19/02/2023
مورخ لکھتا ہے کہ پاکستان میں عمران خان کے دور میں ہر طرف امن و امان اور ترقی کا دور دورہ تھا۔ ہر روز اشیائے خوردنی کی قیمت بڑھ جایا کرتی تھیں۔ جو معاشرہ میں بھیلی خوشحالی اور امارت کی علامت ہوتی تھی ۔ عمران خان اور عامر لیاقت کی تیسری بیوی ان سے بہت وفادار تھیں اور نورجہاں کی مانند امور مملکت چلانے میں خلیفہ کی راہنمائی کرتی تھیں۔
وبائی امراض پھیلتے تھے تو چین نامی ہمسایہ دوست ملک سے مفت انے والی ادویات اور فیس ماسک وغیرہ ریاست کے شہری اپنی محبوب وطن فوج کو عطیہ میں دے دیا کرتے تھے ریاست پاکستان کے شہری اپنے اپنے محافظوں پر اس قدر جان نچھاور کرنے والے تھے کہ روزمرہ ضرورت کی اشیا ان کے حق میں قربان کرتے رہتے تھے ۔ پاک فوج کے ساتھ پاکستانی عوام کی محبت کی مثال تاریخ میں اس سے پہلے کہیں نہیں ملتی ۔ امریکی صدر جو بائیڈن پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے اور وہ انہیں ٹیلی فون پر کال کرکے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھتے تھے۔
جو بائیڈن ہمیشہ اس انتظار میں رہے کہ کب عمران خان ان کی جانب ملتفت ہوں اور وہ اپنی بات ان تک پہنچا سکیں۔
پوری دنیا کے بڑے بڑے رہنما عمران خان کو اپنے ممالک کے دورہ کی دعوت دے کر خوشی محسوس کرتے تھے۔
عمران خان بھی پاک فوج سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور اس کے سامنے کسی دنیا کی فوج کو حیثیت نہیں دیتے تھے جب بھی وہ کسی دوسرے ملک کے دورے پر جاتے تو وہاں پر گارڈ آف آنر لینے سے پہلے سے ہی منع کر دیتے کہ میں پاک فوج کے سامنے گارڈ آف آنر لے چکا ہوں اب میں چین ، روس یا امریکی فوج کا گارڈ آف آنر لینا اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہوں ۔
چینی حکومت نے کئی بار اصرار کیا کہ پاکستان آپ جیسے عظیم راہنما کی استعداد سے کہیں چھوٹا ملک ہے اور چینی حکومت انہیں براعظم ایشیا کا وزیراعظم بنوانے کیلئے تیار ہے مگر عمران خان نے عاجزی سے انکار کر دیا کہ وہ پاکستان کی خدمت اور اس کی معاشی بدحالی کو ہی اپنی زندگی کا مشن سمجھتے ہیں۔
عمران خان اور محترمہ بشریٰ بیگم کی خصوصی توجہ کا مرکز ایک ایسی قوم تھی جسے ہزاروں سال سے انسان نے اس کرہ ارض پر زندہ رہنے کے حقوق سے محروم کررکھا تھا ۔ عمران خان نے پاکستان میں جنات کی کالونیاں بنائی ان کے لیے 300 ڈیم بنائے ان کے لیے ایک کروڑ نوکریاں پیدا کی اور جنات کے لیے 50 لاکھ گھر بھی تعمیر کئے ۔ عمران خان مافوق الفطرت صلاحیت کے مالک تھے ۔ وہ بوقت ضرورت پاکستان کے موسموں میں تبدیلی کرکے انہیں چار کے بجائے بارہ کر لیا کرتے تھے اور جب ان کا دل چاہتا تھا وہ جاپان کو اٹھا کر جرمنی کے بارڈر پر نصب کر دیا کرتے تھے۔
وزیراعظم عمران خان کی ذہنی استعداد عام آدمیوں کی بجائے سو اعلی ترین ذہن والے لوگوں سے زیادہ تھی ۔
انہیں عام آدمیوں کی طرح کام کرنا پسند نہیں تھا۔ وہ ملک میں صنعت و تجارت کے شدید مخالف تھے۔ زراعت کو تو وہ ہمیشہ چھوٹے لوگوں کا کام سمجھتے تھے۔
انھوں نے ملکی معیشت کو جنات کی صلاحیتوں پر استوار کرنے کی کوشش کی ۔ وہ خوابوں کی تجارت کو زیادہ منافع بخش سمجھتے تھے ۔ دلائل بیچتے تھے ۔ افواہیں خریدتے تھے ۔ اور جھوٹ کا بازار گرم کرتے تھے ۔
ان کی اس صلاحیت کی وجہ سے پوری دنیا ان سے خوفزدہ رہتی تھی ۔ اپوزیشن کو تو انہوں نے بالکل زمین پر لگا دیا تھا۔ جب بھی اپوزیشن ان کے خلاف کوئی سازش کرنے کی کوشش کرتے وہ ایک جلسہ عام منعقد کر کے انہیں اس طرح بے نقط گالیاں نکالتے تھے کہ اپوزیشن کی طبیعت صاف ہو جاتی تھی ۔
وزیراعظم عمران خان کا پاکستان دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھا ۔ انہوں نے جلد ہی محسوس کر لیا تھا کہ کشمیر پاکستان کی ایک کمزوری ہے اس کمزوری کو دور کرنے کے لیے انہوں نے کشمیر انڈیا کے حوالہ کردیا ۔ عمران خان کے ویژن کے مطابق سعودی عرب کے دفاع کی سروس مہیا کرنا بھی پاکستانی فوج کے ساتھ ایک زیادتی تھی اور جب پاکستانی فوج سعودی عرب میں کام پر جاتی تھیں تو انہیں وہاں مشقت کرنا پڑتی تھی اس لیے انہوں نے سعودی عرب سے معذرت کرلی اور سعودی عرب کے دفاع کو انڈیا کے حوالہ کرنے کی تجویز پیش کردی ۔ سعودی بادشاہ ان کا چھوٹا بھائی تھا اس نے فوری طور پر اس تجویز پر عمل درآمد کر دیا ۔
عمران خان کے دور میں پاکستان نے ترقی کی اس قدر منازل طے کیں کہ کند ذہن لوگوں کا اس میں زندہ رہنا ناممکن ہو گیا صرف اور صرف وہ لوگ جو کوکین نامی خوراک استعمال کرنے کے عادی تھے ۔ وہی خوشحال مطمئن اور مسرور زندگی گزار سکتے تھے ۔ گندم چاول پر زندہ تمام مخلوق قریب المرگ ہو چکی تھی ۔
مورخ لکھتا ہے کہ عمران خان کے دور میں ہر طرف ترقی اور خوشحالی کا دور دورہ تھا ۔
نئے قانون کے نفاذ کے بعد ۔
تحریر شرافت رانا
ایک پرانی تحریر
میموری سے