24/02/2026
ابنِ خلدون نے سات سو سال پہلے ایک ایسا اصول بیان کیا جو آج بھی اتنا ہی سچا ہے جتنا اُس وقت تھا:
ریاستیں اچانک تباہ نہیں ہوتیں — وہ آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔
زوال کی ابتدا وہاں سے نہیں ہوتی جہاں توپ و تفنگ کی آوازیں آتی ہیں۔
وہ وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انصاف کمزور پڑ جاتا ہے۔
جہاں اصولوں کی جگہ مفاد لے لیتا ہے۔
جہاں قانون سب کے لیے برابر نہیں رہتا۔
ابنِ خلدون واضح کرتے ہیں کہ جب حکمران طبقہ عیش و عشرت میں ڈوب جاتا ہے تو سادگی، محنت اور قربانی جیسی صفات ختم ہونے لگتی ہیں۔ نئی نسل آرام کو حق اور محنت کو بوجھ سمجھنے لگتی ہے۔ ریاست کا نظم و نسق ظاہری طور پر تو قائم رہتا ہے، مگر اس کی روح کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔
پھر ایک اور خطرناک مرحلہ آتا ہے — ظلم۔
اور ظلم صرف یہ نہیں کہ کسی پر کھلا جبر کیا جائے۔
ظلم یہ بھی ہے کہ:
نااہل کو عہدہ مل جائے اور اہل کو نظر انداز کر دیا جائے
میرٹ کو تعلقات کے نیچے دبا دیا جائے
طاقتور احتساب سے بچ جائے اور کمزور قانون کے شکنجے میں رہے
سچ بولنے والا تنہا ہو جائے اور چاپلوس قریب ہو جائیں
ابنِ خلدون کہتے ہیں کہ ظلم “عمران” یعنی معاشرتی ڈھانچے کو برباد کر دیتا ہے۔
کیونکہ جب لوگوں کو یقین نہ رہے کہ انہیں انصاف ملے گا، تو وہ ریاست پر اعتماد کھو دیتے ہیں۔
اور جب اعتماد ٹوٹ جائے تو نظام صرف کاغذوں میں رہ جاتا ہے۔
ایسے معاشرے میں کیا ہوتا ہے؟
✔ اہلِ علم اور اہلِ عقل کنارہ کش ہو جاتے ہیں
✔ دیانتدار لوگ مایوس ہو کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں
✔ چاپلوسی، مفاد پرستی اور وقتی فائدہ عام ہو جاتا ہے
✔ سچ اور جھوٹ میں فرق دھندلا جاتا ہے
✔ لوگ اصول نہیں، سہولت تلاش کرتے ہیں
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں بظاہر عمارت کھڑی ہوتی ہے، لیکن بنیادوں میں دراڑیں پڑ چکی ہوتی ہیں۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب انصاف ختم ہوتا ہے تو معاشرہ گروہوں میں بٹ جاتا ہے۔ ہر شخص اپنی بقا کے لیے کسی طاقتور سائے کی تلاش کرتا ہے۔ اجتماعی شناخت کمزور ہو جاتی ہے اور ذاتی یا گروہی مفاد غالب آ جاتا ہے۔
ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا:
کیا ہم اپنے دائرہ اثر میں انصاف قائم رکھتے ہیں؟
کیا ہم میرٹ کی حمایت کرتے ہیں، چاہے وہ ہمارے مفاد کے خلاف ہی کیوں نہ ہو؟
کیا ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے ہیں؟
یاد رکھیں — انصاف صرف عدالتوں سے نہیں آتا، کردار سے آتا ہے۔
ریاست کی بقا صرف آئین سے نہیں، اخلاق سے ہوتی ہے۔
اور قوموں کی مضبوطی صرف وسائل سے نہیں، اعتماد سے ہوتی ہے۔
اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر انصاف، دیانت اور ذمہ داری کو زندہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ معاشرے کا زوال اوپر سے شروع ہو کر نیچے تک پھیلتا ہے — مگر اصلاح اکثر نیچے سے اوپر اٹھتی ہے۔
📚 حوالہ:
ابنِ خلدون، المقدمہ — باب: "الظلم مؤذن بخراب العمران" اور اطوار الدول
Adv Rehan Aslam Ch