Chohan Legal Hub

Chohan Legal Hub legal assistant

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ — معطل سرکاری ملازم کو مکمل تنخواہ اور مراعات کا حق حاصل ہےSupreme Court of Pakistan ...
21/02/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ — معطل سرکاری ملازم کو مکمل تنخواہ اور مراعات کا حق حاصل ہے

Supreme Court of Pakistan نے ایک نہایت اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ معطلی (Suspension) برطرفی یا ملازمت کے خاتمے کے مترادف نہیں ہے، لہٰذا معطل سرکاری ملازم اپنی معطلی کی مدت کے دوران مکمل تنخواہ، الاؤنسز اور سروس بینیفٹس کا حق دار ہوتا ہے۔

یہ فیصلہ Civil Petition No. 4753 of 2025 میں دیا گیا، جو Federal Board of Revenue کی جانب سے Federal Service Tribunal کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

کیس کا پس منظر:

ملازم نے طویل سروس (31 سال سے زائد) مکمل کرنے کے بعد بیماری کی بنیاد پر ریٹائرمنٹ کی درخواست دی۔ بعد ازاں میڈیکل بورڈ نے انہیں مزید سروس کے لیے نااہل قرار دیا۔ محکمہ نے انہیں جبری ریٹائر کیا اور معطلی کی مدت کو بغیر تنخواہ غیر معمولی رخصت شمار کرتے ہوئے ادا شدہ تنخواہ و الاؤنسز کی ریکوری کا حکم دیا۔

ملازم نے اپیل دائر کی جس پر ٹریبونل نے قرار دیا کہ:

معطلی کی مدت کو Fundamental Rule 53 کے تحت مکمل تنخواہ و مراعات کے ساتھ شمار کیا جائے۔

معطلی کے دوران دی گئی رقم کی ریکوری قانون کے مطابق نہیں۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ:

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ:

معطلی ایک عبوری اقدام (Interim Measure) ہے، سزا نہیں۔

ملازم اور محکمہ کے درمیان سروس کا معاہدہ برقرار رہتا ہے۔

جب تک ملازم کو قانونی طور پر برطرف نہ کیا جائے، وہ اپنے عہدے پر برقرار تصور ہوگا۔

تنخواہ روکنا یا ریکوری کرنا قانون اور انصاف کے منافی ہے۔

Fundamental Rule 53(b) واضح طور پر مکمل تنخواہ اور مراعات کی ضمانت دیتا ہے۔

عدالت نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:

> "اے ایمان والو! اپنے عہد پورے کرو" (القرآن 5:1)
"اللہ انصاف کا حکم دیتا ہے" (القرآن 16:90)

مزید برآں عدالت نے سابقہ نظائر کا حوالہ دیا:

Abdul Khalig Bangash v. Secretary, Government of West Pakistan

Government of N.W.F.P v. I.A. Sherwani

عدالت نے قرار دیا کہ معطلی کے دوران مکمل تنخواہ دینا اسلامی اور آئینی تقاضا ہے۔

حتمی نتیجہ:

سپریم کورٹ نے محکمہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا اور Leave to Appeal منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

---

اہم قانونی نکتہ:

✔️ معطلی سزا نہیں
✔️ سروس کنٹریکٹ برقرار رہتا ہے
✔️ مکمل تنخواہ اور الاؤنسز کا حق برقرار رہتا ہے
✔️ بغیر قانونی جواز ریکوری نہیں کی جا سکتی

یہ فیصلہ تمام سرکاری ملازمین کے لیے ایک مضبوط نظیر ہے اور سروس لاء کے معاملات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
Sajid mehmood chohan Advocate High court
(Service Laws Consultant)
Office: Shadman colony infront of judges Gate High court Multan Bench Multan

Whatsapp 03007817549





ٹرائل کورٹ نے ملزمان اللہ دتہ اور اعجاز احمد کو دفعہ 302/34 تعزیراتِ پاکستان کے تحت عمر قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔...
13/02/2026

ٹرائل کورٹ نے ملزمان اللہ دتہ اور اعجاز احمد کو دفعہ 302/34 تعزیراتِ پاکستان کے تحت عمر قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ ملزمان نے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کیں جبکہ مدعی نے سزا میں اضافہ کے لیے نظرثانی درخواست دی۔ عدالتِ عالیہ نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، گواہوں کی مشکوک موجودگی، بیانات میں تضادات اور بہتریاں، غیر معتبر شناخت پریڈ اور کمزور برآمدگی کو استغاثہ کے مقدمہ میں سنگین نقائص قرار دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ الزام شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا دونوں اپیلیں منظور کرتے ہوئے سزائیں کالعدم قرار دے کر ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا جبکہ نظرثانی درخواست مسترد کر دی گئی۔
ساجد محمود چوہان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
دفتر: شادمان کالونی، ججز گیٹ کے سامنے، ہائی کورٹ ملتان
آفس نمبر: 78-B، ڈسٹرکٹ کورٹس خانیوال
موبائل: 0300 7817549

sajid mehmood chohan Advocate High Court Office: Shadman colony infront of judges Gate High Court Multan 0300 7817549
12/02/2026

sajid mehmood chohan Advocate High Court
Office: Shadman colony infront of judges Gate High Court Multan
0300 7817549

اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جب کسی شخص کو بری کر دیا جائے اور بریت کا حکم حتمی حیثیت اختیار کر جائے، تو کسی بھی...
08/02/2026

اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جب کسی شخص کو بری کر دیا جائے اور بریت کا حکم حتمی حیثیت اختیار کر جائے، تو کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے اس شخص کو مسلسل کسی فوجداری الزام سے جوڑے رکھنا نہ صرف بریت کے حکم کو بے معنی بناتا ہے بلکہ انصاف، انسانی وقار اور اصولِ برأت (presumption of innocence) جیسے بنیادی اصولوں کی بھی نفی کرتا ہے۔
لہٰذا، درخواست گزار اس بات کا حق دار ہے کہ اسے ایسا **پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ** جاری کیا جائے جو اس کی بریت اور کسی بھی موجودہ فوجداری ذمہ داری کی عدم موجودگی کی درست عکاسی کرے۔

It can be gathered that once a person has been acquitted and the order has attained finality, any act by public authorities that continues to associate that individual with a criminal allegation undermines not only the acquittal itself but also the foundational principles of fairness, dignity, and presumption of innocence. Therefore, the petitioner is entitled to a Police Character Certificate that reflects his acquittal and the absence of any subsisting criminal liability.
ساجد محمود چوہان، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
دفتر: شادمان کالونی، ججز گیٹ کے سامنے، ہائی کورٹ ملتان
رابطہ نمبر:
03007817549

Sajid mehmood chohan advocate High court Multan Bench Multan Office: Shadman colony infront of judges Gate Multan 030078...
06/02/2026

Sajid mehmood chohan advocate High court Multan Bench Multan
Office: Shadman colony infront of judges Gate Multan
03007817549

Adv Sajid Mehmood Chohan 03007817549
06/02/2026

Adv Sajid Mehmood Chohan
03007817549

Adv Sajid Mehmood ChohanOFFICE : shadman colony infront of judges Gate high court multan 0300 7817549
05/02/2026

Adv Sajid Mehmood Chohan
OFFICE : shadman colony infront of judges Gate high court multan
0300 7817549

Address

Khanewal
58150

Telephone

+923007817549

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chohan Legal Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Chohan Legal Hub:

Share