Mian Babar Ali Advocate

Mian Babar Ali Advocate Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mian Babar Ali Advocate, Lawyer & Law Firm, Govt High School No 1 KOT RADHA KISHAN District Kasur, Kot Radha Kishan.

03034333221
lawyer in Lahore, family lawyer in Lahore, family lawyer in kot Radha kishen , family case , wakeel, lawyer content number, civil causes, criminal cases, kot Radha Kishan lawyer, Krk lawyer, tax lawyer , corporate office , Mian Babar Advocate

عدالت میں مال مقدمہ سے افیون کی بجائے کالا صابن برآمد ۔ انچارج مال خانہ سمیت تین پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج ۔ تینو...
06/04/2026

عدالت میں مال مقدمہ سے افیون کی بجائے کالا صابن برآمد ۔ انچارج مال خانہ سمیت تین پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج ۔ تینوں گرفتار ۔ تفصیلات کے مطابق
تھانہ میاں چنوں صدر کے منشیات کے مقدمہ نمبر 738/23 کے مال مقدمہ میں افیون کے 25 اور چرس کے 15 پیکٹ تھے جن میں ہر پیکٹ کا وزن 1045 گرام تھا۔منشیات کے مقدمہ کی شہادت کے دوران بطور مال مقدمہ پیش کیے گئے افیون اور چرس کے پیکٹوں سے کالا صابن برآمد ہوا۔عدالت کے حکم پر افیون کا ایک پیکٹ کھولا گیا تو اس سے کالا صابن برآمد ہوا۔محرر مال خانہ طارق نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میاں چنوں ذوالفقار علی کی عدالت میں مال مقدمہ کے پیکٹ پیش کیے تھے۔ اس مقدمہ کے گواہ سب انسپکٹر رشید احمد نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ یہ پیکٹ تبدیل شدہ ہیں اور ان پر سیل اور دستخط اس کے نہ ہیں۔عدالت کے حکم پر ڈی پی او خانیوال نے ایس پی انوسٹی گیشن کو انکوائری کا حکم دیا۔ انکوائری میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے، مال مقدمہ خوردبرد کرنے، پیکٹوں کی سیلیں توڑنے، افیون کی جگہ کالا صابن بھرنے، شہادت ضائع کرنے اور بددیانتی کرنے کے الزامات ثابت ہو گئے۔
انکوائری رپورٹ پر انچارج مال خانہ محمد طارق ، نائب محرر سجاد حسین اور نائب محرر محمد سلیم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ۔پولیس اہلکاروں محمد طارق ، سجاد حسین اور سلیم کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا ۔

28/12/2025
24/12/2025

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت ہونے والی کارروائیوں کے خلاف دائر مزید 18 درخواستیں اعتراضات دور ہونے کے بعد فل بنچ کو بھجوا دیں اور کمیٹیوں کی کارروائیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے حکمِ امتناعی جاری کر دیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ابوبکر سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی جانب سے شاہد رانا ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ ایکٹ کے تحت ٹریبونلز قائم ہونا تھے جنہیں قبضے سے متعلق اختیارات حاصل ہیں تاہم ڈھائی ماہ بعد ٹریبونلز کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اس دوران کس قانون کے تحت کمیٹیاں قبضے دلواتی رہیں؟

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر سے استفسار کیا کہ اگر معاملہ سول کورٹ میں زیرِ التوا ہو تو ایکٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر متعلقہ عدالت میں درخواست دے گا اور عدالت کیس ٹریبونل کو منتقل کرنے کی پابند ہوگی، کیا اس شق پر عمل ہو رہا ہے؟

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ بغیر تحریری احکامات کے زبانی طور پر قبضے کیسے دلوائے جا رہے ہیں؟ اگر عدالت بھی بغیر آرڈر کے کچھ کہے تو کیا اسے مان لیا جائے گا؟

انہوں نے سوال کیا کہ کیا ٹریبونلز نے کام شروع کر دیا ہے؟ جبکہ نہ عملہ موجود ہے اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ ٹریبونلز کہاں بیٹھیں گے، کیا یہ اختیارات سے تجاوز نہیں؟

عدالت نے نشاندہی کی کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ کمیٹیاں قبضہ دلوائیں گی، ایکٹ کے مطابق ٹریبونل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی قبضے کا حکم دیا جا سکتا ہے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ جب کمیٹی پیرا کو کہتی ہے اور پیرا قبضہ دلواتی ہے تو یہ کس قانون کے تحت ہے؟

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ ڈی سی شیخوپورہ نے زبانی طور پر قبضے کا حکم دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تمام درخواستوں میں سنگین الزامات ہیں اور عدالت ہر کیس اس لیے دیکھ رہی ہے تاکہ واضح ہو سکے کہ قانون کیا تھا اور عملاً کیا ہو رہا ہے۔

دوران سماعت ایک اور درخواست میں بتایا گیا کہ ہائیکورٹ میں کیس زیرِ سماعت ہونے کے باوجود ڈپٹی کمشنر نے قبضہ کروا دیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

سرکاری وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ قواعد (رولز) ابھی آنا باقی ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بغیر قواعد کے کارروائیاں کیسے ہو سکتی ہیں؟ جب ڈی سی تحریری آرڈر نہیں دے گا تو متاثرہ فریق اسے چیلنج کیسے کرے گا؟ عدالت نے قرار دیا کہ قانون نامکمل نہیں ہوتا، یا مکمل ہوتا ہے یا نہیں۔

بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے کمیٹیوں کی تمام کارروائیوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے تمام کیسز فل بنچ کو بھجوا دیئے۔

08/08/2025

‏ہمارے آئیڈیل دونوں
جہانوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ❤️

Address

Govt High School No 1 KOT RADHA KISHAN District Kasur
Kot Radha Kishan
55180

Telephone

+923034333221

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mian Babar Ali Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share