Claudius law firm

Claudius law firm We provide free online legal advice and counseling in matters relating to criminal and civil suits, banking, family matters, property cases, and tax issues.

Claudius law firm is aimed to spread legal awareness about many illegal activities taking place in the country.This Legal House is actually made to aware the local denizen about their basic human rights.It is very sorry state of affairs that majority of the people are totally unknown about their basic right. So Mehran law house educates the people about their fundamental rights and also offer them free legal Advice.

09/08/2026
کرایہ دار تیسرے شخص کی ملکیت کا سہارا لے کر بے دخلی سے نہیں بچ سکتا “Once a Tenant, Always a Tenant” — لاہور ہائی کورٹ ن...
09/08/2026

کرایہ دار تیسرے شخص کی ملکیت کا سہارا لے کر بے دخلی سے نہیں بچ سکتا “Once a Tenant, Always a Tenant” — لاہور ہائی کورٹ نے قانونی اصول دوبارہ واضح کر دی

یہ آئینی درخواست مسز بلقیس بیگم نے دائر کی جس میں انہوں نے ماتحت عدالتوں کے ان احکامات کو چیلنج کیا جن کے ذریعے ان کی اعتراضی درخواست (Objection Petition) مسترد کر دی گئی تھی۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ اگرچہ بے دخلی کا حکم صرف نہال دین کے خلاف تھا، لیکن درخواست گزار کی ملکیت دکان نمبر 270-A/W3 پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ یہ دکان پہلے ہی اپیل میں بے دخلی کے حکم سے خارج کی جا چکی تھی۔

عدالت کے اہم نکات:

1. 08.11.2013 کے اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے ذریعے دکان 270-A/W3 کو واضح طور پر بے دخلی کے حکم سے خارج کر دیا گیا تھا، اور یہ فیصلہ حتمی ہو چکا ہے۔
2. اگرچہ عملدرآمد (Ex*****on) کے ساتھ وہی پرانا نقشہ منسلک کیا گیا تھا جس میں تمام دکانیں ظاہر تھیں، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ درخواست گزار کی دکان پر بھی قبضہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ نقشہ صرف شناخت اور حدود واضح کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
3. عملدرآمد کی درخواست میں صرف دکان نمبر 270/W3 سے نہال دین کی بے دخلی مانگی گئی تھی، 270-A/W3 کا کہیں ذکر نہیں تھا۔
4. عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کا اعتراض محض اندیشے (Apprehension) پر مبنی ہے، اس کے حق پر کوئی حقیقی حملہ ثابت نہیں ہوا۔
5. عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ بظاہر اعتراضی درخواست کا مقصد درخواست گزار کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ کرایہ دار نہال دین کو مزید وقت دلوانا اور بے دخلی میں تاخیر پیدا کرنا تھا، جو قانوناً قابل قبول نہیں۔
6. عدالت نے آرٹیکل 115، قانونِ شہادت 1984 کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ:
* کرایہ دار مالک کی ملکیت کو چیلنج نہیں کر سکتا جب تک وہ کرایہ کی جائیداد کا قبضہ واپس نہ کر دے۔
* اس اصول کو قانونی محاورے “Once a tenant, always a tenant” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
7. عدالت نے مزید قرار دیا کہ جو کام کرایہ دار خود براہِ راست نہیں کر سکتا، وہ کسی تیسرے شخص کے ذریعے بالواسطہ بھی نہیں کر سکتا۔
8. اگر مستقبل میں غلطی سے درخواست گزار کی جائیداد پر قبضہ کر لیا جائے تو وہ دفعہ 144 ضابطۂ دیوانی (CPC) کے تحت قبضہ واپس لینے (Restitution) کی درخواست دے سکتی ہیں، اور ضرورت پڑنے پر عدالت حد بندی (Demarcation) بھی کرا سکتی ہے۔

فیصلہ:

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی یا اختیاری (Jurisdictional) خرابی موجود نہیں، اس لیے ان میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔

نتیجتاً آئینی درخواست خارج (Dismiss) کر دی گئی اور ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے گئے

29/07/2026

On the sacred occasion of the Urs Mubarak of Hazrat Shah Abdul Latif Bhittai (R.A.), I extend my heartfelt greetings and best wishes to the entire legal fraternity, especially the esteemed members of the Karachi Bar Association.
Shah Abdul Latif Bhittai (R.A.) dedicated his life to spreading the values of truth, justice, love, humanity, patience, and peace. His timeless teachings continue to inspire us to uphold justice without fear or favour and to stand firmly with the oppressed.
شاهه سائين فرمايو:
"جي تون بيت ڀانئين، سي آيتون آهين،
نيو من لائين، پريان سندي پار ڏي."
Translation:
"If you truly understand these verses, they are like Divine revelations. Purify your heart and let it journey towards the Beloved."
May the teachings of Shah Abdul Latif Bhittai (R.A.) inspire us to strengthen the rule of law, safeguard justice, and serve humanity with honesty, wisdom, and compassion.
May Almighty Allah bless Pakistan with peace, prosperity, and unity, and grant us the strength to uphold justice in its truest sense.
Urs Mubarak to all.
Regards,
Zafar Ali Abro
Advocate High Court, Karachi
Managing Partner
Claudius Law Firm, Karachi

2016 CLC Note 82Ex*****on – Judgment Debtor ArrestDuring ex*****on proceedings, before arresting or committing a Judgmen...
27/07/2026

2016 CLC Note 82
Ex*****on – Judgment Debtor Arrest
During ex*****on proceedings, before arresting or committing a Judgment Debtor to civil prison, the Court must first issue a show cause notice under Section 51 and Order XXI Rule 37 of the Code of Civil Procedure (CPC) and provide the Judgment Debtor an opportunity to explain.
Failure to comply with these mandatory legal requirements renders the order of arrest or detention illegal and without lawful authority.
Regards,
Zafar Ali Abro
Advocate High Court Karachi
Managing Partner, Claudius Law Firm Karachi
Cell: 03042034898
Email: [email protected]

دفعہ 155(2) Cr.P.C. کی خلاف ورزی پر درج ایف آئی آر برقرار نہیں رہ سکتی!معزز جسٹس طارق سلیم شیخ نے قرار دیا کہ اگر ابتدائ...
27/07/2026

دفعہ 155(2) Cr.P.C. کی خلاف ورزی پر درج ایف آئی آر برقرار نہیں رہ سکتی!

معزز جسٹس طارق سلیم شیخ نے قرار دیا کہ اگر ابتدائی طور پر ایف آئی آر صرف غیر قابلِ دست اندازی پولیس (Non-Cognizable) جرم پر درج کی گئی ہو، تو ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کی دفعہ 155(2) کے تحت مجاز مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر پولیس نہ ایف آئی آر درج کر سکتی ہے اور نہ ہی تفتیش کر سکتی ہے۔ بعد میں قابلِ دست اندازی پولیس (Cognizable) دفعات شامل کر دینے سے ابتدائی غیر قانونی کارروائی قانونی نہیں بن جاتی۔

مقدمہ کے حقائق

* مدعیہ (عیسائی خاتون) نے الزام لگایا کہ اس کا شوہر امیر سہیل پہلے سے اس کا شوہر ہونے کے باوجود درخواست گزار خاتون سے دوسرا نکاح کر بیٹھا۔
* نکاح کے لیے جعلی میرج سرٹیفکیٹ تیار کیا گیا اور شوہر نے خود کو غیر شادی شدہ ظاہر کیا۔
* ایف آئی آر ابتدا میں دفعہ 494 PPC (دورانِ حیات شریکِ حیات دوسرا نکاح) کے تحت درج ہوئی۔
* بعد میں پولیس نے پراسیکیوٹر کی رائے پر دفعہ 494 ختم کر کے دفعہ 420، 468 اور 471 PPC شامل کر دیں۔

عدالت کے اہم نکات

1. دفعہ 494 PPC غیر قابلِ دست اندازی پولیس (Non-Cognizable) جرم ہے۔
2. ایسے جرم میں دفعہ 155(2) Cr.P.C. کے مطابق مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر پولیس تفتیش نہیں کر سکتی۔
3. ایف آئی آر کی قانونی حیثیت اسی وقت دیکھی جاتی ہے جب وہ درج ہوئی ہو، نہ کہ بعد میں شامل کی گئی دفعات کی بنیاد پر۔
4. بعد میں 420، 468 یا 471 PPC شامل کر دینے سے ابتدائی غیر قانونی رجسٹریشن درست نہیں ہو جاتی۔
5. Altaf Hussain v. Abdul Samad (2000 SCMR 1945) کا اصول صرف اس مرحلے پر لاگو ہوتا ہے جب عدالت مقدمہ کا نوٹس لے چکی ہو (Post-Cognizance Stage)۔ موجودہ کیس میں چالان پیش ہونے اور عدالت کے نوٹس لینے سے پہلے ہی ایف آئی آر کو چیلنج کیا گیا، اس لیے وہ اصول قابلِ اطلاق نہیں۔
6. عدالت نے قرار دیا کہ عیسائی شادیوں پر نافذ Christian Marriage Act, 1872 خود دوسری شادی کو فوجداری جرم قرار نہیں دیتا۔
7. ایف آئی آر میں موجود الزامات سے دفعہ 420 PPC (Cheating) کے ضروری عناصر بھی ثابت نہیں ہوتے کیونکہ کسی شخص کو دھوکے سے جائیداد یا مال منتقل کرنے پر مجبور کرنے کا الزام موجود نہیں۔
8. دفعہ 468 اور 471 PPC بھی ابتدائی الزامات کی بنیاد پر ازخود نافذ نہیں ہوتیں۔
9. شوہر کی جانب سے دی گئی مبینہ دھمکی بھی دفعہ 503/506 PPC کے تقاضے پورے نہیں کرتی کیونکہ محض غصے میں دی گئی دھمکی، جب تک اس سے قانونی طور پر خوف پیدا کرنے کی نیت ثابت نہ ہو، Criminal Intimidation نہیں بنتی۔

عدالت کا اصول (Ratio Decidendi)

* اگر ایف آئی آر ابتدا میں صرف Non-Cognizable جرم پر درج کی گئی ہو اور مجسٹریٹ کی اجازت حاصل نہ کی گئی ہو، تو ایسی ایف آئی آر قانوناً ناقابلِ عمل ہے۔
* بعد میں Cognizable دفعات شامل کر کے اس بنیادی قانونی نقص کو دور نہیں کیا جا سکتا۔
* ایف آئی آر کی قانونی حیثیت اس وقت کے حقائق کی بنیاد پر جانچی جائے گی جب وہ درج کی گئی تھی، نہ کہ بعد میں ہونے والی تفتیش یا دفعات کی تبدیلی کی بنیاد پر۔

قانونی اہمیت

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ:

* دفعہ 155(2) Cr.P.C. لازمی (Mandatory) ہے۔
* پولیس Non-Cognizable جرم میں مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر تفتیش شروع نہیں کر سکتی۔
* بعد میں قابلِ دست اندازی دفعات شامل کرنا ابتدائی غیر قانونی کارروائی کو قانونی نہیں بناتا۔
* اس اصول کا اطلاق خاص طور پر ان مقدمات میں ہوگا جہاں ایف آئی آر کو پری کاگنیزنس (Pre-Cognizance Stage) پر چیلنج کیا جائے

24/07/2026
24/07/2026

جب چیک (قرض)کی بڑی رقم ادا ہو چکی ہو، تو باقی بقایا رقم پر سیکشن 489-F کا اطلاق مکمل نہیں ہوتا، دھوکہ دہی کا عنصر کمزور ہو جاتا ہے اور ملزم کو ضمانت پر رہائی دی جا سکتی ہے.

Cr.M BA No. 448-B of 2025 Saad Ullah Khan Vs The State Bail Petition.
Held: il --- Dishonoured cheque --- Section 489 P.P.C --- Non-prohibitory clause--- Partial payment reducing subsisting liability --- Further inquiry --- Petitioner sought post-arrest bail in a case registered under section 489-F P.P.C --- Allegation that cheque of Rs. 73,50,000/- issued towards purchase of gold was dishonoured --- Record showed that Rs. 50,00,000/- had already been paid prior to registration of FIR, leaving balance of Rs. 23,35,000/ --- Held, once substantial portion of cheque amount stood paid, cheque no longer represented existing liability in full; element of dishonest intention diluted --- Case thus called for further inquiry within meaning of Section 407 (2) Cr.P.C. ---Petition allowed; accused admitted to bail.

24/07/2026

Address

Karanchi
75400

Telephone

03042034898

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Claudius law firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share