M Rehan A Ch Advocate

M Rehan A Ch Advocate Member Lahore High Court Bar Association, Lahore. Solicitor & Advocate High Court
03029019243

29/08/2026
29/08/2026
29/08/2026

پاسپورٹ بنوانے کیلئے غلط معلومات دینے کی سزا
پاسپورٹ کے لیے درخواست دیتے وقت غلط معلومات فراہم کرنا پاکستان کے قانون کے تحت ایک سنگین جرم ہے۔ بہت سے فراڈ کیسز اسی مرحلے پر سامنے آتے ہیں، جہاں لوگ جان بوجھ کر غلط ذاتی معلومات دیتے ہیں، جیسے نام یا پتے میں غلطی، ازدواجی حیثیت چھپانا، یا پہلے ڈی پورٹیشن (ملک بدری) یا مجرمانہ ریکارڈ کو ظاہر نہ کرنا۔ پاسپورٹس ایکٹ 1974 کی دفعہ 6 کے تحت ایسے عمل پر سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے، جبکہ دفعہ 9 کے مطابق درخواست گزار خود اس بات کا ذمہ دار ہوتا ہے کہ دی گئی تمام معلومات درست اور سچی ہوں۔
قانون کے مطابق اگر کوئی شخص جان بوجھ کر غلط بیان دیتا ہے یا جعلی معلومات استعمال کرتا ہے تو اسے تین سال تک قید اور/یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی سرکاری افسر یا کوئی اور شخص جانتے ہوئے غلط معلومات کی تصدیق کرتا ہے تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ اہم معلومات چھپانا، جیسے کہ پہلے ملک بدری یا کسی جرم کا ریکارڈ، بھی اسی طرح قابلِ سزا ہے۔ مزید یہ کہ پاسپورٹ رولز 2021 کے تحت اگر کسی کی شہریت یا پس منظر مشکوک ہو تو اس کیس کو متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو بھیجا جا سکتا ہے، اور اگر کسی نے دھوکے سے شناختی دستاویزات حاصل کیے ہوں تو مستقبل میں اسے پاسپورٹ کی سہولت سے محروم بھی کیا جا سکتا ہے۔ ڈی پورٹیشن کی معلومات چھپانے کی صورت میں اضافی پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔
اسی لیے درخواست گزاروں کو چاہیے کہ وہ پاسپورٹ فارم خود پُر کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام معلومات ان کے CNIC ریکارڈ (جو NADRA کے پاس موجود ہوتا ہے) سے مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہوں۔ معمولی فرق بھی مسئلہ پیدا کر سکتا ہے اور تصدیقی عمل یا قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو پہلے ملک بدر کیا گیا ہو تو اسے لازماً سچائی کے ساتھ ظاہر کرنا چاہیے، کیونکہ اسے چھپانے کی صورت میں بلیک لسٹنگ اور مستقبل میں سفری دستاویزات پر پابندی لگ سکتی ہے۔ اگر ذاتی معلومات میں کسی قسم کی تبدیلی درکار ہو تو پہلے اسے NADRA کے ریکارڈ میں درست کروانا ضروری ہے، اس کے بعد ہی پاسپورٹ کے لیے درخواست دی جائے
اہم قانونی نکات (Key Legal Provisions)
• پاسپورٹ کی درخواست میں جان بوجھ کر غلط معلومات دینا یا استعمال کرنا ایک قابلِ سزا جرم ہے، جس پر زیادہ سے زیادہ 3 سال قید اور/یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ [دفعہ 6(1)(a)]
• اگر کوئی شخص، حتیٰ کہ کوئی گزٹڈ افسر بھی، جانتے ہوئے غلط معلومات کی تصدیق کرے تو یہ بھی جرم ہے۔ یہ جرم قابلِ ضمانت ہے مگر سزا کے دائرے میں آتا ہے۔ [دفعہ 6(1)(b) اور 6(2)]
• کسی اہم حقیقت کو جان بوجھ کر چھپانا، جیسے کہ پہلے ملک بدری یا مجرمانہ ریکارڈ، بھی اسی طرح قابلِ سزا ہے۔ [دفعہ 6(1)(c)]
• پاسپورٹ درخواست میں دی گئی معلومات کے درست ہونے کا مکمل ثبوت دینا درخواست گزار کی ذمہ داری ہے۔ [دفعہ 9]
• پاسپورٹ رولز 2021 کے تحت اگر کسی شخص کی شہریت یا ماضی مشکوک ہو تو اس کا کیس سیکیورٹی اداروں کو بھیجا جا سکتا ہے۔ [رول 9(c)]
• جن افراد نے جعلی شناخت پر CNIC یا پاسپورٹ حاصل کیا ہو، انہیں آئندہ پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ [رول 21(k)]
• جن افراد کو پہلے ملک بدر کیا جا چکا ہو، ان کے لیے یہ معلومات ظاہر کرنا لازمی ہے۔ اسے چھپانا ایک اضافی جرم شمار ہوگا۔ [رول 21(l) اور دفعہ 6(c)]

RehanLawAssociates

29/08/2026
⚖️ کیا طلاق یا خلع کے بغیر ماں بچوں کی کسٹڈی حاصل کر سکتی ہے؟قانونی وضاحت:جی ہاں، اگرچہ میاں بیوی کے درمیان نہ طلاق ہوئی...
04/07/2026

⚖️ کیا طلاق یا خلع کے بغیر ماں بچوں کی کسٹڈی حاصل کر سکتی ہے؟

قانونی وضاحت:
جی ہاں، اگرچہ میاں بیوی کے درمیان نہ طلاق ہوئی ہو اور نہ ہی خلع، تب بھی ماں مناسب حالات میں Guardian & Custody کی درخواست دائر کر سکتی ہے۔

اگر والد:
- بچوں کا نان و نفقہ ادا نہ کر رہا ہو؛
- بیوی کے واجب نان و نفقہ سے بھی مسلسل انکار کر رہا ہو؛
- یا بچوں کی مناسب دیکھ بھال اور پرورش میں ناکام ہو؛

تو ایسی صورت میں ماں فیملی کورٹ سے بچوں کی تحویل (Custody) حاصل کرنے کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔

قانونی اصول:
Guardians and Wards Act, 1890 کی دفعہ 17 کے مطابق، عدالت کے لیے سب سے اہم اور فیصلہ کن معیار بچے کی بہترین بھلائی (Welfare of the Minor) ہے، نہ کہ صرف یہ کہ والدین کے درمیان طلاق یا خلع ہوئی ہے یا نہیں۔

اہم عدالتی نظائر (Case Law):
- PLD 2025 SC 47 (reported as 2024 SCP 395) — سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بچے کی فلاح و بہبود ہر دوسرے حق پر مقدم ہے، اور اگر حالات اس کا تقاضا کریں تو ماں کو کسٹڈی دی جا سکتی ہے، حتیٰ کہ دیگر عوامل موجود ہوں۔
- PLD 2002 SC 267 — سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کسٹڈی کے مقدمات میں بنیادی اور اولین اصول بچے کی فلاح و بہبود ہے۔

نتیجہ:
لہٰذا، صرف اس وجہ سے کہ طلاق یا خلع نہیں ہوا، ماں بچوں کی کسٹڈی کا دعویٰ دائر کرنے سے محروم نہیں ہوتی۔ عدالت ہر مقدمے کا فیصلہ بچے کے بہترین مفاد اور فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتی ہے۔

AM Lawyers Forum


Address

Office No. 78 New Block District & Session Courts Opposite Main Gate, District Complex Okara. , Office No. 5 Anab Centre, Fan Road Near High Court
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 13:00
Saturday 09:00 - 16:00

Telephone

+923029019243

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Rehan A Ch Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to M Rehan A Ch Advocate:

Shortcuts

Share