S.A Gopang & Agha Idrees Law Firm

S.A Gopang & Agha Idrees  Law Firm This page looks like

TRANSFER AND POSTING OF ADDITIONAL DISTRICT AND SESSIONS JUDGES BY THE HONOURABLE SINDH HIGH COURT KARACHI.
01/08/2026

TRANSFER AND POSTING OF ADDITIONAL DISTRICT AND SESSIONS JUDGES BY THE HONOURABLE SINDH HIGH COURT KARACHI.

وکلاء اتحد زندہ باد ✌️ The SHO Gulbahar has been reverted and Suspended.  . Sindh Bar Council Sindh High Court Bar Assoc...
31/07/2026

وکلاء اتحد زندہ باد ✌️

The SHO Gulbahar has been reverted and Suspended.

.

Sindh Bar Council
Sindh High Court Bar Association Karachi

ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتاجو خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتے ہیں، انہوں نے اپنی ناکامی...
31/07/2026

ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
جو خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتے ہیں، انہوں نے اپنی ناکامی اور عوامی ردِعمل کے خوف میں پورے سندھ میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، تاکہ عوامی اجتماعات، جلسے، جلوس اور احتجاجی مظاہرے روکے جا سکیں۔
جمہوریت کا دعویٰ اور عوام کی آواز پر پابندی—یہ کھلا تضاد اور آمریت کی عکاسی ہے۔

دیت 2026-27حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے دیت کی رقم 1 کروڑ 93 لاکھ 52 ہزار 390 روپے مقرر کر دی ہے، جو 30,630...
29/07/2026

دیت 2026-27
حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے دیت کی رقم 1 کروڑ 93 لاکھ 52 ہزار 390 روپے مقرر کر دی ہے، جو 30,630 گرام چاندی کی مالیت کے برابر ہے۔ یہ نوٹیفکیشن 27 جولائی 2026ء کو جاری کیا گیا۔

🚨سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم کر دیں۔📌کوڈ آف کنڈکٹ کا اطلاق اب وفاقی آئینی عدالت اور وفاقی شرعی عدا...
13/06/2026

🚨سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم کر دیں۔
📌کوڈ آف کنڈکٹ کا اطلاق اب وفاقی آئینی عدالت اور وفاقی شرعی عدالت ججز پر بھی ہو گا۔
📌کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت ججز کے سوشل کلچرل، پولیٹیکل، ڈپلومیٹک فنکشنز میں شامل ہونے پر پابندی
✅ترمیم کے بعد ججز صرف سیاسی اور ڈپلومیٹک فنکشنز میں چیف جسٹس کی اجازت سے شمولیت کر سکیں گے
🚨کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 15 کے پیرا 2 اور 3 میں ترمیم کر کے وفاقی آئینی عدالت کا نام بھی شامل کردیا گیا ہے
(13-Jun-2026).

ضلعی عدلیہ کے لیے چھ روزہ ورکنگ ہفتہ بحال کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے 03 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا نوٹ...
12/06/2026

ضلعی عدلیہ کے لیے چھ روزہ ورکنگ ہفتہ بحال کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے 03 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے اور یہ 15 جون 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ اس کے مطابق ضلعی عدلیہ کے لیے چھ روزہ ورکنگ شیڈول کو بحال کر دیا گیا ہے۔
#چھ دن کام کرنا
#اطلاع
#چیف جسٹس آف پاکستان

24/05/2026

‏پاکستان آج تاریخ کے سیاہ ترین دور سے گزر رہا ہے جہاں سرحدیں غیر محفوظ ہیں اور عوام لاوارث۔ یہ تباہی اس وقت شروع ہوئی جب اداروں نے حلف کی پاسداری چھوڑ کر سیاست کو اپنی جاگیر سمجھ لیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا .”
کہ بلوچستان میں حالات اتنے خراب نہیں جتنے خیبرپختونخوا میں ہیں، اور بلوچستان میں دہشتگردی پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔.”
پھر محسن نقوی جو 26 نومبر ڈی چوک پرامن لوگوں کا قاتل ہے نے کہا .”بلوچستان میں دہشتگردی ایک ایس ایچ او کی مار ہے۔.”
بلوچستان میں معصوم شہریوں کی ٹرین کو دھماکے سے اڑا دیا گیا، درجنوں گھر اجڑ گئے اور پورا ملک سوگوار ہے، مگر افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں اور مقتدر حلقوں میں مجرمانہ خاموشی ہے۔ جب ریاست کی تمام تر طاقت، انٹیلیجنس، وسائل اور توجہ صرف ایک سیاسی جماعت کو کریش کرنے، سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے اور ایک مقبول لیڈر کو دیوار سے لگانے پر لگی ہو، تو سرحدیں اور معصوم شہری ایسے ہی لاوارث چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ دشمن فائدہ اٹھا رہا ہے کیونکہ ہمارے محافظوں کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ اب بھی وقت ہے، اس سیاسی انتقام کے تماشے کو بند کریں اور ملک کی سلامتی پر توجہ دیں۔
جب تک ادارے اپنی آئینی حدود سے باہر نکل کر ملک چلانے کی کوشش کریں گے، ریاست ایسے ہی جلتی رہے گی۔ اصل دشمن دندناتا پھر رہا ہے اور محافظ سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ ملک کو اس نہج پر پہنچانے کے ذمہ دار وہی ہیں جنہوں اپنی اصل ذمہ داری چھوڑ کر سیاست کو اپنا میدان بنا لیا۔

سندھ بار کونسل نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرلیاسندھ بار کونسل کے 12 منتخب اراکین نے مشترکہ پریس ...
21/05/2026

سندھ بار کونسل نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرلیا
سندھ بار کونسل کے 12 منتخب اراکین نے مشترکہ پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے مبینہ 28ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ ترمیم کو خفیہ رکھا گیا ہے، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق اس میں صوبائی حدود میں تبدیلی، صوبوں کی رضامندی کی شرط ختم کرنے، ووٹنگ کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے، معدنیات اور آبادی جیسے اختیارات صوبوں سے واپس لینے اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کم کرنے جیسی تجاویز شامل ہیں۔
سندھ بار کونسل کے اراکین نے کہا کہ یہ ترامیم وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری اور آئین کی بنیادی روح کے خلاف ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار ضرور حاصل ہے، لیکن وہ ریاست کے بنیادی وفاقی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کرسکتی۔
پریس ریلیز میں خبردار کیا گیا کہ اگر صوبوں کے آئینی حقوق کمزور کیے گئے تو اس سے قومی یکجہتی اور وفاقی توازن متاثر ہوگا۔ بار کونسل نے اس عمل کو غیر آئینی، غیر جمہوری اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ترامیم ماضی کی تلخ تاریخ کو دوبارہ زندہ کرسکتی ہیں۔
سندھ بار کونسل کے اراکین نے اعلان کیا کہ وہ آئین، وفاقیت، صوبائی خودمختاری اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

معزز جج صاحب کی شکایت پر ایک سینئر وکیل کا لائسنس معطل کر دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ اگر دورانِ معطلی وہ وکالت کرتے پائ...
15/05/2026

معزز جج صاحب کی شکایت پر ایک سینئر وکیل کا لائسنس معطل کر دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ اگر دورانِ معطلی وہ وکالت کرتے پائے گئے تو ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی ہوگی۔ قانون اور ضابطے اپنی جگہ اہم ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ یہی سنجیدگی اُن عناصر کے خلاف کیوں نظر نہیں آتی جو روزانہ سندھ کی عدالتوں میں جعلی وکلا، ٹاؤٹس اور دو نمبر لوگوں کی صورت میں اس پیشے کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟

افسوس یہ ہے کہ ایسے افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کم دکھائی دیتی ہے، بلکہ بعض اوقات بار کی نمائندگی کرنے والے لوگ بھی انہی عناصر کو اپنے ساتھ رکھتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان وکلا کے ذہنوں میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ یہ کسی سیاست یا ذاتی مخالفت کی بات نہیں۔ اگر قانون صرف چند لوگوں کے لیے سخت اور باقیوں کے لیے خاموش رہے گا تو پھر اعتماد ختم ہوتا جائے گا۔

ہم ہر اُس عمل کی مذمت کرتے ہیں جو وکالت کے پیشے کے وقار کے خلاف ہو۔ سندھ بار کونسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کہ آخر آپ کتنے لوگوں کے لائسنس معطل کریں گے؟

* ADVOCATE  AGHA IDRESS 03453548336�“*نکاح نامہ میں درج مہر کو ہلکا نہ لیں!عدالت کا بڑا فیصلہاس آئینی درخواست کے ذریعے د...
15/05/2026

* ADVOCATE AGHA IDRESS 03453548336
�“*نکاح نامہ میں درج مہر کو ہلکا نہ لیں!عدالت کا بڑا فیصلہ
اس آئینی درخواست کے ذریعے درخواست گزار نے فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ جج وہاڑی کے مورخہ 12.10.2024 اور 18.12.2024 کے فیصلوں کو چیلنج کیا ہے، جن کے ذریعے مدعا علیہ نمبر 3 (بیوی) کا حق مہر کی وصولی کا دعویٰ منظور کیا گیا۔
* ADVOCATE AGHA IDRESS 03453548336
فریقین کی شادی 18.04.2011 کو ہوئی۔ نکاح کے وقت مہر 5000 روپے نقد، 5 تولہ چاندی اور 10 تولہ سونا مقرر ہوا۔ بیوی کا مؤقف تھا کہ مہر ادا نہیں ہوا، اس لیے وہ اس کی حقدار ہے۔ شوہر نے کہا کہ صرف 5000 روپے طے ہوئے اور ادا بھی کر دیے گئے، باقی اندراجات جعلی ہیں۔

ٹرائل کورٹ نے ثبوت سن کر دعویٰ منظور کیا، اپیل میں بھی فیصلہ برقرار رہا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نچلی عدالتوں نے شواہد کو غلط پڑھا اور 10 تولہ سونا دینے کا حکم قانون کے خلاف ہے کیونکہ اس کی قیمت 5 لاکھ روپے درج تھی۔

دوسری طرف بیوی کے وکیل نے کہا کہ نکاح نامہ ایک عوامی دستاویز ہے، جسے درست مانا جاتا ہے، اور شوہر اس کو غلط ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت نے قرار دیا کہ:
• نکاح نامہ درست ہے اور شوہر نے اس پر دستخط تسلیم کیے۔
• شوہر نے اس کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔
• مہر کی تمام اشیاء (نقد، چاندی، سونا) الگ الگ اور جمعی حیثیت رکھتی ہیں۔

خصوصاً 10 تولہ سونے کے بارے میں عدالت نے کہا کہ:
• اصل چیز سونا ہے، قیمت صرف اندازہ (indicative) ہے۔
• یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صرف رقم ادا کرنی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ:
• اگر سونا نہ دیا جائے تو اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو وصول کی جا سکتی ہے۔
• نچلی عدالتوں کے فیصلے درست ہیں اور ان میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔

لہٰذا درخواست خارج کر دی گئی۔



🔹 خلاصہ (Precise Summary)

یہ کیس حق مہر کی وصولی سے متعلق تھا، جس میں:
• نکاح نامہ کے مطابق مہر = 5000 روپے + 5 تولہ چاندی + 10 تولہ سونا
• شوہر نے سونے اور چاندی کو جعلی قرار دیا
• عدالت نے کہا:
• نکاح نامہ ایک مستند دستاویز ہے
• شوہر اس کو غلط ثابت نہیں کر سکا
• مہر ایک مخلوط (composite) حق ہے (یعنی تمام اجزاء الگ الگ واجب الادا ہیں)

🔸 اہم نکتہ:
• 10 تولہ سونا ایک مستقل حق ہے
• 5 لاکھ روپے صرف اس کی اندازاً قیمت ہے، متبادل نہیں
• اگر سونا نہ دیا جائے تو اس کی مارکیٹ ویلیو (ex*****on کے وقت) ادا ہوگی

🔸 نتیجہ:
• نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار
• آئینی درخواست مسترد
* ADVOCATE AGHA IDRESS 03453548336

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when S.A Gopang & Agha Idrees Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share