Kalma Tayyaba

Kalma Tayyaba The beautiful words of Kalma Tayyaba in English translates as there is Not God but Allah; Muhammad (

01/01/2022
03/02/2021


میاں بیوی کا اورل سیکس یعنی منہ کے ذریعہ جنسی عمل سر انجام دینا یا اعضاء تناسل (شرم گاہ) کو منہ میں لے کر چوسنا اور چاٹنا کے بارہ میں حکم جاننے سے قبل چند شرعی اصولوں کو سامنے رکھیں
-------------------------------
1- دین اسلام طہارت وپاکیزگی کا درس دیتا ہے اور نجاست و گندگی سے دور رہنے کو لازم قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالى کا فرمان ہے: اور گندگی کو دور پھینک [المدّثر : 5] نیز فرمایا : یقینا اللہ تعالى بہت زیادہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ [البقرة : 222]
2- دین اسلام ذی شان کاموں کا حکم دیتا اور گھٹیا اور رذیل کاموں سے منع کرتا ہے۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: یقینا اللہ تعالى باعزت ہے اور عزت ‘ اور اخلاق عالیہ کو پسند فرماتا ہے اور گھٹیا عادتوں کو ناپسند فرماتا ہے۔
مستدرک حاکم: 152
3- اسلام حلال اور پاکیزہ اشیاء کو کھانے کا حکم دیتا ہے اور خبیث کو حرام کرتا اور اس سے اجتناب کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ا للہ تعالى کا فرمان ہے: اے لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو‘ یقینا وہ تمہارا واضح دشمن ہے۔ [البقرة : 168]
4- دین اسلام میں جن چیزوں کو حرام کیا گیا ہے انکے قریب جانے سے بھی منع کر دیا گیا ہے اور ایسے امور جنکا حلال ہونا واضح نہیں ہے ان سے بھی دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالى کا فرمان ہے: اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ کیونکہ وہ فحاشی اور برا راستہ ہے۔ [الإسراء : 32]
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ‘ اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں‘ جنہیں بہت زیادہ لوگ نہیں جانتے ۔ تو جو ان مشتبہ امور سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا۔ اور جو شبہات میں داخل ہوگیا اسکی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو اپنی بکریوں کو ممنوعہ علاقہ کے قریب قریب چراتا ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ اسکی بکریاں اس ممنوعہ علاقہ میں داخل ہو جائیں۔ خبردار! ہر حکومت کے کچھ ممنوعہ علاقے ہوتے ہیں اور اللہ تعالى کے ممنوعہ علاقے اسکے حرام کردہ امور ہیں۔ صحیح البخاری: 52 صحیح مسلم(1599) میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ہے : اور جو مشتبہ کاموں میں پڑ گیا ‘ وہ حرام میں داخل ہوگیا۔ یعنی مشتبہ امور سے بچنا بھی فرض ہے اور ان کاموں میں پڑنا حرام ہے۔
5- ضرر رساں اور نقصان دہ اشیاء کو شریعت نے حرام کیا ہے ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: نہ نقصان اٹھانا ہے اور نہ ہی نقصان پہنچاناہے۔
سنن ابن ماجه : 2340
6- جو کام مؤمن کے دل میں کھٹک جائے وہ گناہ ہے۔ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے: اور لیکن اللہ تعالى نے ایمان کو تمہارے لیے محبوب بنایا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں مزین فرما دیا ہے ‘ اور کفر ‘فسق‘ اور نافرمانی کو تمہارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا ہے۔ (جن کے دلوں کی یہ کیفیت ہو) وہی لوگ نیکوکار ہیں۔ [الحجرات : 7]
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے: نیکی اچھا اخلاق ہے‘ اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹک جائے‘ اورلوگوں کے اس پر مطلع ہونے کو تو ناپسند کرے۔ صحیح مسلم: 2553
---------------------
ان بنیادی اصولوں کو سمجھ لینے کے بعد اورل سیکس کی حرمت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ کیونکہ مذی مرد کی ہو یا عورت کی ناپاک ہی ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اسے دھونے اور صاف کرنے کا حکم دیا ہے ۔اور بحالت شہوت مرد کے ذکر سے بھی اور عورت کی ف*ج یعنی شرم گاہ سے بھی نکلنے والی رطوبت مذی کہلاتی ہے جو کہ نجس بھی ہے اور حرام بھی۔ ا گر کوئی مرد اپنی بیوی کی شرمگاہ چوستا یا چاٹتا یا اسے منہ لگاتا ہے تو اسکا منہ اس نجاست سے نہیں بچ سکتا۔ اسی طرح اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ذکر (آلہ تناسل) کو منہ میں داخل کرے اور چوسے اور جنسی عمل کروائےتو وہ بھی غلبہ شہوت کی بناء پر نکلنے والی مرد کی مذی سے نہیں بچ سکتی بلکہ وہ مذی انکے منہ میں داخل ہوکر لعاب کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے اور بسا اوقات لعاب نگلنے کی صورت میں معدہ تک بھی جا پہنچتی ہے۔ اور یہ نہایت ہی گھٹیا اور رذیل حرکت ہے۔
جبکہ شریعت اسلامیہ نجاست سے دور رہنے کا حکم دیتی‘ نجس اور خبیث کو حرام قرار دے کر اسے کھانے پینے سے منع کرتی ‘ اور گھٹیا عادتوں سے بچنے کا حکم کرتی ہے۔ کوئی بھی مرد اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ اسکے ذکر سے مذی نہیں نکلتی کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ہر مرد مذی خارج کرتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کسی کی مذی زیادہ خارج ہوتی ہے اور کسی کی کم‘ بہر دو صورت اورل سیکس کی حرمت ہی ثابت ہوتی ہے‘ کیونکہ اگر مرد کی مذی بہت ہی کم بھی نکلتی ہو تب بھی جس وقت ذکر اسکی بیوی کے منہ میں داخل ہوگا کوئی یقینی بات نہیں کہ مذی نہ نکلے ‘ بلکہ غالب گمان یہی ہے کہ مذی نکلے گی۔ اورشبہات میں پڑنے کو بھی شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ اور بسا اوقات غلبہ شہوت کی بناء پر میاں صاحب اپنی بیوی کے منہ میں ہی منی نکال دیتے (ڈسچارج ہو جاتے) ہیں جو کہ اس سے بھی قبیح عمل ہے۔
شریعت گندگی کو دور پھینکنے کا حکم کرتی ہے جبکہ اورل سیکس کرنے والے گندگی کو منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جدید میڈیکل سائنس بھی اس بات کو ثابت کر چکی ہے کہ اورل سیکس کے نتیجہ میں منہ کا سرطان (کینسر) پیدا کرنے والا وائرس (HPV) کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ شریعت اسلامیہ مضر صحت امور و اشیاء سے منع کرتی اور انہیں حرام قرار دیتی ہے۔ اور اسی طرح اورل سیکس ایسی برائی ہے کہ کسی مؤمن کا دل اس پر مطمئن نہیں ہوتا‘ اور یہ اسکے دل میں کھٹکتا رہتا ہے۔ جوکہ اس عمل کے گناہ ہونے کی ایک واضح دلیل ہے۔ ان تمام تر دلائل کی رو سے اورل سیکس کی حرمت (یعنی حرام ہونا) ہی ثابت ہوتی ہے۔مزید تفصیلات کیلے انبوکس کر سکتے ہیں

شئیر کرنا مت بولیے گا
شکریہ 🙏

The virtue of 70 thousand Kalima Tayyaba *🔹 * Have you read 70 thousand Kalima in your life by counting *???Hazrat Anas ...
10/01/2021

The virtue of 70 thousand Kalima Tayyaba *
🔹 * Have you read 70 thousand Kalima in your life by counting *???
Hazrat Anas bin Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and Hazrat Maaz bin Jabal (may Allah be pleased with him) were riding on the same kajawa, the Prophet (peace be upon him) said. O forbid! Hazrat Maaz said, O Messenger of Allah! I am present in the service of the Holy Prophet and I am obedient to you. The Prophet again said: O Forbid! Hazrat Maaz again said: O Messenger of Allah, I am present and ready to obey.
Three times the Prophet said in the same way: The person who testifies to the Kalima Tayyaba, there is no God but Allah, Muhammad is the Messenger of Allah, Allah has forbidden him to hell. Hazrat Maaz said: O Messenger of Allah ! Should I not tell people this good news? Said: Then people will usually trust him. Hazrat Maaz said this hadith to avoid the sin of knowledge before his death.
Expression of Haq Al-Jali (PBUH
6 Jamia Sahih Bukhari, Book of Knowledge, 1/24
True Muslim, Dog of faith, 1/46
Hazrat Mohiuddin Ibn Al-Arabi (may Allah be pleased with him) says that
′′ The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him): There is no God but Allah, the one who is the one who is the one who is the one who is the one who is the one who is the one who is the
′′ This hadith has come from the Messenger of Allah (peace be upon him) that the person who recites there is no God but Allah seventy thousand times, he will be forgiven and for whom it is recited, he will also be forgiven
Further, it is said that I had read this kalima in such a quantity, but I had no special intention for anyone in it. Once I went to a feast with my friends, one of the participants of this invitation was the ′′ awareness ′′ of a young man. It was a big city. The young man started crying while eating food. When I asked the reason, he said :" I see my mother in torment :" I gave the reward of 70 thousand kalima to his mother in my heart. Forgive, the young man immediately smiled and said :" Now I see my mother in the best place :"
Hazrat Ibn Al-Arabi (may Allah be pleased with him) used to say that
((Recitation of the Holy Hadith, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and the Prophet (peace be upon him)
I recognized the health of this hadith (to be correct) through the awareness of this young man and the health of this young man through the hadith
(Al-۔ part)
(Miskat Rate of Mashkat. Al-Fisl Al-Thani. Chapter of Ali (Al-Ul-Thani)

Address

Lahore

Telephone

+923228330531

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kalma Tayyaba posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Kalma Tayyaba:

Share

Category