17/02/2026
*"ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882: قانونی حیثیت اور عدالتی نظائر"*
*"جائیداد کی منتقلی: قانونی تقاضے، ناجائز دباؤ اور بارِ ثبوت کا تجزیہ"*
*"غیر منقولہ جائیداد کا انتقال: ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ اور ریونیو قوانین کی روشنی میں"*
*"معاہدات میں ناجائز دباؤ اور جائیداد کی فروخت: قانونی اصول اور عدالتی نظائر"*
2025 SCP 37
یہ کوئی عام کیس نہیں ہے جس میں کوئی شخص جو فروخت کنندہ/منتقلی کنندہ پر اثر و رسوخ رکھتا ہو، انتقال کی تصدیق کروا لے، جیسا کہ عام طور پر ہمارے ملک میں زیادہ تر مقدمات میں دیکھا جاتا ہے، جہاں کوئی شخص ناجائز دباؤ استعمال کرکے فروخت کنندہ/منتقلی کنندہ سے انتقال کی تصدیق کروا لیتا ہے، جیسے کہ بیٹا اپنے عمر رسیدہ اور بیمار والد/والدہ سے تحفے یا فروخت کے ذریعے جائیداد حاصل کر لیتا ہے، یا بھائی اپنی بہن سے، یا شوہر اپنی بیوی سے۔ اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس صورتحال میں، عدالت کے طے کردہ اصول کے مطابق، جب کوئی شخص کسی لین دین اور منتقلی کے آلے (جو رجسٹرڈ دستاویز یا انتقال ہو سکتا ہے) کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتا ہے، تو جیسے ہی وہ عدالت میں دعویٰ دائر کر کے حلفاً یہ بیان دیتا ہے کہ اس نے یہ لین دین اور منتقلی نہیں کی، تو ایسی صورت میں ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری استفادہ کنندہ (beneficiary) پر عائد ہو جاتی ہے، جسے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ لین دین اور متعلقہ دستاویز قانونی طور پر درست اور تصدیق شدہ ہے۔
تاہم، موجودہ کیس میں حالات بالکل مختلف ہیں۔ یہاں ایک بالغ شادی شدہ شخص، جس کی ایک بیٹی بھی ہے، یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے خریدار نے اغوا کیا، چار پانچ دن تک قید رکھا اور پھر انتقال کی تصدیق کروائی۔ اس نے فروخت کے لین دین سے انکار کیا ہے۔ اس صورت میں، مدعی/جواب دہندہ پر لازم تھا کہ وہ اپنی پیش کردہ کہانی کو ثابت کرتا، لیکن وہ ایسا کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ دوسری طرف، مدعا علیہ/خریدار نے عدالت میں پٹواری سمیت ریونیو افسران کو بطور گواہ پیش کیا، جنہوں نے زیر بحث انتقال کی تصدیق کی تھی۔ پٹواری (DW-3) نے انتقال کا اندراج کیا، قانگو (DW-4) اور ریونیو افسر (DW-5) نے بھی عدالت میں گواہی دی اور انتقال کے اندراج و تصدیق کی مکمل حمایت کی۔
ان حالات میں، جبکہ خریدار نے تینوں ریونیو افسران کو بطور گواہ پیش کیا، مدعی نے صرف خود بطور گواہ (PW-2) اور ایک اور گواہ مختار احمد (PW-1) کو پیش کیا، جو کہتا ہے کہ رجسٹرڈ دستاویز مدعی کو دھوکہ دے کر حاصل کی گئی۔ مزید یہ کہ وہ کہتا ہے کہ مدعی 15/16 دن تک لاپتہ تھا اور رجسٹرڈ دستاویز کو منسوخ کیا جائے۔ تاہم، مدعی کے مقدمے میں کسی رجسٹرڈ دستاویز کو چیلنج نہیں کیا گیا اور اس گواہ کے بیان کردہ لاپتہ ہونے کے دنوں کی تعداد خود مدعی کے مقدمے سے متصادم ہے۔ مدعی کی طرف سے پیش کردہ شواہد کا یہی معیار تھا۔
ان حالات میں، تینوں نچلی عدالتوں نے غلطی کی، کیونکہ انہوں نے اس کیس کو ان اصولوں کی بنیاد پر فیصلہ کیا جو ناجائز دباؤ کے تحت ہونے والے لین دین پر لاگو ہوتے ہیں، جبکہ موجودہ کیس میں ایسے کوئی حالات موجود نہیں ہیں۔ یہاں ایک بالغ شادی شدہ شخص اپنی جائیداد اپنی بیوی کے رشتہ دار کو فروخت کر رہا ہے، جو کہ عام حالات سے مختلف ہے۔
C.P.L.A.3151/2021
محمد آصف بنام امجد اقبال و دیگر
جسٹس امین الدین خان
تاریخ فیصلہ: 30-10-2024
رپورٹ شدہ: 15-02-2025
2025 SCP 37
یہ مقدمہ بنیادی طور پر انتقالِ جائیداد (Mutation of Property) کے قانونی جواز اور ناجائز دباؤ (Undue Influence) کے تحت کیے گئے لین دین سے متعلق ہے۔ اس کیس میں مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اغوا ہوا اور اس سے زبردستی جائیداد منتقل کروائی گئی، جبکہ مدعا علیہ نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے انتقال کی تصدیق کروائی۔ اس مقدمے کے تجزیے کے لیے مختلف قانونی نکات، متعلقہ دفعات اور عدالتی نظائر کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
1. انتقالِ جائیداد (Mutation) اور اس کی قانونی حیثیت
پاکستان میں انتقالِ جائیداد کا عمل زمین ریونیو ایکٹ 1967 (Land Revenue Act, 1967) کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ اس مقدمے میں انتقال کی تصدیق پٹواری، قانگو اور ریونیو افسر کی موجودگی میں کی گئی، جو کہ اس عمل کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
سیکشن 42: انتقال کا اندراج کرنا پٹواری کی ذمہ داری ہے، جو بعد میں ریونیو افسر کی نگرانی میں اس کی تصدیق کرتا ہے۔
سیکشن 44: اگر انتقال کسی دھوکہ دہی، جبر یا غلط بیانی کے ذریعے ہوا ہو تو اس کے خلاف دعویٰ دائر کیا جا سکتا ہے۔
مدعا علیہ نے تینوں ریونیو افسران کو بطور گواہ پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ انتقال قانونی طور پر ہوا، جبکہ مدعی صرف دو گواہ پیش کر سکا، جو مؤثر شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہے۔
2. ناجائز دباؤ (Undue Influence) اور دھوکہ دہی (Fraud) کے اصول
اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر ناجائز دباؤ ڈال کر کوئی معاہدہ کرایا گیا ہے، تو وہ معاہدہ سیکشن 14 اور سیکشن 19 (قانونِ معاہدات 1872) (Contract Act, 1872) کے تحت کالعدم ہو سکتا ہے، بشرطیکہ مدعی اپنے دعوے کو مضبوط شواہد سے ثابت کرے۔
سیکشن 14: کوئی بھی معاہدہ جو دھوکہ دہی، غلط بیانی یا جبر کے ذریعے کیا جائے، وہ قابلِ منسوخی ہو سکتا ہے۔
سیکشن 19: اگر معاہدہ کسی بھی فریق کی مرضی کے خلاف، غلط دباؤ کے تحت یا غلط بیانی کی بنیاد پر کرایا جائے، تو وہ غیر مؤثر ہو سکتا ہے۔
یہاں مدعی نے دعویٰ کیا کہ وہ اغوا ہوا، لیکن اس نے کوئی ایف آئی آر یا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے، جو اس کے دعوے کو کمزور بناتے ہیں۔
3. شواہد کا معیار اور بارِ ثبوت (Burden of Proof)
پاکستانی قانون میں، جو شخص کسی لین دین کو چیلنج کرتا ہے، اس پر بارِ ثبوت عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعوے کو ثابت کرے۔
قانونِ شہادت 1984 (Qanun-e-Shahadat Order, 1984) کے تحت، جب ایک شخص عدالت میں حلفیہ بیان دیتا ہے کہ اس نے کوئی معاہدہ یا انتقال نہیں کیا، تو ابتدائی طور پر بارِ ثبوت مدعا علیہ پر منتقل ہو جاتا ہے۔
تاہم، اگر مدعا علیہ قانونی شواہد (جیسے سرکاری افسران کے بیانات) فراہم کر دے، تو بارِ ثبوت واپس مدعی پر آ جاتا ہے کہ وہ ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کرے کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی۔
سیکشن 117 (Qanun-e-Shahadat Order, 1984) کے مطابق، جو شخص کوئی مخصوص دعویٰ کرے، اس پر لازم ہے کہ وہ اس کا ثبوت دے۔
اس کیس میں، مدعی نے اپنے اغوا اور دباؤ کے دعوے کے حق میں مضبوط شواہد فراہم نہیں کیے، جبکہ مدعا علیہ نے قانونی دستاویزات اور سرکاری گواہ پیش کر کے اپنا مؤقف مضبوط کر لیا۔
4. عدالتی نظائر (Precedents) اور سپریم کورٹ کے فیصلے
پاکستان میں اس نوعیت کے کئی عدالتی فیصلے موجود ہیں، جن میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی فریق دعویٰ کرتا ہے کہ جائیداد زبردستی منتقل کرائی گئی، تو اسے ٹھوس شواہد فراہم کرنے ہوں گے۔ کچھ اہم عدالتی نظائر درج ذیل ہیں:
PLD 2018 SC 95: عدالت نے قرار دیا کہ اگر زمین کا انتقال قانونی طریقہ کار کے تحت ہوا ہو اور مدعی کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کرے، تو اس کا دعویٰ مسترد کیا جائے گا۔
2020 SCMR 550: عدالت نے واضح کیا کہ صرف زبانی دعوے پر کسی قانونی دستاویز کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ واضح اور ناقابلِ تردید شواہد فراہم نہ کیے جائیں۔
PLD 2022 SC 175: اگر کوئی بالغ اور سمجھدار شخص اپنی جائیداد منتقل کرے، تو اسے بعد میں صرف یہ کہہ کر منسوخ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ دباؤ میں تھا، جب تک کہ زبردستی کے ناقابلِ تردید شواہد پیش نہ کیے جائیں۔
نتیجتاً مختصراً ۔۔
مدعی کا مقدمہ کمزور تھا کیونکہ اس نے اغوا اور جبر کے واضح شواہد فراہم نہیں کیے۔
مدعا علیہ نے مضبوط قانونی شواہد (ریونیو افسران کے بیانات) فراہم کر کے اپنا کیس ثابت کر دیا۔
نچلی عدالتوں نے قانونی اصولوں کو صحیح طریقے سے لاگو نہیں کیا اور سپریم کورٹ نے درست طور پر فیصلہ دیا کہ مدعی کا کیس ثابت نہیں ہوتا۔
عدالت کا فیصلہ درست قانونی اصولوں پر مبنی ہے، کیونکہ انتقال جائیداد کو کالعدم قرار دینے کے لیے مدعی کو ٹھوس شواہد پیش کرنا ضروری تھا، جو وہ کرنے میں ناکام رہا۔
یہ فیصلہ مستقبل میں اس قسم کے مقدمات کے لیے ایک نظیر (precedent) کے طور پر کام کرے گا، جہاں صرف زبانی دعوؤں کی بنیاد پر کسی قانونی لین دین کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ ناقابلِ تردید شواہد فراہم نہ کیے جائیں۔
کچھ مزید ایک الگ متعلقہ قوانین کی روشنی میں تجزیاتی جائزہ ۔۔۔
ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کا تجزیاتی جائزہ
یہ کیس بنیادی طور پر جائیداد کے انتقال (Mutation) اور اس کی قانونی حیثیت سے متعلق ہے، جس پر ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 (Transfer of Property Act, 1882) کے اصول بھی لاگو ہوتے ہیں۔ اس قانون کے تحت، جائیداد کی منتقلی کے کچھ مخصوص اصول اور شرائط ہیں، جو اس کیس کے تجزیے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
1. جائیداد کی منتقلی اور اس کے اصول
ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کے تحت جائیداد کی منتقلی کے لیے بنیادی شرائط درج ذیل ہیں:
سیکشن 5: "منتقلی" کا مطلب ہے کہ ایک زندہ شخص دوسرے زندہ شخص کو جائیداد منتقل کرے۔ یہ تحفے (Gift)، فروخت (Sale)، رہن (Mortgage)، لیز (Lease) یا تبادلے (Exchange) کی صورت میں ہو سکتا ہے۔
سیکشن 7: جائیداد منتقل کرنے والا شخص (Transferor) جائیداد کا مکمل مالک ہونا چاہیے اور اسے قانونی طور پر منتقل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
سیکشن 8: جائیداد کی منتقلی کے ساتھ ساتھ اس سے متعلقہ تمام حقوق، مفادات اور ذمہ داریاں بھی منتقل ہو جاتی ہیں، جب تک کہ معاہدے میں کوئی مخصوص شرط نہ ہو۔
اس مقدمے میں، مدعی (Plaintiff) کا دعویٰ تھا کہ اس سے زبردستی جائیداد کا انتقال کرایا گیا، جبکہ مدعا علیہ (Defendant) نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اس انتقال کو ثابت کیا۔
2. فروخت (Sale) اور اس کے قانونی تقاضے
چونکہ مدعا علیہ نے جائیداد خریدنے کا دعویٰ کیا، اس لیے سیکشن 54 (جو جائیداد کی فروخت سے متعلق ہے) کا اطلاق ہوتا ہے:
فروخت کے معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانونی طریقے سے کیا گیا ہو اور اگر یہ غیر منقولہ جائیداد ہے، تو اس کا رجسٹریشن ضروری ہے (اگر قیمت 100 روپے سے زائد ہو)۔
اگر معاہدہ دھوکہ دہی یا جبر کے تحت کیا گیا ہو، تو اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے مدعی پر لازم ہے کہ وہ ثبوت فراہم کرے۔
یہاں مدعی نے فروخت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا، لیکن کوئی تحریری ثبوت یا گواہ پیش نہیں کیا، جبکہ مدعا علیہ نے پٹواری، قانگو اور ریونیو افسران کی گواہیاں فراہم کیں، جنہوں نے تصدیق کی کہ فروخت قانونی طور پر ہوئی۔
3. ناجائز دباؤ اور معاہدے کی منسوخی (Undue Influence & Cancellation of Transfer)
اگر کسی معاہدے میں دھوکہ دہی (Fraud) یا ناجائز دباؤ (Undue Influence) شامل ہو، تو اسے سیکشن 53 اور سیکشن 31 کے تحت کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے:
سیکشن 53: اگر کوئی شخص دھوکہ دہی، جبر یا غلط بیانی سے جائیداد منتقل کرائے، تو وہ معاہدہ عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
سیکشن 31: اگر جائیداد کی منتقلی میں دھوکہ دہی یا غیر قانونی عمل شامل ہو، تو عدالت معاہدہ منسوخ کر سکتی ہے۔
تاہم، اس مقدمے میں مدعی نے اغوا اور ناجائز دباؤ کا دعویٰ کیا، لیکن وہ اس کا کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر سکا۔ کسی بھی قانونی معاہدے کو زبانی دعوے کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ ناقابلِ تردید شواہد فراہم نہ کیے جائیں۔
4. رجسٹریشن اور اس کی اہمیت
سیکشن 17، رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے مطابق، اگر کوئی غیر منقولہ جائیداد فروخت ہوتی ہے، تو اس کی رجسٹریشن ضروری ہوتی ہے۔
اس کیس میں، مدعی نے رجسٹریشن کو چیلنج نہیں کیا بلکہ انتقال کو چیلنج کیا، جو کہ زمین ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت ہوتا ہے اور جس کی تصدیق متعلقہ افسران پہلے ہی کر چکے تھے۔
5. سپریم کورٹ کا مؤقف اور فیصلہ
سپریم کورٹ نے درست طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ:
جائیداد کی منتقلی قانونی طور پر ہوئی کیونکہ مدعا علیہ نے تینوں ریونیو افسران کی گواہی فراہم کی۔
مدعی نے اغوا اور دباؤ کا دعویٰ کیا لیکن کوئی ایف آئی آر، میڈیکل رپورٹ یا دیگر شواہد پیش نہیں کیے، جو اس کا مقدمہ کمزور کرتا ہے۔
ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کے تحت، جب جائیداد قانونی طور پر منتقل ہو چکی ہو، تو مدعی پر لازم ہے کہ وہ اس کے غیر قانونی ہونے کے ثبوت فراہم کرے، جو وہ نہیں کر سکا۔
نتیجہ
ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کے تحت، جائیداد کا انتقال قانونی تھا کیونکہ مدعا علیہ نے تمام متعلقہ گواہ اور دستاویزات پیش کیں۔
بارِ ثبوت (Burden of Proof) مدعی پر تھا کہ وہ ثابت کرے کہ اس پر دباؤ ڈالا گیا، جو وہ نہیں کر سکا۔
عدالت کا فیصلہ درست ہے کیونکہ محض زبانی دعوے کی بنیاد پر رجسٹرڈ انتقال کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ کیس ایک اہم نظیر (Precedent) کے طور پر کام کرے گا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ اگر جائیداد کی فروخت قانونی طور پر ہوئی ہو، تو اسے محض زبانی دعوے پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔