SAMS Law and justice

SAMS Law and justice This page is created for the purpose of sharing knowledge and guiding eachother with the knowledge of law and promoting the legal fraternity.
(1)

لاہور ہائیکورٹ کے وکلاء صاحبان کے لئے تحفہ۔۔ گریویئنس کمشنرز کی مکمل لسٹ۔۔ کسی بھی رِٹ کی دائرگی کے وقت ہائیکورٹ کی دائر...
11/06/2025

لاہور ہائیکورٹ کے وکلاء صاحبان کے لئے تحفہ۔۔
گریویئنس کمشنرز کی مکمل لسٹ۔۔

کسی بھی رِٹ کی دائرگی کے وقت ہائیکورٹ کی دائرگی برانچ میں جو آبجیکشن لگتی ہے کہ پہلے متعلقہ گریویئنس کمشنر کے پاس جائیں، وہ اسی لسٹ کو دیکھ کر لگائی جاتی ہے۔۔

بجائے اس کے کہ کوئی اور آپ کو لسٹ دیکھ کر آبجیکشن کا بتائے، اس سے پہلے آپ خود ہی رِٹ دائر کرنے سے قبل یہ لسٹ دیکھ لیا کریں۔۔

30/05/2025

*آئین پاکستان 1973 ترامیم*

1. `پہلی ترمیم 1974`
آئین پاکستان 1973 کی پہلی ترمییم میں پاکستان کے حدود اربعہ کا دوبارہ تعین کیا گیا

2. `دوسری ترمیم 1974`
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا

3. `تیسری ترمیم 1975`
اس ترمیم میں Preventive Detention کی مدت کو بڑھایا گیا، Preventive Detection کا مطلب ہے کسی ایسے شخص کو نامعلوم مقام پر رکھنا جو ریاست پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہو۔

4. `چوتھی ترمیم 1975`
اقلیتوں کو پارلیمنٹ میں اضافی سیٹیں دی گئیں۔

5. `پانچویں ترمیم 1976`
ہائ کورٹ کا اختیار سماعت وسیع کیا گیا

6. `چھٹی ترمیم 1976`
ہائ کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرڈمنٹ کی مدت بالترتیب 62 اور 65 سال کی گئ۔

7. `ساتویں ترمیم 1977`
وزیر اعظم کو یہ پاور دی گئ کہ وہ کسی بھی وقت پاکستان کی عوام سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکتا ہے۔

8. `آٹھویں ترمیم 1985`
پارلیمانی نظام سے سیمی صدارتی نظام متعارف کروایا گیا اور صدر کو اضافی پاورز دی گئیں۔

9. `نویں ترمیم 1985`
شریعہ لاء کو لاء آف دی لینڈ کا درجہ دیا گیا۔

10. `دسویں ترمیم 1987`
پارلیمنٹ کے اجلاس کا دورانیہ مقرر کیا گیا کہ دو اجلاس کا درمیانی وقفہ 130 دن سے نہیں بڑھے گا.

11. `گیارھویں ترمیم 1989`
دونوں اسمبلیوں میں سیٹوں کی Revision کی گئ۔

12. `بارھویں ترمیم 1991`
سنگین جرائم کے تیز ترین ٹرائل کے لئے خصوصی عدالتیں عرصہ 3 سال کے لئے قائم کی گئیں

13. `تیرھویں ترمیم 1997`
صدر کی نیشنل اسمبلی تحلیل کرنے اور وزیر اعظم ہٹانے کی پاورز کو ختم کیا گیا۔

14. `چودھویں ترمیم 1997`
ممبران پارلیمنٹ میں Defect پائے جانے کی صورت میں ان کو عہدوں سے ہٹانے کا قانون وضح کیا گیا۔

15. `پندرھویں ترمیم 1998`
شریعہ لاء کو لاگو کرنے کے بل کو پاس نا کیا گیا۔

16. `سولہویں ترمیم 1999`
کوٹہ سسٹم کی مدت 20 سے بڑھا کر 40 سال کی گئ

17. `سترھویں ترمیم 2003`
صدر کی پاورز میں اضافہ کیا گیا

18. `اٹھارویں ترمیم 2010`
اس ترمیم میں
NWFP
کا نام تبدیل کیا گیا اور آرٹیکل 6 متعارف کروایا گیا،اور اس کے علاوہ صدر کی نیشنل اسمبلی تحلیل کرنے کی پاور کو ختم کیا گیا۔

19. `انیسویں ترمیم 2010`
اسلام آباد ہائ کورٹ قائم کی گئ،اور سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے حوالے سے قانون وضح کیا گیا۔

20. `بیسویں ترمیم 2012`
صاف شفاف انتخابات کے لئے چیف الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تبدیل کیا گیا۔

21. `اکیسویں ترمیم 2015`
سانحہ APS کے بعد ملٹری کورٹس متعارف کروائ گئیں۔

22. `بائیسویں ترمیم 2016`
چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اہلیت کا دائرہ کار تبدیل کیا گیا کہ بیورو کریٹس اور ٹیکنو کریٹس بھی ممبر الیکشن کمیشن آف پاکستان بن سکیں گے۔

23. `تئیسویں ترمیم 2017`
سال 2015 میں قومی اسمبلی نے اکیسویں ترمیم میں 2 سال کے لئے ملٹری کورٹس قائم کیں۔ یہ دوسال کا دورانیہ 6 جنوری 2017 کو ختم ہو گیا،اس تئیسویں ترمیم میں ملٹری کورٹس کے دورانیے کو مزید 2 سال کے لئے 6 جنوری 2019 تک بڑھایا گیا۔

24. `چوبیسویں ترمیم 2017`
مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کو دوبارہ تشکیل دیا گیا۔

25 `پچیسویں ترمیم 2018`
فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ملانے کے لئے صدر نے 31 مئ 2018 کو دستخط کئے.
26. `چھبیسویں ترمیم 2024`
یہ آئینی ترمیم 20 اکتوبر 2024 کو ایوان سے منظور ہوئی جب کہ پارلیمنٹ سے اسکی منظوری کا اجلاس اس کے بعد شروع ہوا جو 21 اکتوبر تک جاری رہا، اس مسودہ کو 18 اکتوبر 2024 کو ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے حتمی شکل دی جس میں 11 صفحات اور 26 ترامیم شامل ہیں، یہ ترمیم عدالتی عمل کی مختلف پہلوؤں کو تبدیل کرنے اور عدالتی اختیارات کی وضاحت کرنے اور قانونی طریقہ کار میں ردوبدل کرنے کی کوشش کرتی ہے

14/05/2025

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

اب سٹے (Stay) کی درخواستیں لمبے عرصے تک لٹکائی نہیں جائیں گی

جو درخواست سٹے کے لیے دی جائے گی، اس کا فیصلہ 15 دن کے اندر لازمی ہوگا، لاہور ہائیکورٹ

اور اگر سٹے کے خلاف اپیل ہو،
تو وہ ایک مہینے میں ختم کی جائے گی، لاہور ہائیکورٹ

10/05/2025
10/05/2025

Pakistan army Zindabad
Pakistan zindabad

Pakistan zindabad
09/05/2025

Pakistan zindabad

27/02/2025

text formatting shortcuts to remember:

• Bulleted List - Message
1. Numbered List 1. Message
| Block Quote > Message
Inline Code `Mesage`
Bold *Message*
Italic _Message_
Strikethrough ~Message~
Monospace ```Message```

13/11/2024

فوجداری مقدمے کی کارروائی کے اقدامات:

*فوجداری مقدمے کی کارروائی کے مراحل*

1. ایف آئی آر (FIR) درج کرنا یا براہ راست شکایت (Section 200)
2. تفتیش (Section 156) یا انکوائری (Section 202)
3. بیان اور اعتراف کا ریکارڈ (Section 161, 164)
4. جسمانی یا پولیس ریمانڈ (Section 167, 344)
5. چالان جمع کرانے (Section 173)
6. ملزم کی رہائی یا کیس مجسٹریٹ کو ارسال کرنا (Section 169, 170)
7. ایف آئی آر کا خاتمہ (Section 561-A)
8. ادراک (Section 190)
9. عمل جاری کرنا (Section 204)
10. ضمانت یا غیر ضمانت (Section 496, 497)
11. چارج کی فریمنگ (Section 221-240)
12. تیز بری یا قصوروار ٹھہرانا (Section 249-A, 265-K)
13. فیصلہ (Section 243)
14. استغاثہ (Section 245)
15. اپیل (Section 408, 410)

*اپیل کے مراحل*

1. سیشن جج یا جوڈیشل مجسٹریٹیو سیکشن میں اپیل
2. ہائی کورٹ میں اپیل

اہم توں:

- یہ مراحل پاکستان کے فوجداری قانون کے تحت ہیں।
- مختلف حالات میں مختلف مراحل لاگو ہو سکتے ہیں।

09/11/2024

*✅ Limitation Periods*

1. 🕒 First Appeal (Civil Cases) - 30 days

2. 🕒 Second Appeal (Civil Cases) - 60 days

3. 🕒 Civil Revision - 90 days

4. ⚖️ Capital Punishment Appeal - 7 days

5. ⚖️ Magistrate to Sessions Court - 30 days

6. ⚖️ Sessions Court to High Court - 60 days

7. ⚖️ High Court to Supreme Court - 30 days

8. ⚖️ Special Leave to Appeal (High Court to Supreme Court) - 30 days

9. ⚖️ Magistrate to High Court (Acquittal)

Challan Case: 30 days

Complaint Case: 60 days

10. ⚖️ Sessions Court to High Court (Acquittal)

Challan Case: 30 days

Complaint Case: 60 days

11. ⚖️ From High Court (Original Jurisdiction to Division Bench)

Acquittal or Conviction: 20 days

12. 📜 Ex*****on of Decree (Plaintiff) - 6 years

13. ⚖️ Civil Suits Limitation - 3 years from cause of action

14. 📜 Article 150: Death Sentence to High Court - 7 days

15. 📜 Article 151: High Court Order on Original Side-Appeal - 20 days

16. 📜 Article 154: Appeal to Court (excluding High Court) - 30 days

17. 📜 Article 155: Criminal Appeal to High Court - 60 days

18. 📜 Article 157: Appeal from Acquittal by State - 60 days

Copied

09/11/2024

*Inheritance in Urdu.*

*Fully Detailed & Easy to Understand.*

*وراثت کی تقسیم کا قانونی طریقہ کار آسان اردو زبان میں:---*

وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.

(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

*جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:*

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے

*(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:*

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.

(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.

(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

*(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:*

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے

*(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:*

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

*(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:*

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے.

*(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:*

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.

*(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:*

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گ

*(7): کلالہ:*

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے، یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.

(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو.

*(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:*

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ اسکا جوکہ عورت کیلئے ہے.

الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

*اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:*

اور ہر ترکہ کیلئے جو ماں باپ اور عزیز و اقارب چھوڑیں ہم نے وارث قرار دئیے ہیں اور جن سے تم نے عہد کر لئے ہیں ان کا حصہ ان کو دیدو بیشک الله ہر شے پر گواہ ہے. (4:33)

مردوں کیلئے اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں ایک حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں تھوڑا یا زیادہ مقرر کیا ہوا ایک حصہ ہے. (4:7)

اور جب رشتہ دار و یتیم اور مسکین تقسیم کے موقع پر حاضر ہوں تو انکو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے نرمی کے ساتھ کلام کرو. (4:8)

*الله* تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے اور اگر فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو ترکے کا دو تہائی (2/3) ان کا ہے اور اگر وہ ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف (1/2) ہے اور والدین میں سے ہر ایک کیلئے اگر متوفی کی اولاد ہو تو ترکے کا چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کیلئے ترکہ کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے بعد تعمیل وصیت جو وہ کر گیا ہو یا بعد اداۓ قرض کے تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء یا تمہارے بیٹوں میں سے نفع رسانی میں کون تم سے قریب تر ہے یہ الله کی طرف سے فریضہ ہے بیشک الله جاننے والا صاحب حکمت ہے. (4:11)

اور جو ترکہ تمہاری بے اولاد بیویاں چھوڑیں تمہارے لئے اس کا نصف (1/2) حصہ ہے اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس ترکہ کا جو وہ چھوڑیں چوتھائی (1/4) حصہ ہے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو جو ترکہ تم چھوڑو ان عورتوں کیلئے اس کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور اگر تمہارے اولاد ہو تو ان عورتوں کا اس ترکہ میں آٹھواں (1/8) حصہ ہے جو تم چھوڑو بعد از تعمیل وصیت جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے اور اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر وہ تعداد میں اس سے زیادہ ہوں تو بعد ایسی کی گئی وصیت کی تعمیل جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو یا ادائیگی قرض کے وہ سب ایک تہائی (1/3) میں شریک ہونگے یہ وصیت منجانب الله ہے اور الله جاننے والا بردبار ہے. (4

تجھ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دے کہ الله تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہلاک ہوجاۓ جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو پس اس کی بہن کیلئے اس کے ترکہ کا نصف (1/2) حصہ ہے. (اگر عورت ہلاک ہوجاۓ) اگر اس عورت کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر اس کی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے اس کے ترکہ کا دو تہائی (2/3) ہے اور اگر بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کیلئے دوگنا حصہ اس کا جو کہ عورت کیلے ہے الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے -
Copied

09/11/2024

*🔹 Effective Examination-in-Chief Techniques in Criminal Trials 🔹*

In criminal trials, the prosecution aims to bring out a witness's story effectively. Here’s how it’s done:

*🎯 Objectives of Examination-in-Chief:*

Establish the Case: Present facts that support the prosecution’s case.
Clarity & Persuasion: Make the evidence clear, memorable, and convincing.
Prepare for Cross-Examination: Protect the evidence from anticipated challenges.
*📝 Key Techniques:*

Signposting: Structure questions to guide the witness.
Piggybacking: Build on the witness’s prior responses.
*📑 Strategic Preparation:*

Order of Witnesses: Start and end with strong witnesses for maximum impact.
Order of Evidence: Sequence testimony to build impact, especially for witnesses vulnerable to cross-examination.
By using these structured techniques, prosecutors can maximize the effectiveness of the examination-in-chief.

📌 *Case Reference:* Rao Hamayun Waqas Vs The State, 2024 YLR 2546; PLJ 2024 Cr.C 989

Copied

09/11/2024

*Leading Questions in Examination-in-Chief under Qanun-e-Shahadat Order, 1984*

In criminal trials, prosecutors are generally restricted from asking leading questions—questions that suggest their own answers—during examination-in-chief, as per Article 136 of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984. However, Article 137 allows for some exceptions:

*Objection by Opposing Party:* If there is no objection, leading questions are allowed. Even with an objection, the court may permit leading questions on introductory, undisputed, or proven matters.

*Court’s Discretion:* The court has the authority to allow leading questions when it aids clarity on established or preliminary facts.

To avoid leading questions, prosecutors often use the "Five Ws" approach—asking when, where, what, who, and why—allowing witnesses to explain in their own words. Additionally, they may reorganize questions to focus on key details, enhancing the narrative's impact.

*Case Reference:* Rao Hamayun Waqas Vs The State, 2024 YLR 2546; PLJ 2024 Cr.C 989

Copied

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SAMS Law and justice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share