Law Legends

Law Legends We follows certain practices and customs in order to deal with crime, business, social relationships, property, finance, etc.

The Law is controlled and enforced by the controlling authority.

04/06/2026

F.C.P.L.A. Nos.379, 380, 384 AND 389 OF 2025
Peshawar High Court Bar VersusShabbir Hussain & another
‏وفاقی آئینی عدالت نے وکلاء کی ہڑتالوں کو غیرقانونی قرار دے دیا

بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی ہیں، آئینی عدالت

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے وکلاء ہڑتالوں پر اہم ترین فیصلہ جاری کر دیا

وکلاء کی ہڑتالیں سائلین کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں، وفاقی آئینی عدالت

ہڑتالیں شہریوں کو قانونی نمائندگی سے محروم اور پہلے سے دباؤ کا شکار عدالتی نظام پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں، فیصلہ

ہڑتال کی کال پر بارز وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکتی ہیں، فیصلہ

وکیل کی عدم پیشی پر مقدمے کی سماعت بغیر کسی پیشرفت کے ملتوی کر دی جاتی ہے، فیصلہ

ہمارا قانونی نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، وفاقی آئینی عدالت

عدالتوں میں مقدمات کی طویل فہرستیں موجود ہیں، فیصلہ

سائلین کو اپنے مقدمات کے فیصلے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے، فیصلہ

وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، یہ نہ مسئلے کا حل نہیں، وفاقی آئینی عدالت

انصاف تک رسائی سے کسی بھی شکل میں محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، فیصلہ

عدالت نے ہڑتال کے دوران پیش ہونے پر وکیل علی عظیم آفریدی کا معطل کردہ لائسنس بحال کر دیا

کے پی بار کونسل نے وکلا کو وکیل کے قتل میں نامزد ملزم ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی سے روکا، فیصلہ

پولیس افسر کی قانونی نمائندگی پر وکیل کا لائسنس معطل کر دیا گیا، فیصلہ

متاثرہ وکیل نے لائسنس معطلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا

پشاور ہائکورٹ نے درخواستیںں منظور کرتے ہوئے لائسنس بحالی کا فیصلہ دیا

آئینی عدالت نے وکلاء کے لائسنس بحال کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا
وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں وکلاء کی ہڑتال اور اس کی بنیاد پر لائسنس معطلی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ وکالت پیشہ ایک آئینی حق ہے اور کسی وکیل کا لائسنس محض ہڑتال میں شرکت یا کسی متنازع ملزم کی وکالت کی وجہ سے معطل نہیں کیا جا سکتا۔
F.C.P.L.A. Nos.379, 380, 384 AND 389 OF 2025
Peshawar High Court Bar VersusShabbir Hussain & another

13/05/2026

پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری فیس میں 2 فیصد بڑی کمی: اب رجسٹری کروانا ہوا اور بھی آسان! (The Stamp Amendment Act 2026)
عدالتی فیصلے/ایکٹ کا خلاصہ
حکومتِ پنجاب نے "دی اسٹیمپ (ترمیمی) ایکٹ 2026" کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت عوام کو بہت بڑا ریلیف دیا گیا ہے۔ اس نئے قانون کے ذریعے پراپرٹی کی منتقلی اور رجسٹری پر عائد اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرح کو 3 فیصد سے کم کر کے صرف 1 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ قانون فوری طور پر پورے صوبہ پنجاب میں نافذ العمل ہو چکا ہے جس سے جائیداد کی خرید و فروخت کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔
اہم قانونی نکات (Legal Findings)
اسٹیمپ ڈیوٹی میں کمی: شیڈول 1 کے مختلف آرٹیکلز (بشمول آرٹیکل 18، 23، 27-A، 33، 55 اور 63) میں ترمیم کر کے ڈیوٹی کی شرح 3% سے گھٹا کر 1% کر دی گئی ہے۔
ایسائن ایبل ڈیڈ (Assignable Deed): قانون میں "قابلِ انتقال دستاویز" کا نیا تصور شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت کوئی بھی شخص جائیداد میں اپنے حقوق کسی دوسرے کے نام منتقل کر سکے گا۔
منتقلی کی فیس: اگر ایسائن ایبل ڈیڈ 12 ماہ کے اندر کی جائے گی تو ڈیوٹی 1% ہوگی، اور اگر 12 ماہ کے بعد کی جائے گی تو یہ 2% ہوگی۔
آرڈیننس کا خاتمہ: اس ایکٹ کے آنے سے "دی اسٹیمپ (ترمیمی) آرڈیننس 2026" کو منسوخ کر کے اسے مستقل قانون کی شکل دے دی گئی ہے۔

چونکہ یہ ایک قانون (Act) ، اس لیے عوامی حلقوں اور پراپرٹی ڈیلرز کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ رجسٹری فیس زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ انتقالِ جائیداد سے کتراتے تھے، جس سے حکومت کے ریونیو میں کمی اور قانونی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔
حکومتی موقف اور ایکٹ کی تفصیلات (Respondent/Government Side)
حکومت پنجاب نے اس ایکٹ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ فیسوں میں کمی کا مقصد تعمیراتی شعبے کو فروغ دینا اور جائیداد کی منتقلی کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔ اسٹیمپ ڈیوٹی کو 1 فیصد پر لانے سے فائلرز اور عام شہریوں کے لیے قانونی رجسٹری کروانا مالی طور پر ممکن ہو گیا ہے، جو کہ پہلے ایک بوجھ تصور کیا جاتا تھا۔
Lessening of the tax upon property sale registry in Punjab

پاکستانی شناختی کارڈ کے Hidden Codes… وہ معلومات جو 99٪ لوگ نہیں جانتے! | ES+Z Knowledge ❤️ہم سب روزانہ اپنا شناختی کارڈ...
11/05/2026

پاکستانی شناختی کارڈ کے Hidden Codes… وہ معلومات جو 99٪ لوگ نہیں جانتے! | ES+Z Knowledge ❤️
ہم سب روزانہ اپنا شناختی کارڈ استعمال کرتے ہیں… کبھی بینک میں، کبھی سم لیتے وقت، کبھی سفر کے دوران، کبھی کسی سرکاری یا پرائیویٹ کام کیلئے… مگر حیران کن بات یہ ہے کہ لاکھوں پاکستانی آج تک یہ نہیں جانتے کہ شناختی کارڈ پر لکھا ہوا 13 ہندسوں کا نمبر صرف ایک نمبر نہیں… بلکہ یہ آپ کا علاقہ، خاندان، جنس، بایومیٹرک شناخت اور مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔
سادہ لفظوں میں اگر کوئی آپ کا شناختی کارڈ نمبر سمجھ لے… تو وہ جان سکتا ہے کہ آپ پاکستان کے کس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، کس خاندان سے جڑے ہیں، اور نادرا کے خودکار نظام میں آپ کی بنیادی شناخت کیسے محفوظ ہے۔
مثال کے طور پر یہ نمبر دیکھیں:
36302-1234567-9
اب آئیے ایک ایک ہندسے کا راز سمجھتے ہیں…
① شروع کے پہلے پانچ ہندسے کیا بتاتے ہیں؟
مثلاً:
36302
یہ پانچ ہندسے آپ کی جغرافیائی شناخت یعنی Area Code ہوتے ہیں۔
سب سے پہلا ہندسہ آپ کے صوبے یا علاقے کو ظاہر کرتا ہے:
1 = خیبرپختونخوا
2 = سابق فاٹا
3 = پنجاب
4 = سندھ
5 = بلوچستان
6 = اسلام آباد
7 = گلگت بلتستان
8 = آزاد کشمیر
یعنی اگر کسی کا شناختی کارڈ 3 سے شروع ہو رہا ہے… تو وہ بنیادی طور پر پنجاب سے رجسٹرڈ ہے۔
اب دوسرا ہندسہ آپ کا Division ظاہر کرتا ہے۔
تیسرا ہندسہ آپ کا District (ضلع) ظاہر کرتا ہے۔
چوتھا ہندسہ آپ کی تحصیل کو ظاہر کرتا ہے۔
پانچواں ہندسہ آپ کی یونین کونسل یا لوکل رجسٹریشن ایریا کو ظاہر کرتا ہے۔
یعنی صرف پہلے پانچ نمبرز دیکھ کر نادرا کا سسٹم جان لیتا ہے کہ آپ پاکستان کے کس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
② درمیان والے سات ہندسے کیا بتاتے ہیں؟
مثلاً:
1234567
اکثر لوگ سمجھتے ہیں یہ Random نمبر ہے… مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔
یہ سات ہندسے آپ کے خاندان کا کوڈ ہوتے ہیں۔
یعنی ایک ہی Family کے والد، والدہ، بہن بھائی اور بچوں کے ریکارڈ آپس میں اسی کوڈ کے ذریعے Link ہوتے ہیں۔
اسی کوڈ کی بنیاد پر نادرا کا Family Tree بنتا ہے۔
اور اسی وجہ سے جب آپ FRC (Family Registration Certificate) نکالتے ہیں… تو پورا خاندان سسٹم میں سامنے آ جاتا ہے۔
③ آخری ایک ہندسہ کیا بتاتا ہے؟
مثلاً:
9
یہ آخری ہندسہ آپ کا Gender Code یعنی جنس ظاہر کرتا ہے۔
اگر آخری نمبر یہ ہو:
1, 3, 5, 7, 9
تو اس کا مطلب: مرد
اگر آخری نمبر یہ ہو:
0, 2, 4, 6, 8
تو اس کا مطلب: خاتون
اب یہاں ایک سوال اکثر لوگوں کے ذہن میں آتا ہے…
خواجہ سرا، مخنث، Intersex یا Transgender افراد کیلئے کون سا نمبر ہوتا ہے؟
یہاں بہت غلط معلومات گردش کرتی رہتی ہیں… مگر حقیقت یہ ہے کہ نادرا نے ان کیلئے کوئی الگ X، Y، Z یا مخصوص آخری ہندسہ مقرر نہیں کیا۔
خواجہ سرا افراد کے شناختی کارڈ میں بھی آخری نمبر انہی دو Categories میں آتا ہے:
یا طاق (Odd Number)
1,3,5,7,9
یا جفت (Even Number)
0,2,4,6,8
فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ رجسٹریشن کے وقت قانونی دستاویزات، میڈیکل ریکارڈ، بایومیٹرک اور منتخب Gender Category کے مطابق اندراج کیا جاتا ہے… اور اسی حساب سے نمبر جاری ہوتا ہے۔
یعنی اگر اندراج مرد کے طور پر ہوا… تو آخری نمبر طاق ہوگا…
اگر خاتون کے طور پر ہوا… تو آخری نمبر جفت ہوگا۔
④ مزید حیران کن معلومات جو اکثر لوگ نہیں جانتے…
یہی شناختی نمبر آپ کے…
سم کارڈز…
بینک اکاؤنٹس…
پاسپورٹ…
بایومیٹرک ریکارڈ…
جائیداد…
ٹیکس ریکارڈ…
ووٹر رجسٹریشن…
سرکاری سبسڈی…
حتیٰ کہ کئی Verification Systems کے ساتھ Link ہوتا ہے۔
یعنی شناختی کارڈ صرف ایک کارڈ نہیں… بلکہ آپ کی پوری زندگی کا Digital Footprint ہے۔
⑤ ایک انتہائی اہم Security Alert… ⚠️
آج کل لوگ بغیر سوچے سمجھے…
WhatsApp Groups میں…
Facebook Posts میں…
Online Forms میں…
یا کسی بھی اجنبی شخص کو…
اپنے شناختی کارڈ کی تصویر بھیج دیتے ہیں۔
یاد رکھیں… یہی ایک بڑی غلطی Fraud، Fake SIMs، Online Scam، Banking Fraud اور Identity Theft کا سبب بن سکتی ہے۔
اس لیے شناختی کارڈ کی Copy دیتے وقت غیر ضروری معلومات Hide ضرور کریں۔
یاد رکھیں…
شناختی کارڈ صرف ایک کارڈ نہیں… یہ آپ کی پوری شناخت، خاندان، مقام اور مستقبل کے ریکارڈ کا دروازہ ہے۔
یہی ہے ES+Z Knowledge… جہاں صرف Electrical نہیں… بلکہ Technology، Security، Awareness، Farming، Business اور زندگی میں کام آنے والا اصل Hidden Knowledge آپ تک پہنچایا جاتا ہے۔ ⚡🧠🌍

11/05/2026

۱. تھانے کا اشتہاری اور عدالتی اشتہاری میں فرق
• تھانے کا اشتہاری (Police Absconder):
جب کسی شخص کے خلاف ایف آئی آر (FIR) درج ہو اور وہ پولیس کو گرفتاری نہ دے رہا ہو یا روپوش ہو جائے، تو پولیس اسے اپنی ریکارڈ بک (Register No. 4) میں 'مفرور' یا 'اشتہاری' درج کر لیتی ہے۔ یہ پولیس کی اپنی کارروائی ہوتی ہے تاکہ وہ اسے ڈھونڈ کر گرفتار کر سکیں۔
• عدالتی اشتہاری (Proclaimed Offender - P.O):
یہ ایک باقاعدہ قانونی عمل ہے۔ جب پولیس عدالت کو یقین دلا دے کہ ملزم جان بوجھ کر روپوش ہے اور عام وارنٹ سے گرفتار نہیں ہو رہا، تو عدالت مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 87 اور 88 کے تحت کارروائی کرتی ہے۔
• دفعہ 87: عدالت ایک تحریری اشتہار جاری کرتی ہے جس میں ملزم کو 30 دن کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ عدالت میں پیش ہو جائے۔
• دفعہ 88: اگر ملزم پھر بھی پیش نہ ہو، تو عدالت اس کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی قرقی (ضبطگی) کا حکم دے دیتی ہے۔ اس مرحلے کے بعد وہ شخص قانون کی نظر میں باقاعدہ 'عدالتی اشتہاری' بن جاتا ہے۔
۲. اگر کوئی شخص اشتہاری ہو جائے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟
قانون کے مطابق اشتہاری ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے حقوق ختم ہو گئے ہیں، لیکن اس کا حل صرف قانونی راستے سے ہی ممکن ہے۔ درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
• سرنڈر (Surrender) کرنا:
اشتہاری بننے کے بعد سب سے پہلا قدم عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنا ہے۔ قانون مفرور شخص کو اس وقت تک رعایت نہیں دیتا جب تک وہ عدالت کی گرفت میں نہ آ جائے۔
• حفاظتی ضمانت (Protective Bail):
اگر ملزم کو ڈر ہو کہ وہ عدالت جاتے ہوئے راستے میں گرفتار ہو جائے گا، تو وہ ہائی کورٹ سے 'حفاظتی ضمانت' حاصل کر سکتا ہے۔ یہ ضمانت چند دنوں کے لیے ملتی ہے تاکہ ملزم متعلقہ عدالت (جہاں کیس چل رہا ہے) میں سکون سے پیش ہو سکے۔
• اشتہار کی منسوخی کی درخواست:
عدالت میں پیش ہونے کے بعد، وکیل کے ذریعے دفعہ 87، 88 کی کارروائی کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اگر ملزم یہ ثابت کر دے کہ اسے وارنٹ کا علم نہیں تھا یا وہ بیماری/کسی مجبوری کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکا، تو عدالت اشتہاری کا درجہ ختم کر کے اسے کیس کا سامنا کرنے کی اجازت دے دیتی ہے۔
• کیس کی پیروی:
اشتہاری ہونے کی صورت میں ملزم کا حقِ دفاع (Right of Defence) بعض اوقات محدود ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جلد از جلد عدالت سے رجوع کر کے مقدمہ میرٹ پر لڑا جائے۔
اہم نوٹ: اشتہاری ہونا ایک سنگین معاملہ ہے کیونکہ اس سے نہ صرف جائیداد ضبط ہو سکتی ہے بلکہ مستقبل میں پاسپورٹ کے حصول، سرکاری ملازمت اور بیرونِ ملک سفر میں بھی شدید رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ہمیشہ کسی ماہر قانون دان (Advocate) سے مشورہ کر کے فوری قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔

22/04/2026

اگر کسی ملزم پر پولیس کی جانب سے جھوٹی ریکوری (پلانٹڈ ریکوری) ڈال دی گئی ہو، تو اسے فوری طور پر قانونی محاذ پر چیلنج کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات انتہائی اہم ہیں:
1. جائے وقوعہ کی فوٹیج اور تصاویر (CCTV Evidence)
آج کل تقریباً ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہوتے ہیں۔ اگر ریکوری کے وقت یا ملزم کی گرفتاری کے وقت کی فوٹیج مل جائے جس میں پولیس کا بیان کردہ وقت یا مقام غلط ثابت ہو رہا ہو، تو یہ سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اسے محفوظ کریں اور عدالت میں پیش کرنے کے لیے فوری درخواست دیں۔
2. سی ڈی آر (CDR - Call Detail Record)
پولیس اکثر دکھاتی ہے کہ ریکوری فلاں جگہ سے ہوئی، جبکہ اس وقت تفتیشی افسر یا ملزم کی لوکیشن کہیں اور ہوتی ہے۔ ملزم اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے موبائل نمبرز کا CDR اور Geo-Fencing نکلوانے کے لیے عدالت میں درخواست دیں تاکہ ان کی اصل لوکیشن سامنے آ سکے۔
3. ریکوری میمو (Recovery Memo) کی خامیاں
قانون کے مطابق ریکوری کے وقت دو معزز گواہان کا ہونا ضروری ہے (دفعہ 103 ضابطہ فوجداری)۔ اگر:
• گواہان پولیس ملازم ہی ہیں۔
• گواہان اس علاقے کے رہائشی نہیں ہیں۔
• ریکوری میمو پر دستخط یا انگوٹھے کے نشانات میں تضاد ہے۔
تو ان بنیادوں پر جرح (Cross-examination) کے دوران ریکوری کو مشکوک بنایا جا سکتا ہے۔
4. فوری قانونی کارروائی (حالیہ رجحان)
• درخواست برائے حبسِ بے جا: اگر ملزم کو پہلے اٹھایا گیا اور ریکوری بعد میں ڈالی گئی، تو گرفتاری سے پہلے ہی سیشن جج کے پاس Habeas Corpus (دفعہ 491) کی درخواست دینا بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔
• اعلیٰ حکام کو اطلاع: ریکوری ڈالنے کے فوراً بعد بذریعہ ڈاک یا آن لائن پورٹل ڈی پی او (DPO) یا آئی جی پنجاب کو تحریری شکایت بھیجیں تاکہ ریکارڈ پر رہے کہ آپ نے شروع دن سے ہی اسے جھوٹا قرار دیا تھا۔
5. میڈیکل رپورٹ
اگر ریکوری کے دوران ملزم پر تشدد کیا گیا تاکہ وہ زبردستی اعتراف کرے، تو فوری طور پر میڈیکل چیک اپ کی استدعا کریں تاکہ تشدد ثابت ہو سکے، جو ریکوری کی قانونی حیثیت کو ختم کر دیتا ہے۔
6. جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان
جب ملزم کو پہلی بار ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے، تو وہاں خاموش رہنے کے بجائے جج کو صاف بتائیں کہ یہ ریکوری جھوٹی ہے اور پولیس نے اسے "پلانٹ" کیا ہے۔ یہ بیان ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے جو بعد میں ضمانت میں کام آتا ہے۔

لیکن اگر ریکوری "پلانٹڈ" (جھوٹی) ہے، تو اس کے خلاف قانونی دفاع اور کارروائی کے چند اہم پہلو یہ ہیں:
1. ریکوری کا مقام اور "مال خانہ"
قانون کے مطابق، برآمد کی گئی ہر چیز فوری طور پر متعلقہ تھانے کے مال خانہ میں درج ہونی چاہیے اور اس کا اندراج رجسٹر نمبر 19 میں کیا جاتا ہے۔
• اگر ریکوری پلانٹڈ ہے: تو اکثر وہ چیز پہلے سے ہی پولیس کے پاس غیر قانونی طور پر پڑی ہوتی ہے یا کسی اور مقدمے کا بچا ہوا مال ہوتا ہے۔
• تکنیکی نکتہ: اگر پولیس دعویٰ کرتی ہے کہ ریکوری ملزم کے گھر سے ہوئی لیکن ملزم اس وقت تھانے میں بند تھا اور پولیس اسے باہر لے کر ہی نہیں گئی، تو یہ سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ پولیس کو ہر نقل و حرکت کا اندراج روزنامچے میں کرنا ہوتا ہے۔
2. ریمانڈ اور ریکوری کا تضاد
اگر پولیس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ (Physical Remand) اس بنیاد پر لیا کہ "ہمیں اس سے ریکوری کروانی ہے" لیکن وہ ملزم کو تھانے سے باہر کسی مقام پر لے کر ہی نہیں گئے (جس کی گواہی سی سی ٹی وی کیمرے یا تھانے کا گیٹ رجسٹر دے سکتا ہے)، تو یہ ایک سنگین قانونی سقم ہے۔
3. قانونی کارروائی اور دفاع (Legal Remedies)
اگر ریکوری کے وقت ملزم کو جائے وقوعہ پر لے ہی نہیں جایا گیا، تو آپ درج ذیل قانونی راستے اختیار کر سکتے ہیں:
• سیکشن 156(3) ضابطہ فوجداری (CrPC): آپ پولیس افسر کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر کارروائی کے لیے سیشن جج یا مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتے ہیں۔
• پنجاب پولیس آرڈر 2002 (آرٹیکل 155): اس قانون کے تحت اگر کوئی پولیس افسر بدنیتی پر مبنی تفتیش کرے یا جھوٹی ریکوری ڈالے، تو اسے 5 سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
• جرح (Cross-Examination): ٹرائل کے دوران وکیل صفائی پولیس گواہان سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ ملزم کو تھانے سے باہر لے جانے کے لیے کون سی گاڑی استعمال ہوئی، اس کا لاگ بک نمبر کیا تھا، اور تھانے سے روانگی کی "رپٹ" (Entry) کہاں ہے۔ اگر ان سوالات کے جواب نہ ملے تو ریکوری جھوٹی ثابت ہو جاتی ہے۔
4. فوری ایکشن: ریکارڈ کی حفاظت
اگر آپ کو شک ہے کہ ریکوری پلانٹڈ ہے، تو فوراً "Preservation of CCTV Footage" کی درخواست عدالت میں دیں تاکہ تھانے کے گیٹ اور کیمروں کی ریکارڈنگ ضائع نہ ہو۔ اگر ریکارڈنگ میں ملزم تھانے کے اندر ہی پایا گیا اور پولیس ریکوری کا دعویٰ باہر کا کر رہی ہے، تو پورا کیس ختم ہو سکتا ہے۔
5. اعلیٰ عدالتوں کا موقف
سپریم کورٹ آف پاکستان کے کئی فیصلوں (مثلاً 2019 SCMR 1029) میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر ریکوری کا طریقہ کار مشکوک ہو یا گواہان پولیس کے اپنے بندے ہوں، تو ایسی ریکوری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہتی۔
کیا آپ کے پاس اس وقت تھانے یا اس مقام کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ موجود ہے جہاں سے ریکوری دکھائی گئی ہے؟


1. مال کی شناخت (Identification)
عدالت میں یہ چیک کرنا ضروری ہے کہ کیا یہ وہی مال ہے جس کا ذکر ایف آئی آر (FIR) یا ریکوری میمو میں ہے؟ اگر ریکوری میمو میں لکھے گئے حلیے، نمبر یا رنگ اور عدالت میں موجود مال میں فرق ہو، تو یہ ریکوری کو "مشکوک" بنا دیتا ہے اور ملزم کو شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) ملتا ہے۔
2. مہر یا سیل (Seal) کی جانچ
برآمدگی کے بعد پولیس مال کو ایک پارسل میں بند کر کے اس پر مہر لگاتی ہے۔ عدالت میں یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ:
• کیا پارسل کی مہریں برقرار ہیں یا ٹوٹی ہوئی ہیں؟
• کیا مہر پر وہی نشان ہے جو برآمدگی کے وقت ریکوری میمو پر درج کیا گیا تھا؟
اگر مہر ٹوٹی ہوئی ہو یا مشکوک ہو، تو دفاعی وکیل یہ اعتراض اٹھا سکتا ہے کہ مال میں تبدیلی (Tampering) کی گئی ہے۔
3. نمونہ جات (Samples) کا تضاد
اگر ریکوری منشیات یا کسی ایسی چیز کی ہے جس کا لیبارٹری ٹیسٹ ہونا تھا، تو عدالت میں اصل مال کی مقدار کو دوبارہ چیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر وزن یا مقدار میں واضح کمی بیشی ہو، تو تفتیش پر سوال اٹھتے ہیں۔
4. گواہان کی موجودگی میں معائنہ
جب ریکوری کے گواہان (Recovery Witnesses) عدالت میں بیان دینے آئیں، تو ان کے سامنے مال دکھا کر پوچھا جاتا ہے کہ "کیا یہ وہی چیز ہے جو آپ کی موجودگی میں برآمد ہوئی تھی؟" اگر گواہ اسے پہچاننے سے انکار کر دے یا غلط پہچانے، تو استغاثہ کا کیس کمزور ہو جاتا ہے۔
اگر ریکوری "پلانٹڈ" ہے تو کیا ہوگا؟
اگر ریکوری جھوٹی ہے، تو اکثر پولیس عدالت میں مال پیش کرتے وقت ہچکچاہٹ کا شکار ہوتی ہے یا متبادل چیز پیش کر دیتی ہے۔ بطور وکیل یا ملزم، آپ کا حق ہے کہ آپ اپنے وکیل کے ذریعے درج ذیل کام کریں:
• درخواست برائے معائنہ: جج صاحب سے استدعا کریں کہ مال خانہ سے منگوایا گیا مال کمرہ عدالت میں کھول کر دکھایا جائے۔
• نمائشی گواہ: اگر گواہ یہ نہ بتا سکے کہ مال کس جگہ سے نکلا تھا یا اس پر کیا مہر لگی تھی، تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ریکوری صرف کاغذوں کی حد تک تھی۔
خلاصہ: عدالت میں مالِ مسروقہ کا معائنہ کرنا ملزم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب پولیس کی بدنیتی یا تفتیش کی خامیاں سب کے سامنے آتی ہیں۔

22/04/2026

محترم وکلاء صاحبان۔۔۔
کیا آپ نے قانون کا امتحان پاس کرنے کے بعد اچھا پروفیشنل چیمبر جوائن کیا؟
کیا اگر آپ کو اچھا استاد نہیں ملا تو آپ نے اسے تبدیل کرکے پچھلے تجربہ کو بہتر کرنے کی کوشش کی؟
کیا آپ کو نوٹسز طلبانہ سمنز فہرست انحصار فہرست دستاویزات کے خانہ جات پر کرنے آتے ہیں؟
کیا آپ کو دعوی لکھنا دائر کرنا ضمانت کی درخواست لکھنا دائر کرنا بحث کرنا یا ریمانڈ کانٹیسٹ کرنا یا آرڈر 39 رول 1،2 ضابطہ دیوانی کی درخواست کے مندرجات کا علم ہے اور بمطابق مندرجات بحث کرنا آتی ہے؟
کیا آپ کو ایمرجنسی میں ٹائپنگ سے یا ہاتھ سے دعوی حکم امتناعی لکھنا کوئی بھی درخواست ضمانت وغیرہ لکھنا آتا ہے؟
کیا آپ کو خلع نان و نفقہ کا دعوی کی بنیادی گراؤنڈز کا علم ہے؟
کیا آپ کو گارڈین پیٹیشن، سرٹیفیکیٹ جانشینی، ڈیکلئریشن سے مکمل واقفیت ہے؟
اگر آپ کو اچھا استاد ملا اچھا چیمبر ملا ہے اور مندرجہ بالا تمام بنیادی واقفیت ہے تو یقین کریں آپ وکالت میں کسی کی مدد کے محتاج نہیں ہوں گے اور اگر نہیں آتا تو آپ فوری خدا کے لئیے اس طرف دھیان دیں ورنہ یاد رکھیں ضرورت کے وقت کوئی کام نہیں آتا اپنی مدد آپ کو خود ہی کرنا ہوتی ہے. کرونا وائرس کے دوران قرنطینیہ کے حالات کی روشنی میں اپنی اصلاح کریں اور نئی جدوجہد کا آغاز کریں عدالتیں کھلنے پہ.... 🙏

14/04/2026

📢 پنجاب میں سٹیمپ ڈیوٹی کا نیا قانون 2026 – عام شہریوں کے لیے بڑی سہولت

حکومتِ پنجاب نے 10 اپریل 2026 کو سٹیمپ ایکٹ 1899 میں اہم ترمیم کرتے ہوئے Stamp (Amendment) Ordinance 2026 نافذ کیا ہے، جس کا مقصد جائیداد کے لین دین کو آسان، سستا اور شفاف بنانا ہے۔

---

🔹 قانون کی سادہ وضاحت:

✅ "Assignable Deed" کیا ہے؟
یہ ایسا قانونی دستاویز ہے جس کے ذریعے کوئی شخص اپنی جائیداد کے حقوق (Rights, Title, Interest) کسی دوسرے شخص کو منتقل کرتا ہے، یعنی مکمل نئی رجسٹری کے بجائے حقوق کی منتقلی۔

---

🔹 سٹیمپ ڈیوٹی میں نئی شرح:

📌 12 ماہ کے اندر منتقلی → 1% سٹیمپ ڈیوٹی
📌 12 ماہ کے بعد منتقلی → 2% سٹیمپ ڈیوٹی

⚠️ اہم نکتہ:
یہ شرح خاص طور پر Assignable Deed پر لاگو ہوتی ہے، نہ کہ ہر قسم کی سیل ڈیڈ یا رجسٹری پر۔

---

🔹 پہلے کیا مسئلہ تھا؟

❌ شہری علاقوں میں سٹیمپ ڈیوٹی → 1%
❌ دیہی علاقوں میں سٹیمپ ڈیوٹی → 3%

➡️ اس فرق کی وجہ سے:

- لوگ دیہی علاقوں میں ٹرانسفر سے کتراتے تھے
- غیر ضروری قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں
- بعض کیسز میں جعلی طریقے (under-value یا غیر رسمی ٹرانسفر) استعمال ہوتے تھے

---

🔹 اب کیا بہتری آئی ہے؟

✔ شہری و دیہی فرق کم کر دیا گیا
✔ شرح کو سادہ اور واضح بنایا گیا
✔ لین دین کا طریقہ زیادہ قانونی اور محفوظ ہو گیا

---

🔹 عام شہری کو کیا فائدہ ہوگا؟

💰 1. کم خرچ میں جائیداد کی منتقلی
اب Assignable Deed کے ذریعے ٹرانسفر پر کم سٹیمپ ڈیوٹی دینا پڑے گی، جس سے اخراجات کم ہوں گے۔

⚖️ 2. قانونی تحفظ میں اضافہ
لوگ غیر رسمی یا زبانی معاملات کے بجائے باقاعدہ دستاویزات استعمال کریں گے، جس سے فراڈ اور تنازعات کم ہوں گے۔

📉 3. مقدمہ بازی میں کمی
سادہ اور واضح قانون ہونے کی وجہ سے عدالتوں میں جائیداد کے کیسز کم ہوں گے۔

🏡 4. پراپرٹی مارکیٹ میں تیزی
کم لاگت اور آسانی کی وجہ سے خرید و فروخت میں اضافہ ہوگا، جس سے مارکیٹ ایکٹیو ہوگی۔

📊 5. سرمایہ کاری میں اضافہ
لوگ اعتماد کے ساتھ پراپرٹی میں سرمایہ کاری کریں گے کیونکہ ٹیکس نظام واضح ہو گیا ہے۔

🤝 6. خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کے لیے سہولت
دونوں فریق کم لاگت اور آسان پراسیس کی وجہ سے جلدی ڈیل مکمل کر سکیں گے۔

---

🔹 قانون کا اصل مقصد:

🎯 لین دین کو آسان بنانا
🎯 اخراجات کم کرنا
🎯 قانونی نظام کو شفاف بنانا
🎯 فراڈ اور جعلی ٹرانزیکشنز کی روک تھام
🎯 ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینا

---

📌
یہ نیا قانون خاص طور پر جائیداد کے حقوق کی منتقلی (Assignable Deed) کو آسان اور سستا بنانے کے لیے ہے۔ اس سے عام شہری کو کم خرچ، زیادہ قانونی تحفظ اور تیز تر پراپرٹی ٹرانزیکشن کی سہولت حاصل ہوگی۔

"مفرور ملزم عبدالقدیر خان کو ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی کی کوشش کے جرم میں چار سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے"۔ یہ آواز ہالی...
14/04/2026

"مفرور ملزم عبدالقدیر خان کو ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی کی کوشش کے جرم میں چار سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے"۔ یہ آواز ہالینڈ کی ایک مقامی عدالت کی خاتون جج کی تھی اور دن تھا 14 نومبر 1983ء۔

ڈاکٹر قدیر ہالینڈ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہی ایک کمپنی میں ملازمت کر رہے تھے کہ 1974ء میں بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد بُھٹو انہیں پاکستان لے آئے۔ سن 76ء اور 77ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے ہالینڈ میں اپنے ایک دوست سائنسدان کو دو پُرزوں کے بارے معلومات کیلئے دو خطوط لکھے۔ ان کے جواب تو نہیں آئے البتہ یہ خطوط ہالینڈ کی خفیہ پولیس کے ہاتھ لگ گئے۔ مفروضہ بنایا گیا کہ ہالینڈ کے قانون کے مطابق اس ٹیکنالوجی بارے معلومات حاصل کرنا جرم ہے، یہ خط اسی ذمرے میں آتے ہیں۔

28 مارچ 1978ء کو ہالینڈ کے tv پر یہ خبر نشر ہوئی کہ پاکستان کا ایک سائنسدان ہالینڈ سے یورونیم افزودگی کی ٹیکنالوجی چُرا کر لے جانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ہالینڈ پر علاقائی دباؤ بڑھا تو اس نے ڈاکٹر قدیر پر ایک فوجداری مقدمہ قائم کردیا۔ 18 اکتوبر 1983ء کو ہالینڈ کی عدالت کے سمن پاکستانی وزارت خارجہ کو موصول ہوئے، جس میں انہیں 31 اکتوبر 1983ء کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔ پاکستانی حکومت نے کہا کہ ہمارا ہالینڈ کے ساتھ ملزمان کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے، ڈاکٹر قدیر کو سزا ہو بھی گئی تو کیا فرق پڑتا ہے۔

یوں ہالینڈ کی عدالت نے انہیں 4 سال قید کی سزا سنا دی۔ ڈاکٹر صاحب اس سزا سے بہت پریشان ہوئے کہ اس سزا کے بعد مغربی ممالک میں یہ پروپیگنڈہ شروع ہوگیا کہ پاکستانی سائنسدان نے ہالینڈ سے ایٹمی پلانٹ کے نقشے چرائے ہیں اور انہیں "گھٹیا چور" اور "سائنسی جاسوس" کے القاب دیے جانے لگے۔

ڈاکٹر قدیر نے اس سزا کے خلاف اپیل کرنے کیلئے معروف قانون دان ایس ایم ظفر کو اپنا وکیل/مختار خاص مقرر کرکے ہالینڈ بھیجا۔ آگے کی کہانی انہی کی زبانی سنیئے:_

"ہم ہالینڈ پہنچے، وہاں رَسل نامی وکیل سے ملے تو وہ زیادہ پر امید نہیں لگے، ان کے بقول سزا ٹھیک ہوئی ہے عدالت نے ملزم کو پیش ہونے کا موقع فراہم کردیا تھا۔ رسل نے مزید کہا کہ ڈاکٹر قدیر کے ہالینڈ آئے بغیر اپیل نہیں ہوسکتی۔ خیر، اپیل تیار ہوگئی، مکمل فائل ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل تھی، داخل کر دی گئی۔ لیکن سوال وہی سامنے آیا کہ ڈاکٹر صاحب کی عدم موجودگی میں اپیل کی سماعت کیسے ہوگی؟

اس پر مستزاد یہ کہ اپیل دائر ہونے کے بعد سرکاری وکیل نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی کہ ڈاکٹر قدیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ ہم نے اس درخواست کا مدلل جواب تیار کیا اور متعدد عالمی قوانین کی دستاویزات کا حوالہ دیا اور موقف لیا کہ انٹرنیشنل لاء کے مطابق ہر ملک دوسرے ملک کے قوانین کا احترام کرنے کا پابند ہے۔ پاکستان کے The Essential Services Act قانون کے مطابق حکومت پاکستان کے تحت چند حساس عہدوں پر تعنیات افسران ملک چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتے بلکہ چاہیں تو مستعفی بھی نہیں ہوسکتے۔ اگر وہ اس قانون کی خلاف ورزی کریں تو انہیں دس سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر قدیر پاکستان میں ایک بڑے حساس عہدے پر فائز ہیں۔ ایسے میں کوئی بیوقوف ہی ہوگا جو چار سال کی سزا ختم کروانے کیلئے دس سال کی سزا کروا بیٹھے۔

عدالت میں ہم نے اس پر مختصر بحث کی جواب میں سرکاری وکیل نے فقط اتنا کہا کہ تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے وارنٹ کا معاملہ موخر کیے جانے پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ عدالت نے اپیل کی سماعت سے قبل وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ اس پر ہم نے ہالینڈ میں خوشی کے نعرے لگائے اور پاکستان میں ڈاکٹر خان کو خوشخبری سنائی۔ انہوں نے کہا "اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو، یہ واقعی بڑی اچھی خبر ہے"۔

اب اپیل کی سماعت کا آخری مرحلہ رہ گیا۔ ہماری اپیل کے اہم نکات یہ تھے: عدالت کو ہالینڈ کے قانون کے مطابق ڈاکٹر خان کو سمن کی تعمیل حکومت کے بجائے عام ڈاک کے ذریعے کرنا چاہیے تھی۔ عدالت نے سزا سنانے میں غیر ضروری پُھرتی دکھائی۔ ہالینڈ کے قانون کے مطابق مقدمہ کے آغاز سے قبل تفتیش کے مرحلے پر ملزم کو مکمل سنا جاتا ہے، اس کیس میں ایسا نہیں کیا گیا۔ سب سے اہم یہ کہ جس قانون کے تحت یہ مقدمہ بنایا گیا وہاں لکھا ہے کہ اُن معلومات تک رسائی ممنوع ہے جو کہیں اور سے دستیاب نہ ہوں، ہم نے متعدد شواہد بشمول سائنسی کتابوں کے ذریعے ثابت کیا کہ جو معلومات ڈاکٹر قدیر خطوط کے ذریعے حاصل کرنا چاہ رہے تھے وہ تو کئی دیگر جگہوں سے بآسانی دستیاب تھیں۔

عدالت تحریری موقف پڑھ کر آتی تھی، ہم نے زبانی بحث صرف اتنی کی کہ ملزم کو شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا ورنہ ہم ثابت کرتے کہ جو معلومات ہم حاصل کرنا چاہ رہے تھے وہ پہلے سے شائع شدہ ہیں۔ اس پر عدالت نے سرکاری وکیل سے پوچھا، جس نے کہا واقعی تفتیش میں ڈاکٹر خان کو شامل نہیں کیا گیا۔ عدالت کے ایک رکن نے ہم سے پوچھا کہ پھر یہ مقدمہ دوبارہ نچلی عدالت میں چلے گا یا تفتیش کے مرحلہ سے آغاز ہوگا؟ ہمارے وکیل نے جواب دیا کہ تفتیش کے مرحلہ سے آغاز ہوگا۔ سرکاری وکیل نے معاملہ عدالت پر چھوڑ دیا۔

عدالت نے فیصلہ سنایا کہ "چار سالہ سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ سمن، ضابطہ کے مطابق جاری نہ ہوئے تھے البتہ سرکاری وکیل کو اختیار ہے کہ وہ مقدمہ از سرنو عدالت میں پیش کرے۔" لیکن اس مضبوط اپیل کے ذریعے مقدمے کے بنیادیں اتنی ہِل گئیں کہ جون 1986ء میں ہمارے ڈچ وکیل رَسل کا مجھے خط ملا جس میں لکھا تھا "ہالینڈ کے محکمہ استغاثہ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ڈاکٹر خان کے خلاف سمن جاری ہونا غیر قانونی عمل تھا، اب یہ مقدمہ دوبارہ عدالت میں نہیں چلایا جائے گا۔"

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے یوں باعزت بَری ہونے پر ہمیں کتنی خوشی ہوئی گی، اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر خان نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ سخت جان ہیں اور اصولوں کی جنگ لڑنا جانتے ہیں۔ بعد میں ایک ملاقات میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ "مجھے یہ سزا دلوانے میں اسرائیل کا بہت بڑا ہاتھ تھا کیونکہ ہالینڈ والے اسرائیل کے اتنے ہمدرد ہیں کہ ان کو عرف عام میں "یہودیوں کا غلام" کہا جاتا ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایس ایم ظفر لکھتے ہیں کہ ستر کی دہائی میں جب پاکستان نے یورینیم افزودگی کی مشینری مغرب سے خریدنا شروع کی تو سب نے خوشی خوشی مہنگے داموں دی کیونکہ مغرب کو لگتا تھا 'جاہل پاکستانیوں' میں اتنی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ خود ایٹمی ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرسکیں۔ جب ڈاکٹر خان کے یہ خط سامنے آئے تو مغرب کے کان کھڑے ہونا شروع ہوئے، تب بھی یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ صلاحیت ہالینڈ سے چرائی گئی ہے۔

اس پر مجھے وہ منظر یاد آتا ہے جب ایک مغربی صحافی نے اسی طرح پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر حیران ہوتے ہوئے جنرل ضیاء سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا:-
“I’m not indulging in self-praise but Pakistanis are intelligent people.”

31/03/2026

مدعا علیہ ، حاضر عدالت ہوکر جواب دعویٰ دینے کے بعد ، غیر حاضر ہو جاۓ ، تو یکطرفہ ڈگری منسوخ نہ ہو گی ۔ 2018 MLD 587

عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں تاخیر = آپکو حق سے محرومی کر سکتا ⚖ہر مقدمہ، اپیل اور دعویٰ وقت کی ایک حد کے اندر دائر کرن...
20/01/2026

عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں تاخیر = آپکو حق سے محرومی کر سکتا ⚖
ہر مقدمہ، اپیل اور دعویٰ وقت کی ایک حد کے اندر دائر کرنا لازم ہوتا ہے۔

📌 چند نہایت اہم قانونی وقت جس کے اندر آپکو عدالت جانا ہوتا -

🔹 سول (دیوانی) اپیل (ڈسٹرکٹ کورٹ) — 30 دن
🔹 ہائی کورٹ میں پہلی اپیل — 90 دن
🔹 ہائی کورٹ میں دوسری اپیل — 60 دن
🔹 ریویژن (Revision) — 90 دن

💰 رقم کی وصولی / معاہدے کی خلاف ورزی — 3 سال
🏠 غیر منقولہ جائیداد کا قبضہ — 12 سال
📜 ڈگری کی تکمیل (Ex*****on) — 12 سال

📝 تحریری جواب (Written Statement)
عدالتی سمن کے بعد:
➡️ 30 دن (زیادہ سے زیادہ 90 دن تک توسیع)

🚗 موٹر ایکسیڈنٹ کلیم
❗ کوئی مخصوص حد نہیں، مگر تاخیر کیس کو کمزور کر سکتی ہے

⚠️ چیک ڈس آنر (سیکشن 138)
📨 قانونی نوٹس — 30 دن کے اندر
📄 مقدمہ — نوٹس کی 15 دن کی مدت ختم ہونے کے بعد 30 دن میں

📢 یاد رکھیں:
قانون مدد ضرور دیتا ہے، مگر سوئے ہوئے شخص کو نہیں جگاتا۔
وقت گزر جائے تو مضبوط سے مضبوط کیس بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law Legends posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Law Legends:

Share

Category