Voice of Law

Voice of Law All about Law and Court
Follow For Latest Updates

*اصلی اور جعلی وکیل کی پہچان کے لیے پنجاب بار کونسل کا اقدام*اب وکیل کی شناخت چند سیکنڈ میں ممکن، عوام کی سہولت، قانونی ...
25/06/2026

*اصلی اور جعلی وکیل کی پہچان کے لیے پنجاب بار کونسل کا اقدام*

اب وکیل کی شناخت چند سیکنڈ میں ممکن، عوام کی سہولت، قانونی پیشے کے وقار کے تحفظ اور شفافیت کے فروغ کے لیے پنجاب بار کونسل نے Lawyers Verification متعارف کروا دی،
اب اگر آپ کسی وکیل کی حیثیت اور رجسٹریشن کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں تو صرف اس کا شناختی کارڈ نمبر (CNIC) یا رجسٹرڈ موبائل نمبر درج کرکے معلوم کر سکتے ہیں کہ آیا وہ پنجاب بار کونسل کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ وکیل ہے یا نہیں۔
یہ اقدام جعلی وکلاء کی نشاندہی، عوام کو دھوکہ دہی سے بچانے اور قانونی نظام پر اعتماد کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
The Punjab Bar Council has launched the Lawyer Verification Portal, a significant initiative designed to promote transparency, uphold the dignity of the legal profession, and curb the practice of unauthorized individuals posing as lawyers.

Through the portal, the public can verify whether an advocate is duly enrolled with the Punjab Bar Council by entering the lawyer’s CNIC number or registered mobile number. The initiative is expected to strengthen the legal system and enhance accountability within the legal community.
⬇️

Check your advocate registration details and confirm enrollment before hiring legal representation, by using Lawyers Verification Online Punjab Bar.

No Enrolment of Lower court or High court shall be processed without degree verification from HEC and without equivalenc...
19/06/2026

No Enrolment of Lower court or High court shall be processed without degree verification from HEC and without equivalence certificate duly issued by HEC after 17/07/2026
---------------
Follow Whatsapp channel for latest updates ⤵️
https://whatsapp.com/channel/0029VaVNUOG1HspzCL8KcJ0m

*نجی جائیداد مالکان ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کیلئے جگہ دینے کے پابند ہوں گے، قومی اسمبلی سے منظور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ت...
18/06/2026

*نجی جائیداد مالکان ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کیلئے جگہ دینے کے پابند ہوں گے، قومی اسمبلی سے منظور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل سینیٹ میں پہنچ گیا*

بل کے متن میں تحریر کیا گیا ہے کہ نجی جائیداد مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر کیلئے جگہ دینے کے پابند ہوں گے اور لائسنس یافتہ کو نجی یا پبلک پراپرٹی پر ٹیلی کمیونیکشن نظام، انفرااسٹرکچر لگانے کیلئے اراضی پر داخل ہونے کا حق ہوگا۔

لائسنس یافتہ کو نجی یا سرکاری پراپرٹی پر آپٹیکل فائبر کیبل، ٹیلی کمیونیکشن ٹاور کیلئے اراضی پر داخل ہونے کا حق ہوگا، کوئی مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارہ لائسنس یافتہ کے حق میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

متن کے مطابق لائسنس یافتہ پہلے متعلقہ اراضی کے مالک یا کرائے دار سے مرضی حاصل کرے گا، مالک یا کرائے دار کا جواب نہ ملنے پر 15 دن بعد یاد دہانی کرائی جائے گی، پبلک اتھارٹی سے 30 دن تک جواب نہ ملنے پر اسے رضامندی کا جواب تصور کیا جائے گا۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ نجی شخص کی جانب سے جواب نہ ملنے پر معاملہ متعلقہ حکومت کے پاس بھیج دیا جائے گا، حقوق دینے میں تاخیر یا رکاوٹ ڈالنے پر مالک یا کرائے دار اور ادارے پر *50 ملین* روپے تک جرمانہ ہوگا۔

ہاؤسنگ سوسائٹی یا کمرشل ادارے کی جانب سے جواب نہ ملنے پر اسے بھی منظور تصور کیا جائے گا، لائسنس یافتہ اتھارٹی مرمت اور مینٹینس کا کام کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔

متن کے مطابق لائسنس یافتہ متاثرہ علاقے کو اس کی اصل حالت میں بحال بھی کرے گا، سرکار ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر کیلئے کوئی چارجز، فیس یا کرایہ وصول نہیں کرے گی نہ لیوی لے گی، نجی شخص یا ادارے لائسنس یافتہ کے ساتھ چارجز فیس یا کرایہ طے کریں گے، نجی شخص یا ادارے سے اتفاق نہ ہونے پر معاملہ حل کے لیے متعلقہ حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔

متن میں کہا گیا کہ ایک دفعہ حقوق مل جانے کے بعد متعلقہ مالک یا کرائے دار شرائط کو نہ تبدیل کرے گا اور نہ ہی اجازت منسوخ ہوگی، کوئی بھی تنازع ہونے کی صورت میں معاملہ متعلقہ حکومت کے پاس سیٹلمنٹ کیلئے بھیجا جائے گا۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی کی چیئر پرسن بل پر رپورٹ دینے کیلئے ایوان بالا سے 45 دن کا وقت مانگیں گی، قومی اسمبلی میں یہ بل وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے گزشتہ روز اپنے اجلاس میں بل کی منظوری نہیں دی تھی۔
*Read Complete Bill ⬇️*

Pakistan Telecommunication Amendment Act 2026, PDF availability.

*پنجاب بار کونسل نے مالی سال 2027-26 کا بجٹ اکثریتی رائے سے منظور کر لیا*پنجاب بار کونسل نے وکلاء برادری کے طبی، مالی او...
14/06/2026

*پنجاب بار کونسل نے مالی سال 2027-26 کا بجٹ اکثریتی رائے سے منظور کر لیا*

پنجاب بار کونسل نے وکلاء برادری کے طبی، مالی اور پیشہ ورانہ تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور بڑے ریلیف پیکیج پر مشتمل مالی سال 2027-26 کا سالانہ بجٹ اکثریتی رائے سے منظور کر لیا، بجٹ میں وکلاء کی فلاح و بہبود، انشورنس، اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

سالانہ بجٹ کا یہ اہم اجلاس وائس چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا، چیئرمین مالیاتی کمیٹی میاں عبدالقدیر جالپ نے بجٹ کی تفصیلات جنرل ہاؤس کے سامنے پیش کیں، جسے ارکان نے بحث کے بعد اکثریتی رائے سے پاس کر دیا۔

پنجاب بار کونسل نے نئے وکلاء کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے یکم جولائی 2026 سے ڈگری تصدیق فیس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم، پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے ڈگری کی تصدیق اور مساوی سند (Equivalence Certificate) حاصل کیے بغیر کسی بھی نئے وکیل کو لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔

بجٹ میں وفات پا جانے والے وکلاء کے خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے، وفات کلیمز کی مد میں مجموعی طور پر 1 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ادائیگیوں کی منظوری دی گئی ہے۔

مرحوم وکلاء کے لواحقین کے لیے 1 لاکھ روپے اضافی امداد کا اعلان کیا گیا ہے، دورانِ سروس وکیل کی وفات پر ضلعی بار ایسوسی ایشنز کو 1 لاکھ روپے فوری امداد دینے کا اختیار تفویض کر دیا گیا ہے, تحصیل بار ایسوسی ایشنز کو کسی وکیل کے انتقال کی صورت میں 50 ہزار روپے فوری طور پر فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے، وکلاء اور ان کے اہلخانہ کو درپیش صحت کے مسائل کے پیشِ نظر سنگین بیماریوں کے کیسز میں طبی امداد کی رقم میں تین گنا اضافہ کر دیا گیا ہے، اب یہ امداد 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 1 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔

نئے انرول ہونے والے وکلاء کے تحفظ کے لیے گروپ انشورنس اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 40 سال تک کی عمر کے نئے وکلاء کے لیے 4 لاکھ روپے کی انشورنس کوریج مقرر کی گئی ہے، وکلاء کو 6 لاکھ روپے کی خصوصی انشورنس اسکیم کا متبادل اختیار بھی دے دیا گیا ہے، پہلی بار 40 سے 60 سال تک کی عُمر کے وکلاء کو بھی مخصوص شرائط کے تحت اس انشورنس اسکیم میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

وکلاء کی قانونی مہارت اور بار کی عمارتوں کی بہتری کے لیے فنڈز منظور کیے گئے، پاکستان لا جرنل (PLJ) وکلاء کو قانونی کتب کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے 75 لاکھ روپے مختص کیے گئے، وکلاء کی پیشہ ورانہ تربیت اور "وکلاء اکیڈمی" کے قیام کے لیے 60 لاکھ روپے کی منظوری۔

وکلاء رہائش گاہوں میں لفٹوں کی تنصیب کے لیے 20 لاکھ روپے کا فنڈ کی منظوری دی گئی ہے۔

14/06/2026

*پنجاب بار کونسل کی تمام ذیلی کمیٹیاں تحلیل، نوٹیفکیشنز واپس لینے کا حکم*

پنجاب بار کونسل کے جنرل ہاؤس نے انتظامی معاملات میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام ذیلی کمیٹیاں فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے، اس سلسلے میں سیکرٹری پنجاب بار کونسل رفاقت سہیل نے باقاعدہ آفس آرڈر جاری کر دیا ہے۔

آفس آرڈر کے مطابق پنجاب بار کونسل کی مختلف کمیٹیوں کی جانب سے تشکیل دی گئی تمام ذیلی کمیٹیاں کالعدم قرار دے دی گئی ہیں، جبکہ ان کے قیام کے لیے جاری کیے گئے تمام نوٹیفکیشنز اور خطوط بھی فوری طور پر واپس لے لیے گئے ہیں۔

پنجاب بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ آئندہ مجاز اتھارٹی کی باقاعدہ اور تحریری منظوری کے بغیر کوئی افسر یا ملازم کسی نئی ذیلی کمیٹی کی تشکیل کے لیے نوٹیفکیشن یا مراسلہ جاری نہیں کر سکے گا۔

آفس آرڈر میں خبردار کیا گیا ہے کہ جنرل ہاؤس کی قرارداد اور جاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے افسر یا ملازم کے خلاف قانون کے مطابق فوری اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سیکرٹری رفاقت سوہل کی جانب سے جاری کردہ یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے اور اس کی نقول تمام متعلقہ افسران، برانچوں اور ملازمین کو ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
Follow Whatsapp channel for latest updates ⤵️
https://whatsapp.com/channel/0029VaVNUOG1HspzCL8KcJ0m

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر کی عدالتوں کو اہم ہدایات جاری کر دی ہیں کہ اگر کوئی سِول کیس اپیل کے بعد دوبارہ ٹرائل کورٹ ک...
13/06/2026

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر کی عدالتوں کو اہم ہدایات جاری کر دی ہیں کہ اگر کوئی سِول کیس اپیل کے بعد دوبارہ ٹرائل کورٹ کو واپس (Remand) بھیجا جائے یا عدم پیروی کی وجہ سے بحال ہو تو اسے نیا کیس سمجھ کر نیا نمبر نہیں دیا جائے گا بلکہ اسی کے اصل نمبر اور اصل سال کے ساتھ دوبارہ بحال کیا جائے گا۔
اس حکم کا مقصد عدالتی ریکارڈ میں گڑبڑ، تاخیر اور مبینہ ہیر پھیر کو روکنا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا ہے کہ آرڈر 41 رول 23 تحت واپس آنے والا کیس Pending Case" تصور ہوگا، ٹرائل کورٹ کو کیس اسی اصل نمبر پر بحال کرنا ہوگا، نیا نمبر یا نیا سال دینا قانون کے خلاف سمجھا جائے گا۔

*ملک بھر کی ضلعی عدالتوں میں 2 چھٹیوں کی پالیسی ختم*ضلعی عدلیہ میں ہفتے میں دو چھٹیوں کی پالیسی ختم، 6 روزہ ورکنگ ویک بح...
11/06/2026

*ملک بھر کی ضلعی عدالتوں میں 2 چھٹیوں کی پالیسی ختم*

ضلعی عدلیہ میں ہفتے میں دو چھٹیوں کی پالیسی ختم، 6 روزہ ورکنگ ویک بحال ہوگئے ۔

مُلک بھر کی ضلعی عدالتیں اب ہفتے میں 6 دن کام کریں گی، دو روزہ ویک اینڈ کا خاتمہ،

چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت اجلاس میں 6 روزہ ورکنگ ویک بحال کرنے کی منظوری دی گئی۔
Follow Whatsapp channel for latest updates ⤵️
https://whatsapp.com/channel/0029VaVNUOG1HspzCL8KcJ0m

Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of Law posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Voice of Law:

Share

Category