Z & M Law Associates

Z & M Law Associates information relates to Law & judgement

انکم ٹیکس ریٹرن 2026 کی فائلنگ شروع ہو چکی ہے #فائلربننے کیلیےاپنی سالانہ ٹیکس ریٹرن کسی   سے کبھی فائل نہ کروائیں،مستقب...
17/08/2026

انکم ٹیکس ریٹرن 2026 کی فائلنگ شروع ہو چکی ہے
#فائلربننے کیلیےاپنی سالانہ ٹیکس ریٹرن کسی سے کبھی فائل نہ کروائیں،
مستقبل میں اگر FBR کی جانب سے کوئی #نوٹس موصول ہو تو وہ افراد آپ کی کر سکتے
ہمیشہ مستند اور تجربہ کار وکیل یا لائسنس ہولڈر سرٹیفائیڈ ٹیکس کنسلٹنٹ سے فائل کروائیں۔
اگر ایف بی آر کی جانب سے نوٹس موصول ہو جائے
تو صرف ہی رہنمائی اور مؤثر نمائندگی فراہم کر سکتا ہے

- ٹیکس سے متعلق مشاورت
- دیگر تمام ٹیکس معاملات میں رہنمائی کیلیے رابطہ کریں



04/08/2026

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
کیا باپ کے بیرونِ ملک ہونے پر دادا بچوں کا خرچہ دینے کا پابند ہو سکتا ہے؟
✅ جواب: جی ہاں، بعض حالات میں۔
لاہور ہائیکورٹ نے PLJ 2026 Lahore 294 میں قرار دیا کہ:
🔹 اگر باپ زندہ ہو لیکن بیرونِ ملک چلا جائے یا جان بوجھ کر اپنے نابالغ بچوں کا خرچہ نہ دے،
🔹 اور ماں مالی طور پر بچوں کی کفالت نہ کر سکتی ہو،
🔹 جبکہ دادا صاحبِ حیثیت اور مالی طور پر مستحکم ہو،
تو ایسے حالات میں دادا بچوں کے نان نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔
📌 عدالت نے مزید کیا کہا؟

✅ بچوں کو باپ کی غفلت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
✅ قانون کا مقصد خواتین اور نابالغ بچوں کو فوری اور مؤثر انصاف فراہم کرنا ہے۔
✅ اگر فی بچہ ماہانہ نان نفقہ 5,000 روپے یا اس سے کم مقرر کیا گیا ہو تو West Pakistan Family Courts Act, 1964 کے سیکشن 14(2)(c) کے تحت اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں ہوتی۔
✅ ایسے معاملات میں بلاوجہ آئینی درخواستیں (Constitutional Petitions) دائر کرنا قانون کے مقصد کے خلاف ہے، اور عدالتوں نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی ہے۔
⚖️ فیصلہ:
PLJ 2026 Lahore 294
W.P. No. 1132 of 2026
Nazir Ahmad v. Judge Family Court



13/06/2026

یکم جولائی 2026 سے "لیٹ فائلر" کی کیٹیگری ختم ہو جائے گی اور صرف دو کیٹیگریاں باقی رہ جائیں گی:

✅ فائلر
❌ نان فائلر

اگر کوئی شخص مقررہ تاریخ (Due Date) گزرنے کے بعد فائلر بننا چاہے تو اسے گوشوارے کے ساتھ اضافی رقم ( ATL Surcharge) جمع کروانا ہوگی:

🔹 فردِ واحد (Individual) : 25,000 روپے
🔹 شراکتی کاروبار (AOP/Firm) : 50,000 روپے
🔹 کمپنی : 100,000 روپے

یعنی مقررہ تاریخ کے بعد فائلر بننے کی صورت میں مذکورہ رقم ادا کرنے کے بعد ہی فعال ٹیکس دہندہ (Filer) کا درجہ حاصل کیا جا سکے گا۔


21/05/2026

شوہروں کے لیے بڑا جھٹکا:
خرچے کا دعویٰ ڈگری ہونے سے پہلے کا بھی دینا پڑے گا!
(باعزت فیصلہ بمطابق
: 2022 PLD 715 LAHORE HIGH COURT LAHORE —
سید احمد شیر بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج)
عدالتِ عالیہ کا حتمی فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے اس تاریخی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر فیملی کورٹ عبوری خرچہ ادا نہ کرنے پر شوہر کا حقِ دفاع (Defence) ختم کر کے بیوی یا بچوں کے حق میں خرچے کی ڈگری پاس کرتی ہے، تو وہ خرچہ صرف ڈگری کی تاریخ سے لاگو نہیں ہوگا۔ بلکہ قانون کے مطابق، بیوی اور نابالغ بچے عدالت میں دعویٰ دائر کرنے کی تاریخ سے بھی پہلے کے اس تمام عرصے کا خرچہ (Past Maintenance) وصول کرنے کے حقدار ہیں جس دوران شوہر نے ان کی کفالت نہیں کی تھی۔
اہم قانونی نکات
حقِ دفاع کا خاتمہ لازمی ہے: اگر فیملی کورٹ شوہر کو عبوری خرچہ (Interim Maintenance) دینے کا حکم دے اور وہ ادا نہ کرے، تو عدالت قانوناً شوہر کا حقِ دفاع ختم کرنے کی پابند ہے۔
خرچے کی کوئی تاریخی حد نہیں: قانون (Section 17A(1) Family Courts Act) میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ حقِ دفاع ختم ہونے کے بعد خرچہ صرف ڈگری کی تاریخ سے ملے گا۔
دعوے سے پہلے کا خرچہ: بیوی اور بچے دعویٰ دائر کرنے کی تاریخ سے پچھلے اس پورے دورانیے کا خرچہ مانگ سکتے ہیں جس میں باپ/شوہر نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔
اسلامی قوانین کے مطابق:
مسلم پرسنل لاء اور اسلامی احکامات کے تحت باپ اپنے نابالغ بچوں اور شوہر اپنی بیوی کو نان و نفقہ دینے کا ہر حال میں پابند ہے۔
درخواست گزار (Plaintiff / Petitioner) کی طرف سے پیش کردہ عدالتی نظائر
درخواست گزار (بیوی/بچوں) کی جانب سے اپنے دعوے کی مضبوطی اور ماضی کا خرچہ (Past Maintenance) حاصل کرنے کے لیے درج ذیل اعلیٰ عدالتوں کے اہم فیصلے پیش کیے گئے:
PLD 2005 Supreme Court 691: جس میں واضح کیا گیا کہ باپ پر بچوں کے نان و نفقہ کی ذمہ داری مطلق ہے اور ماضی کا خرچہ دلایا جا سکتا ہے۔
2014 SCMR 1681: اس فیصلے کے تحت یہ اصول طے کیا گیا کہ بچوں کا نفقہ ان کی ضرورت اور باپ کی مالی حیثیت کے مطابق ماضی سے ہی واجب الادا ہوتا ہے۔
مدعا علیہ (Defendant / Respondent) کے حق میں عدالتی تفصیلات
مدعا علیہ (شوہر) کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ چونکہ اس کا حقِ دفاع سیکشن 17A(1) کے تحت ختم کیا گیا، اس لیے عدالت کو صرف موجودہ یا آئندہ کا خرچہ لگانا چاہیے تھا۔
لیکن عدالتِ عالیہ نے مدعا علیہ کے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ حقِ دفاع ختم ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مدعا علیہ کو کوئی غیر قانونی ریلیف مل جائے یا قانون کی تشریح بدل دی جائے؛ قانون شوہر کے دفاع کو ختم کر کے بیوی بچوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے نہ کہ شوہر کو ماضی کے خرچے سے مستثنیٰ کرتا ہے۔


07/02/2026

یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ کے معزز جج جسٹس سردار اکبر علی نے 26 جنوری 2026 کو صادر کیا۔
​اس فیصلے کی خاص بات اس میں موجود جدید ترین عدالتی نظائر (Case Laws) ہیں، جو فوجداری وکالت کرنے والوں کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہیں۔
​1. مقدمے کا خلاصہ (Case Summary)
​یہ مقدمہ قتلِ عمد (302 PPC) اور ڈکیتی (394 PPC) کا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزمان (اللہ دتہ اور اعجاز احمد) کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ہائی کورٹ نے استغاثہ کے کیس میں درج ذیل بڑی خامیاں پائیں:
​ایف آئی آر میں غیر معمولی تاخیر۔
​گواہان کا "اتفاقیہ" (Chance Witnesses) ہونا اور بیانات میں بددیانتی سے تبدیلیاں کرنا۔
​شناختی پریڈ میں قانونی سقم اور ملزمان کی تصاویر پہلے سے دکھائے جانے کا اعتراض۔
​برآمدگی (Recovery) کے وقت آزاد گواہان کی عدم موجودگی۔
​طبی شہادت اور عینی شہادت میں تضاد۔
​عدالت نے ان تمام بنیادوں پر ملزمان کو "شک کا فائدہ" دیتے ہوئے بری کر دیا۔
​2. قانونی حوالہ جات (Case Law References) کی تفصیل
​اس فیصلے میں جن نظائر کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ درج ذیل قانونی نکات کو واضح کرتے ہیں:
​ایف آئی آر میں تاخیر اور مشاورت: عدالت نے 1995 SCMR 127، 2024 SCMR 1773، اور 2025 SCMR 1024 کے حوالوں سے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں محض 2 گھنٹے کی بلاجواز تاخیر بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مقدمہ سوچ بچار اور مشورے کے بعد درج کیا گیا، جس سے استغاثہ کی سچائی مشکوک ہو جاتی ہے۔
​اتفاقیہ گواہ (Chance Witnesses): گواہان کی موجودگی ثابت نہ ہونے پر 2014 SCMR 1197، 2021 SCMR 325 اور 2026 SCMR 47 جیسے حوالہ جات دیے گئے، جن کے مطابق ایسے گواہ کی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ اپنی موجودگی کی ٹھوس وجہ بیان نہ کرے۔
​بیانات میں بہتری (Dishonest Improvements): گواہان کا وقت کے ساتھ اپنے بیان کو "بہتر" کرنا انہیں ناقابلِ اعتبار بناتا ہے۔ اس پر 2024 SCMR 1310 اور 2025 SCMR 662 کا سہارا لیا گیا۔
​شناختی پریڈ کی قانونی حیثیت: 2024 SCMR 1146 اور 2025 SCMR 2018 کی روشنی میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزمان کی تصاویر پہلے ہی گواہان کو دکھا دی گئی ہوں، تو ایسی شناختی پریڈ کی کوئی قانونی اہمیت نہیں رہتی۔
​طبی شہادت کا کردار: PLD 1993 SC 251 اور 2024 SCMR 1741 کے مطابق طبی شہادت صرف زخم کی تصدیق کرتی ہے، یہ کبھی بھی اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتی کہ وہ زخم کس نے لگایا ہے۔
​دفعہ 103 Cr.PC کی خلاف ورزی: برآمدگی کے وقت علاقے کے آزاد گواہ شامل نہ کرنے پر 2017 SCMR 713 اور 2011 SCMR 1127 کے حوالے سے قرار دیا گیا کہ ایسی برآمدگی قانون کی نظر میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔
​شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): آخر میں 2024 SCMR 51 اور 2024 SCMR 1731 کی بنیاد پر یہ سنہری اصول دہرایا گیا کہ اگر ایک بھی شک پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ صرف اور صرف ملزم کو ملے گا۔

قتل کے مقدمے میں بڑی بریت: لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ! ⚖️
​کیا آپ جانتے ہیں کہ ایف آئی آر میں محض چند گھنٹوں کی تاخیر یا گواہ کے بیان میں معمولی تبدیلی ملزم کی بریت کا سبب بن سکتی ہے؟
​لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) نے 2026 LHC 945 (اللہ دتہ بنام سرکار) میں فوجداری قانون کے سنہری اصولوں کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ:
1️⃣ ایف آئی آر میں تاخیر: اگر تھانہ قریب ہو اور ایف آئی آر میں بلاوجہ تاخیر ہو، تو اسے بددیانتی تصور کیا جائے گا۔
2️⃣ اتفاقیہ گواہ: رشتہ دار گواہان کی موقع پر موجودگی اگر ثابت نہ ہو، تو ان کی گواہی مسترد کر دی جائے گی۔
3️⃣ برآمدگی کے نقائص: دفعہ 103 Cr.PC کے تحت برآمدگی کے وقت علاقہ مکینوں کی گواہی لازمی ہے۔
​اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے درجنوں جدید ترین نظائر (2024-2025-2026 SCMR) کا حوالہ دیا گیا ہے، جو فوجداری نظامِ انصاف میں ملزم کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔
​قانون کی آگاہی ہی آپ کی طاقت ہے۔ کسی بھی قانونی پیچیدگی کی صورت میں ہم سے رابطہ کریں۔






29/01/2026

جھوٹا میڈیکل بن جائے تو ?
لڑائی، حادثہ یا FIR؟ جانیں MLC کب بنتا ہے اور کیوں ?
قانون میں MLC کیسے پورا کیس الٹ دیتا ہے?

یہ موضوع عدالت + پولیس + ڈاکٹر تینوں کو ایک جگہ پر لا کر مجرم، ملزم ، اور FIR کے حوالے سے کافی اہم فیصلوں میں مدد کرتا ہے ۔

MLC = Medico-Legal Certificate

وہ میڈیکل رپورٹ جو ڈاکٹر پولیس یا عدالت کے لیے بناتا ہے،
عام پرچی نہیں جیسے ہسپتال کی OPD پرچی ۔

یہ رپورٹ بتاتی ہے:
چوٹ ہے یا نہیں، چوٹ کب کی ہے
، چوٹ کی نوعیت (سادہ یا خطرناک) ،چوٹ واقعہ سے میل کھاتی ہے یا نہیں

MLC

صرف “چوٹ دکھانے” کا کاغذ نہیں، بلکہ:
• FIR
کے سیکشن طے کرتا ہے
بیل بنے گی یا نہیں — یہ طے کرتا ہے،کیس چلے گا یا خارج ہوگا — اس کی بنیاد پر طے ہو سکتا ۔

جھوٹا MLC — اگر ڈاکٹر جھوٹا بنا دے ۔ یعنی

ڈاکٹر “مدد” کر دیتا ہے، معمولی خراش کو شدید چوٹ بنا دیا جاتا ہے
• تاکہ:
دفعہ سخت ہو، بیل مشکل ہو ؟

آپ کیا کر سکتے ؟ آپ میڈیکل بورڈ بنوانے کی درخوست دے سکتے !

Medical Board
کیا ہے؟

ایک ماہر ڈاکٹروں کی کمیٹی جو کسی MLC / میڈیکل رائے کو دوبارہ، غیر جانبدار طریقے سے جانچتی ہے،

میڈیکل بورڈ خود نہیں بنتا — اسے آرڈر سے بنایا جاتا ہے۔

عدالت (Magistrate / Sessions / High Court)
پولیس / IO (SP/DSP کے ذریعے)
ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ (DHO / MS کی منظوری سے بنتا

جھوٹا MLC کیسے پکڑا جاتا ہے؟

وکیل ان نکات پر حملہ کرتا ہے:

ٹائمنگ کا جھوٹ ،واقعہ کا وقت ≠ میڈیکل کا وقت ،پرانی چوٹ کو نیا دکھانا ، چوٹ اور کہانی کا تضاد ،لاٹھی سے مار؟ مگر زخم چھری جیسا ،زمین پر گرنے کا دعویٰ؟ مگر سیدھی لائن میں کٹ

ایکسرے / لیب رپورٹس غائب
• ڈاکٹر لکھ دیتا ہے “fracture suspected”
• مگر:
• X-ray؟
• Radiologist؟
نہیں ہوتی

MLC
اگر سچ ہو تو کیس مضبوط،اور اگر جھوٹا ہو تو…
پورا کیس اسی کاغذ کے نیچے دفن ہو جاتا ہے۔

Share for information and awareness:




📢 FBR کے لیے سپریم کورٹ کی بڑی وارننگ: "قانون سب کے لیے برابر ہے، کھلواڑ بند کریں!" ⚖️🏛️​آج مورخہ 27 جنوری 2026 کو سپریم...
28/01/2026

📢 FBR کے لیے
سپریم کورٹ کی بڑی وارننگ: "قانون سب کے لیے برابر ہے، کھلواڑ بند کریں!" ⚖️🏛️
​آج مورخہ 27 جنوری 2026 کو سپریم کورٹ نے ایف بی آر (FBR) کی من مانیوں کے خلاف ایک تاریخی اور سبق آموز فیصلہ سنا دیا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب صاحب نے واضح کر دیا ہے کہ سرکاری ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے عدالتوں کا وقت ضائع نہیں کر سکتے۔
​اس فیصلے کے اہم نکات جو ہر شہری کو معلوم ہونے چاہئیں:
​✅ 120 دن کی ڈیڈ لائن "لازمی" ہے: سپریم کورٹ نے دو ٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد 120 دن کے اندر فیصلہ کرنا لازمی (Mandatory) ہے۔ اگر FBR اس مدت کے بعد آرڈر پاس کرے گا تو وہ غیر قانونی تصور ہوگا، جیسا کہ اس کیس میں ہوا۔
​✅ عدالتی وقت کا ضیاع بند کریں: عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا کہ جب سپریم کورٹ ایک قانون طے کر چکی ہے (Article 189)، تو سرکاری محکمے بار بار وہی پرانے مسائل لے کر عدالتوں میں کیوں آتے ہیں؟ اس سے نہ صرف عدالتوں پر بوجھ بڑھتا ہے بلکہ سائلین کو انصاف ملنے میں بھی تاخیر ہوتی ہے۔
​✅ عوامی پیسے کا ضیاع: سرکاری افسران اپنی ضد پوری کرنے کے لیے عوامی ٹیکس کے پیسے سے مہنگے وکیلوں اور عدالتی فیسوں پر لاکھوں روپے ضائع کرتے ہیں، جس کی اب اجازت نہیں دی جائے گی۔
​✅ چیئرمین FBR کو خصوصی ہدایت: عدالت نے حکم دیا ہے کہ چیئرمین FBR ایک ایسی آزاد کمیٹی بنائیں جس میں ریٹائرڈ جج، ٹیکس ماہرین اور دیانتدار افسران شامل ہوں، جو اپیل دائر کرنے سے پہلے یہ دیکھیں کہ کیا واقعی اپیل کا کوئی قانونی جواز ہے یا صرف وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔
​📍 کیس کا حوالہ:
اسسٹنٹ کمشنر IR بنام عمر طارق خان
جج: جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
تاریخ: 27 جنوری 2026
​نتیجہ: اگر
FBR آپ کو نوٹس دے اور 120 دن کے اندر فیصلہ نہ کرے، تو قانون اب آپ کے ساتھ کھڑا ہے!
​قانون کی آگاہی ہی آپ کی طاقت ہے۔

Address

Kacheri
Kharian

Telephone

+923426293250

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Z & M Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Z & M Law Associates:

Shortcuts

Share

Category