M.S Tax Consultant

M.S Tax Consultant "we are providing Tax services in Pakistan. Our services are included Income Tax, Sales Tax, and firm

انکم ٹیکس ریٹرن فائلنگ اپڈیٹنیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی...
11/05/2026

انکم ٹیکس ریٹرن فائلنگ اپڈیٹ
نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026

ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ایس۔آر۔او 2026 (1) 835 کے تحت نیا ٹیکس فارم جاری کر دیا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو سات دن کے اندر اپنے اعتراضات، تجاویز اور ردعمل جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔

اس فارم میں جو درج ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں ان کے تحت اب آپ کو اپنی ہر قسم کی مالی سرگرمیوں کی مکمل سمری بھی فراہم کرنی پڑے گی۔

1)۔
تنخواہ دار طبقے کو اپنے ایمپلائر کا نام، اس کا رجسٹریشن نمبر اور ٹیکس کٹوتی کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

2)۔
پراپرٹی کا کرایہ پہلے سمپلی ایک اینٹری میں ڈال دیتے تھے لیکن اب الگ الگ ہر پراپرٹی کو مینشن کرکے بتانا پڑے گا کہ کس جگہ سے کتنا کرایہ آیا ہے اور اس کے ڈیڈکٹیبل اخراجات کیا ہیں۔

3)۔
ادر انکم میں بھی پہلے سب لوگ ایک سادہ سی اینٹری ڈال دیتے تھے اب اس کی بھی انسٹیٹیوشن وائز تفصیلات دینی ہوں گی۔

4)۔
اسی طرح زرعی انکم میں بھی ایک اینٹری ڈال دی جاتی تھی لیکن اب زرعی زمین کی تفصیلات بھی کھیت نمبر وغیرہ کیساتھ یعنی زمین کی لوکیشن بھی ساتھ میں فراہم کرنی پڑے گی۔

5)۔
ٹیکس ڈیڈکشنز کا بھی سارا نظام انٹیگریٹڈ ہے، آپ بتائیں گے فلاں نے پیسے کاٹے ہیں تو اس کا ہاں یا نہ کا ریفرینس خود بخود اپڈیٹ ہوجائے گا۔

6)۔
بزنس میں کتنی رقم پیمنٹ کی ہے یا وصول کی ہے اور اس پر دونوں طرف سے کتنا کتنا ٹیکس کاٹا گیا ہے یہ بھی بتانا پڑے گا۔

اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اب ٹیکس ڈیڈکشن جہاں نہیں ہوئی ہوگی وہاں فوراً سیکشن 161 کے تحت سوال کھڑا ہوجائے گا جو کافی تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔

یعنی جو بزنس ودہولڈنگ ایجنٹ بنتے ہیں ان سے یہ رقم وصول کر لی جائے گی۔

مثال کے طور پر بیشمار کمپنیاں ایسی ہیں جو ملازموں سے ٹیکس نہیں کاٹتیں، اب ایک ملازم بتاتا ہے کہ فلاں کمپنی سے میں لاکھ روپیہ مہینہ لیتا ہوں تو انٹیگریٹڈ سسٹم اب ٹیکس آفیسر کو خود بتائے گا کہ فلاں کمپنی کے دس ایمپلائیز نے بتایا ہے کہ وہ اتنی اتنی تنخواہ لیتے ہیں لیکن ایمپلائر نے کسی ایک کا بھی ٹیکس نہیں کاٹا۔

اب اس کیس میں جتنا ٹیکس ایمپلائر نے کاٹنا تھا اور نہیں کاٹا تو وہ اس ایمپلائر سے وصول کر لیا جائے گا۔

اس کے بعد ایمپلائر ملازموں سے کہے گا کہ پچھلے سال کا بل آگیا ہے مجھے لہذا یہ ٹیکس کٹواؤ اور ملازم کہیں گے صاحب ہم نے تو ریٹرن کیساتھ اپنی جیب سے ٹیکس جمع کرا دیا تھا اسلئے اب ہم آپ کو کیوں دیں لہذا وہ لائبلٹی ایمپلائر کے سر ہی پڑے گی۔

علی ہذا القیاس جو لوگ بزنس پیمنٹس پر بھی ڈیو ٹیکس نہیں کاٹتے ان کو بھی یہی پرابلم فیس کرنی پڑے گی۔

7)۔
ایک اچھی بات جو اس نئے فارم میں نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ریفنڈ کیلئے آپ کا ایک مین بینک اکاؤنٹ اس میں انٹیگریٹ ہو جائے گا اور ودہولڈنگ کے سارے ثبوت اپلوڈ ہو جانے کے بعد آپ کو آٹومیٹک طریقے سے ریفنڈ مل جایا کرے گا، اس کی منظوری کیلئے آئیندہ آپ کو ٹیکس آفس نہیں جانا پڑے گا۔

مجوزہ فارم کی قانونی حیثیت:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فارم ابھی تجویز کیا گیا ہے اور اطلاع عام کیلئے سات دن کی قانونی مہلت کے بعد بزنس چیمبرز اور ٹیکس بارز سے حاصل ہونے والے ردعمل کے تحت تھوڑا بہت تبدیل بھی ہو سکتا ہے، پھر یہ بجٹ کیساتھ ہی منظور ہو کے نافذ العمل ہو جائے گا۔

احتیاط برائے سال 2026:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنخواہ دار طبقہ جن کی تنخواہ ٹیکس ایبل ہے لیکن ایمپلائر ٹیکس نہیں کاٹتا وہ اپنا ریٹرن ایمپلائر کیساتھ مشورہ کرکے جمع کرائیں ورنہ جب اس کو نوٹس آئے گا تب وہ آپ سے ٹیکس مانگے گا اور آپ جیب سے ٹیکس ادا کر چکے ہوں گے۔

اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ کا ایمپلائر جون میں آپ کا سال بھر کا ٹیکس جمع کرا دے، اس سے دونوں کی بچت ہو جائے گی، ممکن ہے لیٹ ٹیکس جمع کرانے پر اس کو پانچ چھ فیصد جرمانہ ہوجائے لیکن یہ اس سے بہتر ہے کہ لاکھوں روپے کا بل اس کو آجائے اور پھر وہ آپ سے کاٹنے بیٹھ جائے۔

گزشتہ سال میں نے ہر پارٹی کا ریٹرن ان کے بینک اکاؤنٹس کو بہت تفصیل کیساتھ سمرائز کرکے بنایا تھا تاکہ ان کو کوئی ٹکر نہ لگے، اس وجہ سے میرے کافی ریٹرن لیٹ ہوگئے تھے لیکن میں نے کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کیا۔

اندریں حالات آپ کو بھی یہی کرنا چاہئے کہ اپنا ٹیکس ریٹرن کسی ایسے بندے سے جمع کرائیں جسے قانون اور مالیاتی امور پر یکساں عبور حاصل ہو تاکہ وہ بینک کو سمرائز کرکے نان بزنس ٹرانزیکشنز کو الگ کرے پھر انکم اسٹیٹمنٹ اور الاؤ۔ایبل اخراجات کو ڈیفائن کرکے آپ کا ریٹرن سیف زون میں لاکے فائنل کرے۔

گورنمنٹ نے اس سال تاریخ میں پہلی بار مئی میں فارم جاری کیا ہے ورنہ یہ مڈجولائی میں ہی آیا کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ گورنمنٹ ٹیکس فائلنگ کو پہلی جولائی سے شروع کرانا چاہتی ہے تاکہ کنسلٹینٹس کو نوے دن کا پورا فائلنگ ٹائم مل جائے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس بار ٹیکس ریٹرن بنانے میں کنسلٹینٹ کا دو گنا ٹائم لگے گا جو ریوینیو بورڈ کو بھی نظر آرہا ہے لہذا ایک تو تیس جون کے فوراً بعد اپنا ڈیٹا کنسلٹینٹ کو لازمی فراہم کر دیں۔

دوسرا، کنسلٹینٹ اگر فیس میں اضافے کا تقاضا کرے تو اس کی یہ بات بھی ماننی چاہئے کیونکہ پروفیشنل کنسلٹینٹ کبھی بھی کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کرتے لہذا اضافی وقت دینے کیلئے اضافی فیس بھی ان کو ملنی چاہئے۔

  HAS INCREASED TAX ON  .
24/04/2026

HAS INCREASED TAX ON .

10/03/2026

معزز ٹیکس گزاران

السلام علیکم

یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ بہت سے ٹیکس گزار اپنے حقیقی مالی معاملات جیسے کہ جائیداد کی خرید و فروخت، گاڑیوں کی خرید و فروخت اور بینک اکاؤنٹس کے ٹرن اوور کے مطابق سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرواتے۔ ان کا بنیادی مقصد صرف فائلر اسٹیٹس کو ایکٹو کرنا ہوتا ہے تاکہ ودہولڈنگ ٹیکس میں رعایت حاصل کی جا سکے۔

بدقسمتی سے اس سوچ کا سب سے زیادہ فائدہ نان پروفیشنل افراد کو ہوتا ہے جن کا مقصد صرف فائلر اسٹیٹس ایکٹو کرنا اور فیس وصول کرنا ہوتا ہے، جبکہ ٹیکس گزار کے مالی معاملات کا درست جائزہ نہیں لیا جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعد میں بہت سے ٹیکس گزار قانونی پیچیدگیوں اور نوٹسز کا سامنا کرتے ہیں۔

جس طرح بیماری کی صورت میں آپ ایک اچھے ڈاکٹر کی تلاش کرتے ہیں اور گھر کی تعمیر کے لیے ایک ماہر سول انجینئر کی ضرورت ہوتی ہے، بالکل اسی طرح سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لیے بھی ایک پروفیشنل ٹیکس کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں۔ ایک ماہر ٹیکس کنسلٹنٹ آپ کی آمدن، اخراجات، اثاثہ جات اور بینک ٹرانزیکشنز کو مدِنظر رکھتے ہوئے قانون کے مطابق درست ریٹرن فائل کرتا ہے۔

درست ٹیکس کمپلائنس نہ صرف آپ کو مستقبل کی قانونی مشکلات سے بچاتی ہے بلکہ مالی شفافیت اور نظم و ضبط کو بھی فروغ دیتی ہے۔

FBR Extends Income Tax Return Deadline to October 31, 2025! 📢
16/10/2025

FBR Extends Income Tax Return Deadline to October 31, 2025! 📢

16/10/2025

ایف بی آر ٌ
پریس ریلیز

انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے۔
*****
ایف بی آر نے مالی سال 2025 کے لئے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر 2025 تک بڑھا دی ہے۔ یہ فیصلہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 214Aکے تحت کیا گیا ہے۔

ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں اضافہ کا فیصلہ مختلف تجارتی تنظیموں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی طرف سے کی گئی درخواستوں کی بنیاد پر کیا ہے۔

*****

30/09/2025

FBR
***
PRESS RELEASE
***
Deadline for Filing of Income Tax Returns Extended till October 15
***
FBR has extended the deadline for filing of Income Tax Returns for Tax Year 2025 till October 15, 2025. This decision has been made under Section 214A of the Income Tax Ordinance, 2001. The extension in the deadline has been granted in response to requests made by various trade bodies, tax bar associations, and the general public.
***

ایف بی آر
ٌٌٌٌٌٌٌ*****
پریس ریلیز
*****
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے۔
*****
ایف بی آر نے مالی سال 2025 کے لئے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر 2025 تک بڑھا دی ہے۔یہ فیصلہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 214Aکے تحت کیا گیا ہے۔ ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں اضافہ کا فیصلہ مختلف تجارتی تنظیموں، ٹیکس بار ایسو سی ایشنزاور عام لوگوں کی طرف سے کی گئی درخواستوں کی بنیاد پر کیا ہے۔

*****

*Good News for Non Filer*✌🏻*Last date of Filling your Tax Return is extended till *15th october 2025*🔖. Don’t miss this ...
30/09/2025

*Good News for Non Filer*✌🏻
*Last date of Filling your Tax Return is extended till *15th october 2025*🔖. Don’t miss this Last opportunity and File your Tax returns*.⚖️‼️‼️

30/09/2025

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنی ناقص کارکردگی اور ویب سائٹ کے ناکارہ سسٹم سے پورے پاکستان میں عوام کو اذیت اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوام گھنٹوں خوار ہونے کے باوجود کوئی ریلیف نہیں پاتے، جبکہ ادارہ الٹا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا سسٹم بہترین کام کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سرکاری ادارے سہولت دینے کے بجائے عوام کو ٹینشن اور ذلت میں مبتلا کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اللہ ان کو ہدایت دے کہ یہ اپنی اصل ذمہ داری کو سمجھیں اور عوام دوست پالیسیاں اپنائیں۔

🚨 آئرس یا وائرس؟ 🚨ایف بی آر کا آن لائن پورٹل  آئرس ، جو ٙٹیکس گزار اور ٹیکس کنسلٹنٹس کے لئے سہولت ہونا چاہیے تھا، اب حقی...
22/09/2025

🚨 آئرس یا وائرس؟ 🚨

ایف بی آر کا آن لائن پورٹل آئرس ، جو ٙٹیکس گزار اور ٹیکس کنسلٹنٹس کے لئے سہولت ہونا چاہیے تھا، اب حقیقت میں ایک وائرس بن چکا ہے۔ 💻⚠️

پورٹل کی بار بار خرابی اور سست روی نے ٹیکس گزاروں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے کبھی بھی ان مسائل یا کسی بھی قسم کی مینٹیننس اپڈیٹ کے بارے میں عوام کو بروقت آگاہ نہیں کیا جاتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ٹیکس گزار اور کنسلٹنٹس گھنٹوں پریشان بیٹھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے رہتے ہیں ⏳😓۔

کیا عوام کا وقت قیمتی نہیں؟ کیا بروقت اطلاع دینا ایف بی آر کی ذمہ داری نہیں ❓

🖊️

Address

Kohat
26000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.S Tax Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category