Muhammad Rehan Ch Advocate High Court

Muhammad Rehan Ch Advocate High Court Member Lahore High Court Bar Association, Lahore. Solicitor & Advocate High Court
03029019243

ابنِ خلدون نے سات سو سال پہلے ایک ایسا اصول بیان کیا جو آج بھی اتنا ہی سچا ہے جتنا اُس وقت تھا:ریاستیں اچانک تباہ نہیں ہ...
24/02/2026

ابنِ خلدون نے سات سو سال پہلے ایک ایسا اصول بیان کیا جو آج بھی اتنا ہی سچا ہے جتنا اُس وقت تھا:
ریاستیں اچانک تباہ نہیں ہوتیں — وہ آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔
زوال کی ابتدا وہاں سے نہیں ہوتی جہاں توپ و تفنگ کی آوازیں آتی ہیں۔
وہ وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انصاف کمزور پڑ جاتا ہے۔
جہاں اصولوں کی جگہ مفاد لے لیتا ہے۔
جہاں قانون سب کے لیے برابر نہیں رہتا۔
ابنِ خلدون واضح کرتے ہیں کہ جب حکمران طبقہ عیش و عشرت میں ڈوب جاتا ہے تو سادگی، محنت اور قربانی جیسی صفات ختم ہونے لگتی ہیں۔ نئی نسل آرام کو حق اور محنت کو بوجھ سمجھنے لگتی ہے۔ ریاست کا نظم و نسق ظاہری طور پر تو قائم رہتا ہے، مگر اس کی روح کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔
پھر ایک اور خطرناک مرحلہ آتا ہے — ظلم۔
اور ظلم صرف یہ نہیں کہ کسی پر کھلا جبر کیا جائے۔
ظلم یہ بھی ہے کہ:
نااہل کو عہدہ مل جائے اور اہل کو نظر انداز کر دیا جائے
میرٹ کو تعلقات کے نیچے دبا دیا جائے
طاقتور احتساب سے بچ جائے اور کمزور قانون کے شکنجے میں رہے
سچ بولنے والا تنہا ہو جائے اور چاپلوس قریب ہو جائیں
ابنِ خلدون کہتے ہیں کہ ظلم “عمران” یعنی معاشرتی ڈھانچے کو برباد کر دیتا ہے۔
کیونکہ جب لوگوں کو یقین نہ رہے کہ انہیں انصاف ملے گا، تو وہ ریاست پر اعتماد کھو دیتے ہیں۔
اور جب اعتماد ٹوٹ جائے تو نظام صرف کاغذوں میں رہ جاتا ہے۔
ایسے معاشرے میں کیا ہوتا ہے؟
✔ اہلِ علم اور اہلِ عقل کنارہ کش ہو جاتے ہیں
✔ دیانتدار لوگ مایوس ہو کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں
✔ چاپلوسی، مفاد پرستی اور وقتی فائدہ عام ہو جاتا ہے
✔ سچ اور جھوٹ میں فرق دھندلا جاتا ہے
✔ لوگ اصول نہیں، سہولت تلاش کرتے ہیں
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں بظاہر عمارت کھڑی ہوتی ہے، لیکن بنیادوں میں دراڑیں پڑ چکی ہوتی ہیں۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب انصاف ختم ہوتا ہے تو معاشرہ گروہوں میں بٹ جاتا ہے۔ ہر شخص اپنی بقا کے لیے کسی طاقتور سائے کی تلاش کرتا ہے۔ اجتماعی شناخت کمزور ہو جاتی ہے اور ذاتی یا گروہی مفاد غالب آ جاتا ہے۔
ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا:
کیا ہم اپنے دائرہ اثر میں انصاف قائم رکھتے ہیں؟
کیا ہم میرٹ کی حمایت کرتے ہیں، چاہے وہ ہمارے مفاد کے خلاف ہی کیوں نہ ہو؟
کیا ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے ہیں؟
یاد رکھیں — انصاف صرف عدالتوں سے نہیں آتا، کردار سے آتا ہے۔
ریاست کی بقا صرف آئین سے نہیں، اخلاق سے ہوتی ہے۔
اور قوموں کی مضبوطی صرف وسائل سے نہیں، اعتماد سے ہوتی ہے۔
اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر انصاف، دیانت اور ذمہ داری کو زندہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ معاشرے کا زوال اوپر سے شروع ہو کر نیچے تک پھیلتا ہے — مگر اصلاح اکثر نیچے سے اوپر اٹھتی ہے۔
📚 حوالہ:
ابنِ خلدون، المقدمہ — باب: "الظلم مؤذن بخراب العمران" اور اطوار الدول
Adv Rehan Aslam Ch

70 سال پرانا ریکارڈ ،  دادا پردادا کی جائیداد ،  آپکو اب ریکارڈ ملا ! ریکارڈ دیکھا تو مِسل میعادی / جمعبندی سال 1987 کی،...
07/02/2026

70 سال پرانا ریکارڈ ، دادا پردادا کی جائیداد ، آپکو اب ریکارڈ ملا !
ریکارڈ دیکھا تو

مِسل میعادی / جمعبندی سال 1987 کی،
جب ضلع شیخوپورہ تھا اور ننکانہ صاحب صرف ایک تحصیل ارو جمع بندی میں سائل کو دادا پرداد کا ریکارڈ تو مل گیا لیکن قبضہ کسی اور کے پاس اور کمپیوٹر ریکارڈ میں اب یہ رکارڈ میں زمیں دادا پرداد کے نام نہیں آتا

70 سال خاموشی — کیا حق ختم ہو گیا؟

قانون کیا کہتا ہے ؟
ریکارڈ جتنا بھی پرانا ہو ، ملکیت غیر کانونی ٹرانسفر نہیں ہو سکتی ۔

ملکیت کا بنیادی اور اصل ثبوت (Root of Title) ہے جو سائل کے دادا پرداد کے نام ۔

• کمپیوٹر ریکارڈ:
صرف پرانے ریکارڈ کا عکس ہوتا ہے ،یہ خود ملکیت پیدا یا ختم نہیں کرتے

یعنی:
اگر پرانے ریکارڈ میں آپ کے دادا پردادا مالک ہیں،
تو صرف کمپیوٹر سے نام غائب ہونا
ملکیت ختم نہیں کرتا۔

قبضہ کس بنیاد پر معتبر ہے؟

قانون بہت واضح ہے: قبضہ بذاتِ خود ملکیت نہیں بنتا ،جب تک قبضہ کرنے والا یہ ثابت نہ کرے کہ:
• باقاعدہ انتقال وراثت / فروخت ،یا رجسٹرڈ رجسٹری ،یا عدالتی ڈگری
موجود ہے

70 سال بعد اب ریکارڈ دیکھا / پتا چلا

یاد رکھے ۔

وراثتی حق کبھی Limitation میں ختم نہیں ہوتا
• اگر:
• وراثت کا انتقال درج نہیں ہوا ،یا جعلی طریقے سے درج ہوا

تو:

وہ انتقال ہمیشہ چیلنج کیا جا سکتا ہے

عدالتیں ایسے معاملات میں یہ دیکھتی ہیں ،اصل مالک کون تھا؟ پہلا معتبر ریکارڈ کیا کہتا ہے؟ موجودہ قابض کس بنیاد پر بیٹھا ہے؟

کمپیوٹر ریکارڈ میں نام کیوں غائب ہوتا ہے؟

عام وجوہات:
• وراثت کا انتقال کبھی درج ہی نہیں ہوا ،کسی اور نے: خاموشی سے انتقال کروا لیا، یا جعلی بیع / بیان درج کروایا
• Manual Record
سے Digital Migration میں نام drop ہو گیا

یہ سب قابلِ اصلاح (Rectifiable) ہیں۔

اگر آپ کے پاس:
• قدیم جمعبندی ،نسب نامہ / وراثت کا ثبوت

تو آپ:

ملکیت کا دعویٰ (Declaration) ،غلط انتقال کی منسوخی
✔️ قبضہ کی بحالی ،آمدنی کا ہرجانہ (Mesne Profits)

سب کچھ مانگ سکتے ہیں۔

دادا پردادا کا حق
وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتا۔

Rehan Aslam Chaudhary ( Adv )
Lahore High court
WhatsApp message
03029019243

Share for information and awareness:

31/01/2026

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) نے زمین کی خرید و فروخت کو محفوظ بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے «»فرد برائے بیع پر خریدار کا نام اور شناختی کارڈ نمبر درج کرنا لازمی قرار دے دیا ہے. اس نئے اقدام سے اب فروخت کنندہ کے ساتھ ساتھ خریدار کی تفصیلات بھی سرکاری دستاویز میں موجود ہوں گی، جس سے دھوکہ دہی کے امکانات کم اور ٹرانزیکشن شفاف ہو جائے گی.
اہم نکات:
لازمی تفصیلات: خریدار کا نام اور CNIC اب بیع (Sale) کی فرد پر ضروری ہوں گے۔
تحفظ: یہ اقدام زمین کے خریداروں کو بہتر قانونی تحفظ فراہم کرے گا.
شفافیت: PLRA کا یہ اقدام فراڈ کو روکنے اور ریکارڈ کو اپ ڈیٹ رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا.

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی PLRA نے زمین کی خرید و فروخت کیلئے فرد برائے بیع کے اوپر خریدار کا نام اور شناختی کارڈ نمبر درج ہونا لازمی قرار دے ...
ریحان چوہدری ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
Board of Revenue, Punjab, Lahore

31/01/2026

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) نے زمین کی خرید و فروخت کو محفوظ بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے «»فرد برائے بیع پر خریدار کا نام اور شناختی کارڈ نمبر درج کرنا لازمی قرار دے دیا ہے. اس نئے اقدام سے اب فروخت کنندہ کے ساتھ ساتھ خریدار کی تفصیلات بھی سرکاری دستاویز میں موجود ہوں گی، جس سے دھوکہ دہی کے امکانات کم اور ٹرانزیکشن شفاف ہو جائے گی.
اہم نکات:
لازمی تفصیلات: خریدار کا نام اور CNIC اب بیع (Sale) کی فرد پر ضروری ہوں گے۔
تحفظ: یہ اقدام زمین کے خریداروں کو بہتر قانونی تحفظ فراہم کرے گا.
شفافیت: PLRA کا یہ اقدام فراڈ کو روکنے اور ریکارڈ کو اپ ڈیٹ رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا.
پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹیPLRA نے زمین کی خرید و فروخت کیلئے فرد برائے بیع کے اوپر خریدار کا نام اور شناختی کارڈ نمبر درج ہونا لازمی قرار دیا ...
ریحان چوہدری ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
03029019243
Board of Revenue Lahore.

31/01/2026

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) نے زمین کی خرید و فروخت کو محفوظ بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے «»فرد برائے بیع پر خریدار کا نام اور شناختی کارڈ نمبر درج کرنا لازمی قرار دے دیا ہے. اس نئے اقدام سے اب فروخت کنندہ کے ساتھ ساتھ خریدار کی تفصیلات بھی سرکاری دستاویز میں موجود ہوں گی، جس سے دھوکہ دہی کے امکانات کم اور ٹرانزیکشن شفاف ہو جائے گی.
اہم نکات:
لازمی تفصیلات: خریدار کا نام اور CNIC اب بیع (Sale) کی فرد پر ضروری ہوں گے۔
تحفظ: یہ اقدام زمین کے خریداروں کو بہتر قانونی تحفظ فراہم کرے گا.
شفافیت: PLRA کا یہ اقدام فراڈ کو روکنے اور ریکارڈ کو اپ ڈیٹ رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا.
پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی PLRA نے زمین کی خرید و فروخت کیلئے ...
29-Jan-2026 — پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی PLRA نے زمین کی خرید و فروخت کیلئے فرد برائے بیع کے اوپر خریدار کا نام اور شناختی کارڈ نمبر درج ہونا لازمی قرار دے ...
ریحان چوہدری ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
of revenue

🌊 آپ بیمار نہیں، بلکہ پانی کے محتاج ہیںاکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بیمار ہو گئے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کا جسم پانی کی ک...
27/01/2026

🌊 آپ بیمار نہیں، بلکہ پانی کے محتاج ہیں
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بیمار ہو گئے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کا جسم پانی کی کمی (Dehydration) کا شکار ہوتا ہے۔
ایرانی نژاد معروف طبی محقق ڈاکٹر فریدون باتمن غلیج (Dr. Fereydoon Batmanghelidj) نے اپنی تحقیق میں ایک سادہ مگر انقلابی بات کہی:

🧠 “جسم بیماری سے پہلے پانی مانگتا ہے”
جب جسم میں پانی کم ہونے لگتا ہے تو وہ فوراً بیماری نہیں بناتا، بلکہ پہلے انتباہی علامات بھیجتا ہے:
خشکی
جلن
خارش
کھنچاؤ
جوڑوں کا درد
سر درد
قبض
سانس کا بھاری پن
ذہنی دباؤ اور بے چینی
یہ سب دراصل خاموش پیاس کی چیخ ہوتی ہے، مگر ہم اسے اکثر

💊 گولی
🧴 کریم
یا وقتی علاج سے دبا دیتے ہیں — مسئلہ حل نہیں کرتے۔

🟢 جلد کی خارش، الرجی، ایگزیما یا سرخی
اکثر صرف جلد کا مسئلہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ جسم کے اندرونی پانی کی کمی کا آئینہ ہوتی ہے۔
پانی خون کو رواں رکھتا ہے، خلیوں کو زندگی دیتا ہے اور جسم سے زہریلے مادّے خارج کرتا ہے۔

💧 ایک سادہ مگر مؤثر نسخہ
اگر آپ محسوس کریں کہ خارش، جلن یا بے چینی کسی خاص وقت پر شروع ہوتی ہے تو: 👉 اس سے پہلے دو بڑے گلاس پانی پی لیجیے
اکثر خارش شروع ہی نہیں ہوتی، اور اگر ہو بھی جائے تو جلد ختم ہو جاتی ہے۔
🍋 چاہیں تو پانی میں چند قطرے لیموں شامل کر سکتے ہیں
یہ جسم میں نمی کو تیزی سے بحال کرتا ہے اور معدے کو بھی ہلکا رکھتا ہے۔

🌿 اگر سادہ پانی پینا مشکل لگے تو
آپ پانی کو قدرتی ذائقہ دے سکتے ہیں:
الائچی
سونف
پودینہ
ان چیزوں کو پانی میں ابال کر پینا:
✔️ پانی کو خوشگوار بناتا ہے
✔️ ہاضمہ بہتر کرتا ہے
✔️ جسم پر بوجھ نہیں ڈالتا
⚠️ یاد رکھیں:
سادہ پانی ہی سب سے طاقتور اور فطری شفا ہے

📏 روزانہ کتنا پانی پینا چاہیے؟
ایک آسان اور سائنسی اصول:
ہر کلو وزن کے بدلے تقریباً 30 ملی لیٹر پانی
مثال: 👤 70 کلو وزن → روزانہ 2 سے 2.5 لیٹر پانی
اس سے:
خلیے تازہ رہتے ہیں
جلد نرم اور صاف ہوتی ہے
خون کی صفائی بہتر ہوتی ہے
قبض، خشکی اور تھکن میں واضح کمی آتی ہے

🥛 پانی کے ساتھ یہ چیزیں بھی فائدہ مند ہیں
کھٹی لسی / چھاچھ
سبزیوں کا شوربہ
تازہ پھل (پوری شکل میں)
سبز چائے

🧴 بیرونی خشکی کے لیے
نہانے کے بعد:
ناریل کا تیل
زیتون کا تیل
جلد پر لگائیں — یہ نمی کو محفوظ رکھتا ہے۔

✨ چند ہی دنوں میں آپ خود محسوس کریں گے:
جسم ہلکا
جلد نرم
خارش اور خشکی کم
اور طبی ادویات پر انحصار کم
🌿 پانی کو دوا نہیں، عادت بنائیں
کیونکہ

👉 عادت ہی اصل شفا ہے







ریحان چوہدری ایڈووکیٹ

03029019243

پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی سب رجسٹرار کے لیے اہم اپڈیٹ
15/01/2026

پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی
سب رجسٹرار کے لیے اہم اپڈیٹ

Role of Travel Agency in Foreign Employment
15/01/2026

Role of Travel Agency in Foreign Employment

01/01/2026

Address

Office No. 73 Qauid E Azam Block District & Session Courts, District Complex Okara. , Office No. 5 Anab Centre, Fan Road Near High Court
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 21:00 - 04:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 13:00
Saturday 09:00 - 16:00

Telephone

+923029019243

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Rehan Ch Advocate High Court posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Muhammad Rehan Ch Advocate High Court:

Share