Legal Precedents & Providing LEGAL AID - DBA

Legal Precedents & Providing LEGAL AID - DBA Ambition is to help needy people

09/08/2026
09/08/2026


09/08/2026



07/08/2026

*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ

*اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ...

05/08/2026


05/08/2026







پیرا فورس (PERA Force - Punjab Enforcement & Regulatory Authority) پنجاب حکومت کی ایک خصوصی انفورسمنٹ فورس ہے جو تجاوزات، مہنگائی اور دیگر ضوابط کی خلاف ورزی پر چالان کرتی ہے۔ اگر اس فورس نے آپ کا کوئی غلط یا ناجائز چالان کیا ہے، تو آپ درج ذیل قانونی اور محکمانہ طریقوں سے اسے منسوخ یا چیلنج کر سکتے ہیں:1۔ آفیشل واٹس ایپ نمبر پر فوری شکایتپیرا فورس (PERA) نے اپنے اہلکاروں کی مانیٹرنگ اور عوامی شکایات کے لیے ایک باقاعدہ نظام بنایا ہوا ہے۔رابطہ کریں: اگر کسی اہلکار نے غلط چالان کیا ہے یا بدتمیزی کی ہے، تو پیرا فورس کے آفیشل ہیڈ کوارٹر واٹس ایپ نمبر پر شکایت درج کروائیں۔ (یہ نمبر ان کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز اور چالان فارم پر بھی درج ہوتا ہے)۔ثبوت فراہم کریں: اپنی شکایت کے ساتھ چالان کی تصویر، موقع کی تصاویر یا کوئی ویڈیو (اگر موجود ہو) بطور ثبوت لازمی بھیجیں۔2۔ چالان کی نوعیت چیک کریں (صرف ڈیجیٹل چالان قابلِ قبول ہے)پیرا فورس کے قوانین کے مطابق:پیرا فورس کا چالان صرف اور صرف ڈیجیٹل ای-جنریٹڈ (E-Challan) ہونا چاہیے۔اگر کسی اہلکار نے آپ کو کسی سادہ پرچی پر ہاتھ سے لکھ کر چالان دیا ہے یا زبانی پیسے مانگے ہیں، تو وہ غیر قانونی ہے۔ آپ فوری طور پر اس کی کمپلین کر سکتے ہیں۔3۔ ڈپٹی کمشنر (DC) آفس میں اپیلچونکہ پیرا فورس ہر ضلع میں ضلعی انتظامیہ کے ماتحت کام کرتی ہے، اس لیے اس کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا اختیار اعلیٰ حکام کے پاس ہوتا ہے:آپ اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر (DC) یا اسسٹنٹ کمشنر (AC) کے نام ایک تحریری درخواست لکھیں۔درخواست میں واضح کریں کہ پیرا فورس کے انفورسمنٹ آفیسر (EO) نے قانون کی کس شق کی غلط تشریح کر کے آپ کا ناجائز چالان کیا ہے۔ڈی سی آفس اس چالان کا ریویو کر کے اسے منسوخ کرنے کا مجاز ہے۔

سول کورٹ / مجسٹریٹ کی عدالت میں چیلنج کرنا اگر محکمانہ سطح پر آپ کی شنوائی نہ ہو، تو آپ چالان کی رقم جمع کروائے بغیر اسے عدالت لے جا سکتے ہیں:متعلقہ علاقے کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں چالان چیلنج کریں۔عدالت میں جج کے سامنے اپنا موقف رکھیں کہ آپ نے کسی قانون (جیسے تجاوزات یا پرائس کنٹرول ہولڈنگ) کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ٹھوس ثبوت ہونے پر عدالت چالان خارج کرنے کا حکم دے دیتی ہے۔اگر آپ اس مسئلے کا فوری حل چاہتے ہیں، تو مجھے بتائیں:آپ کا چالان کس جرم کی وجہ سے کیا گیا ہے؟ (مثلاً دکان کے باہر تجاوزات، ریٹ لسٹ کی خلاف ورزی، یا کچھ اور؟)

05/08/2026








پاکستان میں ناجائز یا غلط ٹریفک چالان کو چیلنج کرنے کے لیے قانونی طور پر متبادل طریقہ کار اور عدالتی چارہ جوئی دونوں راستے موجود ہیں。 اگر آپ کا چالان موقع پر موجود افسر (مینول) یا کیمرے (ای چالان) کے ذریعے غلط کاٹا گیا ہے، تو آپ درج ذیل مراحل پر عمل کر کے انصاف حاصل کر سکتے ہیں:1۔ عدالت کے ذریعے چیلنج کرنے کا طریقہ (مینول چالان)اگر وارڈن نے آپ کا چالان زبردستی کاٹا ہے اور آپ کی دستاویزات (لائسنس یا گاڑی کی فائل) ضبط کر لی ہیں، تو اسے عدالت میں اس طرح چیلنج کیا جاتا ہے:چالان کی رقم جمع نہ کروائیں: چالان فارم پر ادائیگی کے لیے عام طور پر 10 دن کا وقت ہوتا ہے۔ چالان چیلنج کرنے کے لیے بینک یا آن لائن والٹ میں فائن ہرگز جمع نہ کروائیں۔معاملہ عدالت منتقل ہونا: اگر 10 دن کے اندر چالان کی رقم ادا نہ کی جائے تو ٹریفک پولیس کا شعبہ قانون کے مطابق آپ کا چالان اور ضبط شدہ دستاویزات متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ (ٹریفک کورٹ) کو بھیج دیتا ہے۔ٹریفک عدالت میں پیشی: آپ اپنے ضلع کی کچہری میں ٹریفک کورٹ کے عملے سے اپنے چالان کا ریکارڈ چیک کریں۔ وہاں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں کہ چالان ناجائز کاٹا گیا ہے۔ثبوت اور فیصلہ: اگر آپ کے پاس اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت (جیسے ڈیش کیم ویڈیو یا موبائل فوٹیج) ہو تو جج کے سامنے پیش کریں۔ جج مطمئن ہونے پر آپ کا چالان منسوخ کر سکتا ہے یا جرمانے کی رقم انتہائی کم کر کے دستاویزات کی واپسی کا حکم دے سکتا ہے۔2۔ غلط 'ای چالان' (E-Challan) آن لائن چیلنج کرنے کا طریقہاگر آپ کو سیف سٹی کیمروں کی غلطی یا کسی دوسری گاڑی کی نمبر پلیٹ میچ ہونے کی وجہ سے غلط ای چالان موصول ہوا ہے، تو اب عدالت جانے کی ضرورت نہیں، حکومت نے اس کا ڈیجیٹل حل فراہم کر دیا ہے:آن لائن پورٹل کا استعمال: پنجاب کے شہری پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے PSCA E-Challan Web Portal پر جائیں۔ وہاں موجود E-Challan Review آپشن پر کلک کریں۔معلومات کا اندراج: اپنی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر اور اپنا شناختی کارڈ (CNIC) نمبر درج کریں۔ثبوت اپ لوڈ کریں: غلط چالان کی تصویر، گاڑی کے اصل کاغذات اور اپنی بے گناہی کا مختصر تحریری سبب لکھ کر اپ لوڈ کریں۔24 گھنٹے میں منسوخی: سیف سٹی کی ٹیم آن لائن ہی آپ کے ریکارڈ اور کیمرہ فوٹیج کی تصدیق کرے گی۔ غلطی ثابت ہونے پر 24 سے 72 گھنٹوں کے اندر چالان بلا معاوضہ منسوخ کر دیا جائے گا۔3۔ ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کو شکایت (متبادل راستہ)اگر ٹریفک وارڈن نے آپ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے یا رشوت کا مطالبہ کر کے ناجائز چالان کیا ہے، تو آپ عدالت جانے سے پہلے یہ اقدامات بھی کر سکتے ہیں:سیکٹر انچارج سے رابطہ: چالان کے فوری بعد متعلقہ ٹریفک سیکٹر افسر (سیکٹر انچارج / ڈی ایس پی ٹریفک) کے آفس جا کر تحریری شکایت جمع کروائیں۔پلیس کمپلینٹ سینٹر (1787): آپ پنجاب پولیس کے ہیلپ لائن نمبر 1787 پر کال کر کے یا ٹریفک پولیس کی آفیشل ویب سائٹ Traffic Police Punjab Complaint Portal پر جا کر "Wrong Challan / Misbehavior" کی کیٹیگری کے تحت آن لائن شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

Address

Post Office Street
Khanewal
58150

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Precedents & Providing LEGAL AID - DBA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share