹس بھجوا دیا۔

اس پر TCS نے شازیہ کے "بھائی" عامر کو پکڑا۔ جلد ہی عامر نے بتا دیا کہ "میں ہی 'شازیہ سعید' ہوں، میں نے ہی اس نام کی فیک آئی ڈی سے گھمن کو گھیرا اور موبائل منگوایا، یہ پکڑیں موبائل اور گھمن کو واپس کردیں"۔ کمپنی نے موبائل واپس کرنے کیلئے گھمن سے رابطہ کیا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے گھمن کو مزید غصہ آگیا، گھمن نے کمپنی سے موبائل کے علاوہ 24 ہزار روپے ہرجانے کا مطالبہ کر دیا کہ یہ کمپنی کی غلطی ہے، "سیلف کولیکشن" سروس کے تحت کمپنی صرف "شازیہ" کو موبائل دینے کی مجاز تھی، اگر وہ نہیں آئی تو موبائل مجھے واپس بھجوایا جاتا۔ کمپنی نے ہرجانہ دینے سے انکار کیا کہ غلطی تمہاری ہے جو تم نے ایک فیک نام کی آئی ڈی پر موبائل بھجوایا۔

صدیق گھمن نے کنزیومر کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا، عدالت نے مکمل ٹرائل کے بعد TCS کمپنی کو 24 ہزار انشورنس ہرجانے کے علاوہ مزید ایک لاکھ روپے گھمن صاحب کو ادا کرنے کا حکم دیا کہ گھمن کا جائز مطالبہ پورا نہ کرنے پر اسے مقدمہ کرنا پڑا۔ کمپنی نے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی، یہاں صدیق گھمن نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور اپنے ساتھ ہوئی زیادتی ثابت کی۔ ہائیکورٹ نے کمپنی کی اپیل خارج کرتے ہوئے کنزیومر کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

یوں گھمن کو شازیہ تو نہ مل سکی، البتہ سوا لاکھ ہرجانہ مل گیا۔

On the way to Islamabad High Court — House of Law Associates.
04/12/2025

On the way to Islamabad High Court — House of Law Associates.

بروز سوموار مکمل ہڑتال اور تالا بندی ہو گی پولیس گردی کسی بھی صورت قبول نہیں ۔۔۔۔ذیشان ڈھڈی کے قاتلوں کو فلور گرفتار کیا...
29/11/2025

بروز سوموار مکمل ہڑتال اور تالا بندی ہو گی پولیس گردی کسی بھی صورت قبول نہیں ۔۔۔۔ذیشان ڈھڈی کے قاتلوں کو فلور گرفتار کیا جائے ،

Address

13 Fan Road First Floor Building Old Punjab Bar Council
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 18:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The House Of Law posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share