04/06/2026
F.C.P.L.A. Nos.379, 380, 384 AND 389 OF 2025
Peshawar High Court Bar VersusShabbir Hussain & another
وفاقی آئینی عدالت نے وکلاء کی ہڑتالوں کو غیرقانونی قرار دے دیا
بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی ہیں، آئینی عدالت
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے وکلاء ہڑتالوں پر اہم ترین فیصلہ جاری کر دیا
وکلاء کی ہڑتالیں سائلین کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں، وفاقی آئینی عدالت
ہڑتالیں شہریوں کو قانونی نمائندگی سے محروم اور پہلے سے دباؤ کا شکار عدالتی نظام پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں، فیصلہ
ہڑتال کی کال پر بارز وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکتی ہیں، فیصلہ
وکیل کی عدم پیشی پر مقدمے کی سماعت بغیر کسی پیشرفت کے ملتوی کر دی جاتی ہے، فیصلہ
ہمارا قانونی نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، وفاقی آئینی عدالت
عدالتوں میں مقدمات کی طویل فہرستیں موجود ہیں، فیصلہ
سائلین کو اپنے مقدمات کے فیصلے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے، فیصلہ
وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، یہ نہ مسئلے کا حل نہیں، وفاقی آئینی عدالت
انصاف تک رسائی سے کسی بھی شکل میں محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، فیصلہ
عدالت نے ہڑتال کے دوران پیش ہونے پر وکیل علی عظیم آفریدی کا معطل کردہ لائسنس بحال کر دیا
کے پی بار کونسل نے وکلا کو وکیل کے قتل میں نامزد ملزم ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی سے روکا، فیصلہ
پولیس افسر کی قانونی نمائندگی پر وکیل کا لائسنس معطل کر دیا گیا، فیصلہ
متاثرہ وکیل نے لائسنس معطلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا
پشاور ہائکورٹ نے درخواستیںں منظور کرتے ہوئے لائسنس بحالی کا فیصلہ دیا
آئینی عدالت نے وکلاء کے لائسنس بحال کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا
وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں وکلاء کی ہڑتال اور اس کی بنیاد پر لائسنس معطلی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ وکالت پیشہ ایک آئینی حق ہے اور کسی وکیل کا لائسنس محض ہڑتال میں شرکت یا کسی متنازع ملزم کی وکالت کی وجہ سے معطل نہیں کیا جا سکتا۔
F.C.P.L.A. Nos.379, 380, 384 AND 389 OF 2025
Peshawar High Court Bar VersusShabbir Hussain & another