Al-Mustafa Law Firm

Al-Mustafa Law Firm Al-Mustafa Law Firm extending services in the field of law, pursuing courts and cases, Dealing in C consultant and advisors.

Al-Mustafa Law Firm extending services in the field of law, pursuing courts and cases, Dealing in Criminal, Civil, Family cases and Tax Law.

03/09/2023

سوال : کیا ہوتی ہے ؟ کن وجوہات کی بابت منسوخی ضمانت ممکن ہوتی ہے ؟ کیان ضمانت کی منسوخی دائر ہو گی ؟

جواب : اگر کسی ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری با قبل از گرفتاری کنفرم ہو جائے تو اس ضمانت کی منسوخی کے لئے درخواست مستغیث کی طرف سے دائر کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس ضمانت ملزم کو منسوخ فرمایا جائے اور اس ضمانت کو منسوخ کرنے کی وجہ بتائی جاتی ہے۔

( 1) : درخواست ضمانت منسوخی کی دائری کون کر سکتا ہے ؟

درخواست ضمانت منسوخی همیشه مستغیث یا متاثر شخص دائر کرتا ہے ۔

(2) : درخواست ضمانت منسوخی کسی عدالت میں دائر کی جائے گی؟

درخواست ضمانت منسوخی جس عدالت سے ضمانت منظور ہوئی ہو اسی عدالت میں دائر کی جائے گی یا پھر اس عدالت سے اعلیٰ Superior عدالت میں دائر کی جائے ۔

(3) : درخواست ضمانت منسوخی کن وجوهات کی بنیاد پر دائر ہو سکتی ہے ؟

(1) عدالت نے جس جرم کی ضمانت منظور کی ہے وہ دوبارہ وہی جرم کرتا ہو ۔

(2): ضمانت کے بعد اگر ملزم اشتہاری ہو جائے ۔

(3) : اگر ملزم نے عدالت سے ضمانت غلط عمر بتا کر کروائی ہو یا کہ غلط بیماری بتا کر ضمانت کروائی ہو ۔

(4) :اگر ملزم معاشرہ کے لئے جرم کا سبب بنتا ہو مثلاً ہیروئن اسمگلنگ یا اسی ملزم کی وجہ سے ہوتی ہو ۔

(5):اگر ضمانت منظور ہونے کے بعد ملزم نے مستغیث اور گواہان سے بدلہ لینا شروع کر دیا ہو۔

(4) : درخواست ضمانت منسوخی کی وجوہات:

اس درخواست ضمانت کی منسوخی کی مندرجہ ذیل میں سے کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے ۔

(1):اگر مستغیث یہ خیال کرتا ہے کہ عدالت نے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری
میرٹ پر نہ کی ہے کہ ملزم اس وقت ضمانت کا حقدار نہ تھا تو وہ اس عدالت سے اعلیٰ عدالت میں منسوخی دائر کر سکتا ہے یا اس عدالت میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر سکتا ہے ۔

(2):اگر جس مقدمہ میں ملزم نے ضمانت کروائی ہے اس مقدمہ میں جرم کی کہ جیسے جرم سے کیفیت بدل گئی ہے یعنی وہ جرم تبدیل ہو گیا ہے تو ضمانت منسوخی دائر کی جاسکتی ہے ۔

(3) : اگر ملزم نے عدالت کو کوئی غلط چیز بتا کر ضمانت کروائی ہو تو وہ بھی ضمانت
منسوخ ہو سکتی ہے ۔

(4) : اگر عدالت کو دھوکہ دے کر ضمانت کروائی ہو تو پھر بھی ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے۔

(5) : اگر عدالت نے کسی کی ضمانت کسی شرط کے تحت منظور کی ہو تو ملزم اس شرط کی پابندی نہ کرے تو پھر بھی ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے۔

(6):اگر ملزم جن Grounds کو ضمانت میں تحریر کرتا ہے تووہ نہ بنتی ہوں تو ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے ۔

(7) : اس کے علاوہ کوئی بھی حصول وجہ درخواست ضمانت منسوخی دائر کی جاسکتی ہے ۔

(8) : اگر ملزم مدعی یا گواہان کو مارے یا قتل کرنے کی دھمکی دے یا گواہان پر اثر
انداز ہو تو ضمانت منسوخی دائر کی جا سکتی ہے۔

(9) : عدالت کو اختیا ر سماعت حاصل نہ ہوا اور دھوکا سے ضمانت کروائی ہو۔

(10) : جس جرم میں ملزم کی ضمانت منظور ہوئی ہے دوبارہ وہی جرم کرے ۔

(11) :ضمانت کے بعد شہادت استغاثہ پر اثر انداز ہو رہا ہو۔

(12): ضمان کے بعد ملزم اشتہاری ہو گیا ہو ۔

(13): اگر غلط میڈ یکل یا کہ غلط عمر بتا کر ضمانت کروائی ہو ۔

(14): اگر ملزم معاشرہ کے لئے خطرہ ہو اور اس کی وجہ سے سمگلنگ اور ہیروئن
نشہ جیسے جرم سرزد ہوں ۔

(15) :اگر ضمانت کی وجہ سے ملزم نے بدلہ لینا شروع کر دیا ہو ۔

ضمانت کاکیا مطلب ہوتا ہے مطلب اور مقصد کیا ہوتا ہے ؟

ضمانت دئیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم مقدمہ سے رہا ہو گیا۔جب کہ ضمانت کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ ملزم کو ضامن کے حوالے کر دینا جو کہ ملزم کو،جب عدالت سماعت طلب کرے یا اس کی ضرورت ہو،وہ ملزم کو عدالت میں پیش کرے
[2009 MLD 127 )Lah)]

🔸Kinds of Bail ضمانت کی اقسام:

✍️1 حفاظتی ضمانت Pretective Bail👉

✍️2 ضمانت قبل اذ گرفتاری Pre arrest Bail👉

✍️3 ضمانت بعد از گرفتاری Post Arrest Bail👉
OR Bail After Arrest

✍️4 ضمانت بعد از سزا Bail After Convection👉
OR Suspension of Sentence and Bail

♦️ملزم کی منظور شدہ ضمانت کن حالات میں منسوخ ہوسکتی ہے؟
🔸Cancellation Of Bail منسوخی ضمانت

✍️1- جہاں ملزم اس قسم کا دوبارہ جرم کرے

✍️2- تفتیش میں رکاوٹ ڈالے-

✍️3- اپنے خلاف شہادت خراب کرنے کی کوشش کرے-

✍️4- پولیس یا مدعی/ مستغیث کے ساتهہ تشدد کا رویہ اختیار کرے-

✍️5- ملک سے باہر جانے کے انتظامات کرے-

✍️6- ضامن کے اختیارات سے باہر ہو-

[2014 SCMR 231; 2011MLD 725]
کسی بھی ضمانت کو اس لیے خارج نہیں کیا جاسکتا کہ کیس کا ٹرائل شروع ہے یا شروع ہونے والا ہے ، بلکہ عدالت یہ دیکھی گی کہ ملزم 497 ض ف میں ضمانت کا حقدار ہے یا نہیں ۔۔۔۔

2023 SCMR 308

Bail , cancellation of --- Commencement of trial --- No hard and fast rule can be laid down that bail should not be cancelled merely for the reason that the trial has commenced or is likely to commence because every case is to be examined in the light of its own facts --- Crucial question that arises for determination would be as to whether a person is entitled to grant of bail under the provision of section 497 , Cr.P.C.
ضمانت پر رہا ھونے کے بعد اگر ملزم ٹرائل کورٹ میں پیش نہ ھو اور ٹرائل کورٹ غیر حاضری کی بنا پر ملزم کو اشتہاری قرار دیدے یا اسکے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردے تو اس ملزم کی ضمانت منسوخ تصور ھوگی خواہ عدالت نے ضمانت منسوخ کرنے کا باقاعدہ حکم جاری نہ بھی کیا ھو
2019 SCMR 1641
S. 497(5)--- Bail, cancellation of--- Proclaimed offender--- Non-bailable warrants of arrest---When an accused person admitted to bail was subsequently declared a proclaimed offender or non-bailable warrants for his arrest were issued then such declaration or issuance of non-bailable warrants ipso facto amounted to cancellation of such accused person's bail.

Bail & cancellation of Bail
Distinct considerations

ضمانت اور منسوخی ضمانت کی بنیادیں ایک دوسرے سے ممتاز ہوتی ہیں ۔
Considerations for the grant of Bail & cancellation thereof were entirely on different footings. Generally speaking, the Courts were reluctant to interfere in the order of grant of Bail & even in cases where it was apparently found that the Bail granting order was not sustainable in the eyes of law, the Courts restrain to interfere in such matters if it was found that there was nothing to show that the accused had misused the concession of Bail.

2022 SCMR 676

درخواست منسوخی ضمانت کی معیاد مقرر نہ ہے ۔
1996 MLD. 37

There is no limitation on filing cancelation of bail.

489-ایف کے مقدمہ میں راضی نامہ کی بنیاد پر ملزم کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوئی۔ملزم نے کچھ رقم ادا کردی اور بقیہ رقم چھ ماہ بعد ادا کرنے کا وعدہ کیا مگر رقم ادا نہ کی۔ہائیکورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کردی
Who can make an application for cancellation of bail?

It is the State’s primary duty to ensure justice is done to the parties even during the bail process. No accused should be released on bail unless legally entitled to it. The Prosecution Department should immediately seek a correction under section 497(5) Cr.P.C. where the court has wrongly granted bail to an offender. Additionally, any individual who is vitally interested in the case and concerned with its outcome has a right to contest such an order. The court may also intervene on its own initiative if any lapse, capriciousness, arbitrariness, or perversity comes to notice. Section 497(5) Cr.P.C. confers powers similar to revisional powers under sections 435 and 436 Cr.P.C. on the High Court and the Court of Sessions.

This Court granted prearrest bail to Respondent pursuant to his compromise with the complainant. He paid a part of the outstanding amount in cash and undertook to pay the remaining Rs.1,400,000/- within six months but has defaulted. Since the bail of Respondent was conditional and subject to the due performance of his obligations, it must be recalled.

Crl. Misc. No.60014/CB/2022
Azeem-ud-Din Vs the Feroze Khan etc.
20-01-2023

Regards:
میاں حسنین رضا ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور

29/08/2023

نادرا آرڈینینس 2000 دفعہ 30 پاکستان کا جعلی شناختی کارڈ بنانا، ایک سنگین جرم ہے۔ ضمانت خارج ہوئی۔
*(2016 PCrLJ 951).*

ملزم پر فیس بک ID ہیک کرکے، انٹرنیٹ پر بلا اجازت ذاتی تصاویر اپ لوڈ کرنے کا الزام تھا۔
ضمانت خارج ہوئی۔
*(2016 PCrLJ 1916).*

الیکٹرانک ٹرازیکشن آرڈیننس 2002 دفعہ 37&36 جعلی ڈگری اور ڈپلومہ جات کی آن لائن فروخت۔ دوران تفتیش ملزم سے ہونے والی برآمدگی اسے جرم سے Conntect کرتی تھی۔
ملزم ضمانت کا حقدار نہ ہے۔
*(2016 PCrLJ 1371).*

ملزم پر، مدعیہ کی فیس بک ID بنانے اور مدعیہ کی مرضی کے بغیر، اس پر مدعیہ کی تصویر اپ لوڈ کرنے کا الزام تھا۔ ضمانت خارج ہوئی۔
*(PLD 2017 PESH 10)*

فیس بک پر عورت کی برہنہ تصویر اپ لوڈ کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرنے کا الزام تھا ملزم اس بناء پر اضمانت کا حق دار نہ ہے کہ جرم ممنوعہ کلاز میں فال نہ کرتا ہے۔
*(2019 PCrLJ 769).*

میاں حسنین رضا ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

01/06/2023

*Mian Husnain Raza Advocate*

*عدالت میں کاغذات جمع کرانے کا بہترین طریقہ*
---------------------------------------
کس بھی مقدمہ کو ثابت کرنے کے لیے عدالت میں دستاویزات پیش کرنا لازمی ہوتی ہیں دیوانی اور فیملی مقدمات میں مقدمہ دائر کرتے وقت ان دستاویزات کی تفصیل بھی لکھی جاتی ہے جو عدالت میں جمع کرانے ہوں
دستاویزات دو قسم کی ہوتی ہیں ایک پبلک ڈاکومنٹس اور ایک پرائیوٹ ڈاکومنٹس
کاغذات شہادت کے وقت جمع کراے جاتے ہیں اور عموماً زبانی شہادت کے بعد جمع کراے جاتے ہیں

*Exibit Documents*👇
یہ وہ کاغذات ہوتے ہیں جو بالکل اصلی ہوں یا پبلک ڈاکومنٹس ہوں جن کو جب وکیل جمع کراتا ہے تو عدالت انکے اوپر Exibit لکھ دیتی ہے

*Mark Documents*👇
یہ وہ کاغذات ہیں جو فوٹو کاپی کی شکل میں ہوں یا پھر جن پر عدالت انحصار نہ کرسکتی ہو ,یہ بھی جب وکیل جمع کراتا ہے تو عدالت کاغذات کے اوپر مارک لکھ دیتی ہے
کاغذات ہمیشہ شہادت میں جمع کراے جاتے ہیں مگر سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایسے کاغذات جو اصلی ہوں وہ مقدمہ کی کسی بھی سٹیج پر جمع کراے جاسکتے ہیں

Any documents which is original and relevant can be produced at any stage whether it is trial court or appellate court in the interest of justice.
2016 SCMR 1(b)

Mian Husnain Raza Advocate

22/05/2023

*ضمانت یعنی Bail اور Parole یعنی مشروط رہائی میں فرق.*

_مذکورہ دونوں الفاظ ضابطہ فوجداری یعنی Cr.P.C کا حصہ ہیں اور فوجداری قانون میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔_

ان دونوں Concepts میں کسی شخص کو قید سے رہائی ملتی ہے مگر دونوں کے تحت رہائی پانے میں فرق ہے۔_

*ضمانت Bail :*
_جب کسی شخص پر ابھی تک کسی مجاز عدالت سے ٹرائل کے ذریعے کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا تو وہ ملزم کہلاتا ہے۔ ملزم پولیس تفتیش کے بعد جب جوڈیشل ریمانڈ کے تحت جوڈیشل لاک اپ میں چلا جاتا ہے تو عدالت اسے ضمانت پر رہا کرسکتی ہے۔ اس عمل کے دوران کوئی دوسرا شخص/اشخاص عدالت کو یہ کہ کر اپنی ضمانت دیتے ہیں کہ اگر یہ ملزم عدالت ھذا میں ٹرائل میں پیش نہ ہوا تو ہم اس کے ذمہ دار ہونگے۔ عدالت اگر مطمئن ہوجائے تو ملزم کو ضمانت پر رہا کرسکتی ہے مگر اس شخص نے جو جرم کیا ہوتا ہے اس کا ٹرائل ابھی باقی ہوتا ہے۔.

*پیرول Parole:*

۔ جب کسی ملزم پر عدالت مجاز میں ٹرائل کے ذریعے جرم ثابت ہوجائے تو وہ ملزم نہیں بلکہ مجرم کہلاتا ہے اور سزا کے لیے جیل منتقل کردیا جاتا ہے۔ جب ایک مجرم جیل میں سزا کاٹ رہا ہوتا ہے اور سزا کا زیادہ حصہ گزر جاتا ہے اور تھوڑا حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اسے جیل قوانین کے تحت Parole پر رہا کیا جاسکتا ہے۔ Parole ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس میں مجرم کو جیل سے رہا کرکے کسی شخص یا ادارے کے حوالے کردیا جاتا ہے مگر مجرم نے اس شخص یا ادارے کے پاس رہ کر اپنی باقی ماندہ سزا طے شدہ شرائط کے تحت پوری کرنی ہوتی ہے۔ Parole پر رہائی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں ان وجوہات میں سے جیل میں مجرم کا اچھا کردار، عمر رسیدہ مجرم، عورت مجرم، جیلوں میں قیدیوں کے لیے جگہ کی قلت وغیرہ۔_

*میاں محمد حسنین رضا ایڈووکیٹ*

30/04/2023

👉 References:
1) 2003 PCRLj 2000,
2) PLD 1998 S.C 388,
3) 1985 MLD 782
4) 2006 YLR 2953
قبر کشائی کے قوانین اور طریقہ کار:
کسی بھی مقتول کی موت کی وجہ معلوم کرنے اور تحقیات کرانے کے لیے مجسٹریٹ کو درخواست زیر دفعہ 176 ضابطہ فوجداری گزاری جاسکتی ہے جس پر مجسٹریٹ انکوائری تشکیل دینے کاحکم دے سکتا ہے

جب کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176(2)کے تحت درخواست گزار کر قبر کشائی کراے جانے کی استدعا کی جاسکتی ہے
جس پر مجسٹریٹ درخواست منظور کرکے اپنی نگرانی پر قبر کشائی کرانے کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دے سکتا ہے تاکہ وجہ موت کا ٹھیک طرح پتہ چل سکے
اعلی عدلیہ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ قبر کشائی کی درخواست زائد المعیاد ہو تب بھی مجسٹریٹ درخواست کو خارج نہیں کرسکتا
ایک اور مقدمہ میں قرار دیا گیا ہے کہ اگرمقدمہ عدالت میں چل رہا ہو اور کوئی فریق قبر کشائی کی درخواست گزارے تو دوسرے فریق کو سنے بغیر درخواست منظور نہ کی جاے
اگر ایک بار پوسٹ مارٹم ہوجاے اور تدفین ہوجاے تو دوبارہ قبر کشائی کرنے کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جاسکتا ہے
قبر کشائی کی درخواست یا قتل کی تحقیات کی درخواست گزارنے پر کوئی معیاد لاگو نہیں ہوتی یہ درخواست کبھی بھی دی جاسکتی ہے

قبر کشائی کی درخواست اور موت کی وجوہات کی تحقیات کی درخواست کوئی بھی دے سکتا ہے حتی کہ اجنبی شخص بھی مجسٹریٹ کو درخواست دے کر قانون کو حرکت میں لاسکتا ہے
جب ایک بار مجسٹریٹ کرادے تو گورنمنٹ یا پولیس دوبارہ انکوائری نہیں کراسکتی اور نہ ہی قبر کشائی کرا سکتی ہے
ایک اور فیصلہ میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پولیس کی قید میں کوئی بھی شخص پولیس کی ذمہ داری میں پر ہوتا ہے اگر وہ قیدی کو جعلی مقابلہ میں ماردے اور اگر پولیس کے خلاف کاروائی نہ ہوئی تو یہی سمجھا جاے گا کہ ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے...
Regards:- Adv Mian Husnain Raza

25/01/2023

قبر کشائی کے قوانین اور طریقہ کار
کسی بھی مقتول کی موت کی وجہ معلوم کرنے اور تحقیات کرانے کے لیے مجسٹریٹ کو درخواست زیر دفعہ 176 ضابطہ فوجداری گزاری جاسکتی ہے جس پر مجسٹریٹ انکوائری تشکیل دینے کاحکم دے سکتا ہے
جب کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176(2)کے تحت درخواست گزار کر قبر کشائی کراے جانے کی استدعا کی جاسکتی ہے
جس پر مجسٹریٹ درخواست منظور کرکے اپنی نگرانی پر قبر کشائی کرانے کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دے سکتا ہے تاکہ وجہ موت کا ٹھیک طرح پتہ چل سکے
اعلی عدلیہ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ قبر کشائی کی درخواست زائد المعیاد ہو تب بھی مجسٹریٹ درخواست کو خارج نہیں کرسکتا
ایک اور مقدمہ میں قرار دیا گیا ہے کہ اگرمقدمہ عدالت میں چل رہا ہو اور کوئی فریق قبر کشائی کی درخواست گزارے تو دوسرے فریق کو سنے بغیر درخواست منظور نہ کی جاے
اگر ایک بار پوسٹ مارٹم ہوجاے اور تدفین ہوجاے تو دوبارہ قبر کشائی کرنے کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جاسکتا ہے
قبر کشائی کی درخواست یا قتل کی تحقیات کی درخواست گزارنے پر کوئی معیاد لاگو نہیں ہوتی یہ درخواست کبھی بھی دی جاسکتی ہے

قبر کشائی کی درخواست اور موت کی وجوہات کی تحقیات کی درخواست کوئی بھی دے سکتا ہے حتی کہ اجنبی شخص بھی مجسٹریٹ کو درخواست دے کر قانون کو حرکت میں لاسکتا ہے
جب ایک بار مجسٹریٹ کرادے تو گورنمنٹ یا پولیس دوبارہ انکوائری نہیں کراسکتی اور نہ ہی قبر کشائی کرا سکتی ہے
ایک اور فیصلہ میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پولیس کی قید میں کوئی بھی شخص پولیس کی ذمہ داری میں پر ہوتا ہے اگر وہ قیدی کو جعلی مقابلہ میں ماردے اور اگر پولیس کے خلاف کاروائی نہ ہوئی تو یہی سمجھا جاے گا کہ ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے
References
2003 PCRLj 2000 , PLD 1998 S.C 388,1985 MLD 782,2006 YLR 2953

*Mian Husnain Raza Advocate*

07/10/2022

[زمین کی رجسٹری اور انتقال کا مکمل اور آسان طریقہ کار]
رجسٹری کیسے کروائی جائے؟ رجسٹری اور انتقال میں کیا فرق ہے؟

1.رجسٹریشن ایکٹ 1908کے دفعہ 17 کے تحت یہ ضروری ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کو رجسٹرڈ کروایا جائے جس کو رجسٹری بولتے ہیں ۔
2۔غیر منقولہ جائیداد مثلاً پلاٹ، مکان، دوکان یا زرعی رقبہ خریدنے سے پہلے اس جائیداد کا فرد نکلوا کر تسلی کر لیں کہ آیا یہ جائیداد متنازعہ تو نہیں یا جائیداد کی بابت کوئی کیس تو نہیں چل رہا۔
3۔ جائیداد کی تسلی کے بعد دوسرا مرحلہ جائیداد رجسٹری کی بابت ٹیکس بینک میں ادا کرنے ہوتے ہیں جس کے لئے آپ کو اس جائیداد کی بازاری قیمت یعنی DCکی طرف سے مقرر کردہ ریٹ معلوم کرنا ہوتا ہے جو کہ تحصیل آفس سے معلوم کیے جاسکتے ہیں ۔
4۔ڈی سی ریٹ کے مطابق %6 ٹیکس (فائلر%5) بینک میں جمع کروائے گا۔اور اشٹام پیپر منگوائے گا۔
5۔اس کے بعد معاہدہ بیع نامہ تحریر کروا کر تحصیل آفس میں اصل شناختی کارڈز اور دو عدد اسی علاقہ کے گواہان کے ساتھ روبرو تحصیل دار پیش ہو کر دستخط اور انگوٹھا نشان ثبت کرنے ہوتے ہیں۔جس کے بعد رجسٹری کا عمل مکمل ہوجاتا ہے ۔
6۔اگلا مرحلہ پٹواری کے پاس جاکر رجسٹری کی فوٹوکاپی جمع کروا کر انتقال اپنے نام ٹرانسفر کروانا ہوتا ہے۔

رجسٹری کیسے کروائی جائے؟ رجسٹری اور انتقال میں کیا فرق ہے؟
رجسٹری لفظ رجسٹرڈ سے نکلا ہے مطلب کوئی چیز رجسٹرڈ کروانا. مثال کے طور پر ہم موٹر سائیکل لیتے ہیں یا کار تو متعلقہ ایکسائز کے محکمے سے گاڑی کی رجسٹریشن کرواتے ہیں جہاں گاڑی کی نمبر پلیٹ انجن نمبر، رنگ، ماڈل، کمپنی کا نام اگر پرانی گاڑی ہے تو پرانے مالک کا نام غرض کےہر چیز تفصیل سے درج ہوتی ہے

اور ایکسائز کی خاص قیمت ادا کرنے کے بعد گاڑی ہمارے نام ہو جاتی ہے. بلکل اسی طرح زمین اور مکان کی رجسٹری کروانے کا معاملہ ہے. زمین کی رجسٹری میں بھی ہر چیز لکھی جاتی ہے جو زمین یا مکان سے متعلق ہو. رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی دفعہ 17 کے مطابق غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی کے لئے رجسٹریشن لازمی ہے۔

َزمین، مکان کی رجسٹری کا طریقہ؟

پہلا مرحلہ میں سب سے پہلے جس شخص سے آپ مکان یا زمین خرید رہے ہیں وہ فرد بیع نکلوائے گا اس زمین کی کیونکہ زمین کی رجسٹری کے لیے فرد بیع کا ہونا لازمی ہے.

فرد بیع سے پتہ چلے گا کے زمین بیچنے والا شخص ہی اصل زمین کا مالک ہے اور زمین پر کسی قسم کا سٹے یا مقدمہ نہیں ہے. یاد رہے کہ ایک وقت میں ایک ہی فرد بیع نکل سکتی ہے. فرد بیع نکلوانے کے بعد اگر بیچنے والی زمین کی رجسٹری نہ کروائی جائے تو وہ فرد بیع 14 دن بعد منسوخ ہو جاتی ہے. اس کے بعد زمین کی مالیت کے حساب سے E Stamp paper نکلوائیں. فائلر 5 فیصد ٹیکس زمین کی مالیت کے حساب سے ادا کر کے E stamp paper نکلوائے گا اور نان فائلر 6 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرے گا۔
زرعی زمین پر 4 فیصد ٹیکس ادا کیا جائے گا. ای سٹیمپ پیپر پر بیچنے والے اور خریدنے والے کا نام تحریر ہوگا. اس اسٹام پیپر پر زمین کا ڈی سی ریٹ لکھا ہوگا کہ کتنے روپے کی زمین فروخت کی جارہی ہے وہ قیمت لکھی ہوگی. اس کے علاوہ اسی E stamp paper پر مکمل تحریر ہوگی کہ کون شخص کس کو زمین بیچ رہا ہے
اور کتنے روپے میں بیچ رہا ہے اور اسی طرح گواہان کے نام پتہ ہوگا۔ سب سے اہم اس E stamp paper یا اسٹام پیپر پر نقشہ بنایا جاتا ہے فروخت ہونے والے پلاٹ یا مکان کا جس کے چاروں طرف نشاندہی کی جاتی ہے کہ کیا چیز ہے مطلب آس پاس کے مکان یا زمین کس کی ملکیت ہے.۔ اس سب کا مقصد زمین کو محفوظ بنانا ہے کہ کل کو کوئی اور شخص اس زمین پر قبضہ نہ کرلے اور رجسٹری سے پتہ چل جائے کون کس زمین کا مالک ہے.
دوسرا مرحلہ میں اسٹام پیپر زمین کی مالیت کے حساب سے نکلوانے اور تحریر کروانے کے بعد مندرجہ ذیل ڈاکومنٹس لگا کر متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں۔ فرد بیع، بیچنے خریدنے والوں کے شناختی کارڈ کی کاپی، ایف بی آر، ٹی ایم اے ٹیکس اور دیگر ٹیکس کی پیمنٹ رسید۔ یہ فائل تیار کرنے کے بعد متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں
وہاں رجسٹرار کے سامنے بیچنے والا آپکے حق میں بیان دے گا اور گواہان کی فوٹو بننے اور سائن ہونے کے بعد آپکی رجسٹری ہو جائے گی اور پھر رجسٹری آپکے ایڈریس پر چند دنوں کے اندر بھیج دی جائے گی.

انتقال اور رجسٹری میں کیا فرق ہے؟

رجسٹری اور انتقال زمین میں کوئی فرق نہیں. رجسٹری بھی ملکیت کا ثبوت ہے جبکہ انتقال زمین بھی ملکیت کا ثبوت ہے. رجسٹری کے بعد اگلا مرحلہ انتقال کا ہوتا ہے. رجسٹری حاصل کرنے کے بعد مالک زمین متعلقہ پٹواری کے پاس جائے گا

جو رجسٹری کی مصدقہ کاپی دیکھنے کے بعد آپکے نام زمین انتقال کر دے گا. سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قانون وضع کر دیا ہے کہ شہری علاقوں میں زمین کی منتقلی رجسٹری کے ذریعے ہی ہوگی نہ کے انتقال کے ذریعے.
PLD 2019 Sc 297.

01/10/2022


نام تبدلی، درستگی یا تاریخ پیدائش تعلیمی اسناد اور شناختی کارڈ پر کیسے کروائی جائے؟

تعلیمی اسناد پر یا شناختی کارڈ پر نام درستگی، تاریخ پیدائش درستگی بہت ہی عام مسئلہ ہے جو تقریباً ہر تیسرے چوتھے بندے کو پیش آتا ہے اپنی غلطی سے یا دفتری عملے کی غلطی سے.

اگر کسی کو یہ مسئلہ درپیش آیا ہے تو متاثرہ شخص مندرجہ ذیل قانونی طریقے سے نام درستگی یا تاریخ پیدائش درستگی کروا سکتا ہے specific relief Act کے سیکشن 42 کے مطابق متاثرہ شخص عدالت میں دعویٰ برائے درستگی نام یا تاریخ پیدائش کا دعویٰ کرسکتا ہے ..

اس دعویٰ کو دعویٰ استقرار حق یا Suit For declaration بھی کہتے ہیں..

اس دعوی سے پہلے آپ نادرا میں شناختی کارڈ پر اپنا نام یا تاریخ پیدائش درستگی کی درخواست دیں گے عموماً نام کی تبدیلی نادرا والے کر دیتے ہیں لیکن تاریخ پیدائش کے لیے وہ آپکو عدالتی ڈگری لینے کا کہیں گے مطلب عدالت میں کیس کر کے اپنی تاریخ پیدائش درست کروائیں.

عدالت میں کیس کیسے ہوگا؟

جیسا کے اوپر بتایا کے متاثرہ شخص عدالت میں دعویٰ استقرار حق کرے اس دعویٰ میں نادرا کو پارٹی بنائے گا.

عدالت نادرا کو نوٹس بھجوانے کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہو جائے گا جس میں عدالت اس شخص کو کہے گی کہ اپنے حق میں کوئی ثبوت پیش کرو جس سے ثابت ہو تمہاری تاریخ پیدائش کا غلط اندراج ہوا ہے شناختی کارڈ پر. وہ شخص Birth certificate جس کو یونین کونسل جاری کرتی ہے وہ پیش کرے گا یونین کونسل کا ریکارڈ بھی ہیش کیا جاسکتا ہے اگر برتھ سرٹیفکیٹ نہ ہو یا میٹرک کی ڈگری رزلٹ کارڈ یا دیگر شواہد عدالت میں پیش کرے کا جس سے ثابت ہو کے نادرا نے غلط اندراج کر دیا ہے تاریخ پیدائش کا یا نام کا. عدالت ڈگری Decree پاس کر دے گی جس کے بعد نادرا آپکی تاریخ پیدائش کو درست کر دے گا
تعلیمی اسناد پر تبدیلی نام یا تاریخ پیدائش؟

ایک دفعہ شناختی کارڈ پر تاریخ پیدائش یا نام کی درستگی ہو جائے تو پھر متعلقہ تعلیمی بورڈ اور یونیورسٹی بھی آپکا نام تاریخ پیدائش تبدیل کرنے کی پاپند ہے اپ یونیورسٹی یا تعلیمی بورڈ کی فیس ادا کرنے کے بعد اپنا نام یا تاریخ پیدائش اسناد سے درست کروا سکتے ہیں

اس تمام کیس کا خرچہ کتنا ہوگا؟

اس تمام معاملے اور عدالتی کیس میں کوئی زیادہ خرچہ نہیں ہوتا بس وکیل صاحب کی فیس ہوگی دعویٰ استقرار حق میں عدالتی فیس نہیں ہوتی۔

میاں حسنین رضا ایڈووکیٹ

13/09/2022

*ایف آئی آر درج کرواتے ھوئے مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں*

🖋تاریخ وقوعہ

🖋وقت ( وقت کو ہمیشہ تقریبا لکھنا چاہیئے مثلا صبح تقریبا 8 بجے یا شام تقریبا 6 بجے )

🖋الزام علیہ یا الزام علیہان کی تعداد

🖋نوٹ: اصل ملزم کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو بلاوجہ بطور ملزم نہ لکھیں کیونکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے اگر FIR میں اصل ملزم کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو بلاوجہ نامزد کیا جائے تو پھر ٹرائل میں اصل ملزم بھی اس تضاد کی وجہ سے عدالت میں سزا سے بچ جاتا ہے

🖋اگر ملزم یا ملزمان نامعلوم ہیں تو ان کا حلیہ لکھیں اور ساتھ یہ لکھیں کہ سامنے آنے پر انھیں پہنچانا جاسکتا ھے

الزام علیہ کے پاس ہتھیار

⬅اگر الزام علیہ 1 سے زیادہ ہیں تو ان تمام کے پاس ہتھیاروں کی اقسام

⬅وقوعہ کا ذکر اور وقوعہ میں ملزمان کا عملی کردار مثلا کس نے لوھے کا راڈ مارا یا کس نے پتھر مارا وغیرہ

⬅اگر مدعی نے کوئی مال اس وقوعہ میں کھویا ھے تو اس کی مالیت

⬅گواھوں کے نام ولدیت سکنہ

⬅اگر گواھوں کی تعداد زیادہ ھو تو کوشش کریں کہ جو ضروری گواہ ہیں صرف ان کا نام لکھیں کیونکہ گواھوں کی زیادہ تعداد بعد میں ٹرائل کے وقت Cross Examination کے وقت کچھ مسائل درپیش آتے ہیں اس لئے صرف ضروری گواھوں کا نام شامل کریں

وقوعہ میں جرم کی نوعیت

وجہ عناد

⬅اگر ایف آئی آر کی درخواست دینے میں کچھ دیر ھوئی ھے تو اس دیر کی وجہ
میڈیکل رپورٹ
الزام علیہ کے خلاف FIR درج کرنے کی استدعا
درخواست دہندہ کا نام ولدیت قوم سکنہ وغیرہ
درخواست دہندہ کے دستخط یا نشان انگوٹھا اور اس کے نیچے تاریخ اور کوشش کریں کہ درخواست دینے کا وقت بھی لکھ دیں تو بہتر ھوگا

شناختی کارڈ کی کاپی اور موبائل نمبر

✔ایک بات یاد رکھیں کہ ایف آئی آر مقدمہ کی بنیاد ہوتی ہے ایک مظبوط ایف آئی آر ملزمان کا سزا کرسکتی ہے اور ایک کمزور ایف آئی آر ملزمان کو باعزت بری بھی کرسکتی ہے.

میاں حسنین رضا ایڈووکیٹ ⚖️

19/06/2022

کاروباری لین دین اور سیکیورٹی چیک کی بنا پر دفعہ 489F ت پ میں سزا نہ ہوگی۔
(2021 MLD 584)
دفعہ 489Fت پ کیس میں، کوئی بھی آدمی FIR درج کرواسکتا ہے۔ ضمانت خارج ہوئی۔
(2011 PCrLJ 774)
دفعہ 489-F ت پ کیس میں، Hand writing ایکسپرٹ رپورٹ کے مطابق، دستخط ملزم کے نہ تھے۔ ضمانت قبل از گرفتاری خارج ہوئی
(2007 CrLJ 242).
دوران تفتیش، ملزم کے ذمہ مدعی کی کوئی رقم دینا ثابت نہ ہوا تھا۔ ضمانت قبل از گرفتاری کنفرم ہوئی۔
(2014 SCMR 1369).
چیک Dishonour ہونے کے بعد ملزم سے کبھی رقم کا تقاضا نہ کیا گیا تھا، ضمانت قبل از گرفتاری کنفرم ہوئی۔
(2009 YLR 87).
چیک بیرون ملک دبئی میں Dishonour ہو زیر دفعہ 188 ض ف FIR پاکستان میں درج ہو سکتی ہے۔ سماعت مقدمہ بھی ہو سکتی ہے۔
(2012 PCrLJ 1572).

15/06/2022

چالان کیا ہوتا ہے اور اس میں کتنے کالم ہوتے ہیں؟173crpc

کسی بھی فوجداری مقدمہ میں پولیس جب ملزم/ملزمان کی تفتیش کرتی ہے تو اس تفتیش سے اخذ کیے گئے نتائج کو متعلقہ ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کے لیے CrPC کے سیکشن 173 کے تحت ایک رپورٹ مرتب کرتی ہے جسے ہم عام عدالتی زبان میں چالان کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ چالان کا لفظ CrPC میں کہیں بھی نہیں استعمال ہوا بلکہ یہ عام عدالتی زبان سے وجود میں آیا۔
چالان میں مندرجہ ذیل 7 کالم ہوتے ہیں:

1: Name of the informant
چالان کے کالم نمبر 1 میں مدعی یا اطلاع دھندہ کا نام ہوتا ہے

2: Name of the person who have not be challan or his name include as abscounder
چالان کےکالم نمبر 2 میں ان ملزمان کا نام ہوتا ہے جن کو پولیس نے بے گناہ کیا ہو یا پھر انکا نام ہوتا ہے جن کو پولیس نے اشتہاری قرار دیا ہو

3: The accused who have been Challaned by police
کالم نمبر 3 میں ان ملزمان کا ذکر ہوتا ہے جن کو پولیس نے گنہگار کرکے چالان کیا ہو

4: The person who have been Challaned but on bail
کالم نمبر 4 میں ان افراد کا ذکر ہوتا جن کو چلان تو کیا گیا ہو مگر ضمانت پر ہوں

5: Property of case
کالم نمبر 5 میں مال مقدمہ کا ذکرہوتا ہے

6: Prosecution witnesses
کالم نمبر 6 میں استغاثہ کے گواھان کی فہرست ہوتی ہے

7: Facts of the case and opinion of investigation officer
کالم نمبر 7 میں مقدمہ کے حالات و واقعات کا ذکر ہوتا ہے تفتیشی آفیسر کی رائے تحریر ہوتی ہے اور عدالت میں پیش کردہ دستاویزات جو تفتیشی بطور شہادت پیش کرتا ہے کا ذکر کرتا ہے۔.

23/05/2022



*قاتل وراثت کا حقدار نہ ہے۔*

2018 CLC 860

جس وقت کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے اسکی وراثت فی الفور وارثان کو منتقل ہوجاتی ہے
2014 PSC 813
2013 SCMR 154

کوئی بھی معاہدہ جوخواتین کو انکےوراثتی حقوق سےمحروم کرتاہےبمطابق سپریم کورٹ اسکی کوئی حیثیت نہیں کالعدم تصورہوگا
2020 SC civil 505

Address

Hajvery Complex
Lahore

Telephone

+923095221004

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Mustafa Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Al-Mustafa Law Firm:

Share