25/04/2024
جعلی سید
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک میراثی نے “سید“ بننے کی ٹھان لی ، اس نے لاکھ جتن کئے مگر کسی نے اسکو سید نہ مانا،
ایک روز چند بچے کسی جگہ آپس میں کھیل رہے تھے ، میراثی نے کافی غور و خوض کیا کہ وہاں موجود لوگوں کو کیسے باور کرائے کہ میں بھی
“ شاہ یعنی سید“
ہوں تو میراثی کافی سوچ و بچار کے بعد کہنے لگا
“ او مُنڈیو ! نس جاؤ
فیر نہ کہنا
“ شاہ ہوری مار دے نے “
گوجرانوالہ کے مضافات میں دو تین بھائی ہیں جو خود کو “ سید “ بنانے کے چکر میں ہیں ،
ویسے سید بننے کیلئے پہلی سیڑھی
“ شاہ جی “
“شاہ صاحب “
“ سرکار“
"مخدوم"
وغیرہ وغیرہ الفاظ کا اشتہارات و سوشل میڈیا پر بے دریغ استعمال ہے ۔
یہی حال ان قصائیوں کا ہے جو کہ
ایک دوسرے کو "شاہ جی شاہ جی" کہتے ہیں تاکہ لوگ بھی انکو شاہ جی کہیں اور جب "شاہ جی شاہ جی" عام ہو جائے گا تو اشتہارات پڑھنے والے جاہل عقیدت مند شاہ جی کو سید سمجھنے لگیں گے اور از خود سید لکھیں گے اور نتیجتاً یہ قصائی ، میراثی وغیرہ خود کو سید کہلوانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اب تو نوبت بایں جا رسید کہ اگر کوئی ذی شعور آدمی ان سے استفسار کرتا ہے تو جواباً کہتے ہیں "ہم نے تو خود نہیں کہا کہ ہم سید ہیں اور نا ہم لکھتے ہیں" بلکہ الٹا سیادت کی بابت سوال کرنے والوں سے بد تمیزی اور بد تہذیبی سے پیش آتے ہیں۔
لیکن ظالمو ! تم اگر سید نہیں ہو تو شاہ جی کا لفظ اور شاہ ، سرکار اور اس جیسے دیگر الفاظ کیوں سرقہ کر کے اپنی ذات کے لیے مختص کرتے ہو ؟
اللہ نے دین کی وجہ سے تھوڑی سی عزت دی ہے تو کمینگی پر اتر آئے ہو !
کسی نے کیا خوب کہا تھا
جب کمینے عروج پاتے ہیں
اپنی اوقات بھول جاتے ہیں
خدا کا خوف کرو !
اس بابت ایک حدیث قارئین کی نظر کیے دیتا ہوں
" مَنِ ادَّعى إلى غيرِ أَبِيهِ، وَهو يَعْلَمُ أنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فالْجَنَّةُ عليه حَرامٌ "
جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے نسب کا دعویٰ کیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اسکا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے ۔ (الصحیح البخاری:6766)
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا: " مَنِ ادَّعى إلى غيرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمى إلى غيرِ مَوالِيهِ، فَعليه لَعْنَةُ اللهِ والْمَلائِكَةِ والنّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يَقْبَلُ اللَّهُ منه يَومَ القِيامَةِ صَرْفًا، وَلا عَدْلًا "
جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے نسب کا دعویٰ کیا یا اپنے والیوں کی اجازت کے بغیر ولاء کا رشتہ قائم کیا اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اللہ نہ اس کی فرض نماز قبول کرے گا نہ نفل ۔
(الصحیح البخاری: 7300)
از قلم : صاحبزادہ سید کرامت علی حسین شاہ
سجادہ نشین: علی پور سیداں شریف (نارووال)