16/07/2026
یہ تصویر **لٹھے (شجرہ عکس کسووار)** کی ہے، جو کہ پٹواری نظام میں زمین کا ایک نقشہ ہوتا ہے۔ اسے پڑھنا پہلی نظر میں مشکل ضرور لگتا ہے، لیکن اگر آپ اس کے بنیادی اصولوں کو سمجھ لیں تو یہ کافی آسان ہو جاتا ہے۔
لٹھے کو سمجھنے اور پڑھنے کا آسان طریقہ درج ذیل ہے:
# # 1. بنیادی نشانات اور سمتیں (Directions)
* **شمال کی سمت:** لٹھے پر عام طور پر اوپر کی طرف شمال (North) ہوتا ہے۔ اگر آپ نقشے کو سیدھا پکڑیں (جیسے تصویر میں ہے)، تو اوپر شمال، نیچے جنوب، دائیں طرف مشرق، اور بائیں طرف مغرب ہوگا۔
* **پیمائش کا سکول (Scale):** پٹواری نقشوں میں عام طور پر کرم (Karam) کا استعمال ہوتا ہے۔ ایک کرم عام طور پر **5.5 فٹ** کے برابر ہوتا ہے۔
# # 2. خسرہ نمبر (Khasra Number)
نقشے کے اندر جو مختلف چوکور یا مستطیل (Boxes) بنے ہوئے ہیں، وہ زمین کے الگ الگ ٹکڑے ہیں جنہیں **"خسرہ"** کہتے ہیں۔
* ہر خسرے کے اندر ایک نمبر لکھا ہوتا ہے (جیسے تصویر میں 145، 146، 102، 119 وغیرہ لکھے نظر آ رہے ہیں)۔ یہ ہندسے **اردو/شاہ مکھی** گنتی میں لکھے ہوتے ہیں۔
* **بٹہ نمبر (Sub-numbers):** اگر کسی خسرہ نمبر کے نیچے لکیر لگی ہو اور اس کے نیچے دوسرا نمبر ہو (مثلاً \frac{145}{2})، تو اس کا مطلب ہے کہ اس اصل نمبر والے پلاٹ کے آگے مزید حصے یا ٹکڑے کیے گئے ہیں۔
# # 3. لٹھے پر موجود لائنیں (Lines)
* **سیدھی اور چوڑی لائنیں:** یہ عام طور پر **راستوں (سرکاری سڑکوں یا پگڈنڈیوں)** کو ظاہر کرتی ہیں۔ تصویر میں بائیں طرف آپ کو دو متوازی عمودی لائنیں نظر آ رہی ہوں گی، یہ ممکنہ طور پر کوئی راستہ یا گزرگاہ ہے۔
* **حدود کی لائنیں (Boundary Lines):** جو لائنیں خسرہ نمبروں کو آپس میں الگ کرتی ہیں، وہ زمین کی حدیں ہیں۔
* **ٹیڑھی میڑھی لائنیں:** اگر نقشے کے کسی حصے پر لہراتی ہوئی یا ٹیڑھی لائنیں ہوں، تو وہ کسی قدرتی نالے، نہر، یا گاؤں کی بیرونی حد (شاملات) کو ظاہر کرتی ہیں۔
# # 4. دیگر اہم نشانات
* **چیک مارک (\checkmark):** تصویر میں کچھ نمبروں پر پینسل یا پین سے ٹک (\checkmark) کا نشان لگا ہوا ہے۔ یہ عام طور پر پٹواری یا زمین کے مالک کی طرف سے مخصوص خسرہ نمبروں کی نشان دہی کے لیے لگایا جاتا ہے جن کی فرد (زمین کا ریکارڈ) نکلوانی ہو۔
* **خاص علامات:** لٹھے میں اگر کہیں چھوٹا سا دائرہ یا کوئی خاص ہندسہ (جیسے نقشے کے بیچ میں دو مستطیل نما شکلیں بنی ہیں) ہو، تو وہ کنویں، ٹیوب ویل، آبادی، یا کسی سرکاری عمارت کو ظاہر کرتا ہے۔
# # # لٹھا پڑھنے کا عملی طریقہ (اسٹیپ بائی اسٹیپ)
1. **اپنی فرد (Fard) اپنے پاس رکھیں:** سب سے پہلے اپنی زمین کی فرد دیکھیں، اس پر آپ کا **خسرہ نمبر** لکھا ہوگا۔
2. **نقشے پر نمبر تلاش کریں:** اس لٹھے پر وہی نمبر ڈھونڈیں (جیسے اگر آپ کا نمبر 104 ہے، تو تصویر کے بیچ میں دیکھیں جہاں 104 لکھا ہے)۔
3. **آس پاس کی زمینیں دیکھیں:** اب اپنے خسرہ نمبر کے دائیں، بائیں، اوپر اور نیچے والے نمبروں کو دیکھیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کے پڑوس میں کس کا خسرہ نمبر لگتا ہے اور آپ کی زمین تک پہنچنے کا راستہ (سڑک) کہاں سے گزر رہا ہے۔
اگر آپ کو اپنے کسی خاص خسرہ نمبر کی لوکیشن سمجھنے میں مشکل ہو رہی ہے، تو آپ وہ نمبر بتا سکتے ہیں تاکہ میں اس نقشے میں دیکھ کر آپ کو اس کی سمت اور آس پاس کی صورتحال مزید واضح کر سکوں۔
یہ نقشہ شجرہ پارچہ بھی کہلاتا ہے اور اس کے جزوی حصہ کو عکس مساوی کہتے ہیں۔یہ نو چوکر ڈبیاں دکھائی گئی ہیں یہ مستطیل کہلاتی ہے اس میں پچیس ایکڑ رقبہ ظا ہر کرتا ہے یعینی مربع (پچاس بیگھے) اور دوسرا کھاتہ نمبر ہوتا ہے جسمیں بہت سی مستطیلیں ہوتی ہیں اور پہر جزوی حصہ کو نمبر خسرہ کہا جاتاہے یہ زمین کی حد بندی کے حوالے بہت ہی موءثر ذریعہ ہے اس کو مذاق یا پٹواری کے کھانے کا ذریعہ ہرگز نہ سمجھا جاءے باقی جتنے منہ اتنی باتیں تو ہوتی رہتی ہیں ۔یہ شجرہ پار ی آج کی ایجاد نہیں انگریز دور کا ایک بہترین زمین کی پیمائش کا طریقہ کار ہےPunjab Land Revenue Act, 1967
لٹھا یا شجرہ دراصل اراضی کا تفصیلی نقشہ ہوتا ہے جس میں ہر قطعۂ زمین کو مخصوص کھسرا نمبر کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔
اس نقشے میں درج حد بندیاں، پیمائش اور راستے زمین کی جغرافیائی و قانونی شناخت کو واضح کرتے ہیں۔
متعلقہ اراضی کی درست نشاندہی کے لیے پہلے کھسرا نمبر معلوم کیا جاتا ہے، بعد ازاں اسی نمبر کو نقشے میں تلاش کر کے ملکیتی حدود اور محلِ وقوع کو سمجھا جاتا ہے۔