item nó

item nó its a funny and enjoyable page

اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙*سیرت النبی ﷺ*🌴*قسط نمبر 17*💚🖤*عنوان: گم شدہ بی...
05/11/2025

اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙
*سیرت النبی ﷺ*🌴

*قسط نمبر 17*💚🖤

*عنوان: گم شدہ بیٹا*

لیکن احتیاط کے باوجود حضرت علی ؓ کے والد کو ان کے قبول اسلام کا علم ہوگیا۔ تو انہوں نے حضرت علیؓ سے اس کے متعلق استفسار کیا۔
اپنے والد کا سوال سن کر حضرت علی ؓ نے فرمایا:
"ابا جان! میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکا ہوں اور جو کچھ اللہ کے رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی تصدیق کرچکا ہوں ، لہذا ان کے دین میں داخل ہوگیا ہوں اور ان کی پیروی اختیار کرچکا ہوں ۔ "
یہ سن کر ابوطالب نے کہا:
" جہاں تک ان کی بات ہے( یعنی محمد ﷺ کی ) تو وہ تمہیں بھلائی کے سواکسی دوسرے راستے پر نہیں لگائیں ، لہذا ان کا ساتھ نہ چھوڑنا۔"
ابوطالب اکثر یہ کہا کرتے تھے‌:
" میں جانتا ہوں ، میرا بھتیجا جو کہتا ہے، حق ہے، اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریشی کی عورتیں مجھے شرم دلائیں گی، تو میں ضرور ان کی پیروی قبول کرلیتا۔‌۔"
عفیف کندی ؓ ایک تاجر تھے، ان کا بیان ہے۔
" اسلام کرنے سے بہت پہلے میں ایک مرتبہ حج کے لئے آیا ۔ تجارت کا کچھ مال خریدنے کے لئے میں عباس ابن عبدالمطلب کے پاس گیا۔ وہ میرے دوست تھےاور یمن سے اکثر عطر خرید کر لاتے تھے۔ پھر حج کے موسم میں مکہ میں فروخت کرتے تھے، میں ان کے ساتھ منیٰ میں بیٹھا تھا کہ ایک نوجوان آیا۔ اس نے غروب ہوتے سورج کی طرف غور سے دیکھا، جب اس نے دیکھ لیا کہ سورج غروب ہوچکا تو اس نے بہت اہتمام سے وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگا۔ یعنی کعبہ کی طرف منہ کرکے.... پھر ایک لڑکا آیا، جو بالغ ہونے کے قریب تھا ۔اس نے وضو کیا اور اس نوجوان کے برابر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگا۔پھر ایک عورت خیمے سے نکلی اور ان کے پیچھے نماز کی نیت باندھ کر کھڑی ہوگئی۔ اس کے بعد ان نوجوان نے رکوع کیا تو اس لڑکے اور عورت نے بھی رکوع کیا۔نوجوان نے سجدے میں گیا تو وہ دونوں بھی سجدے میں چلے گئے۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے عباس بن عبدالمطلب سے پوچھا:
" عباس! یہ کیا ہوررہا ہے۔ "
انہوں نے بتایا :
"یہ میرے بھائی عبدالله کے بیٹے کا دین ہے۔ محمد ﷺ کا دعویٰ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے اسے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ یہ لڑکا میرا بھتیجا ہے علی ابن طالب ہے اور یہ عورت محمد ﷺ کی بیوی خدیجہ ہے۔ "
یہ عفیف کندی رضی اللہ عنہہ مسلمان ہوئے تو کہا کرتے تھے:
" کاش! اس وقت ان میں چوتھا آدمی میں ہوتا۔"
اس واقعے کے وقت غالباً حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا وہاں موجود نہیں تھے، اگرچہ اس وقت تک دونوں مسلمان ہوچکے تھے۔
حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہا غلاموں میں سب سے پہلے ایمان لائے تھے، یہ حضور اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے پہلے یہ حضرت خدیجہ رضی الله عنہہ کے غلام تھے۔ شادی کے بعد انہوں نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہہ کو آپ صلی الله علیہ وسلم کی غلامی میں دے دیا تھا۔

*( پوسٹ پڑھ کر رئیکٹ ضرور کیا کریں تاکہ ہم اگلی پوسٹ آپ کی خدمت میں جلدی پیش کرسکیں )*♥️🤍

یہ غلام کس طرح بنے، یہ بھی سن لیں ۔ جاہلیت کے زمانے میں ان کی والدہ انہیں لیے اپنے ماں باپ کے ہاں جارہی تھیں کہ قافلہ کو لوٹ لیا گیا۔ ڈاکو ان کے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہہ کو بھی لے گئے۔ پھر انہیں عکاظ کے میلے میں بیچنے کے لیے لایا گیا۔ ادھر سیدہ خدیجہ رضی الله عنہا نے حکیم بن حزام رضی الله عنہا کو میلے میں بھیجا ۔ وہ ایک غلام خریدنا چاہتی تھیں ۔ آپ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہا کی پھوپھی تھیں ۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہا میلے میں آئے تو وہاں انہوں نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہہ کر بکتے دیکھا، اس وقت ان کی عمر آٹھ سال تھی، حکیم بن حزام رضی اللہ عنہا کو یہ اچھے لگے، چنانچہ انہوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے انہیں خرید لیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ پسند آئے اور انہوں نے انہیں اپنی غلامی میں لے لیا۔ پھر نبی کریم ﷺ کو ہدیہ کردیا۔اس طرح حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا آپ صلی علیہ وسلم کے غلام بنے۔ پھر جب آپ نے اسلام کی دعوت دی تو فوراً آپ پر ایمان لے آئے۔بعد میں حضور ﷺ نے انہیں آزاد کردیا تھا مگر یہ عمر بھر حضور ﷺ کی خدمت میں رہے۔ ان کے والد ایک مدت سے ان کی تلاش میں تھے۔ کسی نے انہیں بتایا کہ زید مکہ میں دیکھے گئے ہیں ۔
ان کے والد اور چچا انہيں لینے فوراً مکہ معظمہ کی طرف چل پڑے۔ مکہ پہنچ کر یہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایاکہ زید ان کے بیٹے ہیں ۔
ساری بات سن کر آپ نے ارشاد فرمایا:
" تم زید سے پوچھ لو، اگر یہ تمہارے ساتھ جانا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہيں اور یہاں میرے پاس رہنا چاہیں تو ان کی مرضی۔"
زید رضی اللہ عنہہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہنا پسند کیا۔
اس پر باپ نے کہا:
" تیرا برا ہو زید ... تو آزادی کے مقابلے میں غلامی کو پسند کررہا ہے۔‌"
جواب میں حضرت زید رضی اللہ عنہا نے کہا ؛
" ہاں ! ان کے مقابلے میں میں کسی اور کو ہرگز نہیں چن سکتا۔‌"
آپ نے حضرت زید رضی اللّٰہ عنہہ کی یہ بات سنی تو آپ کو فوراً حجر اسود کے پاس گئے اور اعلان فرمایا‌۔:
" آج سے زید میرا بیٹا ہے۔"
ان کے والد اور چچا مایوس ہوگئے۔ تاہم نبی کریم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ جب چاہیں زید سے ملنے آسکتے ہیں ۔ چنانچہ وہ ملنے کے لیے آتے رہے۔
تو یہ تھے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا جو غلاموں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔ حضرت زید واحد صحابی ہیں جن کا قران کریم میں نام لے کر ذکر کیا گیا ہے۔

☆☆☆
جاری ہے ۔۔۔۔۔!

*مصنف : عبداللہ فارانی*
*کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم*
*ترتیب: سید ابراہیم شاہ ( سبق آموز کہانیاں گروپ ایڈمن)*

*سیرت النبیﷺ کی اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں* 🤍♥️

The story of Sudan history # # 🇸🇩 **سوڈان کی مکمل مگر مختصر داستان** # # # 🏴‍☠️ **1. برطانوی و مصری قبضہ (1899–1956)*** ...
03/11/2025

The story of Sudan history

# # 🇸🇩 **سوڈان کی مکمل مگر مختصر داستان**

# # # 🏴‍☠️ **1. برطانوی و مصری قبضہ (1899–1956)**

* سوڈان تقریباً **56 سال** تک **برطانیہ اور مصر** کے مشترکہ قبضے میں رہا۔
* برطانیہ شمالی حصے (عربی و مسلم اکثریتی) کو زیادہ اہمیت دیتا تھا جبکہ جنوبی حصہ (عیسائی و افریقی اکثریتی) نظر انداز ہوتا رہا۔
* نتیجہ: شمال اور جنوب میں سخت فرق اور نفرت پیدا ہوئی۔

---

# # # 🕊️ **2. آزادی (1956)**

* **یکم جنوری 1956** کو سوڈان نے **برطانیہ و مصر سے آزادی حاصل کی۔**
* ملک کا پہلا وزیراعظم **اسماعیل الاَزہری** بنا۔
* مگر فوراً ہی **شمال–جنوب خانہ جنگی** شروع ہوگئی کیونکہ جنوب والے خودمختاری چاہتے تھے۔

---

# # # ⚔️ **3. پہلا خانہ جنگی دور (1955–1972)**

* یہ جنگ **17 سال** تک چلتی رہی۔
* **جنوبی سوڈان** کے لوگ علیحدہ ملک بنانا چاہتے تھے۔
* 1972 میں **ادیس ابابا معاہدہ** کے ذریعے وقتی امن قائم ہوا۔

---

# # # 🧨 **4. نیا تنازع اور اسلامی حکومت (1983–2005)**

* 1983 میں صدر **جعفر نمیری** نے پورے سوڈان میں **اسلامی قانون (شریعت)** نافذ کیا۔
* جنوبی حصے نے پھر بغاوت کردی — یوں **دوسری خانہ جنگی** شروع ہوئی۔
* جنگ میں تقریباً **20 لاکھ لوگ مارے گئے۔**

---

# # # 🕌 **5. عمر البشیر کا دور (1989–2019)**

* 1989 میں فوجی جنرل **عمر حسن البشیر** نے حکومت پر قبضہ کرلیا۔
* اس نے **اسلامی نظام** کو مزید مضبوط کیا، مگر سخت آمرانہ حکومت چلائی۔
* امریکہ اور اقوامِ متحدہ نے **سوڈان پر پابندیاں** لگائیں۔
* 2003 میں **دارفور (Darfur)** کے علاقے میں قتل و غارت شروع ہوئی — ہزاروں لوگ مارے گئے۔
* اس ظلم کے باعث عمر البشیر پر **انسانیت کے خلاف جرائم** کا مقدمہ عالمی عدالت نے چلایا۔

---

# # # 🇸🇸 **6. جنوبی سوڈان کی علیحدگی (2011)**

* لمبی خانہ جنگی کے بعد **جنوبی سوڈان کو علیحدہ ملک** بننے کی اجازت دی گئی۔
* **9 جولائی 2011** کو *South Sudan* ایک نیا ملک بن گیا۔
* یوں سوڈان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔

---

# # # ⚠️ **7. عمر البشیر کی برطرفی اور افراتفری (2019–2025)**

* عوامی احتجاج کے بعد **2019 میں فوج نے عمر البشیر کو ہٹا دیا۔**
* عبوری حکومت بنی، جس میں **فوج اور سول حکومت** دونوں شامل تھے۔
* مگر پھر **فوجی گروہوں میں طاقت کی جنگ** چھڑ گئی — خاص طور پر
**سوڈانی فوج** (Sudanese Army) اور **ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF)** کے درمیان۔
* 2023–2025 تک خانہ جنگی نے ملک کو تباہ کردیا، ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں۔
* اقوامِ متحدہ کے مطابق **لاکھوں لوگ بھوک، بیماری اور پناہ گزینی** میں مبتلا ہیں۔

---

# # # 🌍 **8. موجودہ صورتحال (2025)**

* سوڈان اس وقت **شدید خانہ جنگی** میں ہے۔
* دارالحکومت **خرطوم** کے زیادہ حصے تباہ ہوچکے ہیں۔
* عوام خوراک، پانی، اور بجلی کی قلت سے دوچار ہیں۔
* عالمی طاقتیں امن مذاکرات کرانے کی کوشش کر رہی ہیں مگر کوئی مستقل حل نہیں نکل سکا۔

---

# # 🕊️ خلاصہ:

**سوڈان** نے آزادی کے بعد
➤ *دو خانہ جنگیاں لڑیں،*
➤ *ایک بار تقسیم ہوا،*
➤ *اور اب بھی اندرونی لڑائی میں پھنسا ہوا ہے۔*
یہ ملک وسائل (خاص طور پر تیل) سے مالا مال ہے، مگر سیاسی فساد نے اس کی ترقی روک دی ہے۔

---

اگر آپ چاہیں تو میں اس کہانی ک

🇦🇪 یو اے ای کا کردار اور مالی، عسکری و اقتصادی مفاداتیو اے ای نے سوڈان میں سونے کی تجارت اور زراعت جیسے شعبوں میں بڑے سر...
03/11/2025

🇦🇪 یو اے ای کا کردار اور مالی، عسکری و اقتصادی مفادات
یو اے ای نے سوڈان میں سونے کی تجارت اور زراعت جیسے شعبوں میں بڑے سرمایہ کاری منصوبے شروع کیے تھے۔ سوڈان سونے کے لحاظ سے اہم ملک ہے، اور یو اے ای اس سونے کی راہداری کا بڑا حصہ بن گیا ہے۔ (The Dialectics)
سوڈان کی حساس معاشی اور جغرافیائی حیثیت — لال سمندر (ریڈ سی) کے ساحل پر بندرگاہیں، زرعی زمین، معدنی وسائل — یو اے ای کے لیے اس خطے میں اثر و رسوخ کا ذریعہ بنیں۔ (allAfrica.com)
تنازع کی صورت حال میں یو اے ای پر یہ الزام ہے کہ وہ تنازع جرائم میں ملوث عسکریت پسند جماعت Rapid Support Forces (RSF) کی امداد کر رہا ہے — ہتھیار، ڈرون، اور مالی وسائل کی شکل میں۔ سوڈانی حکومت نے اس طرح کے الزامات عائد کیے ہیں۔ (Anadolu Ajansı)
⚠️ تعلقات میں کشیدگی اور قانونی معاملات
سوڈان نے یو اے ای کے خلاف عدالتِ انصاف (International Court of Justice) میں مقدمہ دائر کیا کہ وہ جینوسائیڈ کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ یو اے ای نے اس کو خارجِ بیج قرار دیا۔ (AP News)
میسر ہیں رپورٹس کہ یو اے ای نے سوڈان میں فوجی کارروائیوں، ڈرون حملوں، اور عسکری امداد کے لیے چاد، لیبیا، سومالیا اور دیگر مقامات کو راستے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ (tacticsinstitute.com)
✅ باضابطہ موقف
یو اے ای نے بارہا کہا ہے کہ وہ سوڈان کے عوام کے ساتھ ہے، اور انسانی امداد، امن مذاکرات، زرعی ترقی اور معاشی منصوبوں کے ذریعے تعاون کرنا چاہتی ہے۔ (Khaleej Times)
حالانکہ سوڈانی حکومت کا موقف بہت سخت ہے اور وہ یو اے ای کو “مداخلت” کا الزام دے رہی ہے۔
🧭 مجموعی تجزیہ
یو اے ای نے اسٹریٹجک اقتصادی مفادات (سونا، زرعی زمین، بندرگاہیں) کے تحت سوڈان میں اثر بڑھانے کی کوشش کی۔
انہی مفادات کے تناظر میں تنازع کے دوران یو اے ای کا کردار متنازع رہا — جہاں ایک جانب وہ امدادی اور سفارتی خدمات فراہم کر رہا ہے، دوسری جانب اس پر عسکری مداخلت اور ایک فریق کی حمایت کا الزام ہے۔
اس کی وجہ سے سوڈان-یو اے ای کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں، اور یہ خطے میں استحکام کے لیے ایک پیچیدہ چیلنج بن گیا ہے۔

02/11/2025

اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙
Episode no.15💚💙💖💓
🌴 سیرت النبی ﷺ 🌴
💚🖤 قسط نمبر 15 💚🖤
عنوان: حجرِ اسود کون رکھے گا؟
جب قریش کے درمیان حجرِ اسود رکھنے کا معاملہ اختلاف کا شکار ہوا اور جھگڑا شدت اختیار کر گیا تو وہ سب بیت اللہ میں جمع ہوئے۔ انہی میں ابو اُمیہ بن مغیرہ بھی موجود تھے—یہ ام المؤمنین حضرت اُم سلمہؓ کے والد اور قریش کے معزز ترین بزرگوں میں سے تھے۔ وہ مسافروں کی ضیافت اور حسنِ اخلاق کے لیے مشہور تھے۔
انہوں نے جھگڑا ختم کرنے کے لیے ایک نہایت حکیمانہ تجویز پیش کی:
“اے قریش کے لوگو! آؤ فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ جو شخص صفا دروازے (یعنی باب السلام) سے سب سے پہلے داخل ہو، اُسی کا فیصلہ ہم سب مان لیں گے۔”
سب نے اس پر اتفاق کرلیا۔
اللہ کی قدرت کہ سب سے پہلے اسی دروازے سے محمد ﷺ تشریف لائے۔
قریش نے خوشی سے نعرہ لگایا:
“یہ تو الامین ہیں! یہ محمد ﷺ ہیں! ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں!”
پھر سب نے جھگڑے کی تفصیل بیان کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“ایک چادر لے آؤ۔”
چادر بچھائی گئی۔ آپ ﷺ نے حجرِ اسود کو اپنے مبارک ہاتھوں سے اٹھا کر چادر پر رکھا اور ارشاد فرمایا:
“ہر قبیلہ چادر کا ایک کنارہ تھام لے، سب مل کر اسے اٹھاؤ۔”
یوں سب نے مل کر چادر اٹھائی اور جب پتھر اپنی جگہ تک پہنچا تو نبی کریم ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے حجرِ اسود کو اُس کی جگہ پر رکھ دیا۔
یوں ایک سنگین جھگڑا حضور ﷺ کی حکمت سے ختم ہوگیا۔
اسی لمحے ایک نجدی شخص نمودار ہوا اور کہنے لگا:
“یہ نوجوان تمہیں ٹکڑوں میں بانٹ دے گا، یہ عزت کا مستحق نہیں!”
مگر لوگ فوراً سمجھ گئے کہ یہ وسوسہ ڈالنے والا دراصل ابلیس ہے، جو انسان کی شکل میں آیا تھا۔
جب کعبے کی تعمیر مکمل ہوئی تو قریش نے اپنے بت دوبارہ اس میں رکھ دیے۔
یہ تعمیر کعبے کی چوتھی تعمیر تھی۔
سب سے پہلی تعمیر فرشتوں نے کی تھی۔
روایت میں آتا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے جب عرش پانی پر تھا تو اس پر یہ کلمہ لکھا گیا:
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ
پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا:
“زمین پر میرے نام کا ایک گھر بناؤ، تاکہ آدم کی اولاد میری عبادت کے لیے اس کا طواف کرے، جس طرح تم میرے عرش کا طواف کرتے ہو۔”
یوں سب سے پہلے فرشتوں نے خانہ کعبہ بنایا، پھر حضرت آدمؑ نے، پھر حضرت ابراہیمؑ نے، اور چوتھی بار قریش کے ہاتھوں تعمیر ہوئی۔
🌙 جب رسولِ اکرم ﷺ کی عمر چالیس برس کے قریب پہنچی تو وحی کے آثار ظاہر ہونے لگے۔
ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی — جو خواب دیکھتے، وہ حقیقت بن جاتا۔
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کی تیاری تھی تاکہ فرشتے کی آمد آپ ﷺ کے لیے باعثِ خوف نہ بنے۔
آپ ﷺ اکثر سیدہ خدیجہؓ سے فرمایا کرتے:
“میں جب تنہا ہوتا ہوں تو آواز آتی ہے: اے محمد… اے محمد…”
اور کبھی فرماتے: “مجھے ایک نور دکھائی دیتا ہے، جو جاگتے میں نظر آتا ہے۔”
آپ ﷺ کو بتوں سے سخت نفرت تھی۔
اللہ نے آپ کے دل میں تنہائی کی محبت ڈال دی۔ آپ غارِ حرا میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہاں عبادت میں گزارتے۔
یہی وہ غار تھا جہاں سے آخرکار نبوت کی روشنی پھوٹی۔
پھر وہ بابرکت رات آئی جب جبریلِ امین علیہ السلام پہلی وحی لے کر نازل ہوئے۔
یہ پیر کی صبح تھی — وہی دن جس دن آپ ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تھے۔
آپ فرمایا کرتے تھے:
“پیر کے دن روزہ رکھا کرو، کیونکہ میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھے نبوت ملی۔”

اُس وقت آپ ﷺ کی عمرِ مبارک چالیس برس تھی۔
اور یوں زمین و آسمان کے درمیان سب سے عظیم انقلاب کا آغاز ہوا۔
📖 مصنف: عبداللہ فارانی
📚 کتاب: سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم
🌺 (سبق آموز کہانیاں گروپ)
❤️🤍 اگلی قسط جلد حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں 🤍❤️❤💖💔💓

02/11/2025

اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙
🌙 سیرت النبی ﷺ
💚 قسط نمبر 16 💚
🖤 عنوان: پہلی وحی کا نزول 🖤
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو انسانوں کی رہنمائی کے لیے منتخب فرمایا۔ نبوت سے پہلے کے ایام میں آپ ﷺ کو تنہائی پسند آنے لگی تھی۔ دنیا کے شور و غوغا سے دور، آپ ﷺ اکثر غارِ حرا میں تشریف لے جاتے، جہاں آپ گھنٹوں اور دنوں تک اللہ کی یاد، غور و فکر اور عبادت میں مصروف رہتے۔
یہ غار مکہ مکرمہ کے مشرق میں جبلِ نور پر واقع ہے۔ آپ ﷺ وہاں کائنات کے نظام پر غور کرتے، انسان کی تخلیق، زندگی اور موت کے راز پر سوچتے، اور دل میں یہ سوال اُبھرتا کہ آخر اس جہانِ رنگ و بو کا خالق کون ہے؟
اسی تنہائی میں ایک رات وہ عظیم لمحہ آیا جس نے تاریخِ انسانیت کا رُخ بدل دیا — وہ لمحہ جب پہلی وحی نازل ہوئی۔
رمضان المبارک کا مہینہ تھا، پیر کی شب۔ آپ ﷺ غارِ حرا میں عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے۔ ان کے ہاتھ میں ریشم کا کپڑا تھا جس میں ایک کتاب لپٹی ہوئی تھی۔
جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا:
"اقْرَأْ" — پڑھیے!

آپ ﷺ نے فرمایا:

"میں پڑھنے والا نہیں۔"
پھر فرشتے نے آپ ﷺ کو اپنے بازوؤں میں لیا، اتنا زور سے دبایا کہ طاقت جواب دینے لگی، پھر چھوڑ دیا اور دوبارہ فرمایا
:
"اقْرَأْ
"
تین بار ایسا ہوا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے یہ آیات تلاوت فرمائ
یں:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
(سورۃ العلق 1
–5)
یہی پہلی وحی تھی۔ زمین پر نبوت کا آغاز ہوگیا۔
محمد ﷺ اللہ کے رسول بن گئے 🌹
آپ ﷺ کے جسمِ اطہر پر لرزہ طاری ہوگیا، چہرے پر نور کی لہر دوڑ گئی، دل دھڑکنے لگا۔ آپ ﷺ غار سے باہر نکلے، اور جلدی جلدی گھر کی طرف روانہ ہوئے۔
گھر پہنچ کر آپ ﷺ نے اپنی پیاری زوجہ حضرت خدیجہؓ سے فر
مایا:
"مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا
دو!"
حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کو ڈھانپ دیا، جب آپ کا دل تھم گیا تو آپ ﷺ نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔
حضرت خدیجہؓ نے نہ صرف تسلی دی بل
کہ کہا:
"اللہ کی قسم! اللہ کبھی آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔
آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کا سہارا بنتے ہیں، غریبوں کی مدد کرتے ہیں، مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں، اور سچ بولت
ے ہیں۔"
پھر وہ آپ ﷺ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو ان کے چچا زاد تھے اور اہلِ کتاب میں علم رکھتے تھے۔
ورقہ نے س
ن کر کہا:
"یہ وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا۔ کاش میں اُس وقت زندہ رہوں جب تمہاری قوم تمہیں مکہ سے نکا
ل دے گی!"
نبی اکرم ﷺ نے حیر
ت سے پوچھا:
"کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟"
ورقہ نے فرمایا:
"ہاں، جو بھی وہ پیغام لے کر آیا جو تم لائے ہو، اس کے ساتھ ای
سا ہی ہوا۔"
یوں نبوت کا آغاز ہوا اور دنیا میں نورِ ہدایت پھیلنے لگا۔
اندھیروں میں روشنی اتر آئی 🌙✨
📖 مصنف: عبداللہ فارانی
📘 کتاب: سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم
🌸 سیرت النبی ﷺ کی اگلی قسط حاصل کرنے کے لیے رئیککیرین ؟

30/10/2025

Malik Irfan ၊||၊ DeSpeed ၊||၊:
اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙
Episode no.14 💓💔💕
🌴 سیرت النبی ﷺ
💚🖤 قسط نمبر 14
عنوان: تین تحریریں
جب رسولِ اکرم ﷺ کی عمر پینتیس (35) سال ہوئی تو مکہ مکرمہ میں ایک شدید سیلاب آیا۔ قریش نے پہلے سے ایک بند تعمیر کر رکھا تھا تاکہ بیت اللہ محفوظ رہے، مگر اس بار سیلاب اتنا طاقتور تھا کہ وہ بند ٹوٹ گیا اور پانی سیدھا کعبہ کے اندر داخل ہوگیا۔
پانی کے دباؤ سے دیواروں میں شگاف پڑ گئے۔ اس سے پہلے بھی کعبہ کی دیواریں ایک مرتبہ آگ لگنے سے کمزور ہوچکی تھیں۔ واقعہ یوں ہوا تھا کہ ایک عورت کعبہ کو دھونی دے رہی تھی کہ اچانک ایک چنگاری اڑ کر پردوں میں جاگری، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور دیواریں جل کر کمزور ہوگئیں۔
اب سیلاب نے مزید نقصان پہنچایا، اور کعبہ کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبے کی جو دیواریں اٹھائی تھیں، وہ نو گز اونچی تھیں اور ان پر کوئی چھت نہیں تھی۔
لوگ نذرانے اور ہدایا لایا کرتے تھے — کپڑے، خوشبوئیں اور دیگر قیمتی چیزیں — جنہیں کعبہ کے اندر ایک کنوئیں میں محفوظ کیا جاتا تھا۔ اس کنوئیں کو “خزانۂ کعبہ” کہا جاتا تھا۔
ایک بار ایک چور نے خزانے میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی مگر کنوئیں کے اندر ہی مر گیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خزانے کی حفاظت کے لیے ایک سانپ مقرر کردیا جو ہر آنے والے کو بھگا دیتا۔
اب جب کہ دیواریں گرنے کے قریب ہو گئیں، اللہ تعالیٰ نے ایک پرندہ بھیجا، جس نے اس سانپ کو اٹھا کر لے گیا۔
یہ دیکھ کر قریش بہت خوش ہوئے کہ اب تعمیرِ کعبہ کا راستہ صاف ہوگیا۔
قریش نے طے کیا کہ اب کعبہ کو نئی اور مضبوط بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کیا جائے، دیواروں کو مزید بلند کیا جائے، اور دروازہ اونچا رکھا جائے تاکہ صرف اجازت یافتہ لوگ ہی داخل ہوسکیں۔
انہوں نے پتھر اور چندہ جمع کیا۔
لیکن چندے میں صرف پاک اور حلال مال شامل کیا گیا۔
سود، زنا یا ظلم سے حاصل شدہ دولت شامل کرنے سے سب نے انکار کیا۔
اس فیصلے کی ایک خاص وجہ تھی —
جب ایک قریشی سردار ابو وہب عمرو بن عابد (جو نبی کریم ﷺ کے والد حضرت عبداللہ کے ماموں تھے) نے تعمیر شروع کرنے کے لیے ایک پتھر اٹھایا تو وہ خود بخود اپنی جگہ واپس جاگرا۔
یہ دیکھ کر انہوں نے کہا:
“اے قریش کے لوگو!
بیت اللہ کی بنیادوں میں صرف پاک مال شامل کرنا۔
کسی بدکار عورت کی کمائی، سود یا ظلم سے حاصل مال اس میں مت ڈالنا۔”
یہ نصیحت سن کر سب نے دل سے اقرار کیا۔
جب تعمیر شروع ہوئی تو نبی کریم ﷺ بھی قریش کے ساتھ شریک ہوئے۔
آپ ﷺ پتھر اپنی گردن پر رکھ کر لا رہے تھے۔
ابتدا میں لوگوں کو خوف تھا کہ کہیں دیواریں گرانے سے اللہ کا عذاب نہ نازل ہو۔
تب ایک بزرگ سردار ولید بن مغیرہ نے کہا:

“اگر تمہارا مقصد اصلاح اور تعمیر ہے،
تو یاد رکھو، اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والوں کو ہرگز ہلاک نہیں کرتا۔”
یہ کہہ کر انہوں نے خود ایک حصہ گرایا۔
جب رات خیریت سے گزری، تو سب مطمئن ہوگئے اور اگلے دن سب نے پوری عمارت گرا دی یہاں تک کہ بنیاد تک پہنچ گئے —
وہی بنیاد جو ابراہیم علیہ السلام نے رکھی تھی۔
بنیاد میں انہیں سبز رنگ کے جڑے ہوئے پتھر ملے، جیسے اونٹ کے کوہان کی طرح ابھرے ہوئے تھے۔
انہیں توڑنا بہت مشکل ثابت ہوا۔
اسی دوران، کعبہ کے دائیں کونے کے نیچے سے ایک تحریر ملی جو سریانی زبان میں لکھی تھی۔
ایک یہودی عالم کو بلایا گیا، اس نے وہ عبارت پڑھ کر سنائی
:
“میں اللہ ہوں، مکہ کا مالک۔
میں نے اسے اُس دن پیدا کیا جس دن آسمان و زمین پیدا کیے،
اور سورج و چاند بنائے۔
میں نے اس کے گرد سات فرشتے مقرر کیے ہیں۔
جب تک اس کے دونوں پہاڑ (ابو قیس اور قعیقعان) باقی رہیں گے،
مکہ کی عظمت قائم رہے گی۔
یہ شہر اپنے رہنے والوں کے لیے پانی اور رزق کے لحاظ سے بابرکت ہے۔

یہ تھی پہلی تحریر۔
دوسری تحریر مقامِ ابراہیم کے پاس ملی، جس میں لکھا ت
ھا:
“مکہ، اللہ تعالیٰ کا محترم اور معظم شہر ہے۔
اس کا رزق تین راستوں سے اس میں داخل ہوتا ہ
ے۔”
یہ تین راستے قریش کے تجارتی قافلوں کے راستے تھے۔
تیسری تحریر ایک اور مقام پر ملی، جس میں درج
تھا:
“جو بھلائی بوئے گا، لوگ اس پر رشک کریں گے۔
اور جو برائی بوئے گا، وہ رسوائی کا پھل کاٹے گا۔
تم برائی کر کے بھلائی کی امید رکھتے ہو —
یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کیکر کے درخت سے انگور تلاش
کرے۔”
یہ تحریر کعبے کے اندر ایک پتھر پر کندہ تھی۔
قریش کو دیواروں کے ساتھ چھت کے لیے لکڑی کی بھی ضرورت تھی۔
اسی دوران، ایک رومی جہاز مکہ کے قریب ساحل (جدہ) پر ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔
اس میں لکڑی، لوہا اور سنگِ مرمر کا سامان موجود تھا۔

قریش نے وہاں جا کر لکڑی خرید لی،
اور کعبے کی چھت میں وہی لکڑی استعمال کی گئی۔
اب تعمیر حجرِ اسود تک پہنچ گئی۔
یہ وہ موقع تھا جب سب سے بڑا اختلاف پیدا ہوا —
“حجرِ اسود کو اپنی جگہ کون رکھے گا؟”
ہر قبیلہ یہ عزت اپنے نام کرنا چاہتا تھا۔
بات بڑھ کر خون خرابے تک جا پہنچی۔
قبیلہ عبد الدار اور عدی نے ایک برتن میں خون بھر کر اپنے ہاتھ ڈبوئے ا
ور کہا:
“ہم ہی حجرِ اسود رکھ
یں گے!”
یوں ہر قبیلہ اپنی ضد پر قائم ہو گیا۔
تلواریں نیام سے نکل آئیں اور فضا میں ایک بار پھر فتنے کا سایہ چھا گیا…
☆☆☆
جاری ہے۔۔۔
✍ مصنف: عبداللہ فارانی
📘 کتاب: سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم
اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں
🤍💚♥️❤💖💗💙

👇اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙Episode no.11🌴 سیرت النبی ﷺ💚🖤 قسط نمبر 11عنوان...
25/10/2025

👇اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙
Episode no.11
🌴 سیرت النبی ﷺ
💚🖤 قسط نمبر 11
عنوان: فِجار کی جنگ — حضور ﷺ کی جوانی کا ایک اہم واقعہ
خانۂ کعبہ میں اساف اور نائلہ کے دو بت رکھے تھے اور مشرک طواف کے دوران انہیں چھوتے ہوئے برکت حاصل کرنے کا گمان کرتے تھے۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
“ایک بار میں نبی ﷺ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، جب میں ان بتوں کے قریب سے گزرا تو انہیں چھو لیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فوراً فرمایا:
‘انہیں ہاتھ مت لگاؤ!’
میں نے دوبارہ آزمانے کے لیے پھر ہاتھ بڑھایا تو آپ ﷺ نے سختی سے روک دیا اور فرمایا:
‘کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا؟’”
حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“قسم ہے اس ذات کی! رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی بت کو نہیں چھوا، یہاں تک کہ نبوت عطا ہوئی اور وحی نازل ہونے لگی۔”
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بچپن سے ہی شرک اور حرام سے محفوظ رکھا۔ مشرک بتوں کے نام پر جانور ذبح کرتے مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
“میں نے کبھی ایسی چیز نہیں چکھی جو بتوں کے نام پر ذبح کی گئی ہو۔”
آپ ﷺ سے پوچھا گیا:
“کیا آپ نے کبھی بت پرستی کی؟”
آپ نے فرمایا:
“نہیں!”
پھر پوچھا گیا:
“کیا آپ نے کبھی شراب پی؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“نہیں! حالانکہ اس وقت مجھے کتاب اور ایمان کا علم بھی نہ تھا۔”
🌿 بکریاں چرانا — اللہ کی خاص تربیت
آپ ﷺ بچپن میں مکہ کے لوگوں اور اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتے تھے۔
ارشاد فرمایا:
“تمام انبیاء نے بکریاں چرائیں۔ میں بھی قراریط کے بدلے مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔”
علما فرماتے ہیں کہ اس کام میں بردباری، نرمی، اور شفقت جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں — جو داعیِ حق کے لئے بہت ضروری ہیں 💚
⚔️ فِجار کی جنگیں — آغاز
عرب میں ایک شخص بدر غفاری تھا، وہ عکاظ کے میلے میں اپنی بڑائیاں بیان کرتا۔ ایک دن اس نے دعویٰ کیا:
“عرب میں کوئی مجھ سے زیادہ عزت والا ہو تو تلوار کے زور پر ثابت کرے!”
اسی لمحے ایک شخص نے اس کے گھٹنے پر تلوار ماری اور دونوں قبیلے لڑ پڑے — یہی
پہلی فجار جنگ تھی۔
اس وقت نبی ﷺ کی عمر 10 سال تھی۔
فِجار کی چوتھی جنگ — رسول ﷺ کی محدود شرکت
تین جنگوں میں آپ ﷺ شریک نہ ہوئے۔
لیکن چوتھی جنگ میں آپ ﷺ اپنے چچاؤں کے ساتھ گئے۔
آپ ﷺ لڑائی نہیں کرتے تھے، صرف
✅ چچاؤں کو تیر پکڑاتے
اور جب آپ ﷺ جاتے تو کنانہ کی فتح ہوتی،
اور جب نہ ہوتے تو شکست ہونے لگتی۔
یہ جنگ حرمت والے مہینوں میں لڑی گئی، اسی لئے اسے فجار یعنی “گناہ کی جنگ” کہا گیا۔
چھ دنوں کے بعد آخر کار صلح ہو گئی۔
🤝 حلف الفضول — انصاف کا عظیم معاہدہ
فجار کے بعد ایک زبیدی تاجر پر عاص بن وائل نے ظلم کیا اور اس کا مال دبا لیا۔
جب اسے کسی نے نہ سنا تو وہ ابوقیس پہاڑی پر چڑھ کر فریاد کرنے لگا۔
نبی ﷺ کے چچا زبیر بن عبدالمطلب نے فوراً آواز بلند کی:
“ہم مظلوم کا حق دلائیں گے!”
بنو ہاشم، بنو زہرہ اور بنو اسد اس میں شامل ہو گئے۔
عبداللہ بن جدعان کے گھر اکٹھا ہو کر ایک عہد لیا گیا:
ہم ہمیشہ ظلم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے!

اس عظیم معاہدے کا نام رکھا گیا:
⭐ حلف الفضول ⭐
اور رسول اللہ ﷺ بھی اس معاہدے میں موجود تھے۔
آپ ﷺ نے بعد میں فرمایا:

“اگر آج بھی مجھے ایسے عہد کی طرف بلایا جائے تو میں ضرور شریک ہوں گا!”
☆☆☆
جاری ہے۔۔۔
✍️ مصنف: عبداللہ فارانی
📖 کتاب: سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم
🤍❤️ اگلی قسط جلد حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں!💟💥💝💌

👇اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙Episode no.10🌴 سیرت النبی ﷺ💚🖤 قسط نمبر 10عنوان...
24/10/2025

👇اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙
Episode no.10
🌴 سیرت النبی ﷺ
💚🖤 قسط نمبر 10
عنوان: “یہ تمہارا بیٹا نہیں”
آپ ﷺ کم عمر ہونے کی وجہ سے قافلے کے ہمراہ نہ لے جائے گئے، اور درخت کے سائے تلے بیٹھے رہے۔
ادھر بحیرا راہب قریش کے لوگوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اسے ان میں کسی کے اندر وہ صفات نظر نہ آئیں جو آخری نبی کے بارے میں اس کی کتابوں میں درج تھیں۔
اسے سب سے حیران کن بات یہ نظر آئی کہ بادل وہیں ٹھہرا ہوا تھا جہاں آپ ﷺ موجود تھے۔
بحیرا نے قریش کو کھانے کی دعوت دی اور کہا:
“میری دعوت میں کوئی بھی پیچھے نہ رہے۔”
قریش نے بتایا:
“ایک لڑکا رہ گیا ہے، سب سے چھوٹا، اسے نہ لایا گیا۔”
بحیرا نے فوراً کہا:
“یہ مناسب نہیں کہ وہ پیچھے رہ جائے، میں نے اُسے تمہارے ساتھ ہی دیکھا تھا۔ اسے بھی لے آؤ!”
جب آپ ﷺ کو بلایا گیا تو بادل آپ کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور سایہ کیے رکھی۔ بحیرا یہ منظر دیکھ کر مزید حیران ہو گیا۔ پھر وہ آپ کو غور سے دیکھنے لگا کہ کہیں آپ وہی موعود نبی تو نہیں؟
کھانے کے بعد بحیرا آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا:
“میں لات و عزیٰ کے نام پر آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں!”
آپ ﷺ نے نفرت بھرے لہجے میں فرمایا:
“مجھے ان سے سخت بیزاری ہے، ان کے نام پر مجھ سے کچھ نہ پوچھو۔”
بحیرا نے کہا:
“اچھا تو اللہ کے نام پر بتائیں۔”
بحیرا نے آپ ﷺ سے سوالات کیے، پھر آپ کی پشت مبارک سے کپڑا ہٹا کر مہرِ نبوت دیکھی تو فوراً جھک کر اسے بوسہ دیا۔
قریش والے یہ منظر دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے۔
بحیرا نے ابو طالب سے پوچھا:
“یہ لڑکا تمہارا کیا لگتا ہے؟”
ابو طالب نے فرمایا:
“میرا بیٹا ہے۔”
بحیرا نے فوراً کہا:
“یہ تمہارا بیٹا نہیں ہو سکتا! اس کے والد تو زندہ نہیں ہو سکتے!”
ابو طالب نے حقیقت بتائی کہ:
“یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے، اور ان کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے، جبکہ والدہ بھی اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔”
بحیرا نے یہ سن کر اپنا یقین پختہ کیا اور کہا:
“انہیں فوراً واپس مکہ لے جاؤ۔ یہودی اگر ان نشانیوں کو دیکھ لیں جو میں نے دیکھی ہیں تو انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
یہ بچہ نبی ہے، عظیم شان کا مالک! ہماری کتابوں میں ان کا ذکر موجود ہے۔ میں نے تمہیں خبردار کر دیا۔ حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔”
ابو طالب ڈر گئے اور آپ ﷺ کو لے کر فوراً مکہ واپس آ گئے۔
اس وقت آپ ﷺ کی عمر نو سال تھی۔
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بچپن ہی سے لہو و لعب اور جاہلیت کی برائیوں سے پوری طرح محفوظ رکھا۔
ایک موقع پر آپ ﷺ نے خود فرمایا:
“میں ایک قریشی لڑکے کے ساتھ بکریاں چرا رہا تھا، میں نے کہا کہ تم دیکھو میں قصہ گوئی کی محفل میں جاتا ہوں… مگر جیسے ہی اندر داخل ہوا، مجھے نیند آگئی… اور جب آنکھ کھلی تو دھوپ چڑھ چکی تھی۔”
اسی طرح دوسری رات بھی ایسا ہی ہوا —
یعنی اللہ نے لغو محفلوں سے بھی آپ ﷺ کی حفاظت فرمائی۔
قریش کے ایک بڑے بت کا نام بوانہ تھا۔ ابو طالب ہر سال اس کے پاس جاتے تھے اور آپ ﷺ کو بھی ساتھ چلنے کو کہتے، مگر آپ ﷺ ہمیشہ انکار فرماتے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ
“جب بھی میں بوانہ یا کسی بت کے قریب گیا، ایک سفید لباس پہنے بلند قامت شخص ظاہر ہوا اور مجھے روک کر کہتا:
‘محمد! پیچھے ہٹو، اسے ہرگز نہ چھونا!’”
☆☆☆
جاری ہے۔۔۔
✍️ مصنف: عبداللہ فارانی
📖 کتاب: سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم
🤍❤️ اگلی قسط جلد حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں!

👇اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙❤💚🌴 سیرت النبی ﷺ💚🖤 قسط نمبر 09💥👇🏼Episode.no.9💥...
22/10/2025

👇اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙❤💚
🌴 سیرت النبی ﷺ
💚🖤 قسط نمبر 09💥👇🏼
Episode.no.9💥💝
عنوان: شام کا سفر
جب آپ ﷺ نے پتھر پر پاؤں مارا تو اچانک نیچے سے صاف و شفاف پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔
سب نے وہ پانی پیا تو حیران رہ گئے — اس سے زیادہ لذیذ اور ٹھنڈا پانی انہوں نے کبھی نہ چکھا تھا۔
ابو طالب نے پوچھا:
"بھتیجے! کیا آپ نے سیراب ہو کر پانی پی لیا؟"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جی ہاں۔"
پھر آپ ﷺ نے اسی جگہ دوبارہ اپنی ایڑی ماری تو وہ زمین پھر ویسی ہی خشک ہو گئی جیسے پہلے تھی۔
چند سال نبی اکرم ﷺ اپنے دوسرے چچا زبیر بن عبدالمطلب کے ساتھ بھی رہے۔
ایک مرتبہ آپ ﷺ ان کے ساتھ ایک قافلے میں یمن کی طرف روانہ ہوئے۔
راستے میں ایک وادی سے گزر ہوا جہاں ایک خطرناک، سرکش اونٹ لوگوں کو راستہ روک کر پریشان کیا کرتا تھا۔
مگر جب اس اونٹ نے نبی ﷺ کو دیکھا تو فوراً ادب سے بیٹھ گیا اور زمین پر اپنا سینہ رگڑنے لگا۔
آپ ﷺ اونٹ سے اترے اور اس پر سوار ہو گئے۔
وہ اونٹ نہایت فرمانبرداری سے وادی پار کر کے آپ کو دوسری طرف لے گیا۔
پھر آپ ﷺ نے اسے آزاد چھوڑ دیا۔
ایک اور سفر میں جب قافلہ واپس آ رہا تھا تو راستے میں ایک وادی ملی جو طوفانی پانی سے لبریز تھی۔
پانی تیزی سے بہہ رہا تھا، مگر آپ ﷺ نے اطمینان سے فرمایا:
"میرے پیچھے آؤ۔"
اور جیسے ہی آپ ﷺ آگے بڑھے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی خشک ہونے لگا،
قافلہ بحفاظت پار ہو گیا۔
جب مکہ پہنچے تو لوگوں نے یہ حیرت انگیز واقعات سنائے اور کہنے لگے:
"اس لڑکے کی تو شان ہی نرالی ہے!"
ابن ہشام لکھتے ہیں:
بنو لہب کا ایک مشہور قیافہ شناس مکہ آیا کرتا تھا — وہ لوگوں کے چہروں سے ان کے مستقبل کا اندازہ لگاتا تھا۔
ابو طالب آپ ﷺ کو بھی وہاں لے گئے۔
اس نے آپ کو ایک نظر دیکھا، پھر دوسرے بچوں کو دیکھنے لگا۔
آخر میں بولا:
"اس لڑکے کو میرے پاس واپس لاؤ!"
ابو طالب نے محسوس کیا کہ وہ عجیب لہجے میں بات کر رہا ہے، اس لیے فوراً وہاں سے چلے آئے۔
جب قیافہ شناس کو پتہ چلا کہ آپ چلے گئے ہیں تو وہ چیخ اٹھا:
"تم لوگ نہیں جانتے، وہ لڑکا بہت عظیم شان والا ہے!"
☆💥
کچھ عرصے بعد ابو طالب نے تجارت کے لیے شام کا سفر اختیار کیا۔
نبی کریم ﷺ نے بھی جانے کی خواہش ظاہر کی۔
ابو طالب نے آپ ﷺ کی محبت بھری خواہش دیکھی تو فرمایا:
"اللہ کی قسم! میں اپنے بھتیجے کو ضرور ساتھ لے جاؤں گا —
نہ یہ مجھ سے جدا ہو سکتا ہے، نہ میں اسے اپنے سے جدا کر سکتا ہوں۔"
ایک روایت کے مطابق، آپ ﷺ نے ابو طالب کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور فرمایا:
"چچا جان! آپ مجھے کس کے پاس چھوڑ کر جا رہے ہیں؟
نہ میرا باپ ہے، نہ ماں!"
یہ سن کر ابو طالب کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور بولے:
"میرے ساتھ ہی چلتے ہو بھتیجے۔"
اس وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک تقریباً نو سال تھی۔
راستے میں ایک عیسائی عبادت گاہ کے قریب پہنچے۔
راہب نے نبی ﷺ کو دیکھا تو چونک اٹھا۔
اس نے ابو طالب سے پوچھا:
"یہ بچہ تمہارا بیٹا ہے؟"
انہوں نے کہا: "ہاں، میرا بیٹا ہے۔"
راہب نے کہا:
"نہیں، یہ تمہارا بیٹا نہیں ہو سکتا — اس کے باپ کا سایہ اس پر نہیں ہے۔
یہ بچہ نبی ہے!"
یعنی اس میں وہ تمام نشانیاں موجود ہیں جو آخری نبی کے لیے بیان کی گئی ہیں —
اور ان میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ وہ یتیم ہوگا۔
ابو طالب نے حیران ہو کر پوچھا:
"نبی کیا ہوتا ہے؟"
راہب نے کہا:
"نبی وہ ہوتا ہے جسے آسمان سے وحی ملتی ہے — وہ اللہ کی خبریں بندوں تک پہنچاتا ہے۔
تم یہودیوں سے اس بچے کو بچائے رکھنا۔"
کچھ دور جا کر ایک دوسری خانقاہ میں ٹھہرے۔
وہاں ایک اور راہب نے نبی ﷺ کو دیکھا اور فوراً پہچان لیا۔
کہنے لگا:
"یہ بچہ تمہارا بیٹا نہیں ہو سکتا۔
اس کے چہرے میں نبیوں کا نور ہے، آنکھوں میں وہ سرخی ہے جو صرف نبیوں میں ہوتی ہے۔"
قافلہ آگے بڑھا اور آخرکار بُصری (شام) پہنچا۔
وہاں ایک بزرگ عالم و راہب رہتا تھا جس کا نام بحیرا تھا (اصل نام جرجیس)۔
یہ شخص اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم اور عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کا وارث سمجھا جاتا تھا۔
قریش کے قافلے اکثر وہاں سے گزرتے تھے مگر بحیرا نے کبھی ان سے بات نہیں کی تھی۔
مگر اس بار، جب اس نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، تو فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی ہستی ہے جس کا ذکر اس کی کتابوں میں ہے۔
اس نے پورے قافلے کے لیے کھانے کی دعوت کر دی۔
بحیرا نے ایک اور عجیب منظر دیکھا —
ایک چھوٹا سا بادل مسلسل نبی ﷺ پر سایہ کیے ہوئے تھا۔
جب آپ ﷺ درخت کے نیچے بیٹھے تو درخت کی شاخیں خود بخود جھک گئیں اور آپ ﷺ کے اوپر سایہ کر لیا۔
یہ دیکھ کر بحیرا نے قافلے والوں کو پیغام بھیجا:

"اے قریش کے لوگو! میں نے تم سب کے لیے کھانا تیار کیا ہے — بچے، بوڑھے، غلام، سب آؤ!"
قریش حیران ہوئے اور بولے:
"اے بحیرا! آج آپ نے عجیب بات کی، ہم تو اکثر یہاں سے گزرتے ہیں مگر آپ نے کبھی ہمیں دعوت نہیں دی، آج ایسا کیوں؟"
بحیرا نے مسکرا کر کہا:
"ہاں، آج دل چاہا کہ مہمان نوازی کی جائے۔"
سب لوگ چلے گئے —
مگر اللہ کے رسول ﷺ کو قافلے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔
☆☆☆💚
جاری ہے۔۔۔
مصنف: عبداللہ فارانی
کتاب: سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم
💚 سیرت النبی ﷺ کی اگلی قسط جلد حاصل کرنے کے لیے ری ایکٹ کریں 🤍❤💗💖💚

Malik Irfan ၊||၊ DeSpeed ၊||၊:👇اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙❤💚🌴 سیرت النبی ﷺ...
22/10/2025

Malik Irfan ၊||၊ DeSpeed ၊||၊:
👇اے عرب کے لوگو! یہ بچہ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔”💥❤💚💙❤💚
🌴 سیرت النبی ﷺ
💚🖤 قسط نمبر 09💥👇🏼
Episode.no.9💥💝
عنوان: شام کا سفر
جب آپ ﷺ نے پتھر پر پاؤں مارا تو اچانک نیچے سے صاف و شفاف پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔
سب نے وہ پانی پیا تو حیران رہ گئے — اس سے زیادہ لذیذ اور ٹھنڈا پانی انہوں نے کبھی نہ چکھا تھا۔
ابو طالب نے پوچھا:
"بھتیجے! کیا آپ نے سیراب ہو کر پانی پی لیا؟"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جی ہاں۔"
پھر آپ ﷺ نے اسی جگہ دوبارہ اپنی ایڑی ماری تو وہ زمین پھر ویسی ہی خشک ہو گئی جیسے پہلے تھی۔
چند سال نبی اکرم ﷺ اپنے دوسرے چچا زبیر بن عبدالمطلب کے ساتھ بھی رہے۔
ایک مرتبہ آپ ﷺ ان کے ساتھ ایک قافلے میں یمن کی طرف روانہ ہوئے۔
راستے میں ایک وادی سے گزر ہوا جہاں ایک خطرناک، سرکش اونٹ لوگوں کو راستہ روک کر پریشان کیا کرتا تھا۔
مگر جب اس اونٹ نے نبی ﷺ کو دیکھا تو فوراً ادب سے بیٹھ گیا اور زمین پر اپنا سینہ رگڑنے لگا۔
آپ ﷺ اونٹ سے اترے اور اس پر سوار ہو گئے۔
وہ اونٹ نہایت فرمانبرداری سے وادی پار کر کے آپ کو دوسری طرف لے گیا۔
پھر آپ ﷺ نے اسے آزاد چھوڑ دیا۔
ایک اور سفر میں جب قافلہ واپس آ رہا تھا تو راستے میں ایک وادی ملی جو طوفانی پانی سے لبریز تھی۔
پانی تیزی سے بہہ رہا تھا، مگر آپ ﷺ نے اطمینان سے فرمایا:
"میرے پیچھے آؤ۔"
اور جیسے ہی آپ ﷺ آگے بڑھے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی خشک ہونے لگا،
قافلہ بحفاظت پار ہو گیا۔
جب مکہ پہنچے تو لوگوں نے یہ حیرت انگیز واقعات سنائے اور کہنے لگے:
"اس لڑکے کی تو شان ہی نرالی ہے!"
ابن ہشام لکھتے ہیں:
بنو لہب کا ایک مشہور قیافہ شناس مکہ آیا کرتا تھا — وہ لوگوں کے چہروں سے ان کے مستقبل کا اندازہ لگاتا تھا۔
ابو طالب آپ ﷺ کو بھی وہاں لے گئے۔
اس نے آپ کو ایک نظر دیکھا، پھر دوسرے بچوں کو دیکھنے لگا۔
آخر میں بولا:
"اس لڑکے کو میرے پاس واپس لاؤ!"
ابو طالب نے محسوس کیا کہ وہ عجیب لہجے میں بات کر رہا ہے، اس لیے فوراً وہاں سے چلے آئے۔
جب قیافہ شناس کو پتہ چلا کہ آپ چلے گئے ہیں تو وہ چیخ اٹھا:
"تم لوگ نہیں جانتے، وہ لڑکا بہت عظیم شان والا ہے!"
☆💥
کچھ عرصے بعد ابو طالب نے تجارت کے لیے شام کا سفر اختیار کیا۔
نبی کریم ﷺ نے بھی جانے کی خواہش ظاہر کی۔
ابو طالب نے آپ ﷺ کی محبت بھری خواہش دیکھی تو فرمایا:
"اللہ کی قسم! میں اپنے بھتیجے کو ضرور ساتھ لے جاؤں گا —
نہ یہ مجھ سے جدا ہو سکتا ہے، نہ میں اسے اپنے سے جدا کر سکتا ہوں۔"
ایک روایت کے مطابق، آپ ﷺ نے ابو طالب کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور فرمایا:
"چچا جان! آپ مجھے کس کے پاس چھوڑ کر جا رہے ہیں؟
نہ میرا باپ ہے، نہ ماں!"
یہ سن کر ابو طالب کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور بولے:
"میرے ساتھ ہی چلتے ہو بھتیجے۔"
اس وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک تقریباً نو سال تھی۔
راستے میں ایک عیسائی عبادت گاہ کے قریب پہنچے۔
راہب نے نبی ﷺ کو دیکھا تو چونک اٹھا۔
اس نے ابو طالب سے پوچھا:
"یہ بچہ تمہارا بیٹا ہے؟"
انہوں نے کہا: "ہاں، میرا بیٹا ہے۔"
راہب نے کہا:
"نہیں، یہ تمہارا بیٹا نہیں ہو سکتا — اس کے باپ کا سایہ اس پر نہیں ہے۔
یہ بچہ نبی ہے!"
یعنی اس میں وہ تمام نشانیاں موجود ہیں جو آخری نبی کے لیے بیان کی گئی ہیں —
اور ان میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ وہ یتیم ہوگا۔
ابو طالب نے حیران ہو کر پوچھا:
"نبی کیا ہوتا ہے؟"
راہب نے کہا:
"نبی وہ ہوتا ہے جسے آسمان سے وحی ملتی ہے — وہ اللہ کی خبریں بندوں تک پہنچاتا ہے۔
تم یہودیوں سے اس بچے کو بچائے رکھنا۔"
کچھ دور جا کر ایک دوسری خانقاہ میں ٹھہرے۔
وہاں ایک اور راہب نے نبی ﷺ کو دیکھا اور فوراً پہچان لیا۔
کہنے لگا:
"یہ بچہ تمہارا بیٹا نہیں ہو سکتا۔
اس کے چہرے میں نبیوں کا نور ہے، آنکھوں میں وہ سرخی ہے جو صرف نبیوں میں ہوتی ہے۔"
قافلہ آگے بڑھا اور آخرکار بُصری (شام) پہنچا۔
وہاں ایک بزرگ عالم و راہب رہتا تھا جس کا نام بحیرا تھا (اصل نام جرجیس)۔
یہ شخص اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم اور عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کا وارث سمجھا جاتا تھا۔
قریش کے قافلے اکثر وہاں سے گزرتے تھے مگر بحیرا نے کبھی ان سے بات نہیں کی تھی۔
مگر اس بار، جب اس نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، تو فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی ہستی ہے جس کا ذکر اس کی کتابوں میں ہے۔
اس نے پورے قافلے کے لیے کھانے کی دعوت کر دی۔
بحیرا نے ایک اور عجیب منظر دیکھا —
ایک چھوٹا سا بادل مسلسل نبی ﷺ پر سایہ کیے ہوئے تھا۔
جب آپ ﷺ درخت کے نیچے بیٹھے تو درخت کی شاخیں خود بخود جھک گئیں اور آپ ﷺ کے اوپر سایہ کر لیا۔
یہ دیکھ کر بحیرا نے قافلے والوں کو پیغام بھیجا:

"اے قریش کے لوگو! میں نے تم سب کے لیے کھانا تیار کیا ہے — بچے، بوڑھے، غلام، سب آؤ!"
قریش حیران ہوئے اور بولے:
"اے بحیرا! آج آپ نے عجیب بات کی، ہم تو اکثر یہاں سے گزرتے ہیں مگر آپ نے کبھی ہمیں دعوت نہیں دی، آج ایسا کیوں؟"
بحیرا نے مسکرا کر کہا:
"ہاں، آج دل چاہا کہ مہمان نوازی کی جائے۔"
سب لوگ چلے گئے —
مگر اللہ کے رسول ﷺ کو قافلے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔
☆☆☆💚
جاری ہے۔۔۔
مصنف: عبداللہ فارانی
کتاب: سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم
💚 سیرت النبی ﷺ کی اگلی قسط جلد حاصل کرنے کے لیے ری ایکٹ کریں 🤍❤💗💖💚

Address

2second Street
Khushab
41000

Telephone

+923007207060

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when item nó posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category