Mehmoodulhassanch.official

Mehmoodulhassanch.official Kashmir Cause is the

03/07/2023
15/12/2022

کچھ کرگزرنے والے لوگ
(قاسم علی شاہ)
نیلی چیبوئی کے گھر میں غربت کا بسیرا تھا۔ وہ کئی دن سے بھوکی تھی اور رات کو جب بھوک کی لہر اس کے پیٹ میں اٹھتی تو وہ بلبلا کر رہ جاتی۔ گائوں میں سیلاب آیا تھا اور اس کا گھر کئی دنوں سے پانی سے گھرچکا تھا۔ نہ باہر نکلنے کا راستہ تھا نہ اندر جانے کا۔ ان تمام مشکلات نے اس کوکچھ کرگزرنے پر مجبور کیا۔ اس نے خود سے سوال کیا کہ یہ سب آخر کب تک چلے گا؟ اس نے عزم کیا کہ اپنی محنت اور حوصلے سے نہ صرف اپنی بلکہ پورے گائوں کی زندگی کو بہتر بنائے گی۔ کچھ عرصے بعدقسمت اس پر مہربان ہوگئی اور اس کو آگسٹانا کالج سے اسکالرشپ مل گئی۔ وہ امریکہ چلی گئی جہاں پڑھنے کے ساتھ وہ جاب بھی کرتی رہی۔رات تک وہ تھکن سے چور ہوجاتی۔ وہ کمپیوٹر سے نابلد تھی۔ٹائپنگ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو کئی گھنٹوں تک اپنی اسائنمنٹ لکھنی پڑتی،بالآخر اس کی زندگی میں ایک دلچسپ موڑآیا۔ اس کو ریاضی کے لیے ’’جاوا‘‘ کا کورس کرناتھااور یہیں سے اس کا رجحان کمپیوٹر کی طرف بڑھنے لگا۔اس کے دل میں اپنی قوم کادرد تھا۔وہ دن رات یہی سوچتی رہی کہ کیسے میں ان لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہوں۔ایک رات اچانک اس کے ذہن میں ایک آئیڈیاآیا۔ اس نے دیکھا کہ بڑی بڑی کمپنیوں میں استعمال ہونے والے کمپیوٹرز میں جب معمولی خرابی بھی آتی تو انتظامیہ اس کوسٹور روم میں جمع کرتی اور کمپنی کے لیے نئے سسٹم آرڈرز کرتی۔اس نے کمپنیز سے بات کرکے یہ تمام کمپیوٹرز حاصل کیے اور انھیں کینیا منتقل کیا۔اس سارے عمل پرآنے والے اخراجات اس نے اپنی جیب سے بھرے۔ اس نے TechLit Africa کے نام سے ایک ادارہ بنایا، جس کے تحت امریکہ سے آنے والے کمپیوٹرز کو کھول کر ان کے ہارڈوئرز صاف کیے جاتے، انھیں دوبارہ استعمال کے قابل بنا دیا جاتا اورپھر مقامی اسکولوں میں تقسیم کردیے جاتے ۔چیبوئی نے اپنے علاقے میں کمپیوٹر ایکسپرٹس کو ڈھونڈ کر انھیں بچوں کو پڑھانے کی درخواست کی۔ یوں پرانے اور کسی حدتک بے کار کمپیوٹرز کے ساتھ بچوں کوآئی ٹی اسکلز سکھائے جانے لگیں اور انتہائی کم وقت میں بڑے شاندار نتائج ملے۔ چیبوئی کہتی ہے: مجھے بھوک کا درد یاد ہے۔ یہ بہت ظالم ہے۔ میں نے اس کوبہت قریب سے دیکھا ہے اور اسی درد نے میرے اندر وہ شعلہ روشن کیا جس کی بدولت میں نے اپنی زندگی اور اپنی قوم کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد شروع کی۔آج میرے ادارے میں چار ہزار سے زائد بچے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اورمجھے امید ہے کہ یہاں سے پڑھنے والے بچے فری لانس مارکیٹ میں گرافک ڈیزائننگ، کوڈنگ، سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی بدولت کینیا کی معیشت کوبدل کر رکھ دیں گے۔

اس کائنات میں موجود ہر انسان خاص ہے۔تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی قابلیت سے نوازرکھاہے۔وہ اگر ہمت سے کام لے تواس قابلیت کی بدولت اپنی زندگی اور دوسر ے انسانوں کی زندگیوں کو آسان بناسکتاہے۔روزمرہ زندگی میں ہر انسان کے سامنے مختلف طرح کے حالات آتے ہیں۔یہ حالات کبھی کبھار انسان کو بے بس کردیتے ہیں ، وہ مایوس اور پریشان ہوجاتاہے اور ہمت ہارکر بیٹھ جاتاہے جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پختہ ہمت کے سامنے کسی بھی طرح کے حالات کچھ اہمیت نہیں رکھتے ۔وہ جس قدربھی تنگی میں ہوں،اپناحوصلہ جوان رکھتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح خود کو حالات کے اس بھنور سے نکال ہی دیتے ہیں۔
آج کی تحریر میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ وہ باہمت لوگوں کی وہ کون سی صفات ہوتی ہیں جو انھیں عام لوگوں سے ممتاز بنادیتی ہیں او ر وہ معاشرے میں ایک شاندار تبدیلی لے کرآتے ہیں ۔اسی طرح کمزورلوگوںکی وہ کون سی خامیاںہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور زندگی میں کوئی نمایاں کام نہیں کرپاتے۔

(1)یقین
کمزور ہمت لوگ ہمیشہ اس یقین کے قیدی ہوتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔انھیں ہمیشہ ہارنے کااندیشہ ہوتاہے۔ناکام ہونے ، گرجانے اور ہدف پر نہ پہنچنے کا خوف۔انھیں دوسروں کی رائے سے بھی خوف آتاہے۔یہ تنقید سے ڈرتے ہیں۔ناپسندیدگی سے ان کی جان جاتی ہے۔لوگ یہ ایسا نہ کہہ لیں ، ویسا نہ کہہ لیں۔میں اگر ناکام ہوگیاتو معلوم نہیں زمانہ کیا کہے گا۔یہ اور اس طرح کے بے شمارخیالات نے انھیں اپنا قیدی بنایاہوتاہے اور اس وجہ سے یہ کوئی بھی عملی قدم نہیں اٹھاسکتے۔

اس کے برعکس باہمت لوگ ہمیشہ پُرامیدرہتے ہیں۔وہ آزاد ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ کچھ کرنے کی جستجومیں ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ مثبت اورامیدافزاگفتگو کرتے ہیں کیوں کہ انھیں معلو م ہوتاہے کہ وہ جوبھی بولتے ہیں ،وہ الفاظ خیالات کا روپ دھارلیتے ہیں اورپھر اسی طرح کے واقعات ان کی زندگی میں رونما ہوناشروع ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ’’میں نہیں کرسکتا‘‘ ان کی زندگی میں نہیں ہوتا۔ان کے سامنے مشکل سے مشکل ہدف کیوں نہ ہو، اس کوحاصل کرنے کے لیے وہ سوچتے ہیں ، راستے بدل کر دیکھتے ہیں اور نئے امکانات کا جائزہ لے کراس کی طرف بڑھتے ہیں اور ایک نہ ایک دن اس کو کامیابی سے حاصل کرلیتے ہیں۔

(2)بہانے نہیں کارکردگی
کمزور ہمت لوگ ہمیشہ آ پ کو یہ کہتے نظر آئیں گے کہ بارش ہوگئی ورنہ میں نے آجاناتھا۔گھر میں مہمان آگئے ورنہ میں نے یہ کام ختم کرکے اٹھناتھا۔میری بائیک کاٹائر پنکچر ہوگیا ورنہ میں ضرور سیمینار میں پہنچتا۔الغرض وہ اپنی ہر ناکامی کاالزام دوسروں پر لگاتے ہیں ۔وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ ہاں مجھ سے غلطی ہوگئی،یہ میری ہی کمزوری تھی جس کی وجہ سے فلاں کام نہیں ہوسکا۔بہانہ بنانے اور اپنی ناکامی کاکوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈنے کی یہ عادت انھیں زندگی میں کچھ بڑاکرنے نہیں دیتی اور یہ لوگ ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔

مضبوط ہمت والے لوگوں کے سامنے رکاوٹ کوئی چیز نہیں ہوتی ۔وہ ہمیشہ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔اگر ان کے سامنے ایک راستہ بند ہوجائے تو وہ مایوس ہوکر بیٹھ نہیں جاتے بلکہ دوسراراستہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔عین وقت پر اگران کی منصوبہ بندی میںکوئی مسئلہ آجائے تو وہ فوراً سے متباد ل ڈھونڈتے ہیں اور کام کو انجام تک پہنچاتے ہیں۔بارش ، طوفان ، ٹائر پنکچرہونا یا پھر کوئی بھی مسئلہ ہو ، وہ اس کو الزام نہیں دیتے اور نہ ہی اپنی ناکامی کودوسروں کے سرتھوپتے ہیں۔یہ ہمیشہ رزلٹس دیتے ہیں او ر ان کی یہ عادت انھیں اس دنیا کے لیے کارآمد بناتی ہے جس کی وجہ سے وہ کامیاب انسان ٹھہرتے ہیں۔

(3)ماضی کابوجھ
کمزور ہمت لوگ آپ کو ہمیشہ ماضی میں گم نظر آئیں گے ۔انھوں نے اپنے کندھوں پرماضی کا ایک بڑابوجھ اٹھایاہوتاہے جو ان کی کمر کو جھکادیتاہے اور اسی وجہ سے زندگی کی شاہراہ پر ان کی رفتار انتہائی کم ہوتی ہے۔اس بے مقصدکام میںوہ بہت جلد تھک جاتے ہیں۔ان کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں اورپھر زندگی کے مفید کاموں کے لیے بھی ان کے پاس توانائی نہیں بچتی۔ماضی میں رہنے والاانسان پچھتائوں میں گھرجاتاہے۔ایک ایک یاد اُس کے سامنے آتی ہے اور اس کو مایوس و پریشان کرتی ہے۔اسی وجہ سے ایسے شخص کی ذہنی حالت بھی نارمل نہیں رہتی۔وہ ناشکرااورناامید بن جاتاہے اور یہ چیز اس کو زندگی میں آگے نہیں بڑھنے دیتی۔
باہمت لوگ ہمیشہ ایک روشن مستقبل دیکھتے ہیں۔یہ عادت ان کی ہمت کومزید مضبوطی دیتی ہے۔وہ بہترین منصوبہ بندیاں بناتے ہیں اور ان کو عملی وجود میں لانے کے لیے اپنی پوری توانائیاں صرف کرتے ہیں۔و ہ امکانات پرنظر رکھتے ہیں۔ان کے سامنے مشکل حالات بھی اگر آجائیں تووہ پُرامید ہوتے ہیں۔وہ مستقبل کے اندیشوں کو ذہن میں نہیں لاتے بلکہ صرف روشن اور مثبت پہلوپر نظر رکھتے ہیںاور اسی یقین کے ساتھ وہ ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھتے ہیں۔

(4)بلامقصد مصروفیت
کمزورلوگ آپ کو مصروف نظر آئیںگے۔وہ ہروقت کوئی نہ کوئی کام کررہے ہوں گے۔و ہ ایسا ظاہر کرتے ہیں گویا اس ساری دنیا میں ان سے بڑھ کر کوئی مصروف ہے ہی نہیںلیکن ان کی یہ ساری سرگرمیاں بے نتیجہ ہوتی ہیں۔کیوں کہ وہ اپنی ترجیحات مقرر کرکے کام نہیں کرتے ۔بس جو بھی ان کا دل چاہتاہے اس کو کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ان کے سامنے کوئی واضح منصوبہ بندی نہیں ہوتی ۔پلاننگ کے اس فقدان کی وجہ سے وہ اپنی ساری توانائیاں لگادیتے ہیں لیکن نتیجہ پھر بھی صفر ہوتاہے۔
باہمت لوگ مفید اور پروڈکٹیوہوتے ہیں۔وہ اپنے لیے ترجیحات مقرر کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کون سی چیز میرے لیے اس وقت اہم ہے اور کون سی نہیں۔ وہ اپنی ذہنی توانائی ،جسمانی طاقت ، بیرونی وسائل اوروقت کو انتہائی احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور کسی بھی مصروفیت سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ یہ کام واقعی میرے لیے اہم ہے یا نہیں۔وہ ان چاروں عوامل کو بہترین انداز میں کام میں لاتے ہیں اور معاشرے کے لیے نفع مند انسان بنتے ہیں۔

(5)دنیا سے مانگنے والے
کمزور ہمت لوگ آ پ کو ہمیشہ دنیا سے مانگتے ہوئے نظر آئیں گے۔وہ جب بھی انسانوں کے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو یہ سوچتے ہیں کہ مجھے اس سے کیا ملے گا۔یہ لوگ دراصل اپنی ذات کے قیدی ہوتے ہیں۔یہ صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں ۔میری ذات ،میری تنخواہ ، میرا گھر اور میری گاڑی۔ اس کے علاوہ یہ سوچتے ہی نہیں۔اپنی ذات کی یہ سوچ انھیں خود غرض بنادیتی ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی میں ترقی کے مواقع کم ہوناشروع ہوجاتے ہیں اور وہ ایک ہی جگہ پر کھڑے رہ جاتے ہیں۔
باہمت لوگ ہمیشہ دنیا کودینے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے پاس جو بھی کچھ ہوتاہے وہ بانٹتے ہیں کیوں کہ وہ اس راز سے واقف ہوچکے ہوتے ہیں کہ بانٹنے سے بڑھتاہے۔وہ معاشرے اور قوم کے لیے سوچتے ہیںاور اس بات کی کوشش میں ہوتے ہیں کہ کیسے اپنی محنت و کوشش سے معاشرے میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔یہ لوگ مانگتے نہیں بلکہ دوسروں کو عطاکرتے ہیں۔یہ عادت ان کے دل اور ظرف کو بڑاکردیتی ہے اور اسی وجہ سے ان کی زندگی میں نئے لوگ ، نئے امکانات اور نئے مواقع آناشروع ہوجاتے ہیں جن کی بدولت یہ بہت جلد ترقی کی معراج پر پہنچ جاتے ہیں۔

15/12/2022

:
کوا واحد پرندہ ہے جو شاہین کے راستے کی رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر اس کی گردن پر چونچ مارتا ہے۔
تاہم شاہین جواب نہیں دیتا اور نہ ہی کوے سے لڑتا ہے ۔
شاہین کبھی کوے پر اپنا وقت اور توانائی ضائع نہیں کرتا، بلکہ اپنے پروں کو مزید کھولتا ہے اور آسمان میں اونچا اڑنے لگتا ہے ۔۔۔
اونچی اڑان سے کوے کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بالآخر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کوا گر جاتا ہے ۔۔۔ زندگی میں کوؤں جیسے لوگوں کے ساتھ اپنا وقت ضائع کرنا بند کرو۔ شاہین بنو، خود کو بلند کرو کوے اپنے آپ مٹتے جائیں گے ۔ ۔ ۔ !!!

15/12/2022

ذرا سوچیے اور غور کیجیے

15/12/2022

زندگی کے سات درخت
(قاسم علی شاہ)
’’کامیاب اور ناکام لوگوں کے درمیان سب سے بڑا فرق اپنی نمو کا ہوتا ہے!‘‘(جان سی میکسویل)
ہم درخت سے دوچیزیں لیتے ہیں: ایک چھاؤں، دوسرا پھل۔ چھاؤں ٹھنڈی ہوتی ہے جبکہ پھل میٹھا ہوتا ہے۔ جس باغ میں، جس علاقے میں جتنے زیادہ درخت ہوتے ہیں، اتنے ہی زیادہ چھاؤں اور پھل حاصل کرنے کے مواقع ہمارے پاس ہوتے ہیں۔ اس شخص کی زندگی میں راحت اور طمانیت ہوگی جس کی زندگی کے آنگن میں یہ سات درخت ہیں۔ لوگ زندگی میں سات درخت نہیں لگاتے۔ اگر ہمیں زندگی میں ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھا پھل لینا ہے تو ہمیں زندگی میں مندرجہ ذیل سات درخت لگانے پڑیں گے:
1) معاش کا درخت
عموماً لوگ صرف ایک ہی درخت لگاتے ہیں اور اسی کی چھاؤں اور پھل کو کامیابی سمجھتے ہیں۔ یہ درخت ’’معاش‘‘ کا درخت ہے۔ انسان اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت معاش کے درخت کی چھائوں اور پھل کو دیتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بچے کی تعلیم، نگہ داشت اور اس کے بعد تمام تر کاوشیں پیسہ کمانے کیلئے ہی ہوتی ہیں۔ اسی درخت کی آب یاری پر آدمی اپنی تمام تر توجہ اور توانائی صرف کرتا ہے۔ اس درخت سے زیادہ سے زیادہ پھل حاصل کرنا یعنی زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا اس کا مقصد اولیں ہوتا ہے۔ یہ بہت عام بات ہے کہ روزانہ زندگی کے زیادہ تر اوقات فکر معاش میں گزرجاتے ہیں۔ معاش کے درخت کی دیکھ بھال فطری قوانین کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ مثلاً، آپ نے بہت سوں کو دیکھا ہوگا کہ دن رات پیسہ کمانے کی فکر میں غلطاں رہتے ہیں اور پھر بھی معاشی مسائل سے پریشان ہوتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ معاش کے درخت کو جس کھاد اور پانی کی ضرورت ہے، وہ فراہم ہی نہیں کیا جارہا۔
ہم میں سے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیںکہ بہت پیسہ کما لیا جائے تو معاشی خوش حالی آجائے گی۔ یہ خیال غلط ہے۔ معاشی خوشی حالی کا تعلق پیسے کی زیادتی سے نہیں، پیسے کی تنظیم سے ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی میں معاشی خوش حالی چاہتے ہیں تو پیسہ کمانے کی مہارت سے کہیں اہم یہ ہے کہ Money Management سیکھی جائے۔ آپ جب تک پیسے کو منظم کرنا نہیں سیکھیں گے، پیسے کے مسائل میںدھنستے چلے جائیں گے۔
2) خدمت کا درخت
جو سکون بانٹنے میں ملتا ہے، وہ کمانے میں نہیں ملتا۔ یہ شاید اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت بھی بانٹنا ہے۔ زندگی میں دوسرا درخت ’’خدمت‘‘ کا درخت ضرور لگائیے۔ جو آدمی یہ کہتا ہے کہ میں امیر ہوجاؤں گا تو بانٹوں گا تو وہ کبھی نہیں بانٹے گا، کیونکہ جب وہ امیر ہوجائے گا تو اُس وقت اس کے پاس بانٹنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوگا۔ جو شخص آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی بانٹ دیتا ہے، وہ عظیم انسان بنتا ہے۔
خدمت کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ پیسے ہوں تو خدمت ہوگی۔ خدمت تو مزاج سے ہوتی ہے۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے، ’’غنا (دولت مند ہونا) دل کی کیفیت کا نام ہے۔‘‘ اس کا مال کی زیادتی سے تعلق نہیں ہے۔ خدمت کا مطلب ہے کہ میں جو کچھ کسی دوسرے کیلئے کررہا ہوں، اس کا معاوضہ مجھے اس انسان سے نہیں لینا، نہ اس کی طلب رکھنی ہے۔ اس کا معاوضہ مجھے اس کے خالق اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے۔
خدمت میں چوکیداری نہیں کرنی، بس، نیکی کرنی ہے اور دریا میں ڈال دینی ہے۔ خدمت عقل کی زکوٰۃ ہے۔ یہ فہم کی زکوٰۃ ہے۔یہ ذہانت کی زکوٰۃ ہے۔ یہ انسانی عظمت کی زکوٰۃ ہے۔ اگر میٹھا پھل کھانا ہے اور ٹھنڈی چھاؤں لینی ہے تو پھر یہ خد مت صرف اللہ تعالیٰ کیلئے ہونی چاہیے۔
3) فیملی کا درخت
آپ کی فیملی،آپ کا خاندان بہت اہم ہے۔ اس کی اہمیت کو سمجھئے۔ اس کی ضروریات کو اہم سمجھئے۔ فیملی کی تین ضروریات ہوتی ہیں۔ عموماً ہم ایک ضرورت کو پورا کرکے دو سے کنارہ کشی کرجاتے ہیں۔ پہلی ضرورت پیسہ ہے تاکہ مادی ضروریات کی تکمیل کی جاسکے۔ دوسری ضرورت توجہ ہے۔ توجہ کا مطلب ہے کہ بیوی بچوں کی تمام چیزوں سے تعلق۔ تیسری ضرورت قربانی ہے۔ تعلق کی قیمت قربانی ہے۔ تعلق قربانی مانگتا ہے۔
وہ لوگ جو اِن تینوں میں سے ایک ضرورت پوری کرتے ہیں، باقی کو اہمیت نہیں دیتے، وہ اپنے گھر والوں سے زیادتی کرتے ہیں۔ ان کا درخت کبھی بھی میٹھا پھل اور ٹھنڈی چھاؤں نہیں دیتا۔
4) پیشے کادرخت
زندگی میں انسان کا زیادہ تر وقت دو چیزوں کے ساتھ گزرتا ہے۔ ایک پیشہ، دوسرا بیوی۔ اس لیے دونوں کا انتخاب ہزار بار سوچنے کے بعد کرنا چاہیے۔ ہمیں دنیا کا کوئی کام کرنا ہو، چاہے کپڑے خریدنے ہوں، جوتے خریدنے ہوں یا کوئی اور شے ہو، اس کیلئے سو لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں۔۔۔ لیکن جس کے ساتھ ہمیں ساری زندگی گزارنی ہے، وہ دو چیزیں ہیں۔۔۔ ہمارا پروفیشن اور ہماری زوجہ۔ ہم ان دونوں کے بارے میں مشورہ کرتے ہیں اور نہ رہ نمائی لیتے ہیں۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے انتخاب کی طاقت دی ہے۔ یہ قوت کسی اور مخلوق کو عطا نہیں کی گئی۔ انسان جب اپنے پیشے کا انتخاب کرتا ہے تو اس انتخاب میں غلطی ہوسکتی ہے، بلکہ اکثر ہوتی ہے۔ ممکن ہے، نوکری کے مزاج والا کاروبار کررہا ہو، ممکن ہے، کاروباری مزاج والا نوکری کرتا ہو۔ ممکن ہے، نوکری جس طرح کی چاہیے تھی، ویسی نہ ہو۔ ممکن ہے، کاروبار جس طرح کا چاہیے تھا، ویسا نہ ہو۔ لیکن اس بارے میں سوچنا ضرور چاہیے اور ماہر فرد سے مشور ہ ضرور کرنا چاہیے۔
زندگی کے سفر میں اگر غلط ٹرین میں بیٹھے ہوں تو اسی ٹرین میں غلط منزل پر سفر جاری رکھنے سے کہیں بہتر ہے کہ اُتر کر صحیح ٹرین پکڑلی جائے۔ اس میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اپنی زندگی میں چیزیں چھوڑنے کی طاقت، ہمت اور جرات پیدا کیجیے، کیونکہ جو چھوڑسکتا ہے، وہی آگے جاسکتا ہے۔ ایک ہی کھونٹے سے بندھے رہنے سے ایک ہی دائرے میں زندگی گھومتی رہتی ہے۔
جس پیشے سے آدمی کو لطف نہیں ملتا، وہ پیشہ سوالیہ نشان ہے۔ جیسے ہم سفر اگر راحت رساں نہ ہو تو آدمی جلد اکتا جاتا ہے اور نشست بدلنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح آپ کا پیشہ بھی آپ کا ہم سفر ہے۔ اگر آپ کو اپنے پیشے میں راحت نہیں مل رہی، آپ جو کام کرتے ہیں، اسے سوچتے ہی تھکن ہونے لگتی ہے تو آپ کا موجودہ پروفیشن آپ کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ’’دوست سے سکون نہیں ہے اورد شمن سے تکلیف نہیں ہے‘‘ تو پھر نہ دوست، دوست ہے اور نہ دشمن، دشمن۔
5) ساکھ کا درخت
اس میں کوئی شک نہیں کہ عزت اور ذلت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، لیکن کچھ اختیار اللہ نے بندے کو دیے ہیں اور عزت کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اس لیے ہمیں وہ کام کرنے چاہئیں جو عز ت کا سبب بنیں اور اُن کاموں سے بچنا چاہیے جو عزت پر آنچ لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا ہے کہ یہ کام عزت والے ہیں اور یہ ذلت والے ہیں۔
انسان کیلئے عزت اس کی سب سے اہم چیزوں میں سے ہے۔ آدمی پیسہ کمانے کیلئے دن رات ایک کرتا ہے، لیکن بعض اوقات عزت بچانے کیلئے یہ پیسہ پانی کی طرح بہادیتا ہے۔ زندہ معاشروں میں آدمی کو اس کی عزت اور ساکھ سے پرکھا جاتا ہے، اس لیے زندگی میں ہمیشہ ساکھ برقرار رکھیے۔
لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ ساکھ ہو نے کے باوجود بھی مسئلے رہیں گے۔اچھا ہونے کے باوجود بعض لوگ آپ کو برا سمجھیں گے اور برا کہیں گے۔ اس کا کوئی حل نہیں ہے۔ اور جس چیز کاکوئی حل نہیں ہے، اس کی فکر مند کرنا چھوڑ دیجیے۔ بس، آنکھیں نیچی کرکے اپنے کام میں مگن رہیے، آگے بڑھتے چلے جائیے۔ ایک دن سر اٹھائیں گے تو دنیا ساتھ ہوگی۔
اصل یہ ہے کہ اپنی نگاہوں میں خود کو کبھی گرنے نہ دیجیے۔ دنیا میں سب سے بڑا مجرم اپنی ذات کا مجرم ہوتا ہے۔ لوگوں میں چور پن ہوتا ہے۔ جس کی عزت خود اپنی نگاہوں میں نہیں ہے، وہ کسی اور کی عزت کیا کرے گا۔ جو چیز اپنے پاس ہی نہیں ہے، وہ کیسے دوسروں کو دی جاسکتی ہے۔ عزت تو عزت دار آدمی کرتا ہے۔
آپ کی ساکھ زندگی کا سب سے اہم اثاثہ ہے۔ اسے اہمیت دیجیے۔ اس پر انوسٹمنٹ کیجیے۔ وقت لگائیے۔ ایسے لوگوں میں بیٹھیے جو آپ کی عزت کرنے والے ہوں۔ اُن لوگوں کو پہچانیے جو آپ کی مہارت، عزت اور شہرت سے جلتے ہیں۔ آدمی کو دوستوں اور دشمنوں کی پہچان ہونی چاہیے۔ شاہین تو شاہین کے ساتھ ہی اڑتا ہے، گدھ کے ساتھ نہیں۔ اسی طرح، تعلق کی وجہ پیسہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نظریہ ہونا چاہیے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ’’نظریے کا ساتھ ازلی اور ابدی ہوتا ہے۔‘‘
یہ معیار طے کیجیے کہ کن کے ساتھ کام کرنا ہے اور کن کے ساتھ کام نہیں کرنا۔ کئی، لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ صرف سلام دعا کا تعلق رکھا جاسکتا ہے، کام نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اپنے کام کا جواب دیا جا سکتا ہے، ان کی حرکتوں کی ذمے داری قبول نہیں کی جاسکتی۔جس کے ساتھ آپ کھڑے نہیں ہوسکتے، اس سے دور رہنا ہی بہتر ہوگا۔
6) مذہب کا درخت
انسانی زندگی کا ایک بہت ہی بنیادی پہلو اس کی روح ہے۔ روح کا تعلق یقین سے ہے، یقین کا ایمان سے ہے اور ایمان کا عبادت سے۔ روحانیت کا بھی ایک درخت ہے۔ اس کی اہمیت کو سمجھئے۔ مسلمان کی حیثیت سے ہم پر اللہ کا خاص فضل ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ذریعے وہ تمام طریقے بتادیے گئے کہ جن سے ہم روحانیت کے درخت کی آب یاری اور نگہ داشت کرسکتے ہیں۔ چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تمام انداز کے ساتھ نماز ادا کی، وہ سب سنت ہیں۔ اب جو بھی جس انداز میں پڑھ رہا ہے، اگر اس کی نیت یہ ہے کہ یہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے تو اسے اس کا ثواب اِن شاء اللہ ملے گا۔
نیکی سے روحانیت کے درخت کی آب یاری ہوتی ہے۔ لہٰذا، وہ تمام نیک کام جو آپ کو سکون دیتے ہیں، ضرور کیجیے، کیونکہ آپ کی عبادت، روحانیت اور دین ان سے جڑا ہوا ہے۔
7) ذات کا درخت
یہ درخت سب سے اہم ہے۔ اگر آپ کو اس درخت کی شناخت نہیں ہے تو آپ اس کی چھاؤں سے مستفید ہوپائیں گے اور نہ ہی اس کے پھل کی مٹھاس کا تجربہ کرپائیں گے۔ اپنی ذات کو سکون چاہیے، اس لیے اس درخت کی اہمیت کو سمجھیے۔ تنہائی سے لطف اندوز ہونا سیکھیے۔ اپنی پسند کی کتابیں خریدیں۔ اپنے بے لوث دوست کے ساتھ وقت گزاریے۔ صبح کے وقت گیلے گھاس پر چلیے تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کااحساس ہو۔ ہمیں سب سے زیادہ وقت اپنی ذات کے ساتھ گزارنا ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے اچھے دوست نہیں ہیں، اپنی ذات کے ساتھ اچھا تعلق نہیں ہے تو پھر یہ درخت ٹھنڈی چھاؤں نہیں دے گا اور نہ میٹھاپھل ملے گا۔
متوازن زندگی کا شعور
بگ بینگ تھیوری کے مطابق، اس کائنا ت کی عمر یا زندگی چودہ کھرب سال ہے، جبکہ اس زمین کی عمر چار کھرب پانچ سو ارب سال ہے۔ انسانی زندگی کی عمر تقریباً پینتیس لاکھ سال ہے۔ اتنے زیادہ وقت میں آج کے انسان کے پاس صرف ساٹھ باسٹھ برس یعنی بیس سے بائیس ہزار دن ہوتے ہیں۔ پھر ان ساٹھ برسوں میں شعور والی زندگی اور بھی کم ہوتی ہے۔
جس کے پاس شعور ہوتا ہے، اس کے پاس قوتِ فیصلہ ہوتی ہے۔ اس شعور کا حساب اللہ تعالیٰ لیں گے۔ جب شعور والی زندگی اتنی مختصر اور مہنگی ہے تو پھر سوال ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا؟ کیا کبھی اس کی ترجیحات بنائیں؟ ہمیں مہینے کی ایک کمائی تنخواہ کی صورت میں ملتی ہے، ہم اس کی پلاننگ کرتے ہیں جبکہ کل کی کمائی کے بارے میں سوچتے ہی نہیں ہیں۔ ہم نے صرف پیسے کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔ ہم نے ہر چیز کو مادے کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ لوگوں کے پاس پیسہ ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات سکون نہیں ہوتا۔ بعض اوقات عزت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اپنا ہی پتا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایمان نہیں ہوتا اور بعض اوقات اپنی ذات ہی نہیں ہوتی۔ معاش کا درخت ضرور ہونا چاہیے، لیکن صرف معاش کا درخت نہیں ہونا چاہیے۔
آج سے ان تمام درختوں کے بیج لگائیے۔ کچھ عرصہ بعد آپ کو محسو س ہوگا کہ یہ پودا بننا شروع ہوگیا ہے۔ اس وقت آپ کو اپنی زندگی میں نئی تبدیلیاں محسوس ہوں گی جن میں سے اکثر غیر مرئی ہوسکتی ہیں۔ یہ ہے، متوازن زندگی!

Address

Kotli, Ajk
Kashmir

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mehmoodulhassanch.official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share