04/07/2026
⚖️ کیا طلاق یا خلع کے بغیر ماں بچوں کی کسٹڈی حاصل کر سکتی ہے؟
قانونی وضاحت:
جی ہاں، اگرچہ میاں بیوی کے درمیان نہ طلاق ہوئی ہو اور نہ ہی خلع، تب بھی ماں مناسب حالات میں Guardian & Custody کی درخواست دائر کر سکتی ہے۔
اگر والد:
- بچوں کا نان و نفقہ ادا نہ کر رہا ہو؛
- بیوی کے واجب نان و نفقہ سے بھی مسلسل انکار کر رہا ہو؛
- یا بچوں کی مناسب دیکھ بھال اور پرورش میں ناکام ہو؛
تو ایسی صورت میں ماں فیملی کورٹ سے بچوں کی تحویل (Custody) حاصل کرنے کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔
قانونی اصول:
Guardians and Wards Act, 1890 کی دفعہ 17 کے مطابق، عدالت کے لیے سب سے اہم اور فیصلہ کن معیار بچے کی بہترین بھلائی (Welfare of the Minor) ہے، نہ کہ صرف یہ کہ والدین کے درمیان طلاق یا خلع ہوئی ہے یا نہیں۔
اہم عدالتی نظائر (Case Law):
- PLD 2025 SC 47 (reported as 2024 SCP 395) — سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بچے کی فلاح و بہبود ہر دوسرے حق پر مقدم ہے، اور اگر حالات اس کا تقاضا کریں تو ماں کو کسٹڈی دی جا سکتی ہے، حتیٰ کہ دیگر عوامل موجود ہوں۔
- PLD 2002 SC 267 — سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کسٹڈی کے مقدمات میں بنیادی اور اولین اصول بچے کی فلاح و بہبود ہے۔
نتیجہ:
لہٰذا، صرف اس وجہ سے کہ طلاق یا خلع نہیں ہوا، ماں بچوں کی کسٹڈی کا دعویٰ دائر کرنے سے محروم نہیں ہوتی۔ عدالت ہر مقدمے کا فیصلہ بچے کے بہترین مفاد اور فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتی ہے۔
AM Lawyers Forum