IBEX Lawyers Forum

IBEX Lawyers Forum We provides our litigation services before any forum including Civil Court, High Court, Tribunals, F

ہماری ماہر وکلاء کی ٹیم سے ریٹرن فائل کروانے یا این ٹی این بنوانے کے لیے اس نمبر پر واٹس ایپ کریں 03444716632
12/06/2022

ہماری ماہر وکلاء کی ٹیم سے ریٹرن فائل کروانے یا این ٹی این بنوانے کے لیے اس نمبر پر واٹس ایپ کریں
03444716632

خلع، طلاق اور تنسیخ نکاح پہ لاہور ہائی کورٹ کی ججمنٹ ! خاتون نے فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا جس میں یہ موقف اپنایا گیا ...
07/06/2022

خلع، طلاق اور تنسیخ نکاح پہ لاہور ہائی کورٹ کی ججمنٹ !

خاتون نے فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا جس میں یہ موقف اپنایا گیا کہ شوہر کا تعلق میرے ساتھ ٹھیک نہیں ہے اور وہ مار پیٹ کرتا ہے وغیرہ وغیرہ لہذا مجھے میرا حق مہر جو کہ تین ملین سے زیادہ ہے اور دیگر جہیز کا سامان یہ سارا واپس کیا جاۓ اور عدالت مجھے خاوند سے طلاق دلواۓ بالفاظِ دیگر عدالت نکاح کی تنسیخ کرے۔
فیملی کورٹ نے فیصلہ کرتے ہوۓ تنسیخ نکاح کے بجائے خلع کا حکم پاس کیا اور خاتون کو حکم دیا کہ حق مہر سے دستبردار ہوجائیں۔ مذکورہ خاتون اپیل میں گئی اور اپیل میں بھی یہی فیصلہ برقرار رکھا گیا جس کے بعد خاتون کو مجبوراً ہائی کورٹ میں رٹ جوریسڈکشن میں جانا پڑا۔

معزز عدالت نے طے کیا کہ خلع بیوی کا شرعی حق ہے یہ عدالت کا اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کو بھی بن مانگے اس کا حق دلوانا شروع کردے اگر خاتون خلع نہیں مانگ رہی بلکہ تنسیخ نکاح کی بنیاد پہ طلاق مانگ رہی ہے تو عدالت تنسیخ نکاح کے بجائے خلع دینے کا اختیار نہیں رکھتی۔ اس صورت میں عدالت کو شہادت میں جانا ہوگا اور پراپر ٹرائل کے زریعے یہ طے کرنا ہوگا کہ آخر کن وجوہات کی بناء پر خاتون کو طلاق دی جاسکتی ہے یا نکاح کی تنسیخ کی جاسکتی ہے۔۔۔
سب سے اہم نکتہ جو معزز جج نے طے کیا وہ یہ کہ معزز جج نے صراحتا لکھا کہ خلع کی صورت میں بھی اگر خاتون خلع کے لیے راضی ہو مگر شوہر کی طرف سے اجازت نہ دی جاۓ تو یہ خلع شرعاً و قانونا جائز نہیں ہوگا کیونکہ شریعت کہتی ہے کہ خلع میں شوہر کی اجازت ضروری ہے۔
اگر خاتون خلع مانگ لے اور شوہر انکار کر دے تو شریعت و قانون میں خلع مؤثر تصور نہ ہوگا اس لیے خاوند کی اجازت یا قبول ضروری ہے (اس کے لیے دیکھیے مذکورہ ججمنٹ کا پیرا نمبر 14)

معزز جج نے مزید یہ کہا کہ خاتون جن وجوہات کی بناء پہ خاوند سے اپنا نکاح منسوخ کرانا چاہتی ہے اگر وہ وجوہات ثابت نہ ہو جاۓ تو اس صورت میں بھی عدالت خود سے خلع کا حکم نہیں دے سکتی بلکہ عدالت کو دیگر وجوہات کی طرف جانا ہوگا اور عدالت کو دیگر وجوہات کی بناء پر فیصلہ کرنا ہوگا کہ نکاح کی تنسیخ کی جاۓ لیکن خلع کی بنیاد پہ نہیں۔ (اس کے لیے دیکھیے پیرس نمبر 12)

مزید اسی پیرا سے آگے پیرا نمبر 15 میں طے پایا کہ خلع کی صورت میں عدالت یک طرفہ(ex parte) فیصلہ نہیں دے سکتی یعنی خاوند کی غیر موجودگی میں خلع کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
اگر شوہر ان شرائط پہ خلع دینے پہ راضی نہ ہو جن پہ بیوی خلع لینا چاہ رہی ہو تو عدالت تب تک خلع کا حکم جاری نہیں کرسکتی جب تک دونوں کچھ شرائط پہ متفق ہوکر خلع کا فیصلہ نہ کردے۔

مزید یہ کہا گیا کہ اگر خاوند کی بیوی کے ساتھ نا بنتی ہو اور خاوند طلاق بھی نہ دینا چاہ رہا ہو بلکہ بیوی کو اس طرز پہ ٹریٹ کر رہا ہو کہ بیوی مجبور ہر کر خلع مانگ لے اور خاوند کو حق مہر بچ جاۓ تو اس صورت میں عدالتوں کو بہت محتاط ہونا چاہیے اور معاملہ کی تہ تک پہنچانا چاہیے کہ آخر غلطی کس کی ہے یا ظلم کون کر رہا ہے۔
مذکورہ ججمنٹ میں قرآن پاک سے اور ہدایہ سے بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

PLD 2021 LAHORE 757.
مزید قانونی معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کرے۔
03444716632 ibex lawyer forum

عمران خان کو کیوں فوراً ہٹایاگیاہے؟ ایک قابلِ مطالعہ تحریر**********ہ********انگریزی تحریر : جسٹس ناصرہ جاوید اقبال (بہو...
06/06/2022

عمران خان کو کیوں فوراً ہٹایاگیاہے؟ ایک قابلِ مطالعہ تحریر
**********ہ********
انگریزی تحریر : جسٹس ناصرہ جاوید اقبال (بہو علامہ محمد اقبال)
اردو ترجمہ : احمد عزیر
********ہ******

میں آپ کو بتاؤں گی کہ عمران خان نے ایسا کیا جُرم کیا کہ امریکہ کو اُسے فوراً اسکے عہدے سے ہٹانا پڑا اور اگر امریکہ ایسا نہ کرتا تو اسے کس قسم کے نقصانات اٹھانے پڑ سکتے تھے۔

اس کو سمجھنے کے لیے پہلے دو تصورات کا احاطہ کرتے ہیں۔

1) پیٹرو ڈالر کیا ہے؟ یہ 1974 میں شاہ فیصل اور صدر نکسن کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔

اس معاہدے کے تحت سعودی عرب ذمہ داری یہ تھی کہ اوپیک کے تمام ممالک کو تیل امریکی ڈالر میں فروخت کرنے پر راضی کرے اور کوئی دوسری کرنسی یا سونا قبول نہ کرے۔ فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی امریکی بینکوں یا فیڈرل ریزرو میں جمع کی جائے گی جس سے USD کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک کو تیل خریدنے کے لیے پہلے USD خریدنا پڑتا ہے اور یہ انتظام USD کو مضبوط رکھتا ہے۔

بدلے میں سعودی کرنسی ایک ڈالر = 3.75 ریال مقرر کی گئی تھی، سعودی معیشت کی حالت جیسی بھی ہو امریکی ڈالر اور ریال کی شرح یہی رہے گی اور یہی وجہ ہے کہ آج 48 سال بعد ہی ایک ڈالر , تین اعشاریہ پچھتر ریال کے برابر ہے۔ دوسرا امریکہ نے گارنٹی دی کہ آل سعود اقتدار میں رہے گا، حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

امریکہ کی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا تھی کہ اوپیک ممالک میں سے کوئی بھی اس معاہدے سے کسی صورت بھی باہر نہ نکلے۔ عراق اور لیبیا نے بغاوت کی اور ہم سب جانتے ہیں ان کی حالت کیا ہوئی۔

2) 1953 میں ہندوستان اور سوویت یونین (روس) کے درمیان ہندوستانی روپیہ-روبل تجارت کا معاہدہ ہوا۔

جس کے تحت روس سے ہندوستانی خریداری کے لیے وہ ہندوستانی روپے میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے ہندوستانی روپے کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہے گا اور کرنسی مضبوط رہے گی

دوئم ہندوستان سے روسی خریداری کے لیے روسی روبل میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے روبل کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور کرنسی مضبوط رہتی ہے۔
ایک ہندوستانی بینک روس میں ایک شاخ کھولے گا اور روس کا ایک بینک تجارت کی سہولت کے لیے ہندوستان میں ایک شاخ کھولے گا

براہ کرم نوٹ کریں، یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ معاہدہ 1953 میں ہوا تھا جو 1974 میں پیٹرو ڈالر کے معاہدے سے پہلے ہوا تھا۔

عمران خان پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے 2019 میں پاکستانی روپے اور چینی یوآن میں لین دین کا چین سے معاہدہ کیا۔ اس معاہدے میں سیمی کنڈکٹر، ٹرانسفارمرز، نشریاتی آلات اور الیکٹرونکس آلات شامل تھے۔ اگرچہ امریکہ اس سے خوش نہیں تھا، لیکن وہ چپ رہا کیونکہ اس میں تیل کا لین دین شامل نہیں تھا۔

عمران خان نے 2022 میں تیل کے لیے پاکستانی روپے اور روسی روبل کا معاہدہ کرنے کے بالکل قریب تھا۔
یاد رکھیں پیٹرو ڈالر کا معاہدہ 1974 کا ہے۔ اور امریکہ پاکستان کے اس معاہدے کو کبھی قبول نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اگر دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کرتے ہیں تو USD کمزور ہو جائے گا اور امریکی معیشت میں گراوٹ آجائے گی اور وہ مزید سپر پاور نہیں رہے گا۔

اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو اگلے الیکشن ہارنے کی قیمت پر بھی پاکستان امریکی غلامی سے نکل آتا اسی لئے امریکہ کو اسے فوری طور پر ہٹانا پڑا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔

عمران خان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ جنت میں صدام حسین اور معمر قذافی کے ساتھ نہیں بیٹھا ہے امریکہ نے اسے زندہ رہنے کا دوسرا موقع دیا ہے۔

اگر عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوتا ہے اور اپنی دوسری مدت میں وہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو روپے کی یہ مسلسل قدر میں کمی (1 USD = 180 PKR) رک جائے گی، پاکستان IMF کو ادائیگی کرنا شروع کر دے گا اور تبادلوں کی شرح بحال ہو جائے گی اور پاکستان دو سے تین سال میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کا طوق گلے سے اتار پھینکے گا۔

26/05/2022

قومی اسمبلی نے نیب قوانین میں ترامیم کا بل بھی منظور کر لیا گیا

1. اپیل کا حق 10کی بجائے 30 روز کر دیا گیا

2.نیب گرفتاری سے پہلے ثبوت کو یقینی بنانے گا
3.نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں میں عدالت میں پیش کرنے کا پابند ہوگا

4.نیب چھ ماہ میں انکوائری کا آغاز کرنے کا پابند ہے
5.ریفرنس دائر ہونے سے قبل نیب افسر میڈیا میں کوئی بیان نہیں دے گا ریفرنس دائر ہونے سے قبل بیان دینے پر متعلقہ نیب افسر کو ایک سال تک قید اور 10 لاکھ تک جرمانہ ہو سکے گا،
6:کسی کے خلاف کیس جھوٹا ثابت ہونے پر ذمہ دار شخص کو 5 سال تک قید کی سزا ہو گی۔
7:نیب قانون میں ترمیم کرکے ریمانڈ 90 دن سے کم کرکے 14 دن کر دیا گیا
8:وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے
بل میں چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے،
جبکہ ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی بھی سینئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج ملے گا۔احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی 3 سال کے لیے ہوگی،

احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے لیے متعلق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہوگی،نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 2 ماہ پہلے شروع کیا جائے گا،
نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 40 روز میں مکمل ہوگا۔
وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا، پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی،
چیئرمین نیب کی 3 سالہ مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا، ڈپٹی چیئرمین کی تقرر کا اختیار صدر سے لے کر وفاقی حکومت کو دے دیا جائے گا

منحرف اراکین سے متعلق آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق ریفرنس پر سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ.آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 اے...
17/05/2022

منحرف اراکین سے متعلق آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق ریفرنس پر سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ.
آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ نے تین دو کے اکثریتی فیصلے میں کہا ہے کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہوگا اور پارلیمان ان کی نااہلی کی مدت کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے۔

سیاسی جماعتوں کے منحرف اراکین سے متعلق اس ریفرنس کی سماعت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

اس اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 63 اے پارلیمانی جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور انحراف سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ نااہلی کی مدت سے متعلق ریفرنس کے چوتھے سوال پر عدالت نے کوئی جواب نہیں دیا اور ریفرنس نمٹا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ لکھے ہیں۔ انھوں نے اختلاف کیا ہے کہ انحراف کرنے والے رکن کے ووٹ کا شمار ہوگا مگر پارلیمان کے پاس اختیار ہے کہ اس پر قانون سازی کرے۔

07/05/2022

Shocking . third wife Dania shah Demand Divorce.
like and share our page Thanks

Now third wife of Aamir Liaquat has reached court for divorce. Reportedly has accused him for doing drugs and beating he...
07/05/2022

Now third wife of Aamir Liaquat has reached court for divorce. Reportedly has accused him for doing drugs and beating her and forcing her to do immoral acts with other men.

That's what she has reportedly accused of. She has also reportedly asked for 11.5 Crore as Haq Meher.

لا گریجویشن کے دنوں کی بات ہے کہ میری کلاس کی تعداد 56  طلباء پر مشتمل تھی جس میں ہم فیصل آباد کے صرف 12 لوگ تھے باقی مخ...
05/05/2022

لا گریجویشن کے دنوں کی بات ہے کہ میری کلاس کی تعداد 56 طلباء پر مشتمل تھی جس میں ہم فیصل آباد کے صرف 12 لوگ تھے باقی مختلف شہروں کے طلبا تھے. جن میں مختلف لہجوں کی پنجابی اور فطرت کا واضح فرق ہوتا تھا اسکے باوجود انتہائی مثالی اور اچھا دور گزرا.
لا کے طلباء (جو عموماً پڑھائی میں اچھے نہیں ہوتے ) مختلف حربوں سے امتحانات میں نقل کرتے جس میں ملنے والی کامیابی کو ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا جاتا تھا ( اسے ایک مثبت پہلو سمجھ لیا جائے تو مہربانی ہوگی) کبھی کوئی مائیکرو سائز کی بُوٹی بنا کر لاتے کبھی کوئی ڈیسک پر پہلے سے لکھ لیتا کوئی ہاتھ پر لکھ لیتا.
اب ہوا کچھ یوں کہ ایک دفعہ ہمارا constitution یعنی آئینِ پاکستان کا امتحان تھا اور جو متعلقہ مضمون کے جو استاد تھے انہوں نے پیپر شروع ہونے سے پہلے کافی سنجیدہ ہوکر کہا میری بات سنیں "آپ لوگوں نے بہت امتحان دیئے ہونگے بہت دفعہ ناجائز طریقے سے پاس بھی کرلیا ھوگا جسکا ہم اساتذہ کو بخوبی علم ہوتا ہے اور ہم نظر انداز کردیتے ہیں لیکن آج ایک مقدس امتحان ہے یعنی آئینِ پاکستان کا. ایک وکیل کے لیے آئین کی کتاب بہت مقدس ہونی چاہیے. اگر کہوں کہ قرآن و حدیث کے بعد سب سے معتبر تو غلط نہ ہوگا "
اسی دوران حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک کلاس فیلو نے لاسٹ ڈیسک سے انتہائی معصومیت میں ایک یادگار جملہ کہا کہ جس کے بعد ہمارے ٹیچر بھی اپنی سنجیدگی برقرار نہ رکھ سکے کہ :-
" سر جی مُڑ پہلاں دس دیندے ہُنڑ تے میں آئین گِٹے تے لکھ بیٹھاں"

(سر پہلے بتا دیتے اب تو میں آئین اپنے ٹخنے پر لکھ بیٹھا ہوں) 😎

کاش سانوں وی پتا ہووے کہ آئین مقدس اے تے اسیں وی جتی دی نوک تے نا رکھدے 😐😐😐

آئین کا آرٹیکل 248 صدر اور گورنر کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرتا ہے
28/04/2022

آئین کا آرٹیکل 248 صدر اور گورنر کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرتا ہے

ماڈل ٹائون کچہری، دعا زاہرہ کیسعدالت کی جانب سے بچی کو اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی گئیعدالت کا تحریری حکم جاری...
26/04/2022

ماڈل ٹائون کچہری، دعا زاہرہ کیس

عدالت کی جانب سے بچی کو اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی گئی

عدالت کا تحریری حکم جاری

پولیس کی جانب سے بچی کو سیکیورٹی فراہم کی جانے کی استدعا کی گئی ، تحریری فیصلہ

بچی نے عدالت کو بتایا ہے کہ اسنے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، عدالت

عدالت بچی کے بیان کو مدںظر رکھتے ہوئے انکو آزاد کرتی ہے، عدالت

عدالت پولیس کی دارامان بھیجنے کی استدعا مسترد کرتی ہے، عدالت

اسلامو فوبک سے مسلمان ہونے تک، تجربہ کار رچرڈ میک کینی نے ایک بار مسجد کو بم سے اڑانے کا منصوبہ بنایا.کیریئر کے سابق فوج...
24/04/2022

اسلامو فوبک سے مسلمان ہونے تک، تجربہ کار رچرڈ میک کینی نے ایک بار مسجد کو بم سے اڑانے کا منصوبہ بنایا.

کیریئر کے سابق فوجی رچرڈ میک کینی، جنہوں نے مشرق وسطیٰ میں خدمات انجام دیں، نے انڈیانا کی ایک مسجد کو اس وقت تک اڑانے کا منصوبہ بنایا جب تک کہ وہاں کے دورے نے ایک غیر معمولی تبدیلی کو جنم نہ دے دیا، جس کے نتیجے میں ان کی تبدیلی واقع ہوئی۔

18 مئی کو ڈیئربورن میں امریکن مسلم سوسائٹی کی سالانہ ہیومینٹی ڈے تقریب میں مہمان مقرر کے طور پر، میک کینی نے اپنے آبائی شہر کی مسجد میں انتہائی نفرت سے لے کر مسلمان بننے اور رہنما بننے تک اپنی زندگی کے قابل ذکر کورس کے بارے میں بات کی۔

"میں نفرت اور غصے سے بھرا ہوا تھا،" میک کینی نے کہا۔ "میں اسلام کے بارے میں ہر چیز اور ہر چیز سے نفرت کرتا تھا اور جو بھی اسلامی نظر آتا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اسلام اس دنیا میں ایک کینسر ہے اور میرے اندر جو نفرت تھی وہ میرے جسم کے اندر ایک اور عضو کی طرح تھی۔

میک کینی نے کہا کہ انہیں 25 سال بعد میرین کور سے ریٹائر ہونا پڑا کیونکہ وہ عراق میں زخمی ہوئے تھے، اور جب وہ ریٹائر ہوئے تو انہوں نے اپنے قوم پرستانہ عقائد کو لے کر ان کی بڑائی کی، اور فیصلہ کیا کہ اسلام ان کا دشمن ہے۔

اس نے کہا کہ اس کے بعد اس نے ایک دیسی ساختہ بم بنانے کا فیصلہ کیا اور اسے انڈیانا ٹاؤن کی مسجد میں دھماکے سے اڑانے کا فیصلہ کیا جہاں وہ رہتے تھے، اس امید سے کہ تقریباً 200 مرد، خواتین اور بچے اس میں حاضر ہوں گے۔ اس نے فرض کیا کہ وہ پکڑا جائے گا، اور اسے جیل میں پھانسی دی جائے گی۔

"لہذا، یہ جانتے ہوئے کہ میں آخر کار ایک گرنی پر لیٹ جاؤں گا، اپنے بازو میں سوئی رکھ کر، مجھے مرحلہ نہیں آیا،" میک کینی نے کہا۔ "فوج سے نکل کر مجھے جو دھوکہ ہوا محسوس ہوا وہ یہ تھا کہ میں مرنا چاہتا تھا۔ میں ایک فوجی کی موت مرنا چاہتا تھا۔"

میک کینی نے کہا کہ جو فوجی تابوت میں گھر آتے ہیں ان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور انہیں ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

"میری زندگی میں اس وقت، میں پوری دنیا میں تھا،" انہوں نے کہا۔ "اس وقت میں جو کچھ کرنا چاہتا تھا اس کے بارے میں کیا۔ نے کہا کہ اس کی 7 سالہ بیٹی کا اسکول میں ایک مسلمان دوست تھا، اور اس نے اس پر ردعمل ظاہر کیا۔ اس نے کہا کہ اس کے تعصب پر مایوسی کے ردعمل نے اسے مسجد جانے اور وہاں کے لوگوں سے ملنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا – ایک ایسا اقدام جس نے بالآخر اس کی زندگی بدل دی۔

اپنے ابتدائی دورے کے بعد، اس نے کہا، وہ قرآن، اسلامی مقدس کتاب کا ایک نسخہ گھر لے گئے، اس تجویز کے ساتھ کہ وہ اپنے کسی بھی سوال کے ساتھ واپس آ جائیں۔

میک کینی نے کہا کہ انہیں یہ احساس ہوا کہ دہشت گرد جو کچھ بھی کر رہے تھے وہ اس بات پر مبنی نہیں تھا جو وہ قرآن میں پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کچھ ایسے اقتباسات ملے جو مسلمانوں پر تنقید کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں، جن کا مسجد میں موجود لوگوں نے بہت سیدھے انداز میں جواب دیا۔

"وہ اس کی وضاحت اس طرح کریں گے کہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں،" انہوں نے کہا۔ انہوں نے ایک تمثیل کا جواب دوسری تمثیل سے دینے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے مجھے صرف ایک صاف جواب دیا."

آٹھ ہفتوں کے بعد، مک کینی مسجد میں واپس آیا اور اپنی شہادت، اپنے عقیدے کا اعلان کیا۔

"میں جانتا تھا کہ مجھے ان چیزوں کے جواب مل گئے ہیں جن پر میں اپنی زندگی میں اتنے عرصے سے سوال کر رہا تھا،" انہوں نے کہا۔ "مجھے کچھ ایسا ملا جو میرے باقی دنوں تک جاری رکھنے میں میری مدد کرنے والا تھا۔ تب سے، میں وہاں سے باہر ہوں، لوگوں سے اس نفرت کو ختم کرنے کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔"

McKinney نے کہا کہ لوگوں کے بہت سے نفرت انگیز، جاہلانہ اقدامات سے بچا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میں سچ میں یقین کرتا ہوں کہ ہم ایک ہی تخلیق کار سے آئے ہیں۔" "اس ایک تخلیق کار کا ہم سب کے لیے ایک ہی مقصد ہے۔ نمبر 1 مشن ہے ساتھ ملنا۔"

میک کینی نے کہا کہ کچھ لوگوں کے لیے نفرت کرنا فیشن ہے۔

"ہم سب ایک جیسے ہیں، پھر بھی ہم ہمیشہ مختلف رہیں گے،" انہوں نے کہا۔ "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ کے اندر کیا ہے، اور آپ اس تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔

میک کینی نے کہا کہ دنیا کے 1.6 بلین مسلمانوں میں سے، ان میں سے 1 فیصد سے بھی کم باقی کے لیے بول رہے ہیں، اور یہی اسلام کی مسخ شدہ تصویر ہے جس سے باقی دنیا بے نقاب ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ مسلم مذہب کے بارے میں متجسس ہیں، اور مسلمان لوگوں کو یہ تاثر دیے بغیر اپنے عقیدے کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ کوئی انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

"بس ان کے سوالات کا جواب دیں، مسکرائیں اور دوستانہ رہیں،" انہوں نے کہا۔

McKinney نے کہا کہ امریکہ دوسرے عقائد کے بارے میں جاننے، اپنے عقائد کی چھان بین کرنے اور ایک ساتھ رہنے کے لیے دنیا کی بہترین جگہ ہے، یہاں تک کہ جب ان کے عقائد دوسروں کے عقائد سے مختلف ہوں۔

اس نے نوٹ کیا کہ ابراہیمی مذاہب - یہودیت، عیسائیت اور اسلام - سبھی مشرق وسطی میں پیدا ہوئے ہیں۔

"ان سب میں حکمت ہے،" میک کینی نے کہا۔ "میں اسے بگ تھری - ابراہیمی مذاہب کہتا ہوں۔ بنیادی طور پر اپنی زندگی گزارنے کے خوبصورت طریقے۔

"مسئلہ یہ ہے کہ، انہوں نے لوگوں کو شامل کرنا شروع کر دیا، اور یہ تب ہے جب سب کچھ ایک طرف ہو گیا۔ لیکن ایمان والے لوگ اسے واپس لا سکتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جو الزام کی قیادت کر رہے ہیں، سیاستدان نہیں۔ ہم اس دنیا کے رہنما ہیں، خالق کو دکھانے کے لیے کہ ہم تبدیلی لانے کے لیے خود کو وہاں سے باہر رکھنے کے لیے تیار ہیں۔"
سکندر عیسیٰ۔

  to Resume Flights with 52 'Friendly' Countries, including  :
13/04/2022

to Resume Flights with 52 'Friendly' Countries, including :

Address

Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 15:00
Saturday 09:00 - 16:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IBEX Lawyers Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to IBEX Lawyers Forum:

Share