09/10/2022
بیوی بچوں کے حق نان و نفقہ کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ !
فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :
مریم بی بی نامی مدعیہ کی جانب سے سامان جہیز وغیرہ اور اپنے اور بچوں کے نان و نفقے کی وصولی کے لئے اظہر اقبال نامی مدعا علیہ کے خلاف فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا جاتا ہے جس پر فیملی کورٹ باقاعدہ کاروائی کے بعد باقی چیزوں کے فیصلے کے علاؤہ یہ فیصلہ بھی کرتی ہے کہ مدعا علیہ بچے کے نان و نفقے کے طور پانچ ہزار روپے ماہانہ مدعیہ کو ادا کرنے کا بعد ہوگا ۔ فیملی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دونوں فریقین نان و نفقے کی حد تک اپیل میں جاتے ہیں لیکن دونوں فریقین کی اپیلیں بھی خارج ہوجاتی ہیں جس پر مدعیہ نان و نفقے کی حد تک لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرتی ہے ۔ یہاں پر یاد رہے کہ ہائ کورٹ کے سامنے ایک ہی سوال تھا کہ کیا فیملی کورٹ نے جو نان و نفقہ مقرر کیا ہے تو کیا وہ صحیح طور پر کیا ہے ۔
پیٹیشنر کے وکیل جناب شوکت عزیز صدیقی صاحب نے عدالت عالیہ کے سامنے یہ مدعا رکھا کہ مدعا علیہ صاحب حیثیت ہونے کی بنا پر یہ استطاعت رکھتے ہیں کہ وہ بیوی بچے کو اتنا ہی نان و نفقہ دے جتنا کہ مدعیہ کی جانب سے مانگا گیا ہے۔ اپنے اس بات کے دلیل کے طور پر انھوں نے فیملی کورٹ کے سامنے مدعا علیہ کے شہادت سے وہ پیراگراف نقل کیا ہے جس میں مدعا علیہ نے تسلیم کیا ہے کہ محکمہ اٹامک انرجی کی تنخواہیں اچھی ہیں کیونکہ مدعیہ کی جانب سے یہ دعویٰ تھا کہ مدعا علیہ محکمہ اٹامک انرجی میں کام کر رہے ہیں اور تقریباً ایک لاکھ روپے تک تنخواہ لیتے ہیں ۔ پیٹیشنر کی جانب سے مزید یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ فیملی کورٹ ایکٹ کے تحت نان و نفقہ مقرر کرنے سے پہلے عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ مدعا علیہ کے جائیداد اور ریسورسز کا پتہ لگانے کے لیے کسی بھی ادارے سے ریکارڈ طلب کر سکتی ہے اور ان کی جانب سے مزید یہ بات رکھی گئی کہ فیملی کورٹ نے مدعا علیہ کے جائیداد اور ریسورسز کا پتہ لگانے کے لیے کسی محکمے سے کوئی ریکارڈ طلب نہیں کیا ۔ مدعیہ کے وکیل کی جانب سے اپنی اس بات کے دلیل کے لئے سپریم کورٹ کے دو فیصلوں پر انحصار کیا ہے جو کہ بالترتیب PLD 2018 SC 819 اور 2019 MLD 820 ہیں جس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ جہاں پر شوہر بیوی بچوں کے نان و نفقے کا زمہ دار ہو تو فیملی کورٹ کوشش کرے گی کہ وہ شوہر کی تنخواہ اور آمدنی کا پتہ لگائے ۔
مدعا علیہ کے وکیل زیشان منیر پراچہ صاحب نے اس مقدمے یعنی رٹ پٹیشن کی مینٹینبیلٹی پر سوالات اٹھائے اور ساتھ میں اس بات پر زور دیا کہ فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا جائے ۔ ان کی جانب سے مزید یہ بات رکھی گئی کہ مدعا علیہ نیسکوم سکول میں چوکیدار کی حیثیت سے انیس ہزار روپے ماہانہ وصول کر رہے ہیں اور اس لئے مدعا علیہ اس قابل نہیں کہ وہ مدعیان کو ان کے دعوے کے مطابق نان و نفقہ ادا کر سکے ۔
عدالت عالیہ کی جانب سے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اصل وجہ تنازعہ یہ بیان کی ہے کہ فیملی کورٹ سیکشن سترہ اے ( چار ) کے تحت بیوی بچوں کا نان و نفقہ کیسے مقرر کرے گی اور اس تنازعے کے اصل حل تک پہنچنے کے لیے عدالت نے اپنے سامنے تین سوالات رکھے ہیں جو کہ زیل ہیں:
الف ) کیا فیملی کورٹ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے نان و نفقہ مقرر کرے یا پھر وہ نان و نفقہ مقرر کرنے کے لئے فیملی کورٹ ایکٹ کے سیکشن سترہ اے ( چار ) میں دئے گئے طریقہ کار کی پابند ہے ؟
ب ) فیملی کورٹ ایکٹ انیس سو چونسٹھ کے سیکشن سترہ اے ( چار ) میں مستعمل الفاظ " ایسیٹس" اور " ریسورسز " کا کیا مطلب ہے ؟
ج) کیا فریقین کے پاس مناسب شہادت یا ثبوت نہ ہونے کی صورت میں فیملی کورٹ کے پاس نان و نفقہ مقرر کرنے کے لیے فریقین کے دعوے کافی ہیں یا پھر فیملی کورٹ باقاعدہ خود شوہر کے اثاثہ جات کی انکوائری کر کے نان و نفقہ مقرر کرے گی ؟
عدالت عالیہ نے اصل وجہ تنازعہ کے حل کے لئے اپنے سامنے سوالات سامنے رکھنے کے بعد بالترتیب تینوں سوالات کے جوابات کافی تفصیل کے ساتھ زکر کئے ہیں جو کہ زیل ہیں۔
پہلے سوال کا جواب عدالت عالیہ نے عدالت عظمیٰ کے مشہور فیصلے PLD 2018 SC 819 کا حوالہ دے کر کچھ یوں آغاز کیا ہے کہ بیوی بچوں کی کفالت شوہر کی زمہ داری ہے اور فیملی کورٹ ازخود شوہر کے اثاثہ جات اور آمدنی کے تعین کے لئے کوشش کرے گی۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے سپریم کورٹ کے ایک اور فیصلے PLD 2016 SC 613 کا حوالہ دے کر فیملی کورٹ ایکٹ کے دفعہ سترہ اے کے پیچھے مقننہ کے مقصد کی وضاحت کی ہے اور یہ بات صراحتاً لکھی ہے کہ اس سیکشن کا مقصد بنیادی طور پر بے اصول شوہروں کی جانب سے مقدمات کو غیر ضروری طور پر طول دینے کو روکنا ہے۔ فیملی کورٹ ایکٹ اور سیکشن سترہ اے کے پیچھے مقننہ کے مقصد کے بعد جسٹس صاحب نے سیکشن سترہ اے اور بی کا متن نقل کرکے فیملی کورٹ کے پاس سیکشن سترہ بی کے تحت لوکل کمیشن مقرر کرنے کے اختیار کا زکر کیا ہے ۔ اس کے بعد جسٹس صاحب نے فیصلے میں سیکشن سترہ اے (ایک) اور (چار) میں مذکور الفاظ "فکس" اور "فکسنگ" کی وضاحت کی ہے۔ مندرجہ بالا تمام امور کی وضاحت کے بعد جسٹس صاحب نے بالآخر اس سوال کا جواب دیا ہے کہ فیملی کورٹ نان و نفقہ مقرر کرنے میں اپنی مرضی نہیں کر سکتی بلکہ نان و نفقہ مقرر کرنے کے لیے عقلی اور حقیقت پسندانہ روش اختیار کرے گی اور نان و نفقہ مقرر کرنے میں فریقین کی سماجی حیثیت ، مدعا علیہ کی آمدنی اور مدعیہ کی ضروریات کو مد نظر رکھے گی ۔
نان و نفقہ مقرر کرنے کی بابت طریقہ کار کی وضاحت کے بعد جسٹس صاحب نے محمڈن لا کے سیکشن دو سو بہتر کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ شوہر تب تک بیوی کے نان و نفقے کا زمہ دار ہے جب تک کہ وہ اس کی فرمانبردار ہے۔ اس کے بعد جسٹس صاحب نے فقہ کی مشہور کتاب "ہدایہ" کا حوالہ دے کر لکھا ہے نفقہ میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو کہ زندگی کی لئے ضروری ہیں جیسا کہ روٹی ، کپڑا اور رہائش وغیرہ ۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے اسلامی فقہ کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ نان و نفقہ کی ڈیمانڈ کے لئے بیوی کے لئے پہلے اپنے ڈیوٹی ادا کرنا یعنی شوہر کی فرمانبردار رہنا ضروری ہے اور اگر کوئ بیوی خود ہی شوہر کے ساتھ رہنے سے انکاری ہو تو اس صورت میں وہ نان و نفقے کی مستحق نہیں ہوگی ۔ بیوی کے حق نان و نفقہ کے زکر کے بعد فیصلے میں بچے کے حق نان و نفقہ کا زکر ہے اور اس بابت جسٹس صاحب نے قرآن کریم سے استدلال کیا ہے ۔ اور بچے کے حق نان و نفقہ کے لئے جسٹس صاحب نے مندرجہ ذیل فیصلوں پر انحصار کیا ہے ۔ PLD 2013 SC 557 , 2010 YLR 3275 اور 2016 SCMR 1821.
دوسرے سوال کے جواب کی طرف آنے سے پہلے جسٹس صاحب نے ان امور کی نشاندھی کی ہے جو کہ فیملی کورٹ کے لئے انٹیرم اور فائنل نان و نفقے مقرر کرنے کے لیے ضروری ہیں جو کہ زیل ہیں:
الف ) دعوے میں مذکور باتیں ۔
ب) ریکارڈ میں موجود دستاویزی ثبوت
ج) جو ثبوت موجود نہ ہوں اس کو سمن کرنا
د) مدعا علیہ کی جائیداد کا تعین
ح) مدعا علیہ کے باقی زرائع آمدن کا تعین
فیصلے کے مطابق فیملی کورٹ نان و نفقہ مقرر کرنے سے پہلے مندرجہ بالا امور کو دیکھنے کی پابند ہے اور جسٹس صاحب نے یہاں پر لکھا ہے کہ اس کیس میں فیملی کورٹ نے ان میں سے کسی بھی چیز کی طرف دھیان نہیں دیا اور صرف زبانی باتیں سن کر نان و نفقہ مقرر کیا ہے حالانکہ فیملی کورٹ آسانی کے ساتھ ریکارڈ کو طلب کر سکتی تھی اور اس کے علاؤہ چونکہ مدعا علیہ خود یہ بات مان چکا تھا کہ اس نے تنخواہ کی بابت کوئ ثبوت جمع نہیں کیا تو اس صورت میں فیملی کورٹ کو خود سیکشن سترہ اے ( چار ) کے تحت مدعا علیہ کے جائیداد اور اثاثہ جات کے تعین کے لئے کوشش کرنی چاہیے تھی ۔ اس کے بعد جسٹس صاحب نے کافی تفصیل سے " اسٹیٹ " اور "ریسورسز" پر روشنی ڈالی ہے اور اس بابت جسٹس صاحب نے انکم ٹیکس آرڈیننس دو ہزار ایک کا حوالہ بھی دیا ہے کہ مدعا علیہ کے اسٹیٹ اور ریسورسز کے تعین کے لئے مذکورہ آرڈیننس کے سیکشن گیارہ اور انتالیس سے بھی مدد لی جا سکتی ہے ۔
اس کے جسٹس صاحب تیسرے سوال کے جواب کی طرف آگے بڑھے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ فیملی کورٹ ایکٹ کے سیکشن سترہ اے کے تحت فیملی کورٹ کے لئے لازمی ہے کہ وہ ازخود مدعا علیہ کے اسٹیٹ اور ریسورسز کے تعین کے لئے کسی بھی ادارے سے کوئ بھی ریکارڈ طلب کر سکتی ہے بلکہ دراصل یہ لازمی ہے کہ فیملی کورٹ خود باقاعدہ انکوائری کر کے مدعا علیہ کے اسٹیٹ اور ریسورسز کا تعین کرے کیونکہ فیملی کورٹ مساوات، عدل و انصاف اور فئر پلے کے اصولوں پر قائم ہے۔
مندرجہ بالا تمام سوالات کے جوابات کی تفصیلی وضاحت کے بعد جسٹس صاحب نے سپریم کورٹ آف پاکستان، برطانیہ اور امریکہ کی اعلی عدالتوں کے اس موضوع پر مختلف فیصلوں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور ایک ایسی بحث کی ہے جو کہ حقیقی معنوں میں دیکھنے کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔
اعلی عدالتوں کے فیصلوں اور حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے جسٹس صاحب نے سپریم کورٹ کے فیصلے PLD 2018 SC 819 پر انحصار کر کے اس رٹ پٹیشن کو منظور کر کے اس کیس کے پچھلے تمام فیصلوں کو نان و نفقے کی حد تک ختم کر کے یہ کیس دوبارہ فیملی کورٹ کے پاس بیجھا ہے تا کہ وہ اس فیصلے اور فیملی کورٹ ایکٹ کے سیکشن سترہ اے اور بی میں زکر کردہ اصولوں کے مطابق دو مہینوں کے اندر ایک نیا فیصلہ کرے ۔
نوٹ : یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس جواد حسن نے لکھا ہے اور یہ فیصلہ اس لحاظ سے انتہائی اہم اور شاندار ہے کہ اس میں فیملی کورٹس کو فریقین کے درمیان ایک خاموش تماشائی بننے کی بجائے از خود مسئلے کے حل اور عدل و انصاف کی سر بلندی کے لئے خود انکوائری ، ریکارڈ طلب کرنے کا پابند کیا ہے جو کہ حقیقتاً ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے ۔
This Important Judgement Can Be Searched And Cited As Writ Petition Number 359 Of 2022.
ذوالقرنین ایڈووکیٹ
پشاور بار ایسوسی ایشن ۔