05/08/2023
انسانی تاریخ کا سب سے تیز ترین فیصلہ، جسکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ جج دلاور کا نام ,گینس بک اف ولڈ ریکارڈ میں آنا چاہیے۔ انصاف کیسے ملے گا جب منصف/قاضی ہی بک جائیں.
آرڈر شیٹ کے مطابق عمران خان کے خلاف دائر کیس کا فیصلہ بارہ بجے 12:00 محفوظ کیا گیا جبکہ فیصلے میں لکھا ہے کہ 12:30 پہ فیصلہ سنایا گیا۔ یعنی فیصلہ محفوظ کرنے اور سنانے میں صرف آدھے گھنٹے کا فرق ہے مگر فیصلہ تیس صفحات پر مشتمل ہے۔
آدھے گھنٹے میں تیس صفحات لکھنا اور وہ بھی فیصلے کے، کہ جس میں تمام شہادت کو دیکھنا ہوتا ہے، عدالتی نظائر کو دیکھنا ہوتا ہے، فریقین کے موقف کو دیکھنا ہوتا ہے وغیرہ، ان سب کا جائزہ لینے کے بعد کیا ایسا ممکن ہے کہ تیس مینٹس میں تیس صفحات پر مشتمل فیصلہ لکھا جائے، یعنی فی منٹ کے حساب سے ایک صفحہ لکھا گیا ہے۔ کیا یہ کسی بہترین ٹائپسٹ کے لیے بھی ممکن ہے؟
قانون کا کیسے مذاق اڑایا گیا ہے۔ اسلامی ریاست کے عدالتوں کا یہ حال ہے۔..!!!