Learn With Lawyer

Learn With Lawyer Lawyer & law firm

پنجاب  حکومت نے بیان حلفی اسٹامپ پیپرز کی فیس میں اضافہ کر دیا.ای سٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کردی گئ...
23/01/2026

پنجاب حکومت نے بیان حلفی اسٹامپ پیپرز کی فیس میں اضافہ کر دیا.
ای سٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کردی گئی ،

*پراپرٹی سیلز ایگریمنٹ ای سٹامپ پیپر کی فیس 1200 روپے سے بڑھا کر 3ہزار روپے کردی گئی ہے ۔*

پراپرٹی کے علاوہ کسی بھی معاہدے کیلئے استعمال ہونے والے ای سٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 500 کردی گئی ہے ۔

*5 لاکھ روپے تک معاہدے کیلئے ای سٹامپ پیپر کی فیس 1200 سے بڑھا کر 3 ہزار کردی گئی ہے ،5 لاکھ روپے سے 10 لاکھ روپے تک معاہدے کی فیس میں 3 ہزار اضافہ کردیا، ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کیلئے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپر کی فیس میں 20 ہزار روپے اضافہ کیا گیا ۔*

طلاق کیلئے استعمال ہونے والے سٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 1 ہزار روپے مقرر

*پاور آف اٹارنی کے ای سٹامپ پیپر فیس 1500 سے 1800 اضافہ کیا گیا ہے۔*
دعا گو ا
محمد نصر اللہ خان ایڈووکیٹ
03366449966

17/01/2026

2023 YLR 675
وارثت تقسیم کے مطابق اگر کوئی مسلمان مرد وفات ہو جائے اور اس کے بچے نہ ہو تو بیوی کو اس کے جائداد میں 1/4 حصہ ملے گا اور 3/4حصہ باقی قانونی وارثہ میں تقسیم کیا جائے گا اور اگر فوت شدہ کا حقیقی بھائی اس کے وفات کے بعد چند ماہ بعد وفات ہو جائے تو 3/4 میں سے 1/8حصہ اس بھائی کے بیوی کو حاصل ہوگا جبکہ 2/3اس کے بیٹیوں کو حاصل ہوگا آگر اس بیٹا نہ ہو تو 1/3 باقی قانونی وارثہ میں تقسیم کیا جائے گا When a Muslim man dies leaving behind a wife but no issue, his wife will inherit 1/4th share of his property. The remaining 3/4th will go to the remaining legal heirs. In this proposition one real brother of the deceased was left who died after one month of deceased. He had a wife and three daughters. Now remaining 3/4th property will be divided to his legal heirs. His wife will get share as sharer to the extent of 1/8th of the property, 3/4th and 2/3rd of the remaining property will be given to the daughters (three in number) with equal share. Now if the deceased had a son then the sons of deceased’s stepbrother would not get any share, but in this case since Abdul Rehman had only three daughters and no son, therefore, the remaining 1/3rd will go to the sons of the deceased Muhammad Iqbal
2022 SCMR 1558

There is a clear distinction between (a) cases in which an heir alleges that his/her rights to inheritance have been disregarded and his/her share not mentioned in the inheritance mutation, and (b) those cases in which such an heir sits idly by, does not challenge mutation entries of long standing, or acquiesces, and only comes forward when third party rights in the subject land have been created. To succeed in respect of the latter (b) category cases an heir must demonstrate that he/she was not aware of having been deprived, give cogent reasons for not challenging the property record of long standing, and show complicity between the buyer and the seller (the ostensible owner) or that the buyer knew of such heir’s interest yet proceeded to acquire the land. If these two categories are kept in mind, then the judgments of this court, respectively relied by both sides, which are apparently at variance, become reconcilable.
Law of Inheritance.....

مکمل قانون وراثت اردو میں
(جائیداد کی تقسیم)

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.
(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے گا.

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.
(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.
(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے.
(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے

اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.
(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا

اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گا.
(7): کلالہ:

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے،

یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.

(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضر رساں نہ ہو.
(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ..
اسلامی قانون میں "عاق" کا کوئی تصور نہیں۔ اگر والدین اولاد کو عاق بھی کردیں تب بھی انکی وفات کے عاق کی گئی اولاد بھی وراثت کی حقدار ھو گی۔ Inheritance---Under islamic law, there was no institution of abandonment (aaq) for a disgruntled son/daughter depriving him/her from his/her inheritance.
PLD 2013 Lahore 464

Pronouncement of disinheritance/Aaq Nama did not disentitle a person from his share in inheritance.
2011 YLR 697
وارث مقدمات دو قسم کے ہوتے ہیں ان دونوں کے درمیان واضح فرق ہے۔ پہلی، ایسی صورتیں جن میں وارث یہ الزام لگاتا ہے کہ وراثت میں اس کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے اور وراثت کی تبدیلی میں اس کے حصہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اور دوسری وہ صورتیں جن میں ایسا وارث خاموش بیٹھا ہے، طویل عرصے کے اتپریورتن اندراجات کو چیلنج نہیں کرتا ہے۔ کھڑا ہوتا ہے، یا تسلیم کرتا ہے، اور صرف اس وقت آگے آتا ہے جب موضوع کی زمین میں فریق ثالث کے حقوق بنائے گئے ہوں---دوسری قسم کے مقدمات میں کامیابی کے لیے وارث کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ اسے محروم کیے جانے کا علم نہیں تھا، طویل عرصے سے جائیداد کے ریکارڈ کو چیلنج نہ کرنے کی وجوہات، اور خریدار اور بیچنے والے (ظاہر مالک) کے درمیان پیچیدگی ظاہر کریں یا یہ کہ خریدار کو وارث کی دلچسپی کا علم تھا پھر بھی زمین حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھا۔۔

2022 SCMR 1558
Inheritance ---Limitation for challenging an Inheritance mutation---Acquiescence by heir---Clear distinction was to be drawn between two sets of cases; first, cases in which an heir alleges that his/her rights to Inheritance have been disregarded and his/her share not mentioned in the Inheritance mutation, and second those cases in which such an heir sits idly by, does not challenge mutation entries of long standing, or acquiesces, and only comes forward when third party rights in the subject land have been created---To succeed in respect of the second category cases an heir must demonstrate that he/she was not aware of having been deprived, give cogent reasons for not challenging the property record of long standing, and show complicity between the buyer and the seller (the ostensible owner) or that the buyer knew of such heir's interest yet proceeded to acquire the land

: 2022 SCMR 1558
Ss. 39 & 42---Suit for declaration and cancellation of Inheritance mutation---Acquiescence, principle of---Legal heir allowing third party interest to be created in the property and only challenging the same belatedly---In the present case, courts below did not pay heed to the interest in the subject land created in a third party, that is, a property developer; and, also disregarded the fact that third party interest was created before the legal heir objected to the Inheritance mutation---Significance of the fact that the property developer had created further interest in the subject land by earmarking plots in a Housing Scheme and allotting as many as 444 plots was also not considered---Despite the fact that it would be the allottees of these 444 plots who would suffer the consequences, and do so for something for which they were not responsible---Once the interest of the said 444 came to light they should have been arrayed as defendants in the suit by the plaintiffs, and if the plaintiffs failed to amend the plaint it was incumbent upon the Judge of the Trial Court to do so---Depriving 444 allottees to be of their valuable property rights without them being heard by the Trial and/or Appellate Courts, by the High Court and then by the Supreme Court would be legally indefensible---Courts below disregarded the principle of acquiescence; and the fact of third party interest having been created in the subject land; and that further third parties had acquired proprietary rights in the said land; and, that such interest was acquired in land which was shown in the record of rights of long standing, which remained unchallenged---Courts below also ignored the fact that the legal heir took no action for forty-five years, and that she submitted her application to the revenue authorities only after the creation of the third party interest in the subject land---Plaintiffs, having stood by idly allowed third party interest to be created in the subject land, and could then not complain and claim the said land---Petitions for leave to appeal were converted into appeals and allowed, and consequently, the suit filed by the legal heir was dismissed.

PLD 2021 Balochistan 172

بلوچستان ہائی کورٹ کا وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق تاریخی فیصلہ: ’اگر جائیداد خواتین شیئر ہولڈرز کا نام نکال کر منتقل کی تو یہ عمل کالعدم ہو گا‘

بلوچستان کی ہائی کورٹ نے وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وراثت پہلے تمام شیئر ہولڈرز بشمول خواتین کے نام منتقل کی جائے اور پھر اس کے بعد اس کے انتقال کی کارروائی کی جائے گی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ’اگر کوئی بھی جائیداد خواتین شیئر ہولڈرز کا نام چھپا کر یا نکال کر منتقل کی گئی تو انتقال کا سارا عمل کالعدم ہو جائے گا اور سول عدالت سے رجوع کیے بغیر یہ سارا عمل پلٹا دیا جائے۔‘

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس کامران ملا خیل پر مشتمل بینچ نے کہا ہے کہ ’خواتین کے حقوق کا تحفظ قرآن مجید میں کیا گیا ہے جس سے انکار کسی صورت نہیں کیا جاسکتا لہذا خواتین اپنے متوفی کی میراث میں حقدار ہیں۔‘

عدالت نے یہ حکم بلوچستان کے سینیئر وکیل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر صادر کیا۔

اس درخواست میں یہ کہا گیا تھا کہ وراثت میں خواتین کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سرکاری مدعا علیہان کو یہ حکم جاری کیا جائے کہ مووایبل اور ام مووایبل جائیداد میں خواتین کے حصے کو یقینی بنائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ’فیصلے کی طرف جانے سے پہلے یہ بات ہمیں نوٹ کر لینی چاہیے کہ ہم اکیسویں صدی کا حصہ اور تعلیم یافتہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی خواتین شیئر ہولڈرز کو ان کے حق وراثت سے محروم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

عدالت نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اس عمل کی حوصلہ شکنی کریں اور اسے روکیں۔‘

عدالت کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی خاتون حصہ دار کو اس کے حق سے دستبرداری نامہ، تحفے، دلہن کا تحفہ، نگہداشت الاؤنس، جبر یا کسی بھی ذریعے سے اس کے متوفی وارث کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘

عدالت نے قرار دیا کہ اگر ان وجوہات یا کسی بھی طرح خاتون وارث کو وراثت سے محروم کیا گیا تو اس کے انتقال کا سارا عمل کالعدم ہو جائے گا۔‘

عدالت نے حکم دیا کہ بلوچستان بھر میں کہیں بھی سیٹلمنٹ کا عمل اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک یہ یقینی نہ بنایا جائے کہ خاتون وارثوں کے نام اس میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اگر کسی خاندان میں کوئی خاتون نہیں ہے تو ریونیو حکام متعلقہ تفصیلات میں خاص طور پر اس کا ذکر کریں گے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے بینچ نے کہا کہ سیکریٹری یا سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو اس ضمن میں یہ بات نہ صرف یقینی بنائیں گے بلکہ اپنے ماتحت ریونیو یا سیٹلمنٹ اہل کاروں کو بھی اس کی ہدایت کریں گے کہ کسی بھی علاقے میں سیٹلمنٹ آپریشن شروع کرنے سے قبل مطلوبہ علاقے کی مقامی زبان اور اردو میں کتابچے تقسیم کیے جائیں۔

عدالت نے کہا کہ یہ کتابچے اور ہینڈ بلزگرلز سکولوں، کالجز، ہسپتالوں میں لیڈی کانسٹیبل، لیڈی ٹیچر یا متعلقہ بنیادی صحت مرکز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی نرس یا میڈ وائف کے ذریعے تقسیم کرائے جائیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ سیٹلمنٹ والے علاقوں کے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو پابند بنایا جائے کہ وہ ان علاقوں کی نہ صرف مساجد اور مدارس میں لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے اعلان کروائیں بلکہ سیٹلمنٹ آپریشن والے مقررہ علاقوں کی حدود میں نقاروں کے ذریعے علاقے میں بھی اعلانات کروائیں۔

عدالت نے ڈی جی نادرا کو حکم دیا کہ وہ متعلقہ ضلع و تحصیل کے ریونیو آفس میں رجوع کرنے یا درخواست دینے والوں کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کریں جو اس متوفی مورث کا شجرہ نسب فراہم کرے گا جس کی جائیداد تقسیم ہونی ہے، یا پھر سیٹلمنٹ آپریشن کے دوران مرحوم اور اس کی جائیداد میں تمام قانونی وارثین چاہے مرد ہوں یا خواتین، ان کے ناموں کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی۔

ڈی جی نادرا کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ وہ رجسٹریشن ٹریک سسٹم (RTS) کے ذریعے قانونی وارث خاتون کی شادی کے بعد اس کے شوہر کے شجرہ نسب میں نام کی شمولیت یقینی بنائے اور خواتین کو ان کے قانونی حق سے کسی بھی طرح محروم رکھنے سے بچانے کے لیے والد کی طرف سے بھی شجرہ نسب معلوم کرے۔

عدالت نے سیکرٹری اور ممبر بورڈ آف ریونیوکو حکم دیا کہ وہ ریونیو آفس میں خصوصی ڈیسک کے قیام تک شجرہ نسب کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے ڈی جی نادرا کے مکمل میکنزم کی تشکیل کے لیے اجلاس بلوائیں اور میکنیزم کی تشکیل تک اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے عبوری طریقہ کار وضع کریں۔
عدالت کی جانب سے سکریٹری اور ممبر بورڈ آف ریونیو کو مزید حکم دیا گیا کہ وہ ایک شکایت سیل ایڈیشنل سیکرٹری رینک کے افسر کی نگرانی میں ریونیو آفس میں قائم کریں گے تاکہ سیٹلمنٹ آپریشن و وراثت کے عمل میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے اور اس کے ذریعے غیر قانونی مراعت کے امکان کو بھی رد کیا جا سکے۔

عدالت نے بورڈ آف ریونیو اور اس کے ماتحت عملے کو سختی سے حکم دیا کہ قانونی وارث کو محروم رکھنے کی شکایت موصول ہوئی تو ایسے غلط کام کرنے والوں کے خلاف تعزایرت پاکستان کے 498A کے تحت کیس درج کر کے قانونی کارروائی شروع کی جائے۔
فیصلے میں سول عدالتوں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وراثت سے متعلق دائر مقدمات جو کہ زیرالتوا ہیں ان کا فیصلہ اس حکم کے موصول ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر کر دیا جائے یا پھر التوا کیسز کے لیے یہ مدت چھ ماہ سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی نیا مقدمہ قائم ہوتا ہے تو اسے بطور وراثت کا مقدمہ/اپیل/ رویژن/ پٹیشن درج کیا جائے
اور اس کا فیصلہ تین ماہ میں بغیر مزید وقت دیے کر دیا جائے۔
دعا گو محمد نصر اللہ خان ایڈووکیٹ ھای کورٹ لاہور
03366449966

14/01/2026
حکومتِ پنجاب کا اہم اور تاریخی فیصلہحکومتِ پنجاب نے لینڈ ریکارڈ کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے، جس ...
31/12/2025

حکومتِ پنجاب کا اہم اور تاریخی فیصلہ
حکومتِ پنجاب نے لینڈ ریکارڈ کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت پٹواریوں، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ افسران کے بعض اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔
اب درج ذیل امور واضح طور پر نافذ ہوں گے:
بغیر تحریری اور قانونی دستاویز کے کوئی انتقال درج نہیں کیا جائے گا۔
عدالتی حکم کے بغیر وراثت کا انتقال ممکن نہیں ہوگا۔
رجسٹری کے بغیر کسی بھی قسم کا انتقال درج نہیں کیا جائے گا۔
کسی گواہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔
نیا طریقۂ کار
تمام انتقالات سب رجسٹرار یا ای سہولت مرکز کے ذریعے کیے جائیں گے۔
فردِ بیع کے حصول کے بعد ہی انتقال درج کیا جائے گا۔
یہ اقدام عنوانِ ملکیت میں شفافیت، بدعنوانی کے خاتمے اور عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اور انقلابی قدم ہے۔

تباہ ہو جاتا ہے وہ معاشرہ جہاں !لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں
29/12/2025

تباہ ہو جاتا ہے وہ معاشرہ
جہاں
!لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں

26/12/2025
جنم دن مبارک ہو وکیل صاحب 😘
25/12/2025

جنم دن مبارک ہو وکیل صاحب 😘

لاہور میں ایڈیشنل سیشنز جج نور محمد بسمل کے کمرے سے 2 سیب اور ایک ہینڈ واش چوری ہو گیا ہے جس کی ایف آئی آر تھانہ اسلام پ...
09/12/2025

لاہور میں ایڈیشنل سیشنز جج نور محمد بسمل کے کمرے سے 2 سیب اور ایک ہینڈ واش چوری ہو گیا ہے جس کی ایف آئی آر تھانہ اسلام پورہ میں درج کر کے پولیس نے تفتیش شروع کر دی اور چور کو ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں جج کے کم عمر بیٹے نے اپنی تیز رفتار گاڑی کے نیچے کچل کر دو لڑکیوں کو ہلاک کر دیا۔ بچہ جو گاڑی چلا رہا تھا بتایا جا رہا ہے کہ اس کی نمبر پلیٹ بھی اوریجنل نہیں تھی۔ لڑکیوں کے والدین نے ملزم کو معاف کر دیا۔ جج صاحب کا بیٹا ایک دن کیلئے بھی جیل نہیں گیا۔
لیکن جس ملازم پر یہ سیب چوری کا الزام جاتا ہے وہ ضرور ڈسمس فرام سروس ہو گا۔

انتہائی دلچسپ فیصلہ! ضرور پڑھیں😏۔صدیق گھمن نامی ایک شہری کی فیس بک پر "شازیہ سعید" نامی دوشیزہ سے دوستی ہوگئی۔ باتوں بات...
08/12/2025

انتہائی دلچسپ فیصلہ! ضرور پڑھیں😏۔
صدیق گھمن نامی ایک شہری کی فیس بک پر "شازیہ سعید" نامی دوشیزہ سے دوستی ہوگئی۔ باتوں باتوں میں شازیہ نے صدیق صاحب سے نیا موبائل فون گفٹ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ گھمن صاحب کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، تم اپنا ایڈریس بھیجو میں ابھی بھجواتا ہوں۔ شازیہ نے کہا "گھمن تو مروائے گا، میرے گھر موبائل بھجوا کر، یوں کر کہ فلاں TCS کے دفتر کورئیر کروادے میں خود وہاں سے ریسیو کرلوں گی"۔ گھمن صاحب نے نیا OPPO کا فون خریدا اور TCS کی "سیلف کولیکشن" سروس لی کہ یہ موبائل TCS آفس سے صرف شازیہ کو دیا جائے، اسکے عوض گھمن نے موبائل کے انشورنس چارجز بھی ادا کیے۔
چند روز بعد شازیہ نے صدیق گھمن کو فیس بک پر میسج کرکے بتایا کہ مجھے موبائل مل گیا ہے۔ لیکن اس کے بعد رابطہ شابطہ ختم۔۔۔۔کوئی رپلائی نہیں اور بالآخر گھمن صاحب بلاکڈ۔

گھمن نے ہمت نہیں ہاری، TCS سے رابطہ کیا کہ تم نے شازیہ کو موبائل دیا تھا تو اسکا کوئی اتہ پتہ ہوگا وہ مجھے دیا جائے۔ TCS والوں نے ریکارڈ دیکھ کر بتایا کہ ہمارے پاس تو شازیہ نہیں بلکہ عامر نامی لڑکا آیا تھا کہ میں شازیہ کا بھائی ہوں، بہن دفتر نہیں آسکتی تو موبائل مجھے ریسیو کروا دیا جائے، ہم نے کروا دیا۔ گھمن اس پر تپ گیا کہ جب میں نے 'سیلف کولیکشن' سروس لیتے وقت یہ تاکید کہ تھی موبائل صرف شازیہ کو ہی دیا جائے تو پھر تم نے کسی اور کو کیوں دیا؟ گھمن نے TCS کو لیگل نوٹس بھجوا دیا۔

اس پر TCS نے شازیہ کے "بھائی" عامر کو پکڑا۔ جلد ہی عامر نے بتا دیا کہ "میں ہی 'شازیہ سعید' ہوں، میں نے ہی اس نام کی فیک آئی ڈی سے گھمن کو گھیرا اور موبائل منگوایا، یہ پکڑیں موبائل اور گھمن کو واپس کردیں"۔ کمپنی نے موبائل واپس کرنے کیلئے گھمن سے رابطہ کیا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے گھمن کو مزید غصہ آگیا، گھمن نے کمپنی سے موبائل کے علاوہ 24 ہزار روپے ہرجانے کا مطالبہ کر دیا کہ یہ کمپنی کی غلطی ہے، "سیلف کولیکشن" سروس کے تحت کمپنی صرف "شازیہ" کو موبائل دینے کی مجاز تھی، اگر وہ نہیں آئی تو موبائل مجھے واپس بھجوایا جاتا۔ کمپنی نے ہرجانہ دینے سے انکار کیا کہ غلطی تمہاری ہے جو تم نے ایک فیک نام کی آئی ڈی پر موبائل بھجوایا۔

صدیق گھمن نے کنزیومر کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا، عدالت نے مکمل ٹرائل کے بعد TCS کمپنی کو 24 ہزار انشورنس ہرجانے کے علاوہ مزید ایک لاکھ روپے گھمن صاحب کو ادا کرنے کا حکم دیا کہ گھمن کا جائز مطالبہ پورا نہ کرنے پر اسے مقدمہ کرنا پڑا۔ کمپنی نے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی، یہاں صدیق گھمن نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور اپنے ساتھ ہوئی زیادتی ثابت کی۔ ہائیکورٹ نے کمپنی کی اپیل خارج کرتے ہوئے کنزیومر کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

یوں گھمن کو شازیہ تو نہ مل سکی، البتہ سوا لاکھ ہرجانہ مل گیا۔

بچہ حقیقی والدین سے لے کر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا فیصلہ۔لاہور ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے جس میں عدالت نے لے پا...
03/12/2025

بچہ حقیقی والدین سے لے کر لے پالک والدین کے حوالے کرنے کا فیصلہ۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے جس میں عدالت نے لے پالک والدین کو بچے کی کسٹڈی کا حقدار قرار دیا اور حقیقی والدین سے بچہ لے لیا۔
ایک بھائی کی 6 بچیاں تھیں۔ دوسرے بھائی نے اپنا بیٹا پیدا ہونے پر یہ بچہ اپنے بھائی کو دے دیا۔ اس بھائی کے پاس پہلے سے 13 بچے تھے۔ پہلے بھائی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو دوسرے بھائی نے کیس کر دیا کہ اب تمہارا اپنا بیٹا پیدا ہو گیا ہے تو میرا بچہ مجھے واپس کر دو۔ اس بیٹے کی عمر اب تک 9 سال ہو چکی تھی۔ ٹرائل کورٹ نے فیصلہ حقیقی والدین کے حق میں کر دیا۔ لے پالک والدین نے اپیل فائل کی۔ ڈسٹرکٹ جج نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ لے پالک والدین ہائیکورٹ آ گئے۔ جسٹس فیصل زمان خان نے بچہ ایک ہفتے کیلئے حقیقی والدین کے حوالے کیا۔ ایک ہفتے بعد اسے عدالت بلا کر پوچھا۔ اس نے حقیقی کے بجائے لے پالک والدین کے ساتھ رہنے کا فیصلہ دیا۔ اس عدالتی لڑائی کے دوران بچے کی عمر 13 سال ہو چکی تھی۔ عدالت نے بچے کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی فیصلہ دیا۔ عدالت نے جو وجوہات لکھیں۔ درج ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حقیقی والدین نے یہ بچہ کسی کو دیا تھا۔ لے پال والدین کے ہاں بھی بچے کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کی پرورش میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ حقیقی والدین کچھ بھی ایسا ثابت نہیں کر سکے کہ بچہ وہاں تکلیف یا مصیبت کا شکار ہے۔ یہ کوئی وجہ نہیں کہ اب لے پالک والدین کے ہاں خود کا بیٹا پیدا ہو گیا ہے تو ہمارا ہمیں واپس کر دیں۔ ایک بچہ جو 9 سال تک ایک جوڑے کو اپنا والدین سمجھتا رہا ایک صبح اس پر اچانک بم پھوڑ دیا جائے کہ یہ 6 بہنیں اور ایک بھائی اس کے اپنے نہیں۔ بچے کے کیا جذبات ہوں گے۔ گھریلو تنازع کی بنیاد پر حقیقی والدین نے بچے کی حوالگی کا دعویٰ دائر کیا، موجودہ کیس میں بچے کی فلاح نہیں بلکہ گھریلو تنازع دعوے کی وجہ بنا۔ عدالت نے کہا کہ بچوں کی حوالگی کے کیس میں ان کی خواہش اور ذہنی کیفیت کو مقدم رکھا جائے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بچے کی رائے کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
عدالت نے کہا کہ بچے کی حوالگی کے کیس میں اصولی طور پر حقیقی والدین کو ترجیحی حق حاصل ہوتا ہے، حقیقی والدین نے اپنی مرضی سے پیدائش کے وقت بچہ اپنے بھائی کو دیا، لے پالک والدین نے 9 سال تک بچے کی پرورش کی، اس کی عمر 13 برس ہو چکی ہے۔ تاہم موجودہ کیس میں بچے نے لے پالک والدین کے ساتھ جانے کا بیان دیا، عدالت نے ایک ہفتے کے لیے بچے کو حقیقی والدین کے ساتھ بھیجا۔ بچے نے دوبارہ پیشی پر پھر لے پالک والدین کے ساتھ جانے کا بیان دیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حقیقی والد کی 3 شادیاں اور 13 بچے ہیں، اتنے بڑے خاندان میں بچے کو بھیجنا مناسب نہیں، حقیقی والدین یہ نہیں ثابت کر سکے کہ بچے کی بہتر پرورش نہیں ہوئی۔ بھائی نے پیدائش کے وقت اپنی مرضی سے بچہ انہیں دیا تھا۔ اب یہ لے پالک والدین کے پاس ہی رہے گا۔

25/11/2025

ان کے پاس تختی بنوانے کا ٹائم بھی نہیں تھا کمپیوٹر سے پرنٹ نکالا اور لکھ دیا آئینی عدالت!
عامر نواز وڑائچ

25/11/2025

Address

Link Fareed Kot Road People's Building Near Lahore High Court
Lahore

Telephone

+923178047675

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Learn With Lawyer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Learn With Lawyer:

Share