Sardar Daniyal Dogar

Sardar Daniyal Dogar We deal in all kinds of litigations, Civil, Criminal, Taxation, Banking and corporate

Insha Allah MPBC 2025-30 SHEIKHUPURA SEAT Sir Umar Hayat Bhatti Adv Supreme Court of pakistan
14/03/2025

Insha Allah MPBC 2025-30 SHEIKHUPURA SEAT Sir Umar Hayat Bhatti Adv Supreme Court of pakistan

17/12/2024
مرد کی ذمہ داری تاحیات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!
31/10/2024

مرد کی ذمہ داری تاحیات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!

‏پنجاب میں یوٹیوبرز اور صحافیوں  کے لئے عدالت عالیہ کا بڑا حکملاہور ہائیکورٹ نے زیر حراست ملزمان کے میڈیا انٹرویوز پر پا...
20/12/2023

‏پنجاب میں یوٹیوبرز اور صحافیوں کے لئے عدالت عالیہ کا بڑا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے زیر حراست ملزمان کے میڈیا انٹرویوز پر پابندی لگادی

صحافیوں پر شہریوں کی گاڑی روک کر ان سے شناختی کارڈ وغیرہ مانگنے پر بھی پابندی لگادی

ٹریفک والوں کے ساتھ کھڑے ہو کر، منہ میں مائیک گھسا کر انٹرویو کیے جاتے ہیں، بند ہونے چاہئیں، لاہور ہائیکورٹ

کوئی صحافی کسی کو زبردستی بات کرنے پر کیسے مجبور کر سکتا ہے؟ لاہور ہائیکورٹ

ہر شخص جو کیمرہ اور مائیک لے کر چل پڑے اسے صحافی نہیں کہا جا سکتا، لاہور ہائیکورٹ
His Lordship Mr. Justice Ali Zia Bajwa Sab has passed a speaking order directing all the public functionaries to immediately halting any authorization to media (conventional and unconventional) inconsistent or repugnant to the law. Hon'ble Court further issued notices to DG (FIA) and Chairman PEMRA to file it's detailed report. The point of relief is that all the parties to the petition are on the same page that unregulated exercise of power by media can no longer be mainted in the eyes of law. Hon'ble Court has rightly observed that Right of Privacy includes"to let be alone"

Success is nothing more than a few simple disciplines, practiced everyday 🖤 ⚖️
20/10/2023

Success is nothing more than a few simple disciplines, practiced everyday 🖤 ⚖️

آج گرفتاری سے پہلے اسلام آباد دہشتگردی عدالت نے 7 مقدمات میں عمران خان کو قبل از گرفتاری ضمانت دی تھی۔ آج عمران خان کو ا...
09/05/2023

آج گرفتاری سے پہلے اسلام آباد دہشتگردی عدالت نے 7 مقدمات میں عمران خان کو قبل از گرفتاری ضمانت دی تھی۔
آج عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی دائری برانچ سے گرفتار کیا گیا۔

سبحان اللہ❤️
27/04/2023

سبحان اللہ❤️

  میں یکم دسمبر سے گوگل پلے سٹور کی سروسز ڈاؤن لوڈ نہیں ہوسکیں گیلاہور: (ویب ڈیسک) سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بین ...
26/11/2022

میں یکم دسمبر سے گوگل پلے سٹور کی سروسز ڈاؤن لوڈ نہیں ہوسکیں گی

لاہور: (ویب ڈیسک) سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی سروس فراہم کرنے والوں کو 34 ملین ڈالر کی ادائیگی منسوخ کرنے کے بعد موبائل صارفین یکم دسمبر 2022 سے پاکستان میں گوگل پلے سٹور کی سروسز ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکیں گے۔

ایس بی پی نے ڈائریکٹ کیرئیر بلنگ (ڈی سی بی) کے طریقہ کار کو تبدیل کیا تو موبائل کمپنیوں کے ذریعے گوگل، ایمازون اور میٹا وغیرہ سمیت بین الاقوامی سروس فراہم کرنے والوں کو سالانہ بنیادوں پر 34 ملین ڈالرز کی ادائیگی رک گئی۔

پاکستانی صارفین اب صرف کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرنے کے لئے گوگل اور دیگر بین الاقوامی ایپس کو ڈاؤن لوڈ کرنے پر مجبور ہوں گے، کریڈٹ کارڈ کی سہولت صارفین کی ایک مخصوص تعداد تک محدود ہے اس لئے موبائل صارفین کی اکثریت گوگل پلے اسٹور سے ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے سے محروم رہ سکتی ہے۔

پاکستان میں یکم دسمبر 2022 سے موبائل فونز کے ذریعے ایپ پلے اسٹور کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

حق حضانت یعنی کسٹڈی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ ! فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں...
28/10/2022

حق حضانت یعنی کسٹڈی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

راجہ محمد اویس نامی مدعی ( شوہر ) کی شادی نازیہ جبین ( بیوی ) نامی مدعا علیہ کے ساتھ ہوئ تھی جس کے نتیجے میں چار بچے پیدا ہوئے جن میں فیضان ، رابعہ ، عائشہ اور امامہ جن کی عمر بالترتیب آٹھ ، تیرہ ، سولہ اور سترہ سال ہے ۔ مدعی اور مدعا علیہ کے درمیان شادی طلاق کے زریعے دو ہزار سترہ میں اپنے اختتام کو پہنچتی ہے جس کے مدعیہ اپنے چاروں بچوں کی کسٹڈی کے لئے فیملی کورٹ سے رجوع کرتی ہے ۔ ٹرائل کے دوران ایک تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ مدعا علیہ یعنی نازیہ جبین نے دوسری شادی کی ہوئ ہے اور اس کے دوسرے شوہر کے پہلی بیوی سے چار بچے ہیں جو کہ چاروں بالغ ہیں اور دوسری بات یہ سامنے آجاتی ہے کہ ٹرائل کے دوران ہی مدعی کی دو بیٹیاں عائشہ اور امامہ اپنے والد کو چھوڑ کر اپنی والدہ کے پاس چلی جاتی ہیں ۔ ٹرائل کورٹ یعنی فیملی کورٹ تقریباً دو سال کے عرصے تک کیس چلانے کے بعد بالآخر نازیہ جبین کے حق میں فیصلہ کرتی ہے اور چاروں بچوں کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیتی ہے ۔ فیملی کورٹ کے فیصلے کو مدعی یعنی راجہ محمد اویس ڈسٹرکٹ کورٹ میں اس بنیاد پر چیلنج کر دیتا ہے کہ مدعا علیہ نے دوسری شادی کی ہوئ ہے اور اس کے دوسرے شوہر کے پہلے سے چار بیٹے ہیں تو اس بنیاد پر ڈسٹرکٹ کورٹ مدعی یعنی راجہ محمد اویس کے حق میں فیصلہ کر کے تمام بچے اس کو واپس دینے کا حکم صادر کر دیتی ہے ۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کو مدعا علیہ یعنی نازیہ جبین لاہور ہائی کورٹ میں چیلینج کر دیتی ہے اور لاہور ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ واپس برقرار رکھنے کا حکم صادر کر کے بچے ماں کو واپس دینے کا فیصلہ کرتی ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مدعی یعنی راجہ محمد اویس سپریم کورٹ سے رجوع کرتا ہے اور یوں اس کیس کا آغاز ہوتا ہے ۔

سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا دوسری شادی کرنے سے مدعا علیہ یعنی نازیہ جبین کا حق حضانت ختم ہو جاتا ہے یا نہیں ؟

مدعی کے وکیل کی جانب سے سارا زور اس ایک بات پر ہوتا ہے کہ مدعا علیہ کی دوسری شادی کے نتیجے میں اس کا حق حضانت ختم ہوگیا ہے اور دوسری بات یہ کی جاتی ہے کہ چونکہ بچوں کے والد نے ایک تو دوسری شادی نہیں کی اور دوسری بات کہ وہ اچھے جاب پر ہے تو اس لئے بچوں کی بہتری اس میں ہے کہ حق حضانت مدعی کو دیا جائے اور بچوں کا والد اس دوران خود بھی کورٹ کے سامنے یہ بات رکھتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی نوجوان بیٹیاں کیسے بچوں کی ماں کے دوسرے شوہر کے نوجوان بچوں کے ساتھ کیسے ایک گھر میں رہ سکتی ہیں ۔ دوسری جانب مدعا علیہ یعنی نازیہ جبین کے وکیل کی جانب سے دوسرے شوہر والی بات کے جواب میں کہا گیا کہ مدعا علیہ نے دوسری شادی کی ہے لیکن مدعا علیہ ایک الگ گھر میں رہائش پذیر ہے اور مدعا علیہ کے دوسرے شوہر کی فیملی الگ گھر میں رہائش پذیر ہے ۔ مدعا علیہ کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ بچے خود بھی والدہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور بچوں کی ماں ایک تعلیم یافتہ عورت ہے اور اپنا ایک سکول چلا رہی ہیں تو بچوں کی بہتری اس میں ہے کہ بچوں کا حق حضانت مدعا علیہ کو دیا جائے ۔

سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد فیصلے کے دلائل کا آغاز ڈی ایف ملا کی محمڈن لا کے پیرا نمبر تین سو باون سے کیا ہے جس کے مطابق بچوں کی کسٹڈی کا حق سات سال تک والدہ کے پاس ہوتا ہے لیکن اگر والدہ دوسری شادی کرتی ہے تو اس کا حق حضانت ختم ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد جسٹس صاحبہ نے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کے سیکشن سترہ کا حوالہ دیا ہے جس کے مطابق حق حضانت کا فیصلہ بچوں کی بہتری کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس کے بعد جسٹس صاحبہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے PLD 2003 SC 887 کا حوالہ دے کر لکھتی ہیں کہ اس کیس کے مطابق عموماً دوسری شادی کرنے سے حق حضانت ختم ہو جاتا ہے لیکن یہ اصول حتمی نہیں ہے اور حضانت کا فیصلہ بچوں کی بہتری کو دیکھ کر کیا جائے گا ۔ اس کے بعد تین مزید فیصلوں کا حوالہ دیا جاتا ہے جو کہ 2004 SCMR 990، PLD 2002 SC 267 اور 2014 SCMR 343 جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دوسری شادی سے حق حضانت ختم ہونے کا اصول قطعی نہیں ہے بلکہ دوسری شادی کے بعد بھی اگر بچے کی بہتری والدہ کے ساتھ رہنے میں تو حق حضانت والدہ کو دیا جائے گا اور یوں مدعی کی جانب سے یہ دعویٰ کہ دوسری شادی سے بچوں کی ماں کا حق حضانت ختم ہوجاتا ہے تو یہ دعویٰ غلط ہے بلکہ حق حضانت کا فیصلہ ہمیشہ بچوں کی بہتری کو دیکھ کر کیا جائے گا ۔ بچوں کی حضانت دینے کے لیے کوئ حساب کتاب کا اصول نہیں ہے بلکہ بچوں کی بہتری جہاں ہوگی تو حق حضانت اس کو دیا جائے گا اور اس کے بعد جسٹس صاحبہ نے ان عوامل کا زکر کیا ہے جس سے بچوں کی بہتری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس میں بچوں کی جسمانی ، زہنی بہتری شامل ہے ۔

کیس لاز کے زکر کے بعد عدالت نے فیصلے میں بچوں کے حقوق کے لیے یونائیٹڈ نیشنز کے کنونشن کا زکر کیا جو کہ پاکستان نے انیس سو نوے میں کچھ تحفظات کے ساتھ دستخط کیا تھا لیکن بعد میں انیس سو ستانوے میں پاکستان نے وہ تحفظات واپس لے لی تھیں ۔ فیصلے میں عدالت نے کنونشن کے آرٹیکل تین ، سات ، نو اور بارہ کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ حق حضانت میں بچوں کی مرضی کو ترجیح دی جائے گی اور آخر میں نتیجہ یہ نکالا ہے کہ اکیلے دوسری شادی سے حق حضانت ختم نہیں ہوتا ۔

فیصلے کے آخر میں عدالت نے لکھا ہے کہ چونکہ مدعا علیہ یعنی نازیہ جبین ایک تعلیم یافتہ عورت ہے اور وہ اپنا ایک سکول بھی چلا رہی ہیں اور ایک الگ گھر میں بھی رہائش پذیر ہے اور بچوں کی اپنی مرضی بھی یہ ہے کہ وہ والدہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ یاد رہے کہ اس موقع پر عدالت نے خود بھی تمام بچوں سے ان کی مرضی پوچھی جس میں تمام بچوں کا جواب والدہ کے حق میں تھا تو ان وجوہات کو دیکھتے ہوئے عدالت نے ہائ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے بچوں کی کسٹڈی والدہ یعنی نازیہ جبین کے پاس برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ۔

This Judgement Is Written By Justice Ayesha A. Malik And Can Be Searched And Cited As 2022 SCP 289.

Stunning, horrific news about Arshad Sharif, a top Pakistani journalist, killed while in Kenya💔‏اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِ...
24/10/2022

Stunning, horrific news about Arshad Sharif, a top Pakistani journalist, killed while in Kenya💔
‏اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن🙏

17/09/2022

Address

Lahore
42000

Telephone

+923000416511

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sardar Daniyal Dogar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sardar Daniyal Dogar:

Share