Advocate Rana Waseem Sajjad Khan

Advocate Rana Waseem Sajjad Khan Solicitor qualified to deal with conveyancing, the drawing up of wills, and all legal matters.

represent clients in matter of criminal, civil, corporation tax, intellectual Property, Family matters and Revenue matters at Lahore High Court

04/04/2024
19/03/2023

I have reached 2000 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

04/01/2023

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک غریب شخص کام کاج کی تلاش میں مختلف شہروں کی خاک چھانتا رہا مگر اسے کوئی بھی کام نہ مل سکا.
تھک ہار کر وہ چرچ میں چلا گیا، اور اونچی آواز میں کہنے لگا "خداوندا تو مجھے کب تک غریب رکھے گا"
پادری نے جب یہ الفاظ سنے تو اس شخص کو ڈانٹا کہ ایسے دعا نہیں کرتے. وہ غریب شخص کہنے لگا کہ ٹھیک ہے پھر آپ مجھے کوئی کام دے دیں، تاکہ میں یہ الفاظ پھر نہ دہرا سکوں.
پادری کہنے لگا ٹھیک ہے مجھے اس چرچ کے لیے ایک کاتب کی ضرورت ہے، جو یہاں آنے جانے والوں کے علاوہ چرچ کے اخراجات کا حساب لکھا کرے ، تم یہ کام سنبھال لو ماہانہ پچاس ڈالر کے علاوہ کھانا اور رہائش بھی میرے ذمے ہوگی.
اس شخص نے فوراً حامی بھر لی، پادری نے اسے کھاتہ رجسٹر اور قلم دے دیا، اور یوں وہ شخص چرچ کا کاتب بن گیا. وہ روزانہ پادری کو ہر چیز کے متعلق تفصیل سے بتاتا رہتا تھا، جب اسے کام کرتے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا تو پادری نے کہا ذرا اپنا حساب کتاب لکھنے والا رجسٹر لے کر آؤ تاکہ اس ہفتے کی آمدن اور اخراجات کا موازنہ کیا جاسکے، وہ شخص کہنے لگا جناب مجھے تو لکھنا پڑھنا آتا ہی نہیں، میں تو زبانی ہر چیز کا حساب رکھتا ہوں.
پادری نے کہا تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ تم لکھ پڑھ نہیں سکتے، مجھے تو ایسے شخص کی ضرورت تھی جو پڑھا لکھا ہو، تم میری طرف سے یہ پچاس ڈالر لو اور جاؤ جاکر کوئی دوسرا کام تلاش کرو.
وہ شخص پچاس ڈالر لیکر جب چرچ سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں باتیں کررہے تھے، ایک شخص دوسرے کو کہہ رہا تھا کہ میں نے تمھیں پچاس ڈالر قرض دیے ہیں، اب تم ان سے کوئی تجارت کا کام کرو، اپنا نفع حاصل کرو اور بعد میں مجھے میری اصل رقم لوٹا دو.
اس شخص نے جب یہ گفتگو سنی تو سوچنے لگا کہ پچاس ڈالر تو میرے پاس بھی ہیں، مجھے بھی تجارت کرکے دیکھنی چاہیے..
وہ گیا اور بازار میں اچھی طرح گھوم پھر کر دیکھا، اس نے دیکھا کہ اس شہر کے امرا ٹماٹر سے روٹی کھاتے ہیں مگر عجیب بات تھی کہ ٹماٹر وہاں اگتا نہیں تھا، دور دراز کے علاقوں سے جب ٹماٹر آتا تو طویل سفر اور گرم موسم کے باعث رستے میں خراب بھی ہوجاتا تھا اس وجہ سے اس کام میں سرمایے اور وقت کے خسارے کے پیش نظر بس دو تین تاجر ہی یہ کام کرتے تھے، اور وہ منہ مانگے دام بھی وصول کرتے تھے - - -
اس شخص نے دور دراز کے علاقوں سے ٹماٹروں کو یہاں لاکر فروخت کرنے کا ارادہ بنا لیا -
وہ پہلے بھی مختلف شہروں کا سفر کرتا رہا تھا، اسے پتا تھا کہ کہاں پر ٹماٹر سستا اور کثرت سے پایا جاتا ہے - وہ سیدھا وہیں گیا اور وہاں سے جب ٹماٹر خرید کر لایا اور بہت کم منافع کے ساتھ انہیں فروخت کرنا شروع کیا تو پہلے دن ہی سارے ٹماٹر ہاتھوں ہاتھ بک گئے اور اسے اچھا خاصا منافع بھی حاصل
ہوا -
اسے یہ کام پسند آگیا، اور پھر کرتے کرتے ایک دن وہ اس علاقے کا بڑا تاجر بن گیا - اس نے اپنے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے لیے نوکر بھی رکھ لیے -
ایک دفعہ وہ سفر کرتے ہوئے کسی ایسی جگہ پر گیا جہاں ہسپانوی زبان بولی جاتی تھی جس سے وہ نابلد تھا - وہ ایک ریستوران میں کھانا کھانے گیا تو اسے کھانوں کے نام پلے نہیں پڑ رہے تھے - اس نے اپنے ایک نوکر کو بلا کر کہا کہ! " ذرا ان کھانوں کے نام تو سمجھ کر مجھے بتاؤ -" نوکر نے حیرانی سے کہا جناب آپ اتنے بڑے تاجر ہیں مگر آپ کو ہسپانوی زبان نہیں آتی - اس شخص نے کہا اس لیے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں - تو نوکر نے کہا جناب آپ ان پڑھ ہوکر ایک بڑے تاجر ہیں، سوچیں اگر دو چار جماعتیں پڑھ لیتے تو پتا نہیں کتنے بڑے تاجر ہوتے اور آج نجانے کہاں ہوتے - اس شخص نے جواب دیا! " ہونا کہاں تھا، اگر دو چار جماعتیں پڑھ جاتا تو آج پچاس ڈالر ماہوار پر چرچ میں پادری کا کاتب ہوتا......"

ایک عربی تحریر کا اردو ترجمہ

Advocate Is an artist and advocacy is the branch is of  art..
23/12/2022

Advocate Is an artist and advocacy is the branch is of art..

15/09/2022

آج کے اپنے ایک کیس کا دلچسپ واقعہ۔
لاہور ہائیکورٹ کے ایک ڈویژن بینچ کے سامنے پیشی تھی۔
میں نے کہا، سر کیس جھوٹ پر مبنی ہے۔ ایک بندے کو صرف اس کا مذہبی بیک گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے "دہش ت گرد" بنایا جا رہا ہے۔ گواہان کے بیانات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

معزز جج صاحبان کو اسسٹ کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایف آئی آر کے مدعی (سی ٹی ڈی) اہلکار کا کہنا ہے کہ اس نے ملزم سے برآمد ہونے والے ب م کو بیگ سے نکال کر باہر رکھا۔ ب م ٹیکنیشن کمانڈر کہتا ہے کہ بعد میں ب م کو ڈی فیوز کرنے کیلئے جب وہ پہنچا تو ب م بیگ کے اندر پڑا ہوا تھا۔
میں نے کہا کہ جج صاحب، یہ اہلکار ب م کو بڑا کیزول لے رہے تھے۔ جیسے وہ کوئی کھلونا ہو۔ ب م ڈسپوزل سکواڈ کے آنے سے پہلے ہی وہ اسے بیگ سے نکال کر باہر رکھ رہے ہیں۔ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں۔ جب کہ اسکواڈ بعد میں آ کے کہتا ہے ب م بیگ کے اندر تھا۔ ایک عام پولیس اہلکار کیسے ب م کو الٹا پلٹا سکتا ہے؟ بیگ سے باہر نکال سکتا ہے۔ ایس او پی یہ ہے کہ ڈسپوزل اسکواڈ کو بلایا جائے گا وہ اسے ڈی فیوز کرے گا۔ لیکن یہاں تو ب م کی جگہ ہی تبدیل ہو رہی ہے۔ اہلکار کہتا ہے اس نے نکال کر بیگ سے باہر رکھا تھا جب کہ ڈسپوزل اسکواڈ کا کمانڈر کہتا ہے کہ جب وہ پہنچا تو ب م بیگ کے اندر تھا۔
میں نے مزید کہا کہ جب میں نے ب م ڈسپوزل اسکواڈ کے کمانڈر سے سوال پوچھا کہ آپ نے جس وقت ب م کو ڈی فیوز کیا آپ نے اپنا مخصوص لباس پہنا ہوا تھا؟ اس کا جواب تھا نہیں۔
یور لارڈ شپ، یہ تمام معاملہ مشکوک اور جھوٹ ہے۔
جج صاحب بولے آپ نے ب م ڈسپوزل سکواڈ کے کمانڈر سے لباس سے متعلق مزید سوال پوچھے؟ میں نے کہا نہیں۔ بولے کیا آپ کو اس متعلق مزید سوال نہیں پوچھنے چاہیے تھے تاکہ آپ پراسیکیوشن کے کیس میں مزید ڈینٹ ڈال سکتے؟ میں نے کہا سر، اس ایک پوائنٹ سے متعلق میں مزید کچھ سوال پوچھتا تو اس نے وہ لباس پہن لینا تھا۔
دونوں جج صاحبان اور کمرہ عدالت میں موجود وکلا نے کھل کر قہقہہ لگایا۔
انہیں میری بات پسند ائی تھی۔
گواہ/ملزم پر جرح کا اصول یہ ہے کہ سوال پوچھتے ہوئے جب اس سے اپنے مطلب کی چیز مل جائے، ریکارڈ پر ا جائے تو اسے اب گھما کر فورا کسی اور موضوع کی طرف لے جاو۔ یہ نہ ہو کہ آپ نے محنت سے اس سے جو اگلوایا ہے۔ اسی سے متعلقہ اگلے سوالوں میں وہ اس پر امپروومنٹ کر دے اور آپ کی محنت ضائع کر دے۔
Advocate Rana waseem sajjad.

14/08/2022

THIS COUNTRY HAS GIVEN ME SHELTER AND I FEEL PROTECTED within its arm.... Many people might be of the opinion that Pakistan is unsafe, But to me, living in Pakistan and to die here is a biggest desire as I would love to have a small portion of Pakistan’s pure land. I love this country because it is my ultimate source of motivation. I see the problems of Pakistan as mud in which by only putting my hands, I would be able to come up with a good structure. When I look at the journey of Pakistan. I feel proud because it is the same country that did not even have office stationery at the time of birth and now Pakistan has become a nuclear state. I love my country because it has four seasons. I love my country because it has all kinds of geographical features.
I love my country because it has so many places that are worth visiting....the need is to put the potential and determination in the right place and in the right direction,one can ask me what is the future of pakistan one word that would be ;bright;
HAPPY INDEPENDENCE DAY

09/08/2022

Bss yeah hussain..
سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات کے بعد مولا علی نے ان کی وصیت کے مطابق دوسری شادی کی ۔ حسن حسین زینب ابھی چھوٹے تھے ۔ آپ نے سیدنا عقیل کو رشتہ دیکھنے کے لئیے کہا تو کلبسی بنو قلاب کے قبیلے کا انتخاب ہوا ۔ سیدنا علی کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی خاتون ہو جو شجاعت سخاوت اور ایثار کی خصوصیات سے مالا مال ہو ۔ بنو قلاب کی خاتون فاطمہ بنت حزم کے گھر رشتہ بھیجا تو سردار حزم اپنی بیوی کے پاس گئے اور پوچھا کہ سیدنا علی کا بیٹی فاطمہ کے لئیے رشتہ آیا ہے کیا آپ نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کی ہے جو نبی کے خاندان میں بیاہی جا سکے ۔ رشتہ قبول ہوتا یے تو فاطمہ بنت حزم( سیدہ ام البنین) سیدنا علی کے گھر جاتی ہیں تو سیدنا حسن حسین اور فاطمہ کو گلے لگا لیتی ہیں۔ سیدنا علی سے درخواست کرتی ہیں کہ ان بچوں کے سامنے آپ مجھے کچھی فاطمہ مت کہئیے گا انہیں اس سے ان کی ماں یاد آ جائے گی ۔ میں اس گھر میں ان کی ماں بن کر نہیں آئی بلکہ کنیز بن کر آئی ہوں۔ میرا یہ مقام نہیں کہ ان کی ماں کی جگہ لے سکوں ۔ اس کے بعد آپ نے انہیں بیٹا نہیں کہا بلکہ ہمیشہ مولا کہتی رہیں۔ ان کے چار بیٹے ہوئے اس لئیے انہیں ام البنین بھی کہتے مطلب بیٹوں کی ماں ۔ اپنے بیٹوں کو ہمیشہ حسن حسین علی کی صرف اطاعت کا حکم دیا ۔ ادب سکھایا اور کہا جو وہ کہیں بس حکم بجا لانا ہے بحث نہیں کرنی۔ یہ اہل بیت ہیں ہم ان کے نوکر ہیں۔

چار بیٹوں میں عباس ابن علی ، عبداللہ ابن علی ، جعفر ابن علی اور عثمان ابن علی تھے ۔ سیدنا عباس علیہ السلام لشکر حسین کے سپہ سالار بھی رہے شجاعت میں یہ ایک مقام رکھتے تھے دونوں ہاتھ سے تلوار چلاتے تھے ۔ جنگ صفین میں سیدنا علی نے ان کو بھیجا تو محمد بن حنفیہ کہتے کہ مولا آپ صرف عباس کو کیوں آگے بھیجتے ہیں تو سیدنا عباس کہنے لگے حسن حسین میرے ابا کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا بازو اور بازو ہمیشہ آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں ( حالانکہ عمر میں حسن و حسین سے چھوٹے تھے ) مطلب کہ یہ سوال بھی نہیں بنتا ، ماں کی تربیت ہر مقام پر جھلکتی تھی ۔

واقعہ کربلا میں جب ایک ایک کر کے لشکر حسین کے سپاہی شہید ہوتے گئے تو سیدنا عباس نے مولا حسین سے درخواست کی کہ مجھے جانے دیں۔ سیدنا حسین ان سے تلواریں لے لیتے ہیں کہ بس عباس تم پانی لے آو ۔ آپ پانی لینے جاتے ہیں تو یزیدی لشکر ان پر حملہ کر دیتا ہے دونوں بازو کاٹ دئیے جاتے ہیں وہی جنہوں نے حسین کی حفاظت کرنی تھی ۔ گھٹنے میں تیر لگتا ہے حسین عالی مقام کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ سیدنا عباس مولا حسین سے درخواست کرتے ہیں کہ میرے گھٹنے سے تیر نکال دیں اور کہتے ہیں کہ مولا میری والدہ سے کہہ دیجئیے گا کہ عباس کے دونوں بازو نہیں تھے اس لئیے صرف آپ کو تیر نکالنے کا کہا ۔ یہ وہ ادب تھا وہ اطاعت تھی جو سیدہ ام البنین کی تربیت تھی جنہوں نے ساری زندگی نبی کے اس گھرانے کی کنیز بن کر گزار دی ۔ آپ کے چاروں بیٹے اس جنگ میں شہید ہو گئے ۔ علی کے پانچ بیٹوں نے اس میں جام شہادت نوش کیا جس میں 4 سیدہ ام البین کے فرزندان تھے ۔ جو لشکر حسین کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ امام عالی مقام پر اپنی جان تک قربان کر دی اور ساری عمر کبھی زبان پر کوئی سوال نہ لائے ۔
واقعہ کربلا کے بعد جب قاصد خبر لے کر مدینہ منورہ پہنچا،
سیدہ ام البنین کو جب بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو کہا عباس شہید ہوا جعفر شہید ہوا عثمان شہید ہوا عبداللہ بھی شہید ہو گیا فرمانے لگی سب چھوڑیں میرے مولا حسین کا بتائیں تو بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے تو کہنے لگی کیا میرے بیٹے بعد میں شہید ہوئے مولا حسین سے تو بتایا کہ نہیں وہ پہلے شہید ہوئے اور مولا کی حفاظت کے لئیے خوب لڑے تو شکر ادا کیا کہ انہوں نے بیشک حق ادا کر دیا ۔۔۔۔
یہ وہ ماں تھی جو اہل بیت کے مقام کو سمجھتی تھی جس نے اپنے سارے بیٹوں کو ساری عمر صرف اطاعت سکھائی ادب سکھایا خود کو اس گھر کی کنیز بنایا اور حسن و حسین کو بیٹا نہیں ہمیشہ مولا کہا ۔
خدا ہم سب کو اہل بیت کا مقام سمجھنے اور اس ادب و اطاعت کی ہدایت فرمائے جو سیدہ ام البینین نے اپنی اولاد کو سکھایا ۔Copied from the wall of Sir,Sharafat Khan Asc...
سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات کے بعد مولا علی نے ان کی وصیت کے مطابق دوسری شادی کی ۔ حسن حسین زینب ابھی چھوٹے تھے ۔ آپ نے سیدنا عقیل کو رشتہ دیکھنے کے لئیے کہا تو کلبسی بنو قلاب کے قبیلے کا انتخاب ہوا ۔ سیدنا علی کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی خاتون ہو جو شجاعت سخاوت اور ایثار کی خصوصیات سے مالا مال ہو ۔ بنو قلاب کی خاتون فاطمہ بنت حزم کے گھر رشتہ بھیجا تو سردار حزم اپنی بیوی کے پاس گئے اور پوچھا کہ سیدنا علی کا بیٹی فاطمہ کے لئیے رشتہ آیا ہے کیا آپ نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کی ہے جو نبی کے خاندان میں بیاہی جا سکے ۔ رشتہ قبول ہوتا یے تو فاطمہ بنت حزم( سیدہ ام البنین) سیدنا علی کے گھر جاتی ہیں تو سیدنا حسن حسین اور فاطمہ کو گلے لگا لیتی ہیں۔ سیدنا علی سے درخواست کرتی ہیں کہ ان بچوں کے سامنے آپ مجھے کچھی فاطمہ مت کہئیے گا انہیں اس سے ان کی ماں یاد آ جائے گی ۔ میں اس گھر میں ان کی ماں بن کر نہیں آئی بلکہ کنیز بن کر آئی ہوں۔ میرا یہ مقام نہیں کہ ان کی ماں کی جگہ لے سکوں ۔ اس کے بعد آپ نے انہیں بیٹا نہیں کہا بلکہ ہمیشہ مولا کہتی رہیں۔ ان کے چار بیٹے ہوئے اس لئیے انہیں ام البنین بھی کہتے مطلب بیٹوں کی ماں ۔ اپنے بیٹوں کو ہمیشہ حسن حسین علی کی صرف اطاعت کا حکم دیا ۔ ادب سکھایا اور کہا جو وہ کہیں بس حکم بجا لانا ہے بحث نہیں کرنی۔ یہ اہل بیت ہیں ہم ان کے نوکر ہیں۔

چار بیٹوں میں عباس ابن علی ، عبداللہ ابن علی ، جعفر ابن علی اور عثمان ابن علی تھے ۔ سیدنا عباس علیہ السلام لشکر حسین کے سپہ سالار بھی رہے شجاعت میں یہ ایک مقام رکھتے تھے دونوں ہاتھ سے تلوار چلاتے تھے ۔ جنگ صفین میں سیدنا علی نے ان کو بھیجا تو محمد بن حنفیہ کہتے کہ مولا آپ صرف عباس کو کیوں آگے بھیجتے ہیں تو سیدنا عباس کہنے لگے حسن حسین میرے ابا کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا بازو اور بازو ہمیشہ آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں ( حالانکہ عمر میں حسن و حسین سے چھوٹے تھے ) مطلب کہ یہ سوال بھی نہیں بنتا ، ماں کی تربیت ہر مقام پر جھلکتی تھی ۔

واقعہ کربلا میں جب ایک ایک کر کے لشکر حسین کے سپاہی شہید ہوتے گئے تو سیدنا عباس نے مولا حسین سے درخواست کی کہ مجھے جانے دیں۔ سیدنا حسین ان سے تلواریں لے لیتے ہیں کہ بس عباس تم پانی لے آو ۔ آپ پانی لینے جاتے ہیں تو یزیدی لشکر ان پر حملہ کر دیتا ہے دونوں بازو کاٹ دئیے جاتے ہیں وہی جنہوں نے حسین کی حفاظت کرنی تھی ۔ گھٹنے میں تیر لگتا ہے حسین عالی مقام کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ سیدنا عباس مولا حسین سے درخواست کرتے ہیں کہ میرے گھٹنے سے تیر نکال دیں اور کہتے ہیں کہ مولا میری والدہ سے کہہ دیجئیے گا کہ عباس کے دونوں بازو نہیں تھے اس لئیے صرف آپ کو تیر نکالنے کا کہا ۔ یہ وہ ادب تھا وہ اطاعت تھی جو سیدہ ام البنین کی تربیت تھی جنہوں نے ساری زندگی نبی کے اس گھرانے کی کنیز بن کر گزار دی ۔ آپ کے چاروں بیٹے اس جنگ میں شہید ہو گئے ۔ علی کے پانچ بیٹوں نے اس میں جام شہادت نوش کیا جس میں 4 سیدہ ام البین کے فرزندان تھے ۔ جو لشکر حسین کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ امام عالی مقام پر اپنی جان تک قربان کر دی اور ساری عمر کبھی زبان پر کوئی سوال نہ لائے ۔
واقعہ کربلا کے بعد جب قاصد خبر لے کر مدینہ منورہ پہنچا،
سیدہ ام البنین کو جب بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو کہا عباس شہید ہوا جعفر شہید ہوا عثمان شہید ہوا عبداللہ بھی شہید ہو گیا فرمانے لگی سب چھوڑیں میرے مولا حسین کا بتائیں تو بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے تو کہنے لگی کیا میرے بیٹے بعد میں شہید ہوئے مولا حسین سے تو بتایا کہ نہیں وہ پہلے شہید ہوئے اور مولا کی حفاظت کے لئیے خوب لڑے تو شکر ادا کیا کہ انہوں نے بیشک حق ادا کر دیا ۔۔۔۔
یہ وہ ماں تھی جو اہل بیت کے مقام کو سمجھتی تھی جس نے اپنے سارے بیٹوں کو ساری عمر صرف اطاعت سکھائی ادب سکھایا خود کو اس گھر کی کنیز بنایا اور حسن و حسین کو بیٹا نہیں ہمیشہ مولا کہا ۔
خدا ہم سب کو اہل بیت کا مقام سمجھنے اور اس ادب و اطاعت کی ہدایت فرمائے جو سیدہ ام البینین نے اپنی اولاد کو سکھایا ۔

Address

Lahore
Lahore
053

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Rana Waseem Sajjad Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category