22/02/2026
ایک شخص نے عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی بھتیجی سے نکاح کر رکھا ہے۔ جب خاتون نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا تو اس نے اس کے خلاف دعویٰ برائے حقوقِ زوجیت (Restitution of Conjugal Rights) دائر کر دیا، گویا وہ اسے زبردستی ازدواجی رشتے میں باندھنا چاہتا ہو۔
اس اچانک اور بے بنیاد دعوے سے ذہنی اذیت میں مبتلا ہو کر خاتون نے خود عدالت سے رجوع کیا اور دعویٰ برائے نفیٔ نکاح (Jactitation of Marriage) دائر کیا، تاکہ عدالت واضح طور پر قرار دے کہ ایسا کوئی نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔
ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات کو یکجا کر کے سماعت کی۔ شواہد اور دلائل کا بغور جائزہ لینے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ مدعی (پھوپھا) نکاح ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ چنانچہ اس کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا۔
یہ معاملہ اپیل میں گیا، مگر اپیلیٹ کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ پھر آئینی درخواست کے ذریعے ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، لیکن وہاں بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر یہ مقدمہ سپریم کورٹ پہنچا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایک نوجوان خاتون کو ایک نہایت افسوسناک اور پریشان کن صورتِ حال میں دھکیلا گیا۔ عدالت نے کہا کہ مدعی نے رشتے کے اعتماد، قربت اور بالادستی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ اگر مدعی کے اپنے مؤقف کو بھی درست مان لیا جائے تو بھی مبینہ نکاح “ممنوعہ رشتہ” (Prohibited Degree) کے زمرے میں آتا ہے، اور مزید یہ کہ اس کی پہلی شادی موجود ہونے کی حالت میں ایسا نکاح شرعاً اور قانوناً درست نہیں ہو سکتا تھا۔
اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں خاتون کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ مدعی اس بچے کا حیاتیاتی باپ (biological Fathere
) ہے، اس لیے وہ اس کی کفالت سے ہرگز فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ باپ ہونے کے ناطے اس پر بچے کی مکمل مالی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے سخت الفاظ میں اس امر کی نشاندہی کی کہ مدعی تین مختلف عدالتوں سے ناکامی کے باوجود مسلسل عدالتی نظام کو استعمال کر کے خاتون پر دباؤ ڈالنے اور اخلاقی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ایک نوجوان عورت کو بار بار عدالتوں میں پیش ہو کر نہایت ذاتی اور تکلیف دہ سوالات کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ اس کے خلاف دفاع پہلے ہی بے بنیاد قرار دیا جا چکا تھا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اس طرزِ عمل پر اپنی شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے بے بنیاد اور ہراساں کن مقدمات کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ چنانچہ عدالت نے مدعی پر دس لاکھ روپے (1,000,000 روپے) بطور مثالی جرمانہ عائد کیا اور حکم دیا کہ یہ رقم ایک ماہ کے اندر ادا کی جائے۔