The Tax Experts

The Tax Experts FBR
NTN
TAX FILER
GST Registration
NOTICES REPLIES

IPO
TRADE MARK
COPY RIGHT
DESIGN

SECP
PRIVATE

27/12/2025

Updated Tax Structure for Property Transactions in Pakistan (Effective from July 2025)

Are you planning to buy or sell property in Pakistan? Here's a quick update on the new tax rates under Sections 236C and 236K of the Income Tax Ordinance, 2001, as proposed in the Finance Act 2025, effective from 1st July 2025.

1-These taxes are advance taxes that are withheld at the time of transaction by the buyer (under Section 236K) or the seller (under Section 236C).

2-The taxes are adjustable. When filing your annual income tax return, you can claim credit for the advance taxes paid under these sections.

3-Filing status matters! Filers enjoy lower tax rates, whereas non-filers face significantly higher rates. Filing your taxes on time can help you avoid extra costs.

Why Does This Matter?

For buyers and sellers: It's crucial to understand these new tax rates and how they' II impact your property transactions after July 2025. Whether you're a filer or non-filer, this can significantly affect the cost of buying or selling property.

For filers: Ensure you are up to date with your tax filings to benefit from lower tax rates.

For non-filers: If you're not registered as a filer with the FBR, now's the time to act and avoid paying higher taxes.

For more details on the full tax structure or to get assistance with your property transactions, it's always best to consult a tax professional. Stay informed and make smarter property decisions!

‎WhatsApp Business 0321 6326445

سونے کی خرید و فروخت کو سمجھنے کا حساب!
15/08/2025

سونے کی خرید و فروخت کو سمجھنے کا حساب!

07/08/2025

اہم اطلاع
سیلز ٹیکس ریٹرن فائلنگ کے لیے کیو آر کوڈ (QR Code) کی شرط ختم کر دی گئی ہے

تمام ٹیکس دہندگان اور متعلقہ افراد کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لیے QR Code کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
یہ اقدام ٹیکس فائلنگ کے عمل کو آسان اور سادہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

اب تمام ٹیکس دہندگان بغیر QR Code کے اپنی سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کروا سکتے ہیں۔

مزید رہنمائی کے لیے اپنے ٹیکس ایڈوائزر یا قریبی ٹیکس آفس سے رابطہ کریں۔

از طرف:
ایڈووکیٹ میاں مبشر حیات
0321 6326445

14/07/2025
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور حتیٰ کہ مین اسٹریم میڈیا پر بھی ایک خبر گردش کرتی رہی کہ حکومت نے بینک ...
14/07/2025

گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور حتیٰ کہ مین اسٹریم میڈیا پر بھی ایک خبر گردش کرتی رہی کہ حکومت نے بینک میں دو لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم جمع کروانے پر 20 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ مختلف چینلز نے نہ صرف عوام کو ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا بلکہ کچھ کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو کیش کی ادائیگی سے گریز کرنے کی ہدایات بھی دی گئیں۔ کچھ نے تو ٹیکس کی شرح 40 فیصد تک بھی بتا دی۔

لیکن یہ ساری بات غلط فہمی یا شاید جان بوجھ کر پھیلائی گئی افواہوں پر مبنی ہے۔ اصل میں، یہ ساری بات مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں کی گئی انکم ٹیکس آرڈیننس 2002 کی کچھ شقوں میں ترمیم سے متعلق ہے — لیکن اس کا عام بینک صارف یا کوئی تنخواہ دار شخص سے کوئی لینا دینا نہیں۔

یہ ترامیم صرف اور صرف کاروباری اداروں اور کمپنیوں پر لاگو ہوتی ہیں، وہ بھی مخصوص حالات میں۔ ترمیم کا مقصد یہ ہے کہ کاروبار نقد لین دین سے ہٹ کر بینکنگ چینلز یا ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ترجیح دیں تاکہ ٹرانزیکشنز کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اصل میں تبدیلی کیا ہے؟
انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 21 کے مطابق، اگر کوئی کاروبار کسی سپلائر کو دو لاکھ روپے یا اس سے زائد کیش میں ادائیگی کرتا ہے، تو اس کی وہ ادائیگی مکمل طور پر بطور اخراجات شمار نہیں کی جائے گی۔ صرف 50 فیصد اخراجات ہی انکم ٹیکس ریٹرن میں قابل قبول ہوں گے، جبکہ باقی رقم کاروبار کے منافع میں شامل ہو جائے گی جس پر ٹیکس لاگو ہو گا۔

اسی طرح اگر کوئی کمپنی کسی ایسے شخص کو ادائیگی کرتی ہے جو نان فائلر ہے (یعنی جس کا نیشنل ٹیکس نمبر/NTN نہیں)، تو اس ادائیگی کا 10 فیصد بھی اخراجات میں شمار نہیں ہوگا۔

لیکن یہاں ایک اہم بات یاد رکھنے کی ہے: یہ قانون صرف کاروباری اداروں پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک عام شہری ہیں اور آپ نے اپنے بینک اکاؤنٹ میں دو لاکھ یا اس سے زیادہ رقم جمع کروائی ہے، تو اس پر کوئی براہ راست ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ نہ ہی ایسا کوئی قانون موجود ہے کہ بینک کی طرف سے آپ کی رقم پر کٹوتی کی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط فہمی کیوں؟
یہ خبر غالباً اس وقت غلط انداز میں عوام تک پہنچی جب انکم ٹیکس آرڈیننس کی ترامیم کو سادہ لفظوں میں بیان کرنے کے بجائے سنسنی خیز انداز میں رپورٹ کیا گیا۔ بعض میڈیا ہاؤسز نے ٹیکس کی اصل نوعیت کو سمجھائے بغیر عوامی خوف و خدشات کو بڑھاوا دیا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ بعض عناصر نے جان بوجھ کر یہ افواہ پھیلائی تاکہ لوگ کیش میں لین دین سے گریز کریں، یا شاید مارکیٹ میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے دباؤ پیدا کیا جائے۔

مثال کے طور پر، اگر کسی کمپنی نے سال بھر میں 60 لاکھ روپے کا مال نان فائلر سپلائر سے خریدا اور کیش میں ادائیگی کی، تو کمپنی صرف 54 لاکھ روپے اخراجات میں شامل کر سکتی ہے، باقی چھ لاکھ روپے اس کے منافع میں شمار ہوں گے، جس پر اسے انکم ٹیکس دینا پڑے گا۔

دوسری مثال میں، اگر کوئی گندم کا تاجر کسی سپلائر کو دو لاکھ سے زیادہ رقم کیش میں ادا کرتا ہے، تو اس ادائیگی کا آدھا حصہ اخراجات میں شامل نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس رقم پر کاروباری منافع کے حساب سے ٹیکس دینا پڑے گا۔

کسان اور براہ راست خریداری کی رعایت
حکومت نے اس بات کا بھی خیال رکھا ہے کہ اگر کوئی شخص براہِ راست کسی کسان سے زرعی پیداوار خریدتا ہے، تو نان فائلر ہونے کے باوجود یہ مکمل اخراجات تسلیم کیے جائیں گے۔ تاہم اگر خریداری مڈل مین کے ذریعے ہو، تو قانون لاگو ہو گا۔

نتیجہ:-
اس تمام بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ بینک میں دو لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم جمع کروانے پر کوئی نیا یا اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے، کم از کم عام شہریوں کے لیے نہیں۔ یہ قوانین صرف کاروباری دنیا سے متعلق ہیں اور ان کا مقصد نقد لین دین کو محدود کرنا اور مالیاتی نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔

لہٰذا، اگر آپ ایک عام صارف ہیں تو بے فکر ہو کر بینک میں رقم جمع کروا سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ایک کاروباری شخصیت ہیں، تو بہتر ہے کہ ادائیگیاں ڈیجیٹل یا بینکنگ ذرائع سے کریں تاکہ انکم ٹیکس کے مسائل سے بچا جا سکے۔
0321 6326445

09/07/2025
09/07/2025

Section 21(s) of the Income Tax Ordinance, 2001 (Pakistan) was introduced to discourage large cash payments and encourage the use of banking channels for business transactions.
It applies to all taxpayers claiming business expense deductions.

If you pay more than Rs. 200,000 in cash to a single person in a single day, 50% of that amount is disallowed as a deductible expense.

This means your taxable income increases, and you pay more tax.

Example (as per law):

If a business pays Rs. 300,000 in cash to a supplier:

Rs. 150,000 (50%) will be disallowed.

This amount won't reduce your taxable income.

As a result, you pay more income tax.

This provision is part of the government’s efforts to:

Promote documentation of the economy,

Reduce tax evasion, and

Increase use of traceable payment methods.

09/07/2025

اب پن کوڈ کے بجائے ویریفکیشن کوڈ کا نظام متعارف

ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے عمل میں تبدیلی کر دی ہے۔ اب پن کوڈ کی بجائے ٹیکس دہندہ کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ویریفکیشن کوڈ ارسال کیا جائے گا، جس کے ذریعے ریٹرن کی تصدیق ممکن ہوگی۔

اس نئے نظام کے باعث کام کے دباؤ والے دنوں میں سسٹم کی سست روی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

📝 تمام ٹیکس دہندگان سے گزارش ہے کہ:
✅ اپنا موبائل نمبر درست رکھیں
✅ بروقت ریٹرن فائل کریں
✅ غیر ضروری پریشانی سے بچیں

اپڈیٹ رہیں، باخبر رہیں!

بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ!اس کیس میں ایف بی آر نے صرف بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر انکم...
08/07/2025

بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ!
اس کیس میں ایف بی آر نے صرف بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 122(5A) کے تحت ازسرنو اسیسمنٹ کی کارروائی شروع کی۔ ایف بی آر کا مؤقف تھا کہ ٹیکس دہندہ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود کریڈٹ انٹریز "Undisclosed Income" ہیں، لہٰذا انہیں نوٹس جاری کیا گیا۔

لیکن ٹیکس دہندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بینک اسٹیٹمنٹس بذات خود "Definite Information" نہیں ہوتیں کیونکہ یہ صرف لین دین کا ریکارڈ ہیں، ان سے براہ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ آمدن ہے، یا یہ کسی مخصوص ٹیکس ایئر کی آمدن سے متعلق ہے۔
ماتحت عدالت نے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ دیا
جسے ہائی کورٹ اور بالآخر سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔
عدالتی فیصلہ:
❝ بینک اسٹیٹمنٹس صرف ایک لین دین کا ریکارڈ ہیں، یہ خود بخود "Definite Information" نہیں بنتیں جب تک یہ مخصوص اور قابل تصدیق شواہد کے ساتھ کسی آمدنی سے واضح تعلق ظاہر نہ کریں۔ ❞

عدالت نے مزید کہا کہ:

❝ سیکشن 122(5A) کے تحت کوئی بھی کارروائی صرف اسی وقت ہو سکتی ہے جب معلومات واضح، مخصوص اور قابلِ تصدیق ہوں – محض قیاس یا شُبہ کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہو سکتی۔ ❞

اہم نکات:
✅ بینک اسٹیٹمنٹ بذاتِ خود "Definite Information" نہیں ہے۔
✅ معلومات کا ٹیکس ایبل آمدنی سے براہِ راست تعلق ہونا ضروری ہے۔
✅ صرف قیاسی یا عمومی معلومات کی بنیاد پر سیکشن 122(5A) کے تحت نوٹس غیرقانونی ہوگا۔
✅ عدالت نے ایف بی آر کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کو ریلیف دیا۔...

07/07/2025

بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ!

اس کیس میں ایف بی آر نے صرف بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 122(5A) کے تحت ازسرنو اسیسمنٹ کی کارروائی شروع کی۔ ایف بی آر کا مؤقف تھا کہ ٹیکس دہندہ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود کریڈٹ انٹریز "Undisclosed Income" ہیں، لہٰذا انہیں نوٹس جاری کیا گیا۔
لیکن ٹیکس دہندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بینک اسٹیٹمنٹس بذات خود "Definite Information" نہیں ہوتیں کیونکہ یہ صرف لین دین کا ریکارڈ ہیں، ان سے براہ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ آمدن ہے، یا یہ کسی مخصوص ٹیکس ایئر کی آمدن سے متعلق ہے۔
ماتحت عدالت نے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ دیا جسے ہائی کورٹ اور بالآخر سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔
عدالتی فیصلہ:
بینک اسٹیٹمنٹس صرف ایک لین دین کا ریکارڈ ہیں، یہ خود بخود "Definite Information" نہیں بنتیں جب تک یہ مخصوص اور قابل تصدیق شواہد کے ساتھ کسی آمدنی سے واضح تعلق ظاہر نہ کریں۔
عدالت نے مزید کہا کہ "سیکشن 122(5A) کے تحت کوئی بھی کارروائی صرف اسی وقت ہو سکتی ہے جب معلومات واضح، مخصوص اور قابلِ تصدیق ہوں، محض قیاس یا شبہ کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہو سکتی۔
اہم نکات: بینک اسٹیٹمنٹ بذاتِ خود "Definite Information" نہیں ہے۔
معلومات کا ٹیکس ایبل آمدنی سے براہِ راست تعلق ہونا ضروری ہے۔
صرف قیاسی یا عمومی معلومات کی بنیاد پر سیکشن 122(5A) کے تحت نوٹس غیرقانونی ہوگا۔
عدالت نے ایف بی آر کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کو ریلیف دیا۔.

Address

G-13 Arooj Center FareedKot Road Near Excise Office Lahore
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923216326445

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Tax Experts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Tax Experts:

Share