02/05/2026
1 کروڑ کے بانڈ بمقابلہ پروفیشنل شیلڈ: کیوں انشورنس پاکستانی کنسلٹنسی کا مستقبل ہے
تحریر: FSC پاکستان سیکریٹریٹ
پاکستان میں بین الاقوامی تعلیمی کنسلٹنسی کا شعبہ ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش یقیناً خوش آئند ہے، کیونکہ اس سے پیشہ ورانہ معیار بہتر ہوگا۔ تاہم، مجوزہ 1 کروڑ روپے کی بینک گارنٹی ایک ایسا سخت اور غیر مؤثر اقدام ہے جو ہزاروں محنتی کنسلٹنٹس کے روزگار کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
لیکویڈیٹی کا جال: بینک گارنٹی کیوں ناکام ماڈل ہے؟
ایک مقررہ بینک گارنٹی ایک “Static” حل ہے جبکہ مسئلہ “Dynamic” نوعیت کا ہے۔ بینک میں 1 کروڑ روپے منجمد کر دینے سے نہ تو مشاورت کا معیار بہتر ہوتا ہے اور نہ ہی کسی ادارے کی اخلاقیات مضبوط ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، یہ اقدام:
• ترقی کو روکتا ہے:
کنسلٹنٹس کا وہ سرمایہ ختم ہو جاتا ہے جو وہ نئے اسٹاف کی بھرتی، دفاتر کی بہتری، اور اپنی سروسز کی مارکیٹنگ پر خرچ کر سکتے تھے۔
• اجارہ داری کو فروغ دیتا ہے:
یہ نظام صرف چند بڑے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ دیتا ہے جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs)، جو اس صنعت کی اصل بنیاد ہیں، شدید متاثر ہوتے ہیں۔
________________________________________
FSC کا متبادل حل: پروفیشنل انڈیمنٹی انشورنس (PII)
FSC پاکستان وزارت کے سامنے ایک جدید اور عالمی معیار کا متبادل پیش کر رہا ہے: Professional Indemnity Insurance (PII)۔
برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں حساس اور اہم سروس انڈسٹریز کو اسی ماڈل کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔
ہمیں انشورنس بیسڈ سیف گارڈ کی طرف کیوں جانا چاہیے؟
1. طلبہ کا جامع تحفظ
بینک گارنٹی سے کسی طالب علم کو تنازع یا نقصان کی صورت میں فوری فائدہ حاصل کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔ جبکہ انشورنس پالیسی ایک “Live Shield” کے طور پر کام کرتی ہے۔
اگر کسی کنسلٹنٹ کی غلطی یا ریفنڈ میں تاخیر کی وجہ سے طالب علم کو مالی نقصان ہو تو انشورنس کمپنی قانونی اور واضح طریقہ کار کے تحت معاوضہ فراہم کرتی ہے۔
2. کنسلٹنٹس کے لیے مالی طور پر قابلِ عمل حل
1 کروڑ روپے منجمد کرنے کے بجائے، کنسلٹنٹ صرف ایک نسبتاً کم اور قابلِ برداشت سالانہ پریمیم ادا کرے گا۔
اس سے:
• کنسلٹنٹ کا سرمایہ “Liquid” اور فعال رہے گا،
• معیشت میں سرمایہ گردش کرتا رہے گا،
• اور حکومت کو مطلوبہ سیکیورٹی بھی حاصل رہے گی۔
3. جانچ پڑتال کے ذریعے احتساب
انشورنس کمپنیاں زیادہ خطرناک یا دھوکہ دہی میں ملوث افراد کو پالیسی جاری نہیں کرتیں۔
اگر انشورنس کو لازمی قرار دیا جائے تو انڈسٹری میں قدرتی طور پر “صفائی” کا عمل شروع ہوگا۔ صرف وہی کنسلٹنٹس کام کر سکیں گے جو:
• FSC کے ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) پر پورا اتریں،
• اور انشورنس کمپنی کی رسک اسیسمنٹ پاس کریں۔
4. ریفنڈز کے لیے حفاظتی پل
طلبہ کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک “Refund Delay” ہے۔
FSC پاکستان تجویز دیتا ہے کہ ایک خصوصی انشورنس پروڈکٹ اس مسئلے کے حل کے لیے “Bridge Mechanism” کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
اگر کسی یونیورسٹی کی جانب سے ریفنڈ غیر معمولی حد تک تاخیر کا شکار ہو جائے تو انشورنس سسٹم طالب علم کو فوری تحفظ فراہم کرے گا، جس سے:
• طالب علم مالی بحران سے بچے گا،
• کنسلٹنٹ کی ساکھ برقرار رہے گی،
• اور پوری انڈسٹری کا اعتماد مضبوط ہوگا۔
________________________________________
اتحاد کی اپیل
FSC پاکستان ایک Tiered Regulatory Model کے لیے پُرعزم ہے، جہاں:
• آپ کا تجربہ،
• ٹیکس ہسٹری،
• اور پیشہ ورانہ ریکارڈ
آپ کے بینک اکاؤنٹ کے سائز سے زیادہ اہمیت رکھتے ہوں۔
ہم ایک ایسے نظام کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں جو:
• طالب علم کے خوابوں کی حفاظت کرے،
• اور کنسلٹنٹ کے کاروبار کے حق کو بھی محفوظ رکھے۔
ہم پوری کمیونٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ FSC پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو۔
آئیے فرسودہ “Cash Bonds” کے نظام سے نکل کر Professional Accountability کے ایک جدید مستقبل کی طرف بڑھیں۔
تحریک کا حصہ بنیے۔
اپنے روزگار کا تحفظ کیجیے۔
FSC Pakistan
Safeguarding the Architects of Future Careers
منصور حسن
سیکریٹری اطلاعات
رکن آئین کمیٹی