Peace International Law Firm

Peace International Law Firm Welcome to Peace International Law Firm
We’re dedicated to providing clear,reliable legal guidance to our clients.

With a commitment to integrity, experience,and personalized service,our team here to help you navigate complex legal matters with confidence

🍖 آپ کے علاقے میں مٹن کڑاہی کا کیا ریٹ چل رہا ہے؟ 🤔اپنے شہر/علاقے کا نام اور فی کلو مٹن کڑاہی کا ریٹ کمنٹ میں ضرور بتائی...
31/08/2026

🍖 آپ کے علاقے میں مٹن کڑاہی کا کیا ریٹ چل رہا ہے؟ 🤔

اپنے شہر/علاقے کا نام اور فی کلو مٹن کڑاہی کا ریٹ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ 👇

#پاکستان

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ والد کی موجودگی میں بچوں کی کسٹڈی نانی کو نہیں دی جا سکتی۔
31/08/2026

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ والد کی موجودگی میں بچوں کی کسٹڈی نانی کو نہیں دی جا سکتی۔

کٹی ہوئی سبزیاں بیچنے کا انوکھا بزنس حیدرآبادی نوجوان نے" انجینیئرسبزی والا" کے نام سے سبزیاں کاٹ کر بیچنے کا بزنس شروع...
31/08/2026

کٹی ہوئی سبزیاں بیچنے کا انوکھا بزنس
حیدرآبادی نوجوان نے" انجینیئرسبزی والا" کے نام سے سبزیاں کاٹ کر بیچنے کا بزنس شروع کردیا،تاکہ گھر بیٹھی
خواتین کے وقت کی بچت ہوسکے ،

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ، 18 سال سے کم عمر کی شادی غیرقانونی قرارپنجاب چائلڈ میرج ری سٹری...
31/08/2026

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ، 18 سال سے کم عمر کی شادی غیرقانونی قرار

پنجاب چائلڈ میرج ری سٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت فیصلہ جاری

عدالت میں حنا اسلم کی نکاح کے وقت عمر 15 سال ہونے کا انکشاف

کم عمر بچی کی شادی کے خلاف نئی ایف آئی آر کی درخواست پر پولیس کو تحقیقات کا حکم

جسٹس آف پیس کا اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

کم عمر بچی کی شادی سے متعلق نئے شواہد پر پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ کا حنا اسلم کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کرنے کا حکم

حنا اسلم کی حفاظت، فلاح و بہبود اور مفادات کو مقدم رکھا جائے۔ عدالت

بچے کی مرضی اہم لیکن کم عمری میں خود بخود فیصلہ کن نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت

کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف قانون کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ عدالت

قابل سزا جرم کی موجودگی کا تعین کرنے کے لئے نئے مقدمے کی تحقیقات کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے متعلقہ اداروں کو اقدامات کا حکم
Child marriage. The child's purported consent cannot legitimize cohabitation expressly treated as child abuse under the Punjab Child Marriage Restraint Act, 2026, and her welfare and best interests remain paramount in determining custody and protective placement. Where a subsequent complaint discloses distinct cognizable offences relating to the solemnization and facilitation of a child marriage, it is not barred as a second FIR under Sughran Bibi; As an interim protective measure, custody of a child who is prima facie a victim of child abuse may be entrusted to the Child Protection and Welfare Bureau to safeguard her rights and provide a secure environment until her safety and well-being are assured. The question of permanent custody may thereafter be determined by the competent Guardian Judge in accordance with the welfare and best interests of the child.
W.P. 46868/26
Muhammad Aslam Vs Additional Sessions Judge etc
Mr. Justice Munawar Iqbal Duggal
2026 LHC 5390
ANNOUNCED IN OPEN COURT on 31.08.2026

⚖️ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم قانونی آگاہیکسی شخص کا مالک کی اجازت کے بغیر بیرونِ ملک پاکستانی کی جائیداد پر ...
30/08/2026

⚖️ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم قانونی آگاہی

کسی شخص کا مالک کی اجازت کے بغیر بیرونِ ملک پاکستانی کی جائیداد پر قابض ہونا قانونی جرم ہے۔ حتیٰ کہ ملازم بھی مالک کے نام پر رقم وصول کرنے یا جائیداد سے متعلق معاملات میں مالک کی واضح اجازت اور قانونی اختیار کا پابند ہے۔

اپنے قانونی حقوق اور جائیداد کے تحفظ کے لیے بروقت قانونی مشورہ حاصل کریں۔

Peace Law Company & Associates
🌐 www.peacelaw.pk

30/08/2026
بغیر لائسنس مسافر بس چلانا ’’قتل بالسبب‘‘ ہے، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہشجاع آباد کے دو سگے بھائی، ان کا چچا زاد کزن یا...
30/08/2026

بغیر لائسنس مسافر بس چلانا ’’قتل بالسبب‘‘ ہے، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

شجاع آباد کے دو سگے بھائی، ان کا چچا زاد کزن یاسر اور ایک دوست دو موٹر سائیکلوں پر مہندی کی خریداری کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔ یاسر کی اگلے روز شادی تھی، مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔

15 نومبر 2025ء کی شام ایک بس، جو انتہائی تیز رفتاری اور غفلت کے ساتھ غلط سمت سے آ رہی تھی، نے دونوں موٹر سائیکلوں کو کچل دیا۔ خوفناک حادثے کے نتیجے میں چاروں نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ بس ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔

واقعے کی ایف آئی آر ابتدا میں نامعلوم ڈرائیور کے خلاف درج ہوئی۔ دورانِ تفتیش بس مالکان نے پولیس کو بتایا کہ بس ریاض حسین کے حوالے کی گئی تھی اور حادثے کے وقت وہی اسے چلا رہا تھا، جس پر ریاض حسین کو ملزم نامزد کرکے گرفتار کرلیا گیا۔

تفتیش کے دوران یہ اہم بات بھی سامنے آئی کہ ملزم کے پاس Heavy Transport Vehicle (HTV) کا ڈرائیونگ لائسنس تو موجود تھا، لیکن Public Service Vehicle (PSV) چلانے کا لائسنس موجود نہیں تھا، جو مسافر بس چلانے کے لیے ضروری تھا۔

مجسٹریٹ اور سیشن کورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد ملزم نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

ملزم کے دلائل

ملزم کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ:

• اس کا نام ابتدائی ایف آئی آر میں موجود نہیں تھا اور اسے بعد میں نامزد کیا گیا۔
• واقعے پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 (قتل بالسبب) لاگو نہیں ہوتی۔
• معاملہ دفعہ 320 (غفلت سے ڈرائیونگ کے باعث قتلِ خطا) کے زمرے میں آتا ہے، جو قابلِ ضمانت جرم ہے۔
• اگر دفعہ 322 کا اطلاق تسلیم بھی کیا جائے تو اس کی سزا صرف دیت ہے، لہٰذا ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 497 کی پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

جسٹس تنویر احمد شیخ نے 20 اگست 2026ء کو فیصلہ تحریر کرتے ہوئے قرار دیا کہ دفعہ 320 اس صورت میں لاگو ہوتی ہے جب ڈرائیور کے پاس مؤثر لائسنس موجود ہو، اس کا ڈرائیونگ کا عمل قانونی ہو، لیکن حادثہ غفلت یا لاپرواہی کے باعث پیش آئے۔

اس کے برعکس دفعہ 322 اس وقت لاگو ہوتی ہے جب کوئی شخص قتل کے ارادے کے بغیر ایسا غیر قانونی فعل کرے جس کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہوجائے۔

چونکہ ملزم کے پاس مسافر بس چلانے کے لیے درکار PSV لائسنس موجود نہیں تھا، اس لیے بس چلانے کا عمل بذاتِ خود غیر قانونی تھا۔ لہٰذا عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ دفعہ 322 کے دائرے میں آتا ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ ملزم کا نام ایف آئی آر میں بعد میں سامنے آنا بھی اس کے لیے ضمانت کا مؤثر جواز نہیں، کیونکہ تفتیش کے دوران بس مالکان نے تصدیق کی کہ حادثے کے وقت بس ملزم ریاض حسین کے پاس تھی۔ ملزم یہ ثابت نہیں کرسکا کہ اسے نامزد کرنے میں مدعی یا بس مالکان کی کوئی بدنیتی شامل تھی۔

صرف ’’دیت‘‘ کی سزا ہونے سے ضمانت کا حق پیدا نہیں ہوتا

عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ دفعہ 322 کے تحت سزا دیت ہے، تاہم محض یہ حقیقت کہ سزا دیت ہے، ملزم کو خودکار طور پر ضمانت کا حق نہیں دیتی۔ ضمانت کی درخواست کا فیصلہ مقدمے کے تمام حالات و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

عدالت نے اس ضمن میں سپریم کورٹ کے ماجد ندیم کیس میں غفلت پر مبنی ڈرائیونگ کے مقدمے میں ضمانت مسترد کیے جانے کے اصول کو بھی مدنظر رکھا۔

عدالت کے مطابق ملزم کا فعل انتہائی غفلت اور لاپرواہی پر مبنی تھا، جس کے نتیجے میں چار نوجوانوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، لہٰذا ملزم کسی رعایت کا مستحق نہیں۔

نتیجتاً لاہور ہائیکورٹ نے ملزم ریاض حسین کی درخواستِ ضمانت خارج کردی۔

---

⚖️ اہم قانونی اصول

مسافر بس چلانے کے لیے ضروری PSV لائسنس کے بغیر بس چلانا ایک غیر قانونی فعل ہے، اور اس غیر قانونی فعل کے نتیجے میں موت واقع ہونے کی صورت میں دفعہ 322 تعزیراتِ پاکستان کے اطلاق کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

---

نوٹ: حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے دیت کی رقم 1 کروڑ 93 لاکھ 52 ہزار 390 روپے مقرر کی ہے۔

30/08/2026

2026 SCMR 1042
فراڈ کا فیصلہ ریونیو اتھارٹیز نہیں کر سکتی صرف سول کورٹ کر سکتی ہے

مارک کارنی نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔تفصیلات جانیے:https://jang.com.pk/news/1609627Cour...
22/08/2026

مارک کارنی نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات جانیے:

https://jang.com.pk/news/1609627
Courtesy: Jang

غیر قانونی قبضہ جات سے متعلق شکایت دائر کرنے کے لیے ضروری دستاویزات کی مکمل فہرست ملاحظہ فرمائیں۔ درست اور مکمل کاغذات آ...
20/08/2026

غیر قانونی قبضہ جات سے متعلق شکایت دائر کرنے کے لیے ضروری دستاویزات کی مکمل فہرست ملاحظہ فرمائیں۔ درست اور مکمل کاغذات آپ کے قانونی معاملے کی مؤثر پیروی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

قانونی مشاورت اور رہنمائی کے لیے:
www.peacelaw.pk

Address

Lahore
80896

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Peace International Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Peace International Law Firm:

Shortcuts

Share