Kashif Law Associates

Kashif Law Associates Here you find all type of judgement in soft copy and other law related information on daily basis.

10/07/2026
04/07/2026
02/07/2026
  Our services ... ⚖️
02/07/2026

Our services ... ⚖️

  🧿⚖️
02/07/2026

🧿⚖️

بیشک اللّٰہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔ ❤️
02/07/2026

بیشک اللّٰہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔ ❤️

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (The Punjab Child Marriage Restraint Act 2026)، جسے پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو...
31/05/2026

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (The Punjab Child Marriage Restraint Act 2026)، جسے پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو پاس کیا اور گورنر پنجاب نے 11 مئی 2026 کو اس کی منظوری دی۔ اس قانون کا بنیادی مقصد پنجاب میں بچوں کی شادیوں کی روک تھام کرنا اور اس سے جڑے دیگر معاملات کو حل کرنا ہے۔

1۔ بنیادی تعریفیں (Definitions)
بچہ (Child): اس قانون کے تحت ہر وہ لڑکا یا لڑکی جس کی عمر 18 سال سے کم ہے، وہ بچہ شمار ہوگا۔
بچوں کی شادی (Child Marriage): ایسا نکاح یا شادی جس میں دونوں فریقین (دلہا اور دلہن) یا دونوں میں سے کوئی ایک بھی بچہ (18 سال سے کم) ہو۔
عدالت (Court): اس قانون کے تحت تمام معاملات اور کیسز کی سماعت سیشن کورٹ (Court of Sessions) میں ہوگی۔

2۔ سزائیں اور جرمانے (Punishments and Fines)
اس قانون کے تحت بچوں کی شادی میں ملوث مختلف افراد کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں:
نکاح رجسٹرار کے لیے سزا: کوئی بھی نکاح رجسٹرار کسی بچے کا نکاح رجسٹر نہیں کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے 1 سال تک کی قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
بالغ دلہا/دلہن کے لیے سزا: اگر 18 سال سے زائد عمر کا کوئی بالغ شخص کسی بچے سے شادی کرتا ہے، تو اسے کم از کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
سرپرست یا والدین (Guardians) کے لیے سزا: اگر کوئی سرپرست یا والدین بچے کی شادی کو فروغ دیتے ہیں، اس کی اجازت دیتے ہیں، یا جان بوجھ کر یا غفلت کی وجہ سے اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں، تو انہیں 2 سے 3 سال تک کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

3۔ چائلڈ ابیوز اور چائلڈ ٹریفکنگ (Child Abuse & Trafficking)
چائلڈ ابیوز (Child Abuse): بچوں کی شادی کے نتیجے میں 18 سال کی عمر سے پہلے کسی بھی قسم کا ساتھ رہنا (cohabitation) — چاہے وہ رضا مندی سے ہو یا بغیر رضا مندی کے — چائلڈ ابیوز (بچوں کا استحصال) کہلائے گا۔ جو شخص اس کا سبب بنے گا یا مجبور کرے گا، اسے 5 سے 7 سال تک کی قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
چائلڈ ٹریفکنگ (بچوں کی اسمگلنگ): اگر کوئی شخص اس قانون سے بچنے کے لیے کسی بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جاتا ہے تاکہ وہاں اس کی شادی کرائی جا سکے، تو یہ بچوں کی اسمگلنگ کا جرم ہوگا۔ اس کی سزا 5 سے 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ جو شخص اس کام میں مدد کرے گا یا بچہ فراہم کرے گا، اسے 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

4۔ عدالت کا دائرہ اختیار اور طریقہ کار (Court Jurisdiction & Trial)
مقدمے کی سماعت کا وقت: سیشن کورٹ کیس کا نوٹس لینے کے بعد 90 دنوں کے اندر ٹرائل (سماعت) مکمل کرنے کی پابند ہے۔
شادی روکنے کا حکم (Injunction): اگر عدالت کو یہ اطلاع ملے کہ بچوں کی شادی کا بندوبست کیا جا رہا ہے، تو عدالت اس شادی کو روکنے کے لیے فوری حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) جاری کر سکتی ہے۔
مخبر کی حفاظت: اگر کوئی شخص ایسی شادی کی اطلاع عدالت کو دیتا ہے اور اپنی پہچان چھپانا چاہتا ہے، تو عدالت اس کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔
عدالتی حکم کی خلاف ورزی: اگر کوئی شخص عدالت کی طرف سے شادی روکنے کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسے 1 سال تک قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ناقابلِ ضمانت جرم: اس قانون کے تحت تمام جرائم قابلِ دست اندازیِ پولیس (Cognizable)، ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) ہیں۔ یعنی پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے، اس میں آسانی سے ضمانت نہیں ہوگی اور نہ ہی آپس میں سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔

5۔ بچے کے بہترین مفادات کا تحفظ (Best Interests of the Child)
بچہ مجرم نہیں ہے: کسی بھی بچے کو صرف اس وجہ سے مجرم نہیں مانا جائے گا کہ وہ اس شادی کا ایک فریق تھا۔
بچے کی مرضی حتمی نہیں: اگر کسی بچے کو بہلا پھسلا کر، ڈرا دھمکا کر یا اغوا کر کے شادی کے لیے لے جایا گیا ہو، تو عدالت میں بچے کا یہ بیان کہ "وہ اپنی مرضی سے بالغ شخص کے ساتھ رہنا چاہتا ہے"، حتمی نہیں مانا جائے گا۔ عدالت بچے کی حفاظت، تعلیم اور ذہنی و جسمانی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے خود آزادانہ فیصلہ کرے گی۔
بچے کا تحفظ سب سے اہم: عدالت کسی بھی روایتی رواج، رسم یا مبینہ رضامندی کے مقابلے میں بچے کی جسمانی حفاظت، ذہنی سکون، عزت اور تعلیم کو ترجیح دے گی۔

6۔ پرانے قوانین کا خاتمہ (Repeal and Saving)
اس نئے قانون کے آنے کے بعد پرانا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 اور پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 فوری طور پر ختم (Repeal) ہو گئے ہیں۔ تاہم، ان پرانے قوانین کے تحت جو فیصلے یا احکامات پہلے دیے جا چکے ہیں، وہ اسی طرح برقرار رہیں گے۔

بطور قانون دان اس ایکٹ پر اہم تنقیدی نکات (Critique) درج ذیل ہیں:
1۔ فوجداری دائرہ اختیار کی پیچیدگی (Jurisdictional Complications)
- سیشن کورٹ پر بوجھ: دفعہ 8 کے تحت اس قانون کے تمام جرائم کا ٹرائل کرنے کا اختیار براہ راست سیشن کورٹ کو دیا گیا ہے۔ عام طور پر فوجداری مقدمات کا آغاز مجسٹریٹ کی عدالت سے ہوتا ہے۔ سیشن کورٹس پہلے ہی قتل اور منشیات جیسے سنگین مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے کیس کو براہ راست سیشن کورٹ بھیجنے سے کیسز کے نمٹنے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
- 90 دن کا ٹرائل: دفعہ 11 کے تحت ٹرائل کو 90 دنوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن ہماری عدالتی روایات، پولیس تفتیش میں تاخیر اور گواہان کی عدم موجودگی کے باعث عملی طور پر اتنے مختصر وقت میں ٹرائل مکمل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔

2۔ تعزیراتِ پاکستان اور مسلم پرسنل لا سے تصادم (Conflict with Penal and Personal Laws)
- رضامندی کی قانونی حیثیت (Age of Consent): دفعہ 5 کے تحت 18 سال سے کم عمر کی شادی کے نتیجے میں ساتھ رہنے کو "چائلڈ ابیوز" قرار دیا گیا ہے، چاہے اس میں بچے کی رضا مندی ہی کیوں نہ ہو۔ مسلم پرسنل لا (شریعت) کے تحت بلوغت (Puberty) کو شادی اور رضا مندی کا معیار مانا جاتا ہے۔ عدالتوں میں اکثر یہ بحث اٹھتی ہے کہ کیا صوبائی اسمبلی کا بنایا ہوا قانون مسلم پرسنل لا پر فوقیت رکھ سکتا ہے؟ یہ تصادم مستقبل میں اعلیٰ عدالتوں (High Court/Shariat Court) میں آئینی پٹیشنز کا باعث بنے گا۔
- حدود آرڈیننس اور زنا کے قوانین کے ساتھ الجھن: دفعہ 5(2) کے تحت چائلڈ ابیوز کی سزا 5 سے 7 سال قید رکھی گئی ہے۔ قانون دانوں کے لیے یہ نکتہ تشویش ناک ہے کہ کیا اس جرم کو زنا بالجر یا تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے دیگر قوانین کے تحت دیکھا جائے گا یا صرف اسی ایکٹ کے تحت؟ قوانین کی یہ بھرمار تفتیشی افسران (IOs) کے لیے الجھن پیدا کرتی ہے۔

3۔ بچوں کی اسمگلنگ (Child Trafficking) کی مبہم تعریف
دائرہ اختیار سے باہر (Territorial Jurisdiction): دفعہ 6 کے تحت اگر کوئی شخص بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جائے گا تو اسے اسمگلنگ مانا جائے گا۔ لیکن اگر شادی کسی دوسرے صوبے (جیسے سندھ یا خیبر پختونخوا) میں رائج قانون کے مطابق ہو جائے جہاں شادی کی قانونی عمر یا سزائیں مختلف ہوں، تو پنجاب پولیس کے لیے دوسرے صوبے میں جا کر تفتیش کرنا اور جرم ثابت کرنا قانونی طور پر انتہائی پیچیدہ ہو جائے گا کیونکہ دوسرے صوبوں کے اپنے قوانین ہیں۔

4۔ "ناقابلِ ضمانت" جرم کا غلط استعمال (Risk of Misuse)
بلیک میلنگ کا ہتھیار: دفعہ 10 کے تحت اس قانون کے تمام جرائم کو ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) بنا دیا گیا ہے۔ کسی بھی قانون میں جب راضی نامے کی گنجائش ختم کر دی جائے اور ضمانت انتہائی مشکل ہو، تو خاندانی دشمنیوں یا جائیداد کے تنازعات میں مخالفین کو پھنسانے کے لیے اس کا غلط استعمال بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر والدین اور سرپرستوں (دفعہ 7) کو نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔

5۔ مخبر کی شناخت اور شفافیت (Anonymity vs Due Process)
حقِ دفاع متاثر ہونے کا خدشہ: دفعہ 9(1) کے تحت عدالت مخبر کی شناخت چھپا سکتی ہے۔ قانونِ شہادت (Law of Evidence) اور منصفانہ ٹرائل (Fair Trial - Article 10A of Constitution) کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملزم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے خلاف الزام کس نے لگایا ہے تاکہ وہ جرح (Cross-examination) کر سکے۔ مخبر کی شناخت مکمل خفیہ رکھنے سے جھوٹی شکایات کا راستہ کھل سکتا ہے۔

6۔ نکاح رجسٹرار پر ضرورت سے زیادہ بوجھ
عمر کی تصدیق کا نظام: دفعہ 3 کے تحت نکاح رجسٹرار کو چائلڈ میرج رجسٹر کرنے پر سزا دی جائے گی۔ عملی طور پر، پاکستان کے دیہی علاقوں میں اب بھی نادرا (NADRA) کا نظام مکمل طور پر مربوط نہیں ہے یا لوگ جعلی برتھ سرٹیفکیٹ بنا لیتے ہیں۔ نکاح رجسٹرار کے پاس عمر کی سائنسی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ انہیں سخت سزا کا نشانہ بنانا اس وقت تک ناانصافی ہے جب تک نادرا کا بائیو میٹرک نظام نکاح کے وقت لازمی نہ کر دیا جائے۔

حاصلِ کلام (Conclusion)
بطور وکیل، میرا ماننا ہے کہ یہ قانون نیت کے لحاظ سے بہترین ہے، لیکن اس کا مسودہ (Drafting) زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے تیار کیا گیا ہے۔ جب تک اس کے ساتھ نادرا کا لازمی لنک، پولیس کی جدید خطوط پر تربیت، اور سیشن کورٹس کے بجائے فیملی کورٹس یا مخصوص مجسٹریٹس کو یہ اختیارات دینے جیسی ترامیم نہیں کی جاتیں، تب تک اس قانون کا نفاذ صرف کاغذوں تک محدود رہے گا یا پھر یہ محض انتقامی کارروائیوں کا ایک اور ٹول بن کر رہ جائے گا۔

Kashif Law Associates

29/05/2026

Control of Narcotic Substances Act (XXV of 1997) [as amended by Control of Narcotic Substances (Amendment) Act (XX of 2022)]---

----Ss. 6, 9(2), 9, 14 & 15---Possession of narcotic substances---Appreciation of evidence----Benefit of doubt---Infirmities in recovery proceedings---Non-production of packing material and bags---Exact weight of the recovered substances not determined--- Consequential---Prosecution case was that 4.160-kilograms ICE-(methamphetamine) was recovered from the possession of accused-appellants---
کے تحت ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ
استغاثہ کے مطابق ملزمان کے قبضہ سے 4.160 کلوگرام ICE (Methamphetamine) برآمد ہوئی، جو سفید کپڑوں کے ٹکڑوں میں جذب شدہ حالت میں دس کار سیٹ کورز اور دیگر گاڑیوں کے سامان میں چھپائی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے نوٹ کیا کہ استغاثہ نے ابتدائی بیان میں بکنگ سلپ پیش نہیں کی، حالانکہ یہی وہ بنیادی دستاویز تھی جو راولپنڈی سے کراچی ڈائیوو کارگو سروس تک مبینہ شپمنٹ کی ترسیل ثابت کر سکتی تھی۔ یہ دستاویز بعد میں جرح کے دوران پیش کی گئی۔ مزید برآں، برآمدگی کے گواہ اس بات سے لاعلم تھے کہ سامان کارٹن میں پیک تھا یا تھیلوں میں، اور نہ ہی وہ یہ بتا سکے کہ کتنے کپڑوں کے ٹکڑے منشیات سے آلودہ تھے۔
عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ برآمد شدہ تھیلوں پر نہ بھیجنے والے (sender) کا نام درج تھا اور نہ وصول کنندہ (recipient) کا۔ نہ تو ڈائیوو کارگو ٹرمینل کے کسی ملازم سے تفتیش کی گئی اور نہ ہی انہیں بطور گواہ پیش کیا گیا۔ مزید یہ کہ recovery memo میں گاڑیوں کے پرزہ جات یا دیگر accessories کی برآمدگی کا ذکر بھی موجود نہیں تھا، حالانکہ استغاثہ نے بعد میں یہی دعویٰ کیا۔ اسی طرح استغاثہ کے گواہ یہ بھی واضح نہ کر سکے کہ منشیات سے آلودہ کپڑے ہر سیٹ کور سے الگ الگ برآمد ہوئے یا مجموعی طور پر۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان تضادات اور خامیوں نے برآمدگی کے پورے عمل کو مشکوک بنا دیا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ تفتیش ناقص اور غیر معیاری تھی۔ مدعی خود ہی تفتیشی افسر بھی تھا، مزید برآں، مبینہ شپمنٹ کی اصل پیکنگ یا تھیلے ضبط ہی نہیں کیے گئے، حالانکہ انہی پر shipment details، sender/receiver information یا شناختی علامات موجود ہو سکتی تھیں، جو برآمدگی کو شپمنٹ سے جوڑنے کے لیے نہایت اہم ثبوت بن سکتے تھے۔ ان اشیاء کو عدالت میں پیش نہ کرنا استغاثہ کے مقدمہ کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوا۔
عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ اگرچہ کپڑے سمیت مجموعی وزن 4.160 کلوگرام بتایا گیا، لیکن کیمیکل ایگزامینر سے یہ معلوم ہی نہیں کروایا گیا کہ اصل methamphetamine کی خالص مقدار کتنی تھی۔ نہ mashirnama اور نہ کیمیکل رپورٹ میں یہ واضح تھا کہ کپڑوں میں کتنی ICE موجود تھی۔ اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے پورے کپڑے کے وزن کو ہی منشیات کا وزن تصور کرتے ہوئے سزا سنائی، جو ایک سنگین قانونی غلطی قرار دی گئی۔
عدالت نے دفعہ 342 ضابطۂ فوجداری کی خلاف ورزی کو بھی نہایت اہم قرار دیا۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ ملزمان کے بیانات ریکارڈ کرتے وقت بکنگ سلپ، منشیات سے آلودہ کپڑوں کی برآمدگی، اور کیمیکل رپورٹ جیسے اہم اور incriminating مواد ان کے سامنے رکھا ہی نہیں گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 342 Cr.P.C. کے تحت ہر وہ ثبوت جو ملزم کے خلاف استعمال ہونا ہو، اس سے متعلق ملزم کو وضاحت کا موقع دینا لازمی ہے۔ اس قانونی تقاضے کی خلاف ورزی ایک سنگین procedural irregularity تھی، جس سے مقدمہ مزید کمزور ہو گیا۔
ان تمام نقائص، تضادات، ناقص تفتیش، chain of custody میں خلل، اور قانونی تقاضوں کی عدم تکمیل کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ شک سے بالاتر ثابت نہیں کر سکا۔ لہٰذا ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے ان کی سزا کے خلاف اپیل منظور کر لی گئی۔
2026 PCrLJ 224

Kashif Law Associates

Address

Lahore

Telephone

+923018009388

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashif Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Kashif Law Associates:

Shortcuts

Share