The Tax Experts

The Tax Experts FBR
NTN
TAX FILER
GST Registration
NOTICES REPLIES

IPO
TRADE MARK
COPY RIGHT
DESIGN

SECP
PRIVATE

19/05/2026

اہم ٹیکس آگاہی۔
سیکشن 75A انکم ٹیکس آرڈیننس 2001۔

حکومتِ پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے معیشت کو دستاویزی بنانے، کالے دھن کی روک تھام اور مالی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سیکشن 75A کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس قانون کے تحت مخصوص مالیت سے زائد اثاثوں کی خریداری صرف بینکنگ چینل یا ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سیکشن 75A کیا کہتا ہے؟
سیکشن 75A کے مطابق اگر کوئی شخص مخصوص حد سے زائد مالیت کا اثاثہ خریدتا ہے تو اس کی ادائیگی نقد رقم کے بجائے بینکنگ ذرائع سے کرنا ضروری ہوگی تاکہ لین دین کا مکمل ریکارڈ موجود رہے اور اس کی تصدیق کی جا سکے۔

کن اثاثوں پر یہ قانون لاگو ہوتا ہے؟

غیر منقولہ جائیداد
اگر مالیت 50 لاکھ روپے سے زائد ہو، مثلاً:
▪️ پلاٹ
▪️ گھر
▪️ فلیٹ
▪️ دکان
▪️ کمرشل بلڈنگ

دیگر اثاثے
اگر مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد ہو، مثلاً:
▪️ گاڑیاں
▪️ مشینری
▪️ صنعتی آلات
▪️ کاروباری سامان
▪️ قیمتی اثاثے۔

ادائیگی کن ذرائع سے کی جا سکتی ہے؟
قانون کے مطابق درج ذیل ذرائع قابل قبول ہیں:

✔ کراس چیک
✔ پے آرڈر
✔ ڈیمانڈ ڈرافٹ
✔ بینکنگ انسٹرومنٹ
✔ آن لائن بینک ٹرانسفر
✔ ڈیجیٹل ادائیگی
✔ ایک بینک اکاؤنٹ سے دوسرے بینک اکاؤنٹ میں براہِ راست ٹرانسفر۔

متعلقہ قانونی دفعات:
▪️ سیکشن 75A — اثاثوں کی خریداری بینکنگ چینل کے ذریعے
▪️ سیکشن 22 — ڈپریسی ایشن الاؤنس
▪️ سیکشن 23 — ابتدائی الاؤنس
▪️ سیکشن 24 — فرسٹ ایئر الاؤنس
▪️ سیکشن 25 — غیر محسوس اثاثوں کی امارٹائزیشن
▪️ سیکشن 76 — اثاثے کی لاگت کا تعین۔

اگر قانون پر عمل نہ کیا جائے تو کیا ہوگا؟
اگر مقررہ حد سے زائد مالیت کا اثاثہ نقد رقم سے خریدا جائے تو:

سیکشن 22، 23، 24 اور 25 کے تحت ٹیکس فوائد، ڈپریسی ایشن اور دیگر الاؤنسز نہیں مل سکیں گے۔

سیکشن 76 کے تحت خریداری لاگت تسلیم نہ کیے جانے کا خطرہ ہوگا، جس کے نتیجے میں فروخت کے وقت زیادہ ٹیکس بن سکتا ہے۔

۔ FBR شوکاز نوٹس، انکوائری اور جرمانہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔

لین دین کو غیر دستاویزی یا مشکوک تصور کیا جا سکتا ہے۔
بینکنگ ٹریل نہ ہونے کی وجہ سے مستقبل میں قانونی اور ٹیکس تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔

کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہدایات:

√ہر بڑی ادائیگی بینکنگ چینل کے ذریعے کریں۔
√ اپنی بینک اسٹیٹمنٹ، رسیدیں اور معاہدے محفوظ رکھیں۔
√ ادائیگی ہمیشہ اپنے ہی بینک اکاؤنٹ سے کریں۔
√ غیر دستاویزی کیش لین دین سے مکمل اجتناب کریں۔
√ کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے پہلے ٹیکس ماہر سے مشورہ ضرور کریں۔

پیغام:
موجودہ دور میں بینکنگ ٹریل صرف قانونی تقاضہ نہیں بلکہ آپ کے سرمایہ، کاروبار اور ٹیکس مفادات کے تحفظ کی ضمانت بن چکا ہے۔ مناسب دستاویزی ریکارڈ آپ کو مستقبل کے جرمانوں، انکوائریوں اور ٹیکس تنازعات سے محفوظ رکھتا ہے!

00923216326445

01/05/2026
اپنے گھر یا آفس میں بیٹھ کر پنجاب گورنمنٹ کا ای اسٹامپ پیپر خود پرنٹ کرنے کا طریقہ (بیانِ حلفی 300 روپے والا):سب سے پہلے...
16/03/2026

اپنے گھر یا آفس میں بیٹھ کر پنجاب گورنمنٹ کا ای اسٹامپ پیپر خود پرنٹ کرنے کا طریقہ (بیانِ حلفی 300 روپے والا):
سب سے پہلے PLRA کی ویب سائٹ اوپن کریں۔
وہاں موجود Get an e-Stamp کے آپشن پر کلک کریں۔
اس کے بعد Challan Form (Low Denomination) کو اوپن کریں۔
فارم میں مطلوبہ تمام تفصیلات درست طریقے سے درج کریں۔
فارم مکمل کرنے کے بعد اسے Save کر لیں، اس سے آپ کا چالان تیار ہو جائے گا۔
اب اس چالان کو Easypaisa / JazzCash یا کسی بینک کے ذریعے جمع کروا دیں۔
چالان جمع ہونے کے بعد دوبارہ ویب سائٹ پر جا کر Download Stamp Paper کے آپشن پر کلک کریں۔
وہاں Challan Number / PSID درج کریں۔
جو موبائل نمبر آپ نے فارم میں دیا تھا، اس پر Stamp Number آئے گا، اسے بھی درج کریں۔
اس کے بعد اپنا شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر لکھیں۔
پھر Download Stamp پر کلک کریں۔
آخر میں ایک Password / OTP مانگا جائے گا، جو آپ کے موبائل پر آئے گا۔ اسے درج کرنے کے بعد e-Stamp Paper ڈاؤن لوڈ ہو جائے گا اور آپ اسے پرنٹ کر سکتے ہیں۔

27/12/2025

Updated Tax Structure for Property Transactions in Pakistan (Effective from July 2025)

Are you planning to buy or sell property in Pakistan? Here's a quick update on the new tax rates under Sections 236C and 236K of the Income Tax Ordinance, 2001, as proposed in the Finance Act 2025, effective from 1st July 2025.

1-These taxes are advance taxes that are withheld at the time of transaction by the buyer (under Section 236K) or the seller (under Section 236C).

2-The taxes are adjustable. When filing your annual income tax return, you can claim credit for the advance taxes paid under these sections.

3-Filing status matters! Filers enjoy lower tax rates, whereas non-filers face significantly higher rates. Filing your taxes on time can help you avoid extra costs.

Why Does This Matter?

For buyers and sellers: It's crucial to understand these new tax rates and how they' II impact your property transactions after July 2025. Whether you're a filer or non-filer, this can significantly affect the cost of buying or selling property.

For filers: Ensure you are up to date with your tax filings to benefit from lower tax rates.

For non-filers: If you're not registered as a filer with the FBR, now's the time to act and avoid paying higher taxes.

For more details on the full tax structure or to get assistance with your property transactions, it's always best to consult a tax professional. Stay informed and make smarter property decisions!

‎WhatsApp Business 0321 6326445

سونے کی خرید و فروخت کو سمجھنے کا حساب!
15/08/2025

سونے کی خرید و فروخت کو سمجھنے کا حساب!

07/08/2025

اہم اطلاع
سیلز ٹیکس ریٹرن فائلنگ کے لیے کیو آر کوڈ (QR Code) کی شرط ختم کر دی گئی ہے

تمام ٹیکس دہندگان اور متعلقہ افراد کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لیے QR Code کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
یہ اقدام ٹیکس فائلنگ کے عمل کو آسان اور سادہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

اب تمام ٹیکس دہندگان بغیر QR Code کے اپنی سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کروا سکتے ہیں۔

مزید رہنمائی کے لیے اپنے ٹیکس ایڈوائزر یا قریبی ٹیکس آفس سے رابطہ کریں۔

از طرف:
ایڈووکیٹ میاں مبشر حیات
0321 6326445

14/07/2025
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور حتیٰ کہ مین اسٹریم میڈیا پر بھی ایک خبر گردش کرتی رہی کہ حکومت نے بینک ...
14/07/2025

گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور حتیٰ کہ مین اسٹریم میڈیا پر بھی ایک خبر گردش کرتی رہی کہ حکومت نے بینک میں دو لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم جمع کروانے پر 20 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ مختلف چینلز نے نہ صرف عوام کو ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا بلکہ کچھ کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو کیش کی ادائیگی سے گریز کرنے کی ہدایات بھی دی گئیں۔ کچھ نے تو ٹیکس کی شرح 40 فیصد تک بھی بتا دی۔

لیکن یہ ساری بات غلط فہمی یا شاید جان بوجھ کر پھیلائی گئی افواہوں پر مبنی ہے۔ اصل میں، یہ ساری بات مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں کی گئی انکم ٹیکس آرڈیننس 2002 کی کچھ شقوں میں ترمیم سے متعلق ہے — لیکن اس کا عام بینک صارف یا کوئی تنخواہ دار شخص سے کوئی لینا دینا نہیں۔

یہ ترامیم صرف اور صرف کاروباری اداروں اور کمپنیوں پر لاگو ہوتی ہیں، وہ بھی مخصوص حالات میں۔ ترمیم کا مقصد یہ ہے کہ کاروبار نقد لین دین سے ہٹ کر بینکنگ چینلز یا ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ترجیح دیں تاکہ ٹرانزیکشنز کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اصل میں تبدیلی کیا ہے؟
انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 21 کے مطابق، اگر کوئی کاروبار کسی سپلائر کو دو لاکھ روپے یا اس سے زائد کیش میں ادائیگی کرتا ہے، تو اس کی وہ ادائیگی مکمل طور پر بطور اخراجات شمار نہیں کی جائے گی۔ صرف 50 فیصد اخراجات ہی انکم ٹیکس ریٹرن میں قابل قبول ہوں گے، جبکہ باقی رقم کاروبار کے منافع میں شامل ہو جائے گی جس پر ٹیکس لاگو ہو گا۔

اسی طرح اگر کوئی کمپنی کسی ایسے شخص کو ادائیگی کرتی ہے جو نان فائلر ہے (یعنی جس کا نیشنل ٹیکس نمبر/NTN نہیں)، تو اس ادائیگی کا 10 فیصد بھی اخراجات میں شمار نہیں ہوگا۔

لیکن یہاں ایک اہم بات یاد رکھنے کی ہے: یہ قانون صرف کاروباری اداروں پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک عام شہری ہیں اور آپ نے اپنے بینک اکاؤنٹ میں دو لاکھ یا اس سے زیادہ رقم جمع کروائی ہے، تو اس پر کوئی براہ راست ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ نہ ہی ایسا کوئی قانون موجود ہے کہ بینک کی طرف سے آپ کی رقم پر کٹوتی کی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط فہمی کیوں؟
یہ خبر غالباً اس وقت غلط انداز میں عوام تک پہنچی جب انکم ٹیکس آرڈیننس کی ترامیم کو سادہ لفظوں میں بیان کرنے کے بجائے سنسنی خیز انداز میں رپورٹ کیا گیا۔ بعض میڈیا ہاؤسز نے ٹیکس کی اصل نوعیت کو سمجھائے بغیر عوامی خوف و خدشات کو بڑھاوا دیا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ بعض عناصر نے جان بوجھ کر یہ افواہ پھیلائی تاکہ لوگ کیش میں لین دین سے گریز کریں، یا شاید مارکیٹ میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے دباؤ پیدا کیا جائے۔

مثال کے طور پر، اگر کسی کمپنی نے سال بھر میں 60 لاکھ روپے کا مال نان فائلر سپلائر سے خریدا اور کیش میں ادائیگی کی، تو کمپنی صرف 54 لاکھ روپے اخراجات میں شامل کر سکتی ہے، باقی چھ لاکھ روپے اس کے منافع میں شمار ہوں گے، جس پر اسے انکم ٹیکس دینا پڑے گا۔

دوسری مثال میں، اگر کوئی گندم کا تاجر کسی سپلائر کو دو لاکھ سے زیادہ رقم کیش میں ادا کرتا ہے، تو اس ادائیگی کا آدھا حصہ اخراجات میں شامل نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس رقم پر کاروباری منافع کے حساب سے ٹیکس دینا پڑے گا۔

کسان اور براہ راست خریداری کی رعایت
حکومت نے اس بات کا بھی خیال رکھا ہے کہ اگر کوئی شخص براہِ راست کسی کسان سے زرعی پیداوار خریدتا ہے، تو نان فائلر ہونے کے باوجود یہ مکمل اخراجات تسلیم کیے جائیں گے۔ تاہم اگر خریداری مڈل مین کے ذریعے ہو، تو قانون لاگو ہو گا۔

نتیجہ:-
اس تمام بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ بینک میں دو لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم جمع کروانے پر کوئی نیا یا اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے، کم از کم عام شہریوں کے لیے نہیں۔ یہ قوانین صرف کاروباری دنیا سے متعلق ہیں اور ان کا مقصد نقد لین دین کو محدود کرنا اور مالیاتی نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔

لہٰذا، اگر آپ ایک عام صارف ہیں تو بے فکر ہو کر بینک میں رقم جمع کروا سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ایک کاروباری شخصیت ہیں، تو بہتر ہے کہ ادائیگیاں ڈیجیٹل یا بینکنگ ذرائع سے کریں تاکہ انکم ٹیکس کے مسائل سے بچا جا سکے۔
0321 6326445

Address

G-13 Arooj Center FareedKot Road Near Excise Office Lahore
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923216326445

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Tax Experts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Tax Experts:

Share