Ehsan Legal Services

Ehsan Legal Services "Defending Your Business, Defining Success".

*📢 IRIS Portal Updates – September 2025 Sales Tax Return*1️⃣ Annexure J (for Manufacturers) and Annexure H1 (for Commerc...
02/10/2025

*📢 IRIS Portal Updates – September 2025 Sales Tax Return*

1️⃣ Annexure J (for Manufacturers) and Annexure H1 (for Commercial Importers, Distributors & Wholesalers) have been removed from the Sales Tax Return of September 2025.

2️⃣ Single Sales Tax Return - All Provincial Sales Tax Returns (SRB, PRA, BRA and KPRA) are now integrated with the Federal Sales Tax Return.

3️⃣ Filing of Applications 26AB (extension in filing of Sales Tax & Federal Excise Returns) is currently restricted — the portal is not allowing submission after the due date of return filling.

*⚠️ Important Note:*
*These changes have not been formally announced by the Federal Board of Revenue (FBR).* However, they are already implemented in the IRIS Portal and taxpayers are advised to review these changes in their Sales Tax Returns for September 2025 accordingly.

ایف بی آر اپڈیٹ برائے ٹیکس دہندگاناب سیلز ٹیکس ریٹرن (Sales Tax Return) میں براہِ راست صوبائی ریٹرنز (Provincial Returns...
29/09/2025

ایف بی آر اپڈیٹ برائے ٹیکس دہندگان

اب سیلز ٹیکس ریٹرن (Sales Tax Return) میں براہِ راست صوبائی ریٹرنز (Provincial Returns) کا آپشن شامل کر دیا گیا ہے۔
اس اپڈیٹ کے بعد ٹیکس دہندگان کو علیحدہ صوبائی ریٹرن جمع کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے مرکزی سیلز ٹیکس ریٹرن کے ساتھ ہی صوبائی ریٹرنز بھی جمع کروا سکیں گے۔

اہم فوائد:
ریٹرن فائلنگ کا آسان اور یکساں طریقہ
وقت اور اخراجات کی بچت
وفاقی و صوبائی ریٹرن ایک ہی پورٹل پر دستیاب

یہ فیچر ٹیکس دہندگان کی سہولت اور ڈیجیٹل انٹیگریشن کے عمل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعارف کروایا گیا ہے۔

دو لاکھ روپے کیش ڈیپازٹ پر کٹوتی کا قضیہسیکشن، 21، شق نمبر s & q کا امپلیکیشنانکم ٹیکس لاء ابھی تک اپڈیٹ نہیں ہوا تاہم ت...
08/07/2025

دو لاکھ روپے کیش ڈیپازٹ پر کٹوتی کا قضیہ
سیکشن، 21، شق نمبر s & q کا امپلیکیشن

انکم ٹیکس لاء ابھی تک اپڈیٹ نہیں ہوا تاہم تصویر میں جو مسئلہ ڈسکس ہو رہا ہے اس کو فائنانس ایکٹ کی بنیاد پر میں تفصیل سے سمجھائے دیتا ہوں۔

اس تصویر میں 20.5 فیصد اور41 فیصد ٹیکس کی جو باتیں ہو رہی ہیں یا دو لاکھ کے کیش ڈیپازٹ میں سے 20.5 فیصد کٹ کے بقیہ 79.5 فیصد رقم تسلیم کی جائے گی یہ گورنمنٹ نے اس طرح سے نافذ نہیں کیا بلکہ یہ بزنس کمپنیوں نے ورک بیک کرکے اپنی بچت کیلئے ایک افیکٹ نکالا ہے تاکہ اپنے اس خریدار کو سمجھا سکیں جو کیش میں خریداری کرتے ہیں۔

پہلے آپ اصل بات کو سمجھئے جو گورنمنٹ نے نافذ کی ہے، یہ تصویر والی بات آخر میں ڈسکس کریں گے لہذا فی الحال اس کو ذہن سے نکال دیں تاکہ بنیادی بات کو آپ تسلی سے سمجھ سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گورنمنٹ کا اقدام:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو کاروباری افراد اور کمپنیاں کیش میں لین دین کرتے ہیں ان کو بینکنگ کا پابند کرنے کیلئے سیکشن، 21، میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ لوگوں کے لین دین کا حقیقی والیم ان کے بینک اسٹیٹمنٹ کے ذریعے سے ریکارڈ پر آسکے۔

انکم ٹیکس آرڈیننس کا سیکشن، 21، دراصل ان اخراجات کی منظوری دیتا ہے جو آپ اپنی انکم اسٹیٹمنٹ میں ظاہر کرکے نفع و نقصان طے کرتے ہیں، اب اس میں دو شرائط عائد کی گئی ہیں جن کی خلاف ورزی کرنے سے آپ کا ٹیکس ایبل پرافٹ بڑھ جائے گا نتیجۃً آپ کو گئی گنا زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑ جائے گا۔

اس مسئلے کے دو حصے ہیں، پہلا حصہ آپ کی خریداری سے متعلق ہے جہاں آپ کسی ایسے بندے سے مال خرید کے آگے بیچتے ہیں جو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں تو آپ کے اخراجات پر دس فیصد کٹوتی لگے گی جس کی وجہ سے آپ کی ٹیکس ایبل انکم بڑھ جائے گی اور لامحالہ ٹیکس بھی بڑھ جائے گا۔

دوسرا حصہ آپ کے گاہک کے متعلق ہے، اگر آپ کا گاہک دو لاکھ روپے سے زائد کی خریداری کیش میں کرنا چاہتا ہے اور آپ کیش میں رقم وصول کر لیتے ہیں تو بیچے گئے مال کی کاسٹ پر پچاس فیصد کٹوتی لگ جائے گی جس سے آپ کا ٹیکس ایبل پرافٹ بہت ہی زیادہ بڑھ جائے گا اور قابل ادا ٹیکس بھی ناقابل برداشت حد تک اوپر چلا جائے گا۔

ان دونوں باتوں کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے آپ کو پرافٹ نکالنے کا کلیہ آتا ہو، کلیہ یہ ہوتا ہے:

Total Sales - Puchases/material Consumed - Administrative Expenses = Profit before Tax

میٹیریل کنزیومڈ سے مراد ہے جیسے کہ آپ نے سات ہزار روپے فی بوری کے حساب سے بارہ سو بوری کھاد کی خریدی تو اس کی قیمت بنے گی چوراسی لاکھ روپے لیکن سال بھر میں آپ نے صرف ایک ہزار بوری فروخت کی تو اس کی قیمت ستر لاکھ روپے آپ اپنے خرچے میں ڈال دیں گے بقیہ دو سو بوری چونکہ آپ کے پاس ابھی پڑی ہوئی ہے تو اس کی مالیت ابھی اسٹاک۔ان۔ہینڈ میں دکھائیں گے۔

اب اس فارمولے سے ایک فرضی کیلکولیشن کرتے ہیں تاکہ وہ جگہ سمجھ میں آجائے جہاں ان دونوں کٹوتیوں کا اثر پڑنا ہے۔

فرض کریں آپ کی سالانہ سیلز کا ٹوٹل ایک کروڑ روپے ہے اور جو چیز بنا کے بیچی یا بنی بنائی خرید کے بیچی اس کی سال بھر کی قیمت ستر لاکھ روپے ہے اور جگہ کا کرایہ، بجلی کے بل، سٹاف سیلریز و دیگر اخراجات کی مقدار بیس لاکھ روپے ہے تو بقیہ دس لاکھ روپے نفع بچے گا جس پر آپ نے ٹیکس ادا کرنا ہے۔

01 crore - 70 Lacs - 20 Lacs = 10 Lac profit b4 Tax

اس دس لاکھ روپے کے نفعے پر آپ کا ٹیکس بنے گا، ساٹھ ہزار روپے۔

پہلا مسئلہ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب سیکشن، 21، کا جز "q" یہ کہتا ہے کہ اگر آپ نے یہ کھاد کی بوریاں کسی رجسٹر کمپنی یا رجسٹرڈ ڈیلر سے خریدی ہیں تو ٹھیک ہے اور اگر کسی ایسے بندے سے خریدی ہیں جو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں تو ان بوریوں کی قیمت خرید کا دس فیصد ہم اخراجات میں ڈالنے نہیں دیں گے۔

آپ چونکہ اخراجات میں ڈال چکے ہوں گے لیکن ٹیکس آفیسر جب دیکھے گا کہ آپ کا سپلائر ان۔رجسٹرڈ ہے تو وہ میٹیریل کنزیومڈ کا دس فیصد آپ کے پرافٹ میں ایڈ کر دے گا اور مزید ٹیکس وصول کرلے گا۔

مثلاً آپ کا نفع تھا دس لاکھ روپے لیکن آپ کا سپلائر ان۔رجسٹرڈ تھا تو اس ستر لاکھ روپے مالیت کی پرچیز کا دس فیصد جو سات لاکھ روپے بنتا ہے وہ جرمانے کے طور پر آپ کے نفعے میں ایڈ۔بیک کر دیا جائے گا۔

اس تبدیلی کے بعد آپ کا نفع سترہ لاکھ روپے بن جائے گا تو اس پر ٹیکس لگے گا، دو لاکھ روپے، ساٹھ ہزار آپ نے دیئے ہوئے تھے، مزید ایک لاکھ چالیس ہزار روپے بھرنے کا آپ کو نوٹس آجائے گا۔

اب اس مسئلے سے بچنے کیلئے لازمی ہے کہ اگر آپ کچھ بنا کے بیچ رہے ہیں تو جو خام مال خریدیں وہ این۔ٹی۔این ہولڈر سے خریدیں اور اگر تیار مال لیکر بیچ رہے ہیں تو بھی این۔ٹی۔این ہولڈر سے لیکر بیچیں ورنہ میٹیریل کنزیومڈ کی قیمت خرید کا دس فیصد آپ کو disallowed ہو جائے گا جس کی وجہ سے کئی گنا زیادہ انکم ٹیکس ادا کرنا پڑ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا مسئلہ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آگے اسی سیکشن، 21، کا جز "s" یہ کہتا ہے کہ آپ نے جن لوگوں کو مال بیچا ہے ان سے اپنی پیمنٹ کیش میں مت لیں بلکہ آپ کے گاہک آپ کو بینکنگ چینل یا ڈیجیٹل ذرائع سے پیمنٹ کریں یعنی وہ اپنے اکاؤنٹ کا چیک دے دیں یا آنلائن ٹرانسفر کر دیں تو ٹھیک ہے ورنہ ہم اس پر کٹوتی لگائیں گے۔

مثلاً آپ نے بحیثیت انڈسٹری یا ہولسیل ڈیلر دس ہزار روپے فی بوری کے حساب سے کسی ریٹیلر کو بیس بوری کھاد بیچی جس کی قیمت دو لاکھ روپے بنتی ہے اور وہ ریٹیلر اپنے اکاؤنٹ سے ٹریک ایبل بینک ٹرانزیکشن کرنے کی بجائے آپ کے اکاؤنٹ میں آنلائن کیش جمع کرا دیتا ہے یا آپ کو نقد کیش دے دیتا ہے تو پھر ہم آپ کی اس مالیت میں جو قیمت خرید ہے اس کا پچاس فیصد آپ کو اپنے اخراجات میں دکھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اب اس کا اثر یہ پڑے گا کہ فرض کریں آپ نے سال بھر میں دس ریٹیلرز کو بیس بیس بوریاں فروخت کیں اور پیمنٹ کیش میں لے لی تو دو سو بوری کی قیمت خرید سات ہزار کے حساب سے چودہ لاکھ روپے بنتی ہے اور اس کا پچاس فیصد سات لاکھ روپیہ بنتا ہے لہذا ٹیکس آفیسر یہ سات لاکھ روپیہ بطور جرمانہ آپ کے پرافٹ میں ایڈ کر دے گا تو آپ کا پرافٹ دس لاکھ سے سترہ لاکھ پر چلا جائے گا اور ساٹھ ہزار کی جگہ دو لاکھ روپے ٹیکس لگ جائے گا۔

اور اگر آپ نے پہلے حصے میں بھی غلطی کی ہے یعنی ان۔رجسٹر بندے سے مال خریدا اور دوسرے حصے میں بھی غلطی کی ہے یعنی آگے بھی ناقابل شناخت یا ان۔رجسٹرڈ بندے کو بیچ دیا تو دونوں سائیڈوں کا جرمانہ ملا کے آپ کا پرافٹ چوبیس لاکھ روپے بن جائے گا اور اس پر چار لاکھ دس ہزار روپے ٹیکس دینا پڑ جائے گا جبکہ آپ کی حقیقی آمدنی صرف دس لاکھ روپے تھی۔

تصویر والا مسئلہ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اس آئینے میں آپ دیکھیں کہ جو لوگ کمپنیوں سے کیش میں مال اٹھاتے ہیں ان کی وجہ سے کمپنیوں کو کس قدر نقصان پیش آنے والا ہے لہذا ہر کمپنی نے اپنے گاہکوں کو کیلکولیشن کرکے بتایا ہے کہ اگر وہ کیش میں ہی کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس وجہ سے جو نقضان ہمیں ہوگا وہ آپ بھرتے جائیں گے تو ٹھیک ہے ورنہ بینک ٹو بینک پیمنٹ کریں۔

مثلاً جو بندہ بطور ریٹیلر کسی کمپنی یا ہولسیلر سے بیس بوری کھاد لینا چاہتا ہے اور پیمنٹ کیش میں ہی کرنا چاہتا ہے تو سیلر کی قیمت فروخت دو لاکھ بنتی ہے لیکن اس میں کھاد کی اصل قیمت ایک لاکھ چالیس ہزار ہے اور ساٹھ ہزار اس کا منافع ہے تو اس کو ایک چالیس کا آدھا یعنی ستر ہزار روپیہ جرمانے میں دینا پڑے گا لہذا گاہک اس کو یا تو دو لاکھ ستر ہزار دیکر دس بوری لے جائے یا پھر دو لاکھ دے اور اس میں سے پینتیس فیصد چھوڑ کے باقی کا جتنا مال آتا ہے وہ لے جائے۔

ہم نے جس مثال سے بات سمجھائی ہے اس میں دو لاکھ روپے پر سیلر کی کاسٹ آف گڈز پر پینتیس فیصد جرمانہ لگنا ہے لہذا وہ دو لاکھ میں سے پینتیس فیصد کاٹنے کی بات کرے گا۔

یہ تصویر والی کٹوتی کی رقم نہ تو بینک کاٹے گا اور نہ ہی حکومت کاٹے گی بلکہ یہ کٹوتی ایک بزنس مین اپنے گاہک سے کاٹنے کی بات کر رہا ہے جو ہر کمپنی کی کاسٹ کے حساب سے الگ الگ پرسینٹیج بنے گی لہذا تصویر میں بتائی گئی پرسینٹیج کا معاملہ ہر پراڈکٹ کی کاسٹ کے حساب سے ہر کسی کیلئے الگ الگ ہوگا۔

استثنائی معاملات:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیکشن، 21 کی شق "q" کے مطابق پہلا حصہ جو پرچیز سائیڈ کا بیان کیا تھا اس میں کوئی کمپنی یا پزنس پرسن جو کسی کسان سے ڈائریکٹ کوئی جنس خرید کے سیم کنڈیشن میں یا اس کا کچھ بنا کے بیچتے ہیں تو وہ ان۔رجسٹرڈ کسان سے خریداری کر سکتے ہیں ان پر پرچیز سائیڈ کا دس فیصد جرمانہ نہیں لگے گا جبکہ سیلز سائیڈ پر خلاف ورزی کرنے سے پچاس فیصد جرمانہ بدستور لگے گا۔

مثلاً مصالحہ و اچار کمپنیوں والے کسی بھی ان۔رجسٹرڈ کسان سے لیمن، کچا آم یا کیری، مرچ مصالحے یا فلور مل والے گندم، رائس مل والے چاول، میظ پراڈکٹ والے مکئی، جوس کمپنی والے فروٹ یا اناج منڈی و سبزی منڈی والے آڑھتی کچھ خریدتے ہیں تو وہ پرچیز سائیڈ پر جرمانے سے مستثنیٰ رہیں گے۔

لیکن اگر یہی بزنس پرسنز کسان کی بجائے کسی ان۔رجسٹرڈ آڑھتی سے خریداری کریں گے تو دس فیصد جرمانہ لگے گا۔

ایک استثنائی ابہام:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیلز سائیڈ پر کیش میں دو لاکھ کا مال بیچنے پر جو جرمانہ لگ رہا ہے کیا یہ ایک ایک لاکھ کی دو انوائسز پر نہیں لاگو ہوگا؟

لوجیکلی تو یہی بنتا ہے کہ جب پابندی صرف دو لاکھ کی انوائس پر ہے تو اس کی بجائے کم مالیت کی انوائسز پر کھیلتے رہیں لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوگا لہذا اس رستے کو بند کرنے کیلئے ایک بندے سے سال میں دو لاکھ کی حد لاگو ہو سکتی ہے تاکہ ریگولر گاہک جو سال میں پچاس لاکھ کا مال اٹھاتا ہے وہ ایک ایک لاکھ کر کے نہ مال اٹھاتا رہے۔

میرے ذاتی خیال میں یہ استثنائی ابہام رکھا جائے گا تاکہ چھوٹے خریدار متاثر نہ ہوں اور وہ ایک ایک لاکھ میں کھیلتے رہیں اور بڑے مگر مچھ جو کروڑوں کا مال اٹھاتے ہیں ان کیلئے مشکل ہو جائے۔

ایک اور طبقہ بھی ہے جن کا کام بہت بڑے لیول کا ہوتا ہے لیکن وہ دس کروڑ کی حد کو چھونے سے ٹرن۔اوور ٹیکس کی زد سے بچنے کیلئے کچھ مال جعلی نام سے کیش میں اٹھاتے رہتے ہیں، ان کو یہاں ایک بڑی ٹکر دی گئی ہے۔

تاہم حتمی بات قانون اور رولز اپڈیٹ ہونے کے بعد ہی صحیح طور پر سامنے آئے گی تب تک کچھ غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

ان ساری تفصیلات کے نتیجے میں یہ بات سمجھ میں آجانی چاہئے کہ تصویر والی باتیں نافذ شدہ نہیں ہیں، جو نافذ العمل کیا گیا وہ اوپر بتا دیا ہے البتہ ہر کمپنی کیلئے کیش سیلز پر اس کی کاسٹ کے حساب سے متوقع جرمانوں کی شرح الگ الگ بنے گی اور یہ جرمانہ اپنے کیش کسٹمر سے وصول کرنے کیلئے کسی کمپنی نے اس تصویر میں اپنا موقف بیان کیا ہے۔

ایف بی آر ایک طرف لوگوں کو یہ کہتا ہے کہ اپنے کاروبار کو رجسٹر کریں، ٹیکس ادا کریں اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں، لیکن د...
03/07/2025

ایف بی آر ایک طرف لوگوں کو یہ کہتا ہے کہ اپنے کاروبار کو رجسٹر کریں، ٹیکس ادا کریں اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں، لیکن دوسری طرف وہ ایسے سسٹم متعارف کروا رہا ہے جو خود ٹیکس دینے والوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

حال ہی میں IRIS پورٹل پر لاگ ان کے لیے صرف QR کوڈ کا طریقہ متعارف کرایا گیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ، خاص طور پر چھوٹے کاروباری افراد اور پروفیشنلز، لاگ ان نہیں کر پا رہے۔

یہ طریقہ لوگوں کے لیے سہولت فراہم کرنے کے بجائے انہیں الجھا رہا ہے، وقت کا ضیاع ہے اور ٹیکس دہندگان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

خلع کی صورت میں مہر کے حوالے سے عدالت عالیہ لاہور کا ایک انتہائی اہم فیصلہ ! فیصلے کی تفصیل اور مقدمے کے حقائق کی طرف جا...
22/04/2025

خلع کی صورت میں مہر کے حوالے سے عدالت عالیہ لاہور کا ایک انتہائی اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل اور مقدمے کے حقائق کی طرف جانے سے پہلے اس کیس میں عدالت عالیہ کے سامنے مندرجہ ذیل اہم سوال تھا کہ :

سوال : کیا خلع کی صورت میں لازمی ہے کہ بیوی اپنا حق مہر شوہر کے حق میں بطور بدل خلع معاف یا واپس کرے گی ؟

عدالت عالیہ کے سامنے موجود اہم سوال کی وضاحت کے بعد اس مقدمے کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ:

اقراء سعید نامی مدعیہ کی جانب سے اپنے شوہر آصف محمود کے خلاف تنسیخ نکاح، دلا پانے نان و نفقہ ، مہر مبلغ دو لاکھ روپے اور سامان جہیز جس کی کل قیمت تقریباً تین لاکھ اکہتر ہزار روپے کے لئے ضلع ساہیوال کی مقامی عائلی عدالت سے رجوع کرتی ہے جس کا جواب آصف محمود یعنی مدعا علیہ کی جانب سے جواب دعویٰ جمع کرنے کی صورت میں کیا جاتا ہے لیکن یاد رہے کہ زوجین کے درمیان ابتدائی مصالحت ناکام ہونے کے بعد عائلی عدالت کی جانب سے پچیس مئ دو ہزار بائیس کو فیملی کورٹس ایکٹ کے دفعہ دس ( پانچ ) کے تحت تنسیخ نکاح بر بنیاد خلع کا فیصلہ صادر کر دیتی ہے جبکہ باقی تنقیحات پر فریقین کی جانب سے باقاعدہ شہادت کے بعد چھبیس اکتوبر دو ہزار تئیس کو یہ فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ آصف محمود اپنی بیوی یعنی اقرا سعید کو پانچ ہزار روپے ماہانہ بطور نان نفقہ صرف عدت کے دورانئے کے لئے اور جبکہ سامان جہیز کی مد میں ایک لاکھ روپے ادا کرے گا لیکن بدقسمتی سے عائلی عدالت نے مہر کے حوالے سے کوئ فیصلہ نہیں دیا جس کے خلاف اپیل کی صورت میں ضلعی جج اس کیس کو دوبارہ عائلی عدالت کی طرف واپس ان ہدایات کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ تمام تنقیحات پر فیصلہ سنایا جائے جس پر عائلی عدالت بالآخر آٹھ مارچ دو ہزار چوبیس کو فیصلہ سناتے ہیں جس میں مختصراً پہلے سنائے جانے والے فیصلے کے ساتھ ساتھ مدعیہ یعنی اقرا سعید کو مہر مؤجل یعنی دو لاکھ روپے کا بھی حق دار قرار دے دیتی ہے۔ یاد رہے کہ عائلی عدالت کے مندرجہ بالا فیصلے کے خلاف مدعا علیہ یعنی آصف محمود ضلعی عدالت سے اپیل کی صورت میں رجوع کرتا ہے لیکن شومئی قسمت وہاں سے بھی مورخہ دو ستمبر دو ہزار چوبیس کو کوئ ریلیف ملے بغیر اس کی اپیل خارج ہو جاتی ہے جس کے بعد آخر کار یہ مقدمہ آئینی درخواست یعنی رٹ پٹیشن کی صورت میں عدالت عالیہ لاہور پہنچ جاتا ہے۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے کا آغاز درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے پیش کئے جانے والے دلائل سے کیا ہے جس کے مطابق چونکہ زوجین کے درمیان تنسیخ نکاح بر بنیاد خلع ہوئ ہے تو ایسی صورت میں بیوی یعنی اقرا سعید کو مہر کے لئے دعویٰ نہیں کرنا چاہیے تھا اور اپنے اس نکتے کے لئے انھوں نے سپریم کورٹ کے مشہور فیصلے محمد عارف بنام صائمہ نورین وغیرہ پر انحصار کیا ہے جبکہ سامان جہیز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چونکہ شہادت کے دوران یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اقرا سعید کے والدین کی معاشی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ اپنی بیٹی کو جہیز دلا پاتے۔یہاں پر یاد رہے کہ اقرا سعید یعنی بیوی کی جانب کوئ بھی پیش نہیں ہوا تو بدیں وجہ ان کی غیر موجودگی میں یہ مقدمہ یکطرفہ چلایا گیا۔

عدالت عالیہ نے درخواست گزار یعنی آصف محمود کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد فیصلے کی ابتداء سامان جہیز والے قضیے سے کی اور یہ قرار دیا کہ چونکہ جہیز کی ادائیگی کی رسم ہمارے ہاں بہت زیادہ سرایت کر چکی ہے اور والدین چاہے ان کی معاشی حالت کیسی بھی ہو لیکن پھر بھی وہ جہیز ادا کرتے ہیں اور چونکہ درخواست گزار خود بھی جواب دعویٰ میں کچھ چیزوں کی بابت اقرار کر چکا ہے تو اس لئے نچلی عدالتوں کی جانب سے سامان جہیز کی مد میں ایک لاکھ روپے کا فیصلہ بالکل مناسب ہے اور اسی لئے اس کو برقرار رکھا ہے۔

سامان جہیز کا قضیہ حل کرنے کے بعد عدالت عالیہ نے مقدمے کے سب سے اہم مسئلے یعنی حق مہر کا رخ کیا ہے اور اس بابت یہ واضح کیا ہے کہ نکاح کے وقت اقرا کا حق مہر دو لاکھ روپے مہر مؤجل طے ہوا تھا لیکن مہر کے حوالے سے درخواست گزار یعنی آصف محمود نے پہلے تو یہ کہا کہ وہ ادا کر چکا ہے لیکن دوران شہادت اس میں ناکامی کے بعد درخواست گزار نے اب یہ التجا سامنے رکھی ہے کہ خلع کی صورت میں مدعیہ مہر کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ یہاں پر عدالت نے فیملی کورٹس ایکٹ کے دفعہ دس ( پانچ ، چھ ) کے حوالے سے لکھا ہے کہ چونکہ مندرجہ بالا دونوں دفعات صوبہ پنجاب میں دو ہزار پندرہ سے نافذ العمل ہیں لیکن یاد رہے کہ وفاقی شرعی عدالت اپنے تاریخ ساز فیصلے عمران انور خان کیس میں ان دونوں دفعات کو خلاف اسلام ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دے چکی ہے لیکن یہ فیصلہ یعنی عمران انور خان کیس کا فیصلہ یکم مئ دو ہزار بائیس کو آیا ہے جب کہ موجودہ کیس میں خلع کا فیصلہ پچیس مئ دو ہزار بائیس کو آیا ہے یعنی کہ جس قانون کے تحت خلع دیا گیا وہ فیصلے کے وقت کالعدم تھا۔ اس کے بعد فاضل عدالت نے ایک بحث طلاق اور خلع کے درمیان فرق پر باندھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر خلع محض نا پسندیدگی کی بنیاد پر مانگی جا رہی ہو تو پھر حاصل شدہ حق مہر قابل واپسی ہو جاتا ہے لیکن اگر خلع کسی بنیاد پر مانگی جا رہی ہو تو پھر یہ لازمی نہیں ہے کہ عورت حق مہر واپس کرے گی بلکہ عدالت اس بات کا تعین کرے گی کہ کتنا حق مہر واپس کرنا چاہئے۔ یاد رہے کہ مندرجہ بالا بحث کے بعد عدالت عالیہ نے نکاح نامے کی حیثیت کا رخ کر کے یہ لکھا ہے کہ مہر مؤجل کی ادائیگی شوہر کی زمہ داری ہے اور اس زمہ داری سے ابراء کے لئے قطعا یہ کافی نہیں ہے کہ عورت خلع مانگے تو شوہر مہر سے بری ہو جائے گا۔ یہاں پر عدالت نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ خلع کی صورت میں حق مہر کا دار و مدار عورت کی جانب سے خلع مانگنے کے طریقہ کار کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگر کہیں عورت بغیر کسی وجہ کے یعنی فقط نا پسندیدگی کی بنیاد پر خلع مانگے تو ایسی صورت میں عورت مہر کا حق کھو دیتی ہے لیکن اگر عورت خلع شوہر کے برتاؤ کی وجہ سے مانگے تو وہ مہر مؤجل کی حق دار ہوگی اور چونکہ اس کیس میں بھی عورت کے خلع کی وجہ سے شوہر کا برتاؤ ہے اور یہ بات جا بجا شہادت سے بھی ثابت ہورہی ہے تو اس لئے بیوی مکمل حق مہر مؤجل کے حصول کی حق دار ہے۔ یاد رہے کہ اس کے بعد عدالت عالیہ نے محمڈن لا پر انحصار کر کے یہ بات بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ زوجین کے درمیان مہر کی ادائیگی خلوت صحیحہ کے ساتھ ہی لازم ہو جاتی ہے اور چونکہ اس مقدمے میں بھی زوجین کے درمیان رشتہ نو سال تک رہا ہے اور اس دوران بیوی نے حقوق زوجیت بھی ادا کئے ہیں تو اس لئے عدالت نے شوہر یعنی آصف محمود کے آئینی درخواست کو خارج کرتے ہوئے بیوی یعنی اقرا سعید کو مہر مؤجل کا حق دار قرار دے دیا۔

اس انتہائی اہم فیصلے کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کہیں عورت بغیر کسی وجہ کے یعنی فقط نا پسندیدگی کی بنیاد پر خلع مانگے تو ایسی صورت میں عورت مہر کا حق کھو دیتی ہے لیکن اگر عورت خلع شوہر کے برتاؤ کی وجہ سے مانگے تو وہ مہر مؤجل کی حق دار ہوگی۔

یہ انتہائی اہم فیصلہ عدالت عالیہ لاہور کے جج؛ جسٹس راحیل کامران نے لکھا ہے اور اس کو Writ Petition No. 68712 of 2024 پر پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔

پنجاب میں زرعی ٹیکس کا نفاذ ہو چکا، زرعی ٹیکس کے ریٹس جاری کر دئیے گئے ہیں۔ اب زرعی ٹیکس گوشوارہ بھی جمع کروانا لازمی ہو...
22/04/2025

پنجاب میں زرعی ٹیکس کا نفاذ ہو چکا، زرعی ٹیکس کے ریٹس جاری کر دئیے گئے ہیں۔ اب زرعی ٹیکس گوشوارہ بھی جمع کروانا لازمی ہو گا۔

𝐇𝐞𝐥𝐥𝐨 𝐅𝐫𝐞𝐞𝐥𝐚𝐧𝐜𝐞𝐫𝐬! Paying more tax on your hard earned income? Get yourself registered with PSEB and pay low tax, just ....
21/04/2025

𝐇𝐞𝐥𝐥𝐨 𝐅𝐫𝐞𝐞𝐥𝐚𝐧𝐜𝐞𝐫𝐬!
Paying more tax on your hard earned income? Get yourself registered with PSEB and pay low tax, just .25% instead 1% on your total income.

One of our client just registered himself with PSEB and got his certificate within a day through expert services of "𝐄𝐡𝐬𝐚𝐧 𝐋𝐞𝐠𝐚𝐥 𝐒𝐞𝐫𝐯𝐢𝐜𝐞𝐬".

You can be the NEXT.

𝗔𝗹𝗵𝗮𝗺𝗱𝘂𝗹𝗶𝗹𝗹𝗮𝗵! We are pleased to announce that 𝐌𝐫 𝐀𝐛𝐝𝐮𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐊𝐚𝐫𝐚𝐜𝐡𝐢, one of our gratified clients, has successfully ...
21/04/2025

𝗔𝗹𝗵𝗮𝗺𝗱𝘂𝗹𝗶𝗹𝗹𝗮𝗵! We are pleased to announce that 𝐌𝐫 𝐀𝐛𝐝𝐮𝐥𝐥𝐚𝐡 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐊𝐚𝐫𝐚𝐜𝐡𝐢, one of our gratified clients, has successfully registered his Single Member Company (SMC Pvt Ltd) through the expert services of "𝐄𝐡𝐬𝐚𝐧 𝐋𝐞𝐠𝐚𝐥 𝐒𝐞𝐫𝐯𝐢𝐜𝐞𝐬".

𝗬𝗼𝘂 𝗰𝗮𝗻 𝗮𝗹𝘀𝗼 𝗔𝘃𝗮𝗶𝗹 𝗼𝘂𝗿 𝗣𝗿𝗼𝗳𝗲𝘀𝘀𝗶𝗼𝗻𝗮𝗹 𝘀𝗲𝗿𝘃𝗶𝗰𝗲𝘀 𝗿𝗲𝗴𝗮𝗿𝗱𝗶𝗻𝗴 𝗰𝗼𝗺𝗽𝗮𝗻𝘆 𝗶𝗻𝗰𝗼𝗿𝗽𝗼𝗿𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻
𝗢𝘂𝗿 𝘀𝗮𝗹𝗶𝗲𝗻𝘁 𝗳𝗲𝗮𝘁𝘂𝗿𝗲𝘀 𝗮𝗿𝗲:
✅️ 𝗤𝘂𝗶𝗰𝗸 𝗽𝗿𝗼𝗰𝗲𝘀𝘀𝗶𝗻𝗴
✅️𝗚𝗲𝘁 𝘆𝗼𝘂𝗿 𝗱𝗼𝗰𝘂𝗺𝗲𝗻𝘁𝘀 𝗮𝘁 𝘆𝗼𝘂𝗿 𝗱𝗼𝗼𝗿 𝘀𝘁𝗲𝗽 𝘄𝗶𝘁𝗵𝗼𝘂𝘁 𝗴𝗼𝗶𝗻𝗴 𝗮𝗻𝘆𝘄𝗵𝗲𝗿𝗲

اوورسیز پاکستانیوں کیلئےپراپرٹی سیلز و پرچیز ٹیکس سے استثنیٰ نان۔فائلر اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پراپرٹی کی خرید و فروخت ...
03/01/2025

اوورسیز پاکستانیوں کیلئے
پراپرٹی سیلز و پرچیز ٹیکس سے استثنیٰ

نان۔فائلر اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر لگنے والا ٹیکس معاف کر دیا گیا ہے، اب یہ استثنیٰ حاصل کرنے کیلئے سرکاری پروسیجر بھی جاری ہوچکا ہے۔

انکم ٹیکس آرڈینینس کے سیکشن 236/کے اور 236/سی کے تحت پراپرٹی کی خرید و فروخت پر فائلرز کیلئے تین فیصد ایڈونس انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے، لیٹ۔فائلرز پر چھ فیصد اور نان۔فائلرز پر جائیداد کی مالیت کے حساب سے دس سے لیکر بیس فیصد تک اضافی ٹیکس لگتا ہے۔

حالیہ قانونی ترمیم کے تحت نان۔فائلر اوورسیز پاکستانیوں کو اس اضافی ٹیکس سے استثنیٰ دیدیا گیا ہے، یہ استثنیٰ حاصل کرنے کیلئے آپ کو ایف۔بی۔آر کی ویبسائٹ پر اپنے نائیکوپ یا پی۔او۔سی کیساتھ آنلائن اپلائی کرنا پڑے گا، جس میں درج ذیل ٹائپ کے کوائف جمع کرائیں گے۔

تصویر نمبر ایک:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئرس کی ویبسائٹ پر مین۔پیج کے اوپر ای۔پیمنٹ کو کلک کریں گے۔

تصویر نمبر دو:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیف سائڈ پر مینو میں سے، tax on immovable property، سیلیکٹ کریں گے۔

پارٹ۔ون میں اپنا شناختی کارڈ یا این۔ٹی۔این نمبر لکھیں گے تو رجسٹری میں آپ کا نام خودبخود اپڈیٹ ہو جائے گا، اس کے علاوہ اپنا ایمیل بھی لکھیں گے کیونکہ استثنیٰ کا ڈاکومنٹ آپ کے ایمیل پر آنا ہے۔

آپ جائیداد خرید رہے ہیں تو پیمنٹ سیکشن 236/کے چوز کریں گے اور بیچنے کیلئے 236/سی کا انتخاب کریں گے۔

پارٹ ٹو میں پراپرٹی بیچنے والے کے کوائف بتائیں گے، آپ خود بیچ رہے ہیں تو اس میں اپنے کوائف لکھیں گے ورنہ ادر۔سیلر کے لکھیں گے۔

تصویر نمبر تین:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس درخواست کے پارٹ تھری میں خریدار کے کوائف لکھیں گے، پرسنٹیج آف شئیر میں خریدار کی پرسنٹیج لکھیں گے یعنی خریدار سو فیصد کا مالک ہوگا یا اس کے ساتھ کوئی حصے دار بھی ہے، اگر کوئی حصے دار بھی ہے تو آپ صرف مرکزی خریدار کا حصہ بتائیں گے جتنے پرسینٹ اس کا حصہ ہے، آپ خود خریدار ہیں تو پھر اپنے ہی کوائف یہاں لکھیں گے۔

تصویر نمبر چار:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درخواست کے پارٹ۔فور میں جائیداد کے کوائف، ٹائپ آف پراپرٹی، رقبہ، ایڈریس، رجسٹریشن اتھارٹی اور ٹیکس آفس وغیرہ کا ذکر ہے، اس سے متعلقہ تمام درکار معلومات یہاں فرام کر دیں۔

تصویر نمبر پانچ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درخواست کے پارٹ۔فائیو میں جائیداد کی مالیت، بطور خریدار یا سیلر آپ کا کتنا حصہ ہے اور ٹیکس ریٹ میں تین فیصد کا انتخاب کریں گے۔

تصویر نمبر چھ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس حصے میں آپ اپنے نائیکوپ یا پاکستان اوریجن کارڈ، poc، کو اسکین کرا کے اس کی پی۔ڈی۔ایف فائل بنوا کے اپلوڈ کریں گے پھر، upper right corner، پر سبمٹ کے بٹن سے یہ درخواست جمع کرا دیں گے اور اس کا پرنٹ اپنے پاس محفوظ کر لیں گے۔

اس درخواست کے جواب میں دو دن کے اندر آپ کے ایمیل پر تین فیصد والا نارمل ٹیکس چالان یا ایگزمپشن سرٹیفکیٹ بھیج دیا جائے گا اور اس استثنیٰ کے بنیاد پر صرف تین فیصد ٹیکس ادا کرنے پر آپ کی پراپرٹی رجسٹر ہو جائے گی۔

دو یا تین دن میں آپ کو ایمیل نہیں آتی تو اپنا نائیکوپ یا پی او سی لیکر آپ کو ٹیکس آفس میں جا کے متعلقہ آفیسر سے ملنا پڑت گا تاکہ آپ کا کام جلدی ہو جائے۔

آپ خریداری کر رہے ہیں یا پراپرٹی بیچ رہے ہیں اس پر لگنے والا تین فیصد انکم ٹیکس ایڈجسٹیبل اور ریفنڈایبل ہے، یہ اسلئے برقرار رکھا گیا ہے کہ نان۔ریزیڈنٹ پاکستانیوں کی اکثریت پر لوکل انکم ٹیکس کی لائبلٹی یا کیپیٹل گین ٹیکس کی لائبلٹی ضرور نکلتی ہے لہذا وہ تین فیصد ٹیکس جمع کرا لیتے ہیں تاکہ جس پر کوئی لائبلٹی ہو وہ اس رقم کو ایڈجسٹ کر لے، نہ ہو تو اس کا ریفنڈ کلیم کر سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں آپ کو کوئی پرابلم درپیش ہو تو کراچی، لاہور اور فیصل آباد کے ٹیکس آفسز کیلئے آپ ہماری خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔

پنجاب میں یکم جنوری سے کسانوں پر زرعی ٹیکس لگے گا، مال مویشی کی خرید و فروخت پر بھی ٹیکس نافذ ہو گا۔ پنجاب حکومت نے پنجا...
14/11/2024

پنجاب میں یکم جنوری سے کسانوں پر زرعی ٹیکس لگے گا، مال مویشی کی خرید و فروخت پر بھی ٹیکس نافذ ہو گا۔ پنجاب حکومت نے پنجاب اسمبلی میں بل منظور کر لیا۔

1) 6سے 12 لاکھ آمدن پر 15% ٹیکس،
2) 12 سے 16لاکھ روپے آمدن پر90ہزار روپے فکسڈ ٹیکس + 20% ٹیکس ہو گا
3) 32لاکھ آمدن تک ساڑھےچھ لاکھ روپے،
4) 32سے 56لاکھ تک 16لاکھ روپےٹیکس،
5) 56 لاکھ سےزائد آمدن پر 16لاکھ اور 45فیصد ٹیکس۔

جب آپ سونا فروخت کرتے ہیں، تو حاصل ہونے والی رقم کو "کیپیٹل گین" یعنی منافع کہا جاتا ہے۔ ٹیکس قوانین میں سونا بھی ایک کی...
12/11/2024

جب آپ سونا فروخت کرتے ہیں، تو حاصل ہونے والی رقم کو "کیپیٹل گین" یعنی منافع کہا جاتا ہے۔ ٹیکس قوانین میں سونا بھی ایک کیپیٹل اثاثہ سمجھا جاتا ہے، اور سیکشن 37 اور 38 کے مطابق کیپیٹل گین یعنی منافع کو درج ذیل فارمولے کے تحت شمار کیا جاتا ہے:

Profit = Sale Value - Cost Value

یعنی، فروخت کے وقت سونے کی جو قیمت (Sale Value) ہے، اس میں سے اس کی خریداری کی قیمت (Cost Value) منفی کی جاتی ہے۔ جو رقم بچتی ہے، وہ منافع (Profit) شمار ہوتا ہے۔

مثال:
فرض کریں، آپ نے اپنے ٹیکس ریٹرن میں سونے کی قیمت صفر درج کی ہے (یعنی آپ نے اس کی خریداری کی قیمت کا اندراج نہیں کیا)، تو جب آپ اسے فروخت کریں گے، تو مکمل فروخت کی قیمت پر ٹیکس عائد ہوگا۔

فرض کریں کہ آپ نے سونا 2.5 لاکھ روپے میں خریدا، اور اس وقت اس کی مارکیٹ قیمت 3 لاکھ روپے ہے۔

اب اگر آپ نے اپنی ٹیکس ریٹرن میں خریداری کی قیمت صفر لکھی ہے تو ٹیکس قوانین کے مطابق آپ کو 3 لاکھ روپے پر مکمل ٹیکس ادا کرنا ہوگا، نہ کہ صرف 50 ہزار روپے کے منافع پر۔

اگر آپ اپنی ٹیکس ریٹرن میں ہر سال سونے کی خریداری کی قیمت درج کرتے ہیں، تو آپ کو ٹیکس میں بچت ہو سکتی ہے۔ اس طرح جب آپ اسے فروخت کریں گے، تو صرف اصل منافع (Sale Value - Cost Value) پر ہی ٹیکس عائد ہوگا، نہ کہ مکمل فروخت کی قیمت پر۔

ٹیکس قوانین کے مطابق اگر آپ نے سونے کی قیمت درج نہیں کی، تو مکمل فروخت کی قیمت پر ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس سے بچنے کے لیے اپنی ٹیکس ریٹرن میں سونے کی اصل قیمت کو صحیح طریقے سے درج کریں، تاکہ صرف منافع پر ہی ٹیکس ادا کرنا ہو۔

درج ذیل فارمولے سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ گولڈ کی فروخت پر جو گین ہوتا ہے اس پر کتنا ٹیکس لگے گا۔
1. *پہلا سلیب: 6 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 0%
- وضاحت:اگر آپ کا منافع 6 لاکھ روپے تک ہے، تو اس پر کوئی ٹیکس نہیں۔ یعنی 6 لاکھ روپے تک کی حد ٹیکس فری ہے۔

2. *دوسرا سلیب: 6 لاکھ روپے سے 8 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 7.5%
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 6 لاکھ سے 8 لاکھ روپے کے درمیان ہے، تو اس پر **7.5% ٹیکس** عائد ہوگا۔

3. *تیسرا سلیب: 8 لاکھ روپے سے 12 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 1500 روپے + 15% (8 لاکھ روپے سے زائد منافع پر)
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 8 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کے درمیان ہے، تو آپ کو **1500 روپے فکسڈ** ادا کرنا ہوں گے، اور ساتھ میں **8 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 15% ٹیکس** ادا کرنا ہوگا۔

4. *چوتھا سلیب: 12 لاکھ روپے سے 24 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 75000 روپے + 20% (12 لاکھ روپے سے زائد منافع پر)
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے کے درمیان ہے، تو آپ کو **75000 روپے فکسڈ** ادا کرنا ہوں گے اور **12 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 20% ٹیکس** ادا کرنا ہوگا۔

5. *پانچواں سلیب: 24 لاکھ روپے سے 30 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 3,15,000 روپے + 25% (24 لاکھ روپے سے زائد منافع پر)
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 24 لاکھ سے 30 لاکھ روپے کے درمیان ہے، تو آپ کو **3,15,000 روپے فکسڈ** ادا کرنا ہوں گے اور **24 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 25% ٹیکس** ادا کرنا ہوگا۔

6. *چھٹا سلیب: 30 لاکھ روپے سے 40 لاکھ روپے تک*
- ٹیکس کی شرح: 4,65,000 روپے + 30% (30 لاکھ روپے سے زائد منافع پر)
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 30 لاکھ سے 40 لاکھ روپے کے درمیان ہے، تو آپ کو **4,65,000 روپے فکسڈ** ادا کرنا ہوں گے اور **30 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 30% ٹیکس** ادا کرنا ہوگا۔

7. *ساتواں سلیب: 40 لاکھ روپے سے اوپر*
- ٹیکس کی شرح: 7,65,000 روپے + 35% (40 لاکھ روپے سے زائد منافع پر)
- وضاحت: اگر آپ کا منافع 40 لاکھ روپے سے زیادہ ہو تو آپ کو **7,65,000 روپے فکسڈ** ادا کرنے ہوں گے اور **40 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 35% ٹیکس** ادا کرنا ہوگا۔

یہ پوسٹ سونے کی فروخت پر ٹیکس کے اثرات کو سمجھنے اور ٹیکس کی بچت کی بہتر حکمت عملی اپنانے کے لیے ایک گائیڈ فراہم کرتی ہے۔

اگر آپ نے اپنی ٹیکس ریٹرن میں ماضی میں سونے کی قیمت صفر درج کی ہے، تو اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بعد میں سونا بیچتے وقت آپ کو پوری فروخت کی قیمت پر ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، چاہے آپ کا اصل منافع کم ہی کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر، اگر آپ نے 2.5 لاکھ روپے میں سونا خریدا اور آج اس کی قیمت 3 لاکھ روپے ہو گئی ہے، تو منافع 50 ہزار روپے بنتا ہے، جس پر کم ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ نے خرید کی قیمت صفر درج کی ہو، تو اب 3 لاکھ روپے کی مکمل رقم پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

اس مسئلے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ٹیکس ریٹرن میں سونے کی اصل قیمت ہر سال درج کریں۔ اس سے آپ کو اگلی فروخت پر صرف منافع پر ہی ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور اضافی بوجھ سے بچت ہوگی۔ مزید براں، اگر آپ ہر سال 6 لاکھ روپے کے اندر سونا فروخت کریں تو آپ ٹیکس سے بچ سکتے ہیں، کیونکہ 6 لاکھ روپے تک کے منافع پر ٹیکس کی شرح صفر ہوتی ہے۔

طویل منصوبہ بندی بھی فائدہ مند ہے، خاص کر اگر آپ کے پاس زیادہ مقدار میں سونا ہے۔ بہتر ہوگا کہ اسے ایک سال میں نہ بیچیں بلکہ سالوں میں تقسیم کر کے فروخت کریں، اور ہر سال 6 لاکھ کی حد کا دھیان رکھیں۔ اس سے آپ نہ صرف ٹیکس بچا سکتے ہیں بلکہ اپنی سرمایہ کاری کو بہتر طریقے سے استعمال بھی کر سکتے ہیں۔

ٹیکس معاملات کو سمجھنا پیچیدہ ہو سکتا ہے، خاص کر جب بات سونے جیسے قیمتی اثاثے کی ہو۔ اس لیے، پیشہ ور ٹیکس ماہرین کی رہنمائی حاصل کریں۔ ایک ماہر ٹیکس وکیل آپ کو یہ بتا سکتا ہے کہ کس طرح اپنی سرمایہ کاری پر کم سے کم ٹیکس ادا کر کے اپنی رقم کو محفوظ اور موثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اگر کسی وجہ سے اپ نے ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہوئے گولڈ کی ویلیو زیرو لکھی ہے تو کوشش کریں کہ ہر سال چھ لاکھ یا اس سے تھوڑی اماؤنٹ کے گولڈ کو گین میں رپورٹ کریں کیونکہ چھ لاکھ تک کوئ ٹیکس نہیں ہے چھ لاکھ سے اوپر ٹیکس ہوتا ہے تاکہ دونوں صورتوں میں اپ کا گولڈ ڈسپوز اپ بھی ہو جائے اور اپ کو ٹیکس بھی کم سے کم پڑے اس سلسلے میں اپ کو اگر مزید رہنمائی چاہیے تو اپ رابطہ کر سکتے ہیں۔
0303-0372863

اگر آپ نے کوئی پراپرٹی کرایہ پر دی ہوئی ہے تو ٹیکس فائل کرنے سے پہلے سات طرح کے اخراجات کو اپنی کل آمدنی میں سے منہا کر ...
10/11/2024

اگر آپ نے کوئی پراپرٹی کرایہ پر دی ہوئی ہے تو ٹیکس فائل کرنے سے پہلے سات طرح کے اخراجات کو اپنی کل آمدنی میں سے منہا کر سکتے ہیں، جس کے بعد جو رقم بچے گی، اسی پر آپ کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ پچھلے دو سالوں سے پراپرٹی انکم کو نارمل ٹیکس سلیب میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے، پراپرٹی انکم پر ٹیکس سیکشن 155 کے تحت ود ہولڈنگ کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ لیکن اب، رینٹل انکم کو بھی کاروباری آمدنی کی طرح شمار کیا جاتا ہے، جس طرح کاروبار میں سیلز سے پہلے اخراجات نکال کر پروفٹ نکالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، کاروبار میں ہم "Cost Of Sale" مائنس کرتے ہیں اور پھر "Gross Profit " حاصل ہوتا ہے، جس میں سے اخراجات منہا کرنے کے بعد "Profit Before Tax" آتا ہے، اور اس کے بعد ہی ٹیکس ریٹ لاگو ہوتا ہے۔

اسی طرح پراپرٹی انکم میں بھی ہمیں چند مخصوص کٹوتیوں کی اجازت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر سالانہ کرایہ 15 لاکھ روپے ہے، تو سب سے پہلے آپ کو 20 فیصد ریپیئر اور مینٹیننس کی مد میں کٹوتی کی اجازت ہے۔ اس طرح کے اخراجات کو سمجھنا اور اپنی آمدنی سے منہا کرنا ضروری ہے تاکہ آپ کا ٹیکس درست اور کم ہو۔
پراپرٹی انکم پر ٹیکس فائلنگ کرتے وقت سات طرح کے اخراجات کو ٹوٹل انکم میں سے مائنس کیا جا سکتا ہے۔ یہ اخراجات پراپرٹی کی دیکھ بھال، قانونی تقاضوں اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کو پورا کرنے کے لیے اجازت شدہ ہیں۔ آئیے، ان سات اخراجات کو تفصیل سے دیکھتے ہیں:

1. **ریپیئر اور مینٹیننس کا خرچ**
پراپرٹی کی دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات کو بھی رینٹل انکم میں سے کٹوتی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ آپ کل کرایہ کا 20% مرمت اور مینٹیننس کی مد میں منہا کر سکتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ کی رینٹل انکم 1.5 ملین روپے ہے تو اس کا 20% یعنی 3 لاکھ روپے ریپیئر اور مینٹیننس کے خرچ کے طور پر مائنس کیا جا سکتا ہے۔

2. **انشورنس پریمیم**
اگر آپ نے پراپرٹی کی حفاظت کے لیے کوئی انشورنس پالیسی لے رکھی ہے تو انشورنس پریمیم کو بھی رینٹل انکم سے مائنس کیا جا سکتا ہے۔ یہ کٹوتی پراپرٹی کی حفاظت کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کا انشورنس پریمیم 1 لاکھ روپے ہے، تو یہ رقم بھی آپ کی کل رینٹل انکم سے منہا کی جا سکتی ہے۔

3. **پراپرٹی ٹیکس**
جو پراپرٹی ٹیکس آپ نے سال کے دوران پہلے ہی ادا کیا ہو، وہ بھی آپ کی رینٹل انکم سے مائنس کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ نے 50 ہزار روپے پراپرٹی ٹیکس ادا کیا ہے تو یہ رقم بھی ٹوٹل رینٹل انکم سے کٹوتی میں شامل ہو جائے گی۔

4. **بینک سود**
اگر آپ نے اپنی پراپرٹی خریدنے کے لیے یا کسی دوسری ضرورت کے تحت بینک سے قرض لیا ہو تو اس قرض پر دیا جانے والا سود بھی رینٹل انکم میں سے مائنس ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ بینک کو لون کی صورت میں ماہانہ سود دے رہے ہیں تو اس سود کی رقم کو بھی آپ رینٹل انکم سے کٹوتی کر سکتے ہیں۔

5. **لیگل اور ٹرانسفر اخراجات**
اگر کرایہ داری کے دوران پراپرٹی کی ملکیت یا کرایہ داری کی منتقلی کے لیے کسی قانونی تقاضے کو پورا کرنے کے اخراجات کیے گئے ہوں تو انہیں بھی آپ اپنی کل رینٹل انکم میں سے مائنس کر سکتے ہیں۔ اس میں ٹرانسفر فیس، قانونی فیس اور دیگر متعلقہ اخراجات شامل ہو سکتے ہیں۔

6. **متفرق اخراجات**
قانون کے مطابق آپ کچھ متفرق اخراجات کو بھی کٹوتی میں شامل کر سکتے ہیں، جو کہ کل رینٹل انکم کا 4% ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کی رینٹل انکم 1.5 ملین ہے، تو اس کا 4% یعنی 60 ہزار روپے کٹوتی میں شامل کیا جا سکتا ہے، جو غیر متوقع یا متفرق اخراجات کو کور کرنے کے لیے ہے۔

7. **اضافی ریپیئر اور مینٹیننس خرچ**
اگرچہ سسٹم 20% ریپیئر اور مینٹیننس الاؤنس فراہم کرتا ہے، مگر اگر آپ کی مرمت اور مینٹیننس کے اخراجات 20% سے زیادہ ہوں اور آپ نے اضافی مرمت کا کام کروایا ہو تو یہ اضافی خرچ بھی کل رینٹل انکم میں سے منہا کیا جا سکتا ہے۔

یہ تمام اخراجات آپ کی رینٹل انکم کو کم کرکے ٹیکس کو درست اور منصفانہ بنا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ درست فائلنگ آپ کو مالی نقصان سے بچا سکتی ہے۔
عموماً پراپرٹی انکم کی ٹیکس فائلنگ میں ایک سادہ اصول اپنایا جاتا ہے جس میں سسٹم ہمیں صرف 20 فیصد ریپیئر اور مینٹیننس کی مد میں الاؤنس دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم بقیہ ضروری اخراجات کو مائنس نہیں کرتے، جس کی وجہ سے ہماری ریٹرن مکمل طور پر درست نہیں ہوتی اور یا تو ہم زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں یا کم۔

یہی وجہ ہے کہ ضروری ہے کہ چاہے آپ خود ریٹرن فائل کریں یا کسی کنسلٹنٹ سے کروائیں، دونوں کو مکمل معلومات ہونی چاہیے اور فائلنگ کرتے وقت دو بار چیک کرنا بھی ضروری ہے تاکہ کسی بھی غلطی کو بروقت درست کیا جا سکے۔

کچھ صورتوں میں پراپرٹی ٹیکس انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 155 کے تحت at source کٹ ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ اپنی رینٹل انکم پر قابلِ ادائیگی ٹیکس میں یہ ایڈجسٹمنٹ کر سکتے ہیں۔ مثلاً، اگر آپ کے کرایہ پر ایک لاکھ روپے ٹیکس بنتا ہے اور آپ نے پہلے ہی 70 فیصد (70 ہزار روپے) ودہولڈنگ کی صورت میں ادا کیا ہوا ہے تو سی پی آر کے ذریعے اس رقم کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے بقیہ 30 ہزار روپے ٹیکس جمع کروا سکتے ہیں۔

یہ معمولی باتیں ٹیکس پیئر کے مالی فائدے اور ریٹرن کے درست ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لیے، ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت ان تمام پہلوؤں کا دھیان رکھیں۔

Address

Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923030372863

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ehsan Legal Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ehsan Legal Services:

Share