Eastern Attorneys

Eastern Attorneys 𝐎𝐮𝐫 𝐌𝐢𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧
At Eastern Tax Attorney we help you get where you want to be by thinking ahead and responding to your needs.

⚖️ Trusted Legal Counsel with Professional Excellence
📌 Civil, Family & Criminal Cases • FIA Matters
💼 Tax & Corporate Advisory
📩 Consult for reliable legal representation. By anticipating and responding to your needs, we at Eastern Tax Attorney assist you to go with desired and safe results.

𝗢𝘂𝗿 𝗩𝗶𝘀𝗶𝗼𝗻
Our vision is to be known as the Best Professional Services Company in Pakistan in the field o

f tax, corporate, and allied fields. Our core professional attorneys serve large national enterprises as well as fast growing small and large businesses and individuals.

تاوان کے لیے اغوا ہر حال میں دہشت گردی نہیں! — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہسپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تاوان کے لیے اغوا صرف اس...
29/08/2026

تاوان کے لیے اغوا ہر حال میں دہشت گردی نہیں! — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تاوان کے لیے اغوا صرف اس بنیاد پر خود بخود دہشت گردی نہیں بن جاتا کہ یہ جرم اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے شیڈول میں شامل ہے۔ دہشت گردی ثابت کرنے کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ ملزم کا عمل عوام میں خوف، عدم تحفظ یا دہشت پیدا کرنے یا عوامی نظم و نسق کو متاثر کرنے کے ارادے سے کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ جب استغاثہ اہم گواہ پیش نہ کرے، شناخت پریڈ ناقص یا تاخیر سے ہو، مغوی ملزم کو شناخت نہ کرے اور تاوان کی رقم کی وصولی بھی مشکوک ہو تو محض قیاس اور کمزور شواہد کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

سپریم کورٹ کے اہم قانونی نکات

تاوان کے لیے اغوا اور دہشت گردی میں فرق:
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365-A کے تحت تاوان کے لیے اغوا ایک سنگین جرم ہے، لیکن ہر ایسا جرم لازماً دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔

دہشت گردی کے لیے مخصوص نیت ضروری:
اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت سزا کے لیے ایسا واضح ثبوت ضروری ہے کہ جرم کا مقصد عوام میں خوف، دہشت یا عدم تحفظ پیدا کرنا یا عوامی نظم کو متاثر کرنا تھا۔

شیڈول میں شامل ہونا کافی نہیں:
صرف یہ حقیقت کہ تاوان کے لیے اغوا اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے شیڈول میں شامل ہے، جرم کو خود بخود دہشت گردی نہیں بنا دیتی۔

اہم گواہ کو پیش نہ کرنا:
اگر کوئی شخص واقعہ کا اہم عینی شاہد ہو اور اس کی گواہی مقدمے کے لیے انتہائی اہم ہو، لیکن استغاثہ اسے پیش نہ کرے، تو اس کا منفی اثر استغاثہ کے مقدمے پر پڑ سکتا ہے۔

قرآنِ شہادت کے تحت منفی قرینہ:
اہم اور دستیاب شہادت پیش نہ کرنے کی صورت میں قانونِ شہادت، 1984 کے آرٹیکل 129(g) کے تحت عدالت منفی قرینہ اخذ کر سکتی ہے۔

شناخت پریڈ میں خامیاں:
ناقص یا غیر ضروری تاخیر سے ہونے والی شناخت پریڈ، اور خصوصاً مغوی کا ملزم کو شناخت نہ کرنا، استغاثہ کے مقدمے کو شدید کمزور کر سکتا ہے۔

تاوان کی رقم کی مشکوک برآمدگی:
اگر مبینہ تاوان کی رقم کی برآمدگی قابلِ اعتماد اور مضبوط شواہد سے ثابت نہ ہو تو اسے ملزم کے خلاف مضبوط شہادت نہیں سمجھا جا سکتا۔

دیگر شواہد کا فقدان:
بینکنگ لین دین، ٹیلی فونک رابطوں اور دیگر اہم شواہد کا مؤثر طور پر ثابت نہ ہونا بھی استغاثہ کے مقدمے میں شک پیدا کرتا ہے۔

عدالت کی اہم آبزرویشن

سپریم کورٹ کے مطابق مقدمے میں اہم گواہ کا پیش نہ ہونا، ناقص و تاخیر سے شناخت پریڈ، مغوی کا شناخت نہ کرنا، مغوی کا بیان ریکارڈ کرنے میں تاخیر، بینکنگ اور ٹیلی فونک رابطوں کا ناقابلِ اعتماد ہونا اور مبینہ تاوان کی مشکوک برآمدگی—ان تمام عوامل کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو استغاثہ کی کہانی قابلِ اعتماد نہیں رہتی۔

اہم اصول:

ہر تاوان کے لیے اغوا دہشت گردی نہیں؛ دہشت گردی کے لیے قانون کے مطابق واضح ارادہ اور قابلِ اعتماد ثبوت ضروری ہے۔

لائسنس کے بغیر لاپرواہ ڈرائیونگ پر ضمانت نہیں مل سکتی؛ لاہور ہائی کورٹ کا اہم قانونی فیصلہیہ لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ...
29/08/2026

لائسنس کے بغیر لاپرواہ ڈرائیونگ پر ضمانت نہیں مل سکتی؛ لاہور ہائی کورٹ کا اہم قانونی فیصلہ

یہ لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کا 20 اگست 2026 کا ایک تفصیلی فیصلہ (Order Sheet) ہے، جس کی مکمل تفصیلات درج ذیل ہیں:

​1. کیس کا پس منظر اور بنیادی معلومات

​عدالت: لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ، ملتان

​کیس نمبر: Criminal Miscellaneous No. 5377-B of 2026
​تاریخِ فیصلہ: 20.08.2026

​جج: جسٹس تنویر احمد شیخ (Justice Tanveer Ahmad Sheikh)
​سائل (Petitioner): ریاض حسین (Riaz Hussain)
​مخالف فریق (Respondents): ریاست اور دیگر (The State and another)

​درخواست کی نوعیت: پوسٹ اریسٹ ضمانت (Post-Arrest Bail Application)

​مقدمہ/ایف آئی آر تفاصیل: FIR No. 1101/2025، مورخہ 15.11.2025، تھانہ صدر شجاع آباد، ضلع ملتان، تحتِ دفعہ 322 PPC۔

​2. واقعاتی پس منظر (Prosecution Case)

​حادثہ: 15 نومبر 2025 کو شام 7:00 بجے کے قریب 'اڈہ ناصر موڑ' پر موٹر سائیکل (نمبر 3937-MNX) پر چار افراد (محمد ابو بکر، علی حمزہ، یاسر اور ان کا دوست محمد امجد) جا رہے تھے۔ اگلے دن یاسر کی شادی تھی۔
​واقعہ: مخالف سمت سے ایک تیز رفتار اور لاپرواہ بس (نمبر 6478-DGI) غلط سائیڈ سے آئی اور موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں چاروں نوجوان موقع پر ہی فوت ہو گئے۔
​3. فریقین کے دلائل
​سائل (ملزم) کے وکیل کے دلائل:
​ایف آئی آر میں عدم نامزدگی: ملزم ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھا، بلکہ 23.12.2025 کو ضمنی بیان (Supplementary Statement) کے ذریعے شامل کیا گیا، جو کیس کو "مزید انکوائری" (Further Inquiry) کے زمرے میں لاتا ہے۔
​دفعات کا تنازع: وقوعہ پر PPC کی دفعہ 320 (قابلِ ضمانت) بنتی ہے، نہ کہ 322 PPC۔
​دیت کا پہلو: اگر 322 PPC مان بھی لی جائے تو اس کی سزا صرف "دیت" ہے، جو کہ Cr.P.C کی دفعہ 497 کی ممنوعہ شق (Prohibitory Clause) میں نہیں آتی، لہٰذا حق کے طور پر ضمانت ملنی چاہیے۔
​پراسیکیوشن اور مدعی کے دلائل:
​بغیر لائسنس ڈرائیونگ: ملزم کے پاس Public Service Vehicle (PSV) کا جائز ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھا، لہٰذا اس کا بس چلانا خود ایک غیر قانونی عمل (Unlawful Act) تھا جو اسے 322 PPC کے زمرے میں لاتا ہے۔
​4. عدالت کا قانون اور قانونی نقطہ (Legal Principles Set)
​عدالت نے 318، 319، 320، 321، اور 322 PPC کا موازنہ کر کے اہم قانونی اصول (Golden Principles) طے کیے:
​قتل الخطا (Section 320 PPC):
​اگر ڈرائیور کے پاس جائز اور مؤثر (Valid & Effective) ڈرائیونگ لائسنس ہو اور وہ تیز رفتاری یا لاپرواہی سے حادثہ کرے، تو یہ عمل "قتل الخطا" (Section 320 PPC) میں آئے گا، کیونکہ گاڑی چلانا قانوناً جائز تھا لیکن ڈرائیونگ لاپرواہ تھی۔
​قتل بالسبب (Section 322 PPC) اور "غیر قانونی عمل":
​اگر ڈرائیور کے پاس مطلوبہ ڈرائیونگ لائسنس (PSV) نہ ہو، تو اس کا پبلک بس چلانا خود ایک غیر قانونی اور خلافِ قانون (Unlawful) عمل ہے۔ ایسے غیر قانونی عمل کے دوران اگر حادثہ میں کسی کی جان جائے تو وہ "قتل بالسبب" (Section 322 PPC) کے زمرے میں آتا ہے۔
​دیت اور ضمانت کا اصول:
​عدالت نے واضح کیا کہ محض اس وجہ سے کہ دفعہ 322 PPC کی سزا صرف دیت (Diyat) ہے، ملزم خود بخود ضمانت کا حقدار نہیں ہو جاتا۔ عدالت کو کیس کے مجموعی حالات و واقعات کو دیکھنا ہوتا ہے۔
​5. عدالت کا حتمی آرڈر (Final Order)
​سابقہ نظیر (Precedent) کا حوالہ: عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے 'Majid Nadeem Vs. The State and another' (2011 SCMR 1227) پر اتکا کیا، جس میں تیز رفتاری سے 5 افراد کو کچلنے پر ضمانت خارج کی گئی تھی۔
​عدالتی فیصلہ: ملزم کے پاس PSV لائسنس نہیں تھا، اس کی لاپرواہی سے 4 قیمتی جانیں گئیں اور کیس میں مزید انکوائری کا کوئی پہلو نہیں۔
​نتیجہ: عدالت نے ریاض حسین کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست (Post-Arrest Bail) خارج (Dismissed) کر دی۔
​نوٹ: یہ فیصلہ رپورٹیبل (Approved for Reporting) قرار دیا گیا۔

29/08/2026

Database record of all criminals all over Pakistan will be connected together

26/08/2026

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. ❤️

عدالت کی غلطی کا نقصان فریق کو نہیں ہونا چاہیے — لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہکیس کا آسان خلاصہلاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ اگ...
26/08/2026

عدالت کی غلطی کا نقصان فریق کو نہیں ہونا چاہیے — لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

کیس کا آسان خلاصہ

لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر عدالت کی اپنی کسی غلطی، تاخیر یا طریقہ کار کی کوتاہی سے کسی فریق کو نقصان پہنچے تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

قانونی اصول “ایکٹَس کیوریے نِمینم گراوِیبٹ” کا مطلب ہے کہ عدالت کے کسی عمل یا غلطی کا نقصان کسی فریق کو نہیں اٹھانا چاہیے۔ اگر عدالتی حکم یا کارروائی میں ایسی واضح غلطی ہو جس سے کسی کے حقوق متاثر ہوں تو عدالت مناسب قانونی طریقے سے اس غلطی کو درست کرسکتی ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ متاثرہ فریق کو ممکن حد تک اس حالت میں واپس لایا جائے جس میں وہ غلطی نہ ہونے کی صورت میں ہوتا۔

ملازمہ کی برطرفی کا معاملہ

اس کیس میں ملازمہ کی برطرفی کے بارے میں عدالت پہلے بھی کچھ ہدایات دے چکی تھی، جن میں شامل تھا:

-شکایت کا ازالہ کرنا
-واجب الادا تنخواہ ادا کرنا
-متعلقہ قواعد کے مطابق ملازمت کے معاملے پر غور کرنا

ملازمہ کا مؤقف تھا کہ متعلقہ محکمہ نے ان ہدایات پر مؤثر عمل نہیں کیا اور اس کی برطرفی برقرار رکھی۔

ہائیکورٹ نے ریکارڈ اور قانون کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ سابقہ عدالتی ہدایات کو نظر انداز کرکے جاری کیا گیا حکم قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔

عدالت نے یہ بھی دیکھا کہ ملازمہ اپنی پروبیشن مدت مکمل کرچکی تھی اور اس کا سروس ریکارڈ مسلسل تھا۔ اس بنیاد پر عدالت نے برطرفی کا حکم اور بعد میں جاری کیا گیا متنازعہ حکم کالعدم قرار دے دیا اور ملازمہ کو مناسب ریلیف فراہم کیا۔

تنخواہ روکنے کا بنیادی حقوق سے تعلق

عدالت نے کہا کہ سرکاری ملازم کی تنخواہ بلاجواز روکنا صرف محکمانہ یا مالی مسئلہ نہیں ہوتا۔ بعض حالات میں اس سے باعزت زندگی، روزگار اور معاشی تحفظ سے متعلق آئینی حقوق بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

اس معاملے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 3، 9، 14، 37 اور 38 میں بیان کردہ اصولوں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ تاہم ہر کیس کا فیصلہ اس کے مخصوص حقائق، سروس رولز، عدالتی احکامات اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر ہوگا۔

فیصلے کے اہم قانونی نکات

- عدالت کی اپنی غلطی یا کارروائی کی وجہ سے کسی فریق کو غیر منصفانہ نقصان نہیں ہونا چاہیے۔

- مناسب حالات میں عدالت اپنے حکم یا کارروائی میں موجود واضح غلطی کو درست کرسکتی ہے۔

- آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کی ہدایات پر متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے۔

- کسی عدالتی حکم کی حتمی حیثیت اور اس پر عمل درآمد کا فیصلہ اس کے متن اور مقدمے کے حالات دیکھ کر کیا جائے گا۔

- بلاجواز برطرفی یا تنخواہ روکنے سے بعض حالات میں قانونی اور آئینی حقوق متاثر ہوسکتے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ ہر کیس کے حقائق پر منحصر ہوگا۔

اگر عدالت کی کارروائی میں ایسی غلطی ہوجائے جس سے کسی شخص کے حقوق متاثر ہوں تو عدالت مناسب قانونی طریقے سے اس غلطی کو درست کرسکتی ہے۔ اسی طرح سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتی احکامات پر صرف رسمی طور پر نہیں بلکہ ان کی اصل روح اور قانون کے مطابق عمل کریں۔

#برطرفی #تنخواہ #آرٹیکل199 #آرٹیکل3 #آرٹیکل9 #آرٹیکل14 #وکلاء

25/08/2026

Important decision on Honour killing.

فوجداری مقدمے میں بریت کے بعد سرکاری ملازم کی برطرفی برقرار رہ سکتی ہے؟ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ!سپریم کورٹ نے سرکاری ملا...
25/08/2026

فوجداری مقدمے میں بریت کے بعد سرکاری ملازم کی برطرفی برقرار رہ سکتی ہے؟ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ!

سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کے درمیان اہم قانونی فرق واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ دونوں کارروائیاں الگ قانونی دائرہ اختیار اور مختلف معیارِ ثبوت کے تحت چلتی ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ کسی ملازم کے خلاف فوجداری مقدمہ زیرِ سماعت ہے، محکمانہ کارروائی لازماً ختم نہیں ہوتی، اور دونوں کارروائیاں بیک وقت بھی جاری رہ سکتی ہیں۔

تاہم عدالت نے ایک اہم استثنا بھی بیان کیا کہ اگر محکمانہ کارروائی کی پوری بنیاد صرف یہ ہو کہ ملازم کسی فوجداری مقدمے میں ملوث ہے، اور اس کے خلاف کوئی الگ، آزاد اور قابلِ ثبوت محکمانہ بدعنوانی یا بدعنوان طرزِ عمل کا الزام موجود نہ ہو، تو فوجداری مقدمے میں بریت کے بعد محکمانہ کارروائی کی بنیاد بھی ختم ہوجاتی ہے۔

عدالت کے مطابق محکمانہ کارروائی میں قرائن و شواہد کی مجموعی برتری کو دیکھا جاتا ہے، جبکہ فوجداری مقدمے میں جرم معقول شک سے بالاتر ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا عام حالات میں فوجداری مقدمے کی بریت خود بخود محکمانہ کارروائی کو ختم نہیں کرتی۔

اس کیس میں ملازم کی محکمانہ کارروائی صرف فوجداری مقدمے میں ملوث ہونے کی بنیاد پر تھی۔ چونکہ فوجداری عدالت نے اسے اسی الزام سے بری کردیا اور محکمانہ طور پر کوئی آزاد بدعنوانی ثابت نہیں کی گئی، اس لیے عدالت نے قرار دیا کہ ایسی بنیاد پر برطرفی برقرار نہیں رہ سکتی اور ملازم کو ریلیف دیا گیا۔

اہم قانونی اصول

اگر محکمانہ الزام صرف فوجداری مقدمے میں ملوث ہونے تک محدود ہو اور فوجداری عدالت اسی الزام سے بری کردے، تو محکمانہ کارروائی کی بنیاد ختم ہوجاتی ہے۔

#بریت #برطرفی #قانون

297A: جادو، ٹونا، ٹوٹکا، سحر، کالا جادو کی ممانعتجادو، کالا جادو، تعویذ گنڈے، ٹونے ٹوٹکے وغیرہ پر قانونی پابندی ل, ایسا ...
25/08/2026

297A:
جادو، ٹونا، ٹوٹکا، سحر، کالا جادو کی ممانعت

جادو، کالا جادو، تعویذ گنڈے، ٹونے ٹوٹکے وغیرہ پر قانونی پابندی ل, ایسا کام کرنے والے ،بیچنے والے افراد کو سزا ہوگی ۔

نیا سیکشن 297A شامل کیا گیا ہے

297A:
جادو، ٹونا، ٹوٹکا، سحر، کالا جادو کی ممانعت

• جو شخص جادو، کالا جادو، سفلی عمل، یا اس قسم کی کوئی سروس دیتا ہے، یا اس کو روحانی علاج یا کاؤنسلنگ کے نام پر پیش کرتا ہے، اس کو سزا دی جائے گی۔

• سزا:
• قید: کم از کم 6 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 7 سال۔
• جرمانہ: زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے۔

ضابطہ فوجداری (CrPC) میں تبدیلی

اس جرم کو ضابطہ فوجداری کی شیڈول II میں شامل کیا گیا ہے:
• یہ جرم ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) ہوگا۔
• اس میں وارنٹ گرفتاری جاری ہوگا۔
• کیس کی سماعت سیشن کورٹ کرے گی۔

خلاصہ

سادہ لفظوں میں یہ قانون کہتا ہے کہ:
• اب پاکستان میں جادو ٹونا، کالا جادو، اور ٹونے ٹوٹکے کو جرم قرار دے دیا جائے گا۔
• اس میں ملوث شخص کو 6 ماہ سے 7 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔
• یہ جرم ناقابلِ ضمانت ہوگا اور سیشن کورٹ میں چلے گا۔
• لیکن اگر کوئی شخص وزارتِ مذہبی امور سے لائسنس لے کر روحانی مشاورت کرتا ہے تو اس پر یہ قانون لاگو نہیں ہوگا

25/08/2026

جرمنی کے دستور میں لکھا ہے کہ کوئی فوجی اسلحے کے ساتھ کسی بھی شہری علاقے میں نہیں آ سکتا۔ ایک فوجی کا ہتھیار صرف اور صرف دشمن کے لیے ہوتا ہے۔ جب آپ فوجیوں کو شہری علاقوں میں بلا لیتے ہیں، ان کو پولیسنگ کا کام سونپ دیتے ہیں، انہیں یقین دلا دیتے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا یا اگر ہوتا بھی ہے تو وہ سول علاقے میں بھی فوجی قانون ہی کے اندر رہتے ہیں، تو وہی کچھ ہوتا ہے جو آج ایک یونیورسٹی میں ہوا۔

یہاں بہت سے لوگ وردی کی عزت کا کہہ رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹھیک یہی وردی ایک پولیس اہلکار کی بھی ہے اور یہی وردی موٹر وے پولیس کی بھی۔
آج سے کچھ برس قبل ایک کپتان کا چلان کرنے پر اس کپتان نے قریبی فوجی اڈے سے کمانڈوز بلا لیے تھے اور اس موٹر وے سارجنٹ کو نہ صرف بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کی وردی پھاڑی گئی بلکہ ساتھ ہی خود اس کی ویڈیوز بنا کر نشر کی گئیں۔

خدا کا واسطہ اس ریاست کی رہی سہی تکریم برقرار رکھنے کے لیے فوج کو سویلین علاقوں سے نکالیے۔ فوج بارڈ سکیورٹی فورس ہے، لا انقرسمنٹ ایجسنی نہیں۔

جو کام آج ایک جامعہ میں اس فوجی عہدیدار نے کیا ہے، کسی مہذب ملک میں کرتا تو اگلے بیس برس جیل سے باہر نہیں آ سکتا تھا۔

22/08/2026

Stay humble.

Address

Office No. 1, Ground Floor, Palm Street No. 4, Old Anarkali
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Eastern Attorneys posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Eastern Attorneys:

Shortcuts

Share