Gorwal Law Associates

Gorwal Law Associates We provide all types of quality Legal assistance/ services like Civil, Criminal, Family, Taxation in Affordable Fee.

we also provide Free Legal Services for needy people.

شناختی کارڈ سے محروم شہریوں کے لئے نادرا کا اہم اقدامپیدائش سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنوانے  کی مشروط سہولتقومی شناخ...
22/02/2026

شناختی کارڈ سے محروم شہریوں کے لئے نادرا کا اہم اقدام
پیدائش سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنوانے کی مشروط سہولت

قومی شناختی نظام میں تقریباً 98.3 فیصد بالغ آبادی کی رجسٹریشن مکمل ہونے کے باوجود تقریباً 1.7 فیصد بالغ افراد نے ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔ بالغ ہونے کے باوجود شناختی کارڈ نہ بنوانے والے شہریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے، اور بعض ایسے اضلاع جہاں مقامی حکومت کے اداروں سے پیدائش کی سول دستاویزات بنوانے والوں کی تعداد کم ہے، وہاں شناختی کارڈ نہ بنوانے والوں میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔ نادرا مقامی حکومت کی جانب سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش کا سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پہلی بار رجسٹریشن کرتا ہے اس کی غیرموجودگی ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔
سال 2025 کی سالانہ رپورٹ کی تیاری کے دوران نادرا نے ادارۂ شماریات پاکستان، الیکشن کمیشن آف پاکستان، قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں، قومی کمیشن برائے بہبودِ اطفال و ترقی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر گزشتہ دس برس کے رجسٹریشن کے اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیااس تجزیے میں آبادی کے رجحانات، مختلف اضلاع اور اصناف کے درمیان فرق کا جائزہ لے کراس خلاء کے اسباب کی نشاندہی کی گئی اور اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے۔
ان سفارشات کی روشنی میں وفاقی وزیر برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے ایک منظم اور قانونی بنیاد پر مبنی سہولت متعارف کرانے کی ہدایت جاری کی، جس کی منظوری بعد ازاں نادرا اتھارٹی بورڈ نے بھی دے دی ۔
اسی تناظر میں نادرا نے پہلی بار رجسٹریشن کے لیے ایک مخصوص سہولت متعارف کرائی ہے، جو 31 دسمبر 2026 تک مؤثر رہے گی۔ اس طریقۂ کار کے تحت ایسے افراد جن کے پاس مقامی حکومت کا کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ دستیاب نہ ہو، انہیں تصدیق کی شرائط پوری ہونے پر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جاری کیا جا سکے گا۔ یہ سہولت نادرا آرڈیننس اور قومی شناختی کارڈ کے مروجہ قواعد و ضوابط کی ان شقوں کے تحت دی جا رہی ہے جو نادرا کو رجسٹریشن میں اضافے کی غرض سے مخصوص حالات میں متبادل تصدیقی طریقہ کار کے ذریعے قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
اس سہولت کے تحت شناختی کارڈ صرف ان افراد کو جاری کیا جائے گا جن کی شناخت نادرا کے موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر متعین کی جا سکے اور پہلے سے رجسٹرڈ خاندان کے قریبی افراد کی لازمی بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہو جائے۔ اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی شادی شدہ خاتون کے لیے مقامی حکومت کا مستند نکاح نامہ، والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، شوہر کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، اور والدین میں سے کسی ایک اور شوہر کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی غیر شادی شدہ خاتون کے لیے والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور شناختی کارڈ کے حامل والد یا والدہ کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔
چوبیس سال سے زائد عمر کے مرد درخواست گزار کے لیے ضروری ہو گا کہ والدین میں سے کسی ایک کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہو اور کم از کم ایک بہن یا بھائی بھی رجسٹرڈ ہو، جبکہ والدین میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔
اگر کسی درخواست گذار کے والد اور والدہ دونوں یا شوہر وفات پا چکے ہوں لیکن ان کا ریکارڈ نادرا میں موجود ہو تو مجاز افسر ریکارڈ کی بنیاد پر جانچ کے بعد بائیو میٹرک کی تصدیق سے استثنیٰ دے سکتا ہے۔محدود مدت کی یہ سہولت تصدیق کے ان مراحل کی تکمیل سے مشروط ہو گی۔ مزید سہولت کے لیے اس طریقۂ کار کے تحت نارمل کیٹیگری میں نان اسمارٹ شناختی کارڈ کسی فیس کے بغیر جاری کیا جائے گا۔
قومی شناختی نظام میں اندراج کے بعد ولدیت، تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش ناقابلِ تنسیخ اور ناقابلِ تبدیلی ہوں گے۔ نادرا کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت تمام معلومات کی درستی کو یقینی بنائیں۔ ان شرائط پر پورا اترنے والے اہل درخواست گزار مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز سے اپنا شناختی کارڈ بنوائیں۔

ایک شخص نے عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی بھتیجی سے نکاح کر رکھا ہے۔ جب خاتون نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا تو ا...
22/02/2026

ایک شخص نے عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی بھتیجی سے نکاح کر رکھا ہے۔ جب خاتون نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا تو اس نے اس کے خلاف دعویٰ برائے حقوقِ زوجیت (Restitution of Conjugal Rights) دائر کر دیا، گویا وہ اسے زبردستی ازدواجی رشتے میں باندھنا چاہتا ہو۔

اس اچانک اور بے بنیاد دعوے سے ذہنی اذیت میں مبتلا ہو کر خاتون نے خود عدالت سے رجوع کیا اور دعویٰ برائے نفیٔ نکاح (Jactitation of Marriage) دائر کیا، تاکہ عدالت واضح طور پر قرار دے کہ ایسا کوئی نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔

ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات کو یکجا کر کے سماعت کی۔ شواہد اور دلائل کا بغور جائزہ لینے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ مدعی (پھوپھا) نکاح ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ چنانچہ اس کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا۔

یہ معاملہ اپیل میں گیا، مگر اپیلیٹ کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ پھر آئینی درخواست کے ذریعے ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، لیکن وہاں بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر یہ مقدمہ سپریم کورٹ پہنچا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایک نوجوان خاتون کو ایک نہایت افسوسناک اور پریشان کن صورتِ حال میں دھکیلا گیا۔ عدالت نے کہا کہ مدعی نے رشتے کے اعتماد، قربت اور بالادستی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ اگر مدعی کے اپنے مؤقف کو بھی درست مان لیا جائے تو بھی مبینہ نکاح “ممنوعہ رشتہ” (Prohibited Degree) کے زمرے میں آتا ہے، اور مزید یہ کہ اس کی پہلی شادی موجود ہونے کی حالت میں ایسا نکاح شرعاً اور قانوناً درست نہیں ہو سکتا تھا۔

اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں خاتون کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ مدعی اس بچے کا حیاتیاتی باپ (biological Fathere
) ہے، اس لیے وہ اس کی کفالت سے ہرگز فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ باپ ہونے کے ناطے اس پر بچے کی مکمل مالی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے سخت الفاظ میں اس امر کی نشاندہی کی کہ مدعی تین مختلف عدالتوں سے ناکامی کے باوجود مسلسل عدالتی نظام کو استعمال کر کے خاتون پر دباؤ ڈالنے اور اخلاقی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ایک نوجوان عورت کو بار بار عدالتوں میں پیش ہو کر نہایت ذاتی اور تکلیف دہ سوالات کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ اس کے خلاف دفاع پہلے ہی بے بنیاد قرار دیا جا چکا تھا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اس طرزِ عمل پر اپنی شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے بے بنیاد اور ہراساں کن مقدمات کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ چنانچہ عدالت نے مدعی پر دس لاکھ روپے (1,000,000 روپے) بطور مثالی جرمانہ عائد کیا اور حکم دیا کہ یہ رقم ایک ماہ کے اندر ادا کی جائے۔

@العدل لائرز فورم لاہور Muhammad Shoaib Khan GorwalLahore High Court Bar Association, Lahore
09/11/2025

@العدل لائرز فورم لاہور
Muhammad Shoaib Khan Gorwal
Lahore High Court Bar Association, Lahore

16/06/2024
Please join us & enhance the beauty of our Program .  It would be a great honor for us . Thanks  Looking forward 🙏
09/12/2022

Please join us & enhance the beauty of our Program . It would be a great honor for us . Thanks

Looking forward 🙏

Address

Lahore

Telephone

+923234831602

Website

http://www.PunjabBarCouncel.com.pk/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gorwal Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Gorwal Law Associates:

Share