Asif Razzak,PSP

Asif Razzak,PSP Former SSP Crime Branch-1, Karachi, is now available as a legal consultant and provides security services in East Zone Karachi. Contact #
0321-9889999

شطرنج کا سلطان! شطرنج مقبول ترین دماغی کھیلوں میں سب سے اعلیٰ مقام پر ہے. سچ پوچھیں تو اس کھیل کی قدر مجھے انگلینڈ  آنے ...
19/07/2026

شطرنج کا سلطان!
شطرنج مقبول ترین دماغی کھیلوں میں سب سے اعلیٰ مقام پر ہے. سچ پوچھیں تو اس کھیل کی قدر مجھے انگلینڈ آنے کے بعد سمجھ آئی ، جب لندن کے کاٹھے گوروں والے رائل آٹوموبیل کلب میں برطانوی رؤساء کو شطرنج پر فدا ہوتے دیکھا. یہیں پہلی مرتبہ روسی شطرنج جینیس گیری کیسپروف سے ملاقات ہوئی جو انسانی تاریخ کا ذہین ترین شخص سمجھا جاتا ہے. کیسپروف وہ شخص ہے جس نے 1996 میں سپر کمپیوٹر کو مقابلے میں شکست دی تھی.
ایک پکے رنگ کا شخص تقریباً دو درجن سوٹڈ بوٹڈ گوروں کے ساتھ شطرنج کھیل رہا تھا. گورے میزوں ہر شطرنج بچھائے بیٹھے تھے اور وہ درمیان میں اپنی کمر پر ہاتھ رکھے کھڑا بڑی کمال محویت سے بازی کھیل رہا تھا. معلوم ہوا پکے رنگ کا یہ شخص وادی سون سکیسر کا سلطان خان ہے جو کہ دو درجن ٹاپ برطانوی کھلاڑیوں کے ساتھ اکیلا شطرنج کھیل رہا تھا. سلطان خان نے 1931 میں ان سب لوگوں کو شطرنج کے میدان میں، تن تنہا شکست دے دی تھی".
سلطان خان، سرگودھا کے علاقے مٹھہ ٹوانہ میں پیدا ہوا تھا. اس کا باپ نظام الدین مقامی مسجد کا امام تھا اور ساتھ ہی کلاسیکی ہندوستانی شطرنج کا کھلاڑی بھی تھا. سلطان خان کے نو بہن بھائی تھے. بچپن میں جب سلطان نے اپنے باپ سے شطرنج سیکھنے کی فرمائش کی تو الٹا پٹائی ہوئی اور اسے کہا گیا کوئی ڈھنگ کا کام کرو. سلطان نے چوری چھپے شطرنج کھیلنی شروع کردی تو وہ سرگودھا بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے جاگیر دار اور رئیس سر عمر حیات خان ٹوانہ کی نظر میں آگیا. عمر ٹوانہ شہنشاہ جارج پنجم کا اے ڈی سی بھی تھا جس نے دو سال سلطان کو کھیل کی تربیت دلوائی. 1926 میں وہ آل انڈیا چیمپئن بن چکا تھا. عمر ٹوانہ اسے ایک ٹرافی کے طور پر لندن کے امپیریل چیس کلب میں لے کر آیا. 1929 میں مٹھہ ٹوانہ کا سلطان خان برٹش چیمپئن بن چکا تھا اور یہ وقت تھا جب سلطنت برطانیہ میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا.
میں نے جب سلطان خان پر پڑھنا شروع کیا تو دنگ رہ گیا. وہ عمر ٹوانہ کا ایک مزارع تھا جو چٹا ان پڑھ تھا اور اسے انگریزی بولنی بھی نہیں آتی تھی مگر وہ اپنے وقت کی معلوم دنیا میں سب سے مشکل ترین کھیل کا سب سے بڑا کھلاڑی تھا. اس نے بمشکل ایک دو سال انگریزی شطرنج سیکھی جو کلاسیکی ہندوستانی شطرنج سے مختلف تھی. گورے جو ہندوستانیوں کو غلام اور کمتر سمجھتے تھے وہ دانتوں میں انگلیاں دبائے اس کا کھیل دیکھتے تھے. 1931 میں اس نے دنیا کا سب سے بڑا چیلنج قبول کرتے ہوئے بیک وقت شطرنج کے چوٹی کے 33 کھلاڑیوں کے ساتھ ایک ساتھ میچ کھیلا، 26 گیمز جیتے، 4 برابر کیے اور تین ہارے .
1930 میں سلطان خان نے سلطنت برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے چیس کے ورلڈ چیمپئن ہوزے کاپابلانکا کو شکست دے دی.
سلطان خان نے لندن میں ایک تہلکہ مچا دیا. ایک ہندوستانی جو دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کے ذہین ترین لوگوں ہر بھاری تھا. کچھ چوٹی کے امریکی کھلاڑی اس سے ملنے کے لیے گئے تو ان کی ملاقات عمر ٹوانہ سے ہوئی جو کافی دیر تک ان کے سامنے اپنے گرے ہاؤنڈ کتوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور اپنی امارت کے بارے میں ہانکتا رہا. "تمہاری خوش قسمتی ہے کہ میں تم سے مل رہا ہوں ورنہ شام کا یہ وقت میں صرف اپنے کتوں کے ساتھ گزارتا ہوں". کھلاڑی یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ وہ جس شخص کا انٹرویو کرنے آئے تھے وہی ان کے لیے چائے بنا کر لایا تھا. دنیا کے ذہین ترین لوگوں میں سےایک عمر ٹوانہ کا محض ایک چاکر تھا.
میں نے درجنوں گورے صحافیوں کی سلطان خان پر تحریریں پڑھیں. بار بار یہی پڑھنے میں آیا کہ وہ انگلش کے دوچار الفاظ ہی بول سکتا تھا. سلطان خان لمبوترے چہرے والا، پکے رنگ کا شخص تھا. چہرہ پوکر فیس تھا یعنی جذبات سے بالکل عاری... جب وہ شطرنج کھیلتا تھا تو لگتا تھا کہ دنیا میں اور کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے. بس صرف اس کے جبڑے کی ہڈی ہلتی ہوئی محسوس ہوتی تھی. سلطان خان برطانیہ میں 1929 سے لے کر 1934 تک موجود رہا اور اس دوران لندن کے موسم سے شدید تنگ رہا کیونکہ اسے مسلسل زکام رہنے لگا تھا. پانچ سال وہ سلطنت برطانیہ میں شطرنج کا سب سے بڑا کھلاڑی رہا. عمر ٹوانہ ہندوستان واپس جاتے ہوئے سلطان خان کو ساتھ لے گیا اور پھر کسی نے سلطان خان کا نام نہ سنا.
1944 میں سلطان خان نے تب کے وائسرائے ہند کے ساتھ میچ کھیلا اور اسے شکست دے دی. اسی وقت کے آس پاس عمر حیات ٹوانہ کا انتقال ہوگیا اور سلطان خان نے واپس مٹھہ ٹوانہ جا کر اپنی زمینوں پر کاشتکاری شروع کردی. سلطان خان 63 برس کی عمر میں ٹی بی کی وجہ سے خون تھوکتے ہوئے رب سے جاملا. اس نے اپنے کسی بھی بچے کو شطرنج نہیں سکھائی کیوں کہ وہ انہیں کہتا تھا "تم زندگی میں کوئی ڈھنگ کا کام کرنا سیکھو". میر سلطان خان کا بیٹا اطہر سلطان بعد میں آئی جی پولیس پنجاب کے عہدے تک پہنچا.سلطان خان کی ہوتی عطیہ سلطان نے کیمبرج یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی بے.
میر سلطان خان آج بھی شطرنج کے کھیل کے لیجنڈ کے طور پر پہچانا جاتا ہے. اپنے وقت کے سب سے بڑے رئیس سر عمر حیات ٹوانہ کے بارے میں شاید کوئی نہیں جانتا لیکن سلطان خان کے بارے میں ابھی بھی کتابیں چھپتی ہیں اور لکھے والے اس نابغہ روزگار شخص کے بارے میں سوچتے ہیں جس نے ایک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا. ایک چٹا ان پڑھ کاشتکار جو اپنے سکور کی گنتی بھی پنجابی میں لکھتا تھا اور اپنے مخالف کو تیز عقابی نظروں سے دیکھتا رہتا تھا. جب اس سے پوچھا جاتا تھا کہ تمہیں کون سی زبان بولنی آتی ہے تو وہ کندھے اچکا کر ایک لفظ کہتا تھا "چیس".
واقعی پوری دنیا میں یہ زبان اس سے بہتر بولنے والا کوئی نہیں تھا.
میرے لیے میر سلطان خان بھی ایک ہیرو سے کم نہیں،جس نے غلام ہندوستان کا ایک "تھرڈ کلاس" باشندہ ہوتے ہوئے وائسرائے ہند سے لے کر دنیا کے بہترین دماغوں کو شطرنج کے میدان میں چت کردیا تھا اور پاکستان کے قیام سے پہلے ہی ثابت کردیا تھا کہ پاکستانی دماغ دنیا میں کسی سے کم نہیں ہے.

05/07/2026

بلوغت کا مفہوم کی زبانی
جب ماں نے بالغ ہونے کا اصل مطلب سمجھایا۔

18 سال کا ایک نوجوان اپنی ماں کے پاس آیا اور بولا:
امّی ! اگلے ہفتے میں 18 سال کا ہو جاؤں گا، اس لیے اب کچھ قوانین بدل جائیں گے۔

میرا کرفیو رات 10 بجے نہیں بلکہ 2 بجے ہوگا، میں کہیں جانے کے لیے اجازت نہیں مانگوں گا، صرف اطلاع دوں گا اور اب چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری بھی میری نہیں ہوگی۔
اور ہاں امّی! اگر میری کسی بات پر آپ ناراض بھی ہوں تو اب مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتیں، کیونکہ اب یہ قانوناً زیادتی یا حملہ شمار ہوگا۔

ماں نے سکون سے ساری بات سن لی اور کہا: ٹھیک ہے،
چونکہ تم بالغ ہو رہے ہو، تو میری طرف سے بھی چند تبدیلیاں ہوں گی۔
اب اپنی سواری کا انتظام خود کرو، اپنا کھانا خود بناؤ، نوکری تلاش کرو اور بجلی کے بل میں حصہ ڈالو اور یاد رکھو، رات 10 بجے کے بعد میرے گھر کا دروازہ بند ہو جائے گا؛ جہاں جاؤ گے، وہیں رات گزارو گے اور بیٹا! یہ جو تم نے کہا کہ اب مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا جا سکتا، تو اطمینان رکھو، میں بھی اب تمہیں بچہ نہیں سمجھوں گی۔ اگر کبھی معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچا تو سیدھا پولیس کو بتاؤں گی کہ ایک جوان آدمی اپنی ماں سے الجھ رہا تھا۔

کیوں؟ منظور ہے یہ نیا معاہدہ؟
یہ سن کر نوجوان فوراً بولا:

"امّی، اگر اجازت ہو تو میرا کرفیو 10 بجے ہی رہنے دیں!

زندگی میں حقوق اور آزادیوں کا مطالبہ کرنا آسان ہے، لیکن ان کے ساتھ آنے والی ذمہ داریوں کو قبول کرنا ہی حقیقی بلوغت اور پختگی کی علامت ہے۔

✒️ : ڈاکٹر جاوید افضال

29/06/2026

*ایڈیشنل آئی جی سندھ مظفر علی شیخ کا کہنا ہے کراچی سندھ پولیس میں افسران و اہلکاروں کے لیے 24 گھنٹے ویلفیئر فسیلیٹیشن ڈیسک قائم کردی گئی ہے*

*پولیس اہلکار اور ان کے اہلِ خانہ ویلفیئر معاملات میں براہِ راست رہنمائی حاصل کر سکیں گے*

*ویلفیئر فسیلیٹیشن ڈیسک کی ہاٹ لائن 1049 اور 1058 جاری*

*سندھ پولیس ویلفیئر ڈیسک کا واٹس ایپ نمبر 0335-7224422 فعال*

*ویلفیئر فسیلیٹیشن ڈیسک کی لینڈ لائن 021-99212658 پر بھی رابطہ ممکن*

*شہداء، مرحوم، حاضر سروس اور ریٹائرڈ پولیس اہلکار ویلفیئر سہولت سے مستفید ہوں گے*

*پنشن، کلیمز اور ویلفیئر درخواستوں کی موجودہ صورتحال سے فوری آگاہی دی جائے گی*

*سندھ پولیس ہیلتھ کارڈ سے متعلق مکمل رہنمائی ویلفیئر ڈیسک فراہم کرے گا*

*ایمرجنسی صورتحال میں بڑے نجی و سرکاری اسپتالوں سے فوری کوآرڈینیشن ہوگی*

*آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل آئی جی سندھ مظفر علی شیخ اور اے آئی جی پولیس ویلفئیر کیپٹن حیدر رضا کی ہدایت پر تمام زونز، اضلاع اور تھانوں میں ہیلپ لائن کی تشہیر کا حکم*

*ایڈیشنل آئی جی سندھ مظفر علی شیخ ایک بہترین پولیس افسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ملنسار شخصیت کے مالک ہیں جو پولیس اہلکاروں کے لیے سندھ پولیس میں ویلفیئر کے معاملات میں شفافیت اور بروقت سہولت یقینی بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ ہم اپنے پولیس کے جوانوں اور اہلکاروں کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کر سکیں**

As received, محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا، والد کا شت کار تھا، گائوں میں صرف پرائمری سکول تھا، محمد ب...
29/06/2026

As received,
محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا، والد کا شت کار تھا، گائوں میں صرف پرائمری سکول تھا، محمد بوٹا نے پانچویں پاس کر لی تو تعلیم کا سلسلہ ختم ہوگیا اور کھیتوں میں کام شروع ہوگیا، یہ ہل جوتتا تھا، فصلوں کو پانی لگاتا تھا، گوڈی کرتا تھا اور فصل پکنے پر کٹائی بھی کرتا تھا، پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر عبدالمجید اس کی صلاحیتوں سے واقف تھے، وہ اس کے والد کے پاس آئے اور انہیں سمجھایا، چودھری یہ تمہارا اکلوتا بیٹا ہے، باصلاحیت ہے، اللہ کا واسطہ ہے اسے آگے پڑھنے دو۔

اس زمانے میں ہائی سکول کی فیس تین روپے ہوتی تھی، والد کے لیے یہ بھی مشکل تھی، بہرحال استاد کی عزت ہوتی تھی چناں چہ ہیڈماسٹر کی سفارش پر بوٹا صاحب کو میاں چنوں میں داخل کرا دیا گیا، اسے صرف آٹھویں جماعت تک پڑھنے کی اجازت ملی تھی، اس زمانے میں انگریزی زبان چھٹی جماعت سے شروع ہوتی تھی، محمد بوٹا نے چھٹی جماعت میں اے بی سی سیکھی اور انگریزی زبان سے لگائو پیدا ہوگیا۔

والد گھر چلانے کے لیے گرمیوں میں صادق آباد میں ٹھیکے پر آم کے باغ لیتے تھے، یہ گرمیوں کی چھٹیوں میں والد کے ساتھ صادق آباد جاتا تھا، ٹوٹے پھوٹے ڈیروں میں رہتا تھا اور والد کے ساتھ مل کر آم توڑتا اور منڈی میں بیچتا تھا اور سہ پہر کے بعد آم کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھتا تھا، آٹھویں جماعت میں اس کی دوسری پوزیشن آ گئی اور اسے 16 روپے وظیفہ مل گیا، ہیڈماسٹر عبدالمجید دوبارہ اس کے والد کے پاس آئے اور انہیں سمجھایا آپ کا بیٹا اب اپنے تعلیمی اخراجات خود اٹھا سکتا ہے، اسے 16 روپے ماہانہ ملیں گے، میں ہیڈ ماسٹر سے بات کرکے اسے بورڈنگ ہائوس میں رکھوا دوں گا جس کے بعد یہ وظیفہ 32 روپے ہو جائے گا، تم اسے میٹرک تک تعلیم کی اجازت دے دو۔

والد اس مرتبہ بھی ہیڈماسٹر کو انکار نہیں کر سکے یوں محمد بوٹا کو میٹرک تک تعلیم کی اجازت مل گئی، محمد بوٹا کے اب تین کام ہوتے تھے، 32 روپے میں گزارہ کرنا، دن رات پڑھتے رہنا اور چھٹیوں میں والد کے ساتھ آم توڑ کر بیچنا، بوٹا صاحب کو رات کے وقت پڑھنے کا موقع ملتا تھا، گھر میں بجلی نہیں تھی لہٰذا یہ لالٹین کی مدہم روشنی میں پڑھتے تھے، گائوں کے وسطی چوک میں بجلی کے کھمبے پر چھوٹا سا مرکری بلب بھی تھا، یہ خوف ناک گرمیوں میں ہزاروں پتنگوں کی بارش میں قمیض اتار کر اس بلب کے نیچے بھی پڑھتے تھے، انہیں مشورہ دینے والا کوئی نہیں تھا لہٰذایہ نویں جماعت میں غلطی سے سائنس کی بجائے آرٹس رکھ بیٹھے، یہ اس حماقت پر طویل عرصہ تک پچھتاتے رہے۔

بہرحال میٹرک میں بھی انہوں نے سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی، وظیفہ ملا اور یہ انٹرمیڈیٹ کالج میں داخل ہو گئے، وظیفہ کم تھا اور اخراجات زیادہ لہٰذا یہ تعلیم کے ساتھ ساتھ میاں چنوں کی لائبریری میں دس روپے ماہانہ پر پارٹ ٹائم ملازم ہو گئے، یہ اب روزانہ فجر کے وقت جاگتے، کھیتوں میں جا کر سبزیاں چنتے، ٹوکریوں میں ڈالتے، سر پر رکھ کر منڈی لاتے، اس کے بعد کالج جاتے، کالج کے بعد لائبریری میں جاب کرتے، شام کے وقت گھر آتے، دیر تک پڑھتے اور تھک ہار کر سو جاتے، یہ ان کی روز کی روٹین تھی، اس دوران والد مزدوری کے لیے حیدر آباد گئے اور ان کا وہاں اچانک انتقال ہوگیا۔
آپ محمد بوٹا کے حالات دیکھیے، ان کے گھر میں میت لانے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے، انہوں نے چچائوں اور پھوپھیوں سے پیسے مانگے تو انہیں مشورہ دیا گیا میت کو میاں چنوں لانے کی کیا ضرورت ہے اسے وہیں دفن کر دو، یہ سن کر یہ رو پڑے، انہوں نے اس وقت سگے رشتے داروں کی آنکھیں بدلتی دیکھیں، بہرحال یہ بڑی مشکل سے پیسے جمع کرکے حیدر آباد گئے، میت واپس لے کر آئے تو ان کی پھوپھی نے اپنے سو روپے کی واپسی کا مطالبہ کر دیا، اب صورت حال یہ تھی والد کا جنازہ صحن میں پڑا تھا اور پھوپھی اپنے سو روپے واپس مانگ رہی تھی، بوٹا صاحب نے اسے سو روپے دے دیے تو دوسری دونوں پھوپھیوں نے بھی اپنے اپنے پیسے مانگ لیے، بوٹا نے یہ رقم ادا کی تو ان کے پاس صرف ڈیڑھ سو روپے بچ گئے، انہوں نے ان سے والد کی تدفین کی۔

یہ والد کے انتقال کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ کر لاہور آ گئے، اپنے گائوں کے مالی کے سرونٹ کوارٹر میں رہے، بھنے چنے کھاتے تھے، نلکے کا پانی پیتے تھے اور نوکری کے لیے دردر دھکے کھاتے تھے، انہوں نے اس دوران نرسری میں ستر روپے ماہانہ پر مالی کا کام بھی کیا اور ٹیوشن سنٹر میں سو روپے ماہانہ پر نوکری بھی کی، یہ ٹیوشن سنٹر کے فرش پر سوتے رہے، یہ اس دوران اداکار محمد علی کے پاس بھی نوکری کے لیے گئے، یہ بھی ایک عجیب داستان تھی۔

بہرحال یہ لاہور سے مایوس ہو کر میاں چنوں واپس آگئے اور قریشی خاندان کے بچوں کو ٹیوشن پڑھانے لگے، یہ سلسلہ بھی زیادہ دن نہ چل سکا لہٰذا یہ دوبارہ لاہور آئے اور ہاتھ سے چپس کے فرش رگڑنے کا کام شروع کر دیا، اس سے انہیں روزانہ ساڑھے چار روپے ملتے تھے، یہ اس کے ساتھ ساتھ نرسری میں بھی کام کرتے تھے جس کے عوض انہیں چائے کا کپ اضافی ملتا تھا، یہ اس کے بعد بس کنڈیکٹر بن گئے اور بس کے ساتھ لٹک کر سواریاں بٹھانے لگے لیکن آپ ان کا کمال دیکھیے یہ ان تمام تر نامساعد حالات کے باوجود بی اے کی پرائیویٹ تیاری بھی کرتے رہے، بی اے کے امتحانات پرائیویٹ دیے اور پاس ہو گئے۔

انہوں نے اس کے بعد ایم اے میں داخلے کے لیے مختلف لوگوں سے قرض حسنہ مانگا لیکن سب نے انکار کر دیا مگر اس کے باوجود انہوں نے لائبریری سائنس میں داخلہ لے لیا اور شام کے وقت یہ ایک وکیل کے دفتر میں پارٹ ٹائم کام کرنے لگے جس سے ان کے ہاسٹل کی فیس اور کھانے کا خرچ نکل آتا تھا، لائبریری سائنس میں ماسٹر کے بعد انہیں پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری میں ملازمت مل گئی یوں زندگی میں پہلی بار سکھ کا سانس نصیب ہوا، بوٹا صاحب نے نوکری کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ کالج میں ایم اے انگریزی میں داخلہ لے لیا، یہ ایم اے کر رہے تھے تو ایک کلاس فیلو سے ملاقات ہوئی، اس نے تازہ تازہ سی ایس ایس کیا تھا، یہ اس سے متاثر ہوگئے اور سی ایس ایس کرنے کا فیصلہ کر لیا، انہوں نے اس فیصلے کے بعد ایم اے انگریزی ادھورا چھوڑا اور ایل ایل بی کر لیا۔
1977ء میں انہوں نے سی ایس ایس کی تیاری شروع کی، یہ میاں چنوں سے لاہور کے لیے بس میں بیٹھتے تھے اور کسی ایسی سیٹ کا انتخاب کرتے تھے جس کے اوپر لائیٹ ہو، پانچ گھنٹے کے سفر کے دوران یہ پڑھتے رہتے تھے، رات کے وقت گلی میں چار پائی ڈال کر سٹریٹ لائیٹ کی روشنی میں بھی پڑھتے تھے، اس عالم میں پڑھ کر سی ایس ایس کا امتحان دیا اور تحریری امتحان میں تیسری پوزیشن لے لی، جنرل عتیق الرحمن اس وقت فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین تھے، محمد بوٹا انٹرویو کے لیے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تو جنرل عتیق نے ان کے بیک گرائونڈ، لہجے اور گنواروں جیسے لباس پر بہت اعتراض کیا، یہ سلوک دیکھ کر محمد بوٹا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، انہیں انٹرویو میں بہت کم نمبر دیے گئے جس کی وجہ سے یہ تیسری سے اٹھارہویں پوزیشن پر آگئے لیکن بہرحال یہ کام یاب ہو گئے، یہ کام یاب امیدواروں کی فہرست میں اپنا نام دیکھ کر کمیشن کے دفتر کے سامنے سڑک پر بیٹھ کر رونے لگے، یہ روتے جاتے تھے اور اللہ کا شکر ادا کرتے جاتے تھے، یہ جس دن سی ایس ایس میں کام یاب ہوئے تھے اس دن بھی یہ کریلوں کی دو ٹوکریاں سر پر اٹھا کر منڈی لے کر گئے تھے۔

محمد بوٹا اٹھارہویں پوزیشن کے باوجود ڈی ایم جی یا پولیس سروس کے حق دار تھے لیکن کم زور بیک گرائونڈ کی وجہ سے انہیں انکم ٹیکس میں پھینک دیا گیا اور ان سے نیچے کے پوزیشن ہولڈرز کو اچھی سروسز دے دی گئیں، بہرحال قصہ مختصر یہ سی ایس پی آفیسر بن گئے اور ایف بی آر (اس وقت سی بی آر) میں مختلف پوزیشنوں پر تعینات رہے، پوری زندگی ملک کی اہم ترین شخصیات کو قریب سے دیکھا، میاں نواز شریف کے خلاف بھی مقدمے بنائے، نجم سیٹھی اور ملک ریاض کے خلاف بھی کارروائیاں کیں، ملک کے نامور اداکاروں اور اداکارائوں کے ساتھ دوستیاں بھی رہیں اور یہ کراچی، لاہور، ملتان اور اسلام آباد کے درمیان فٹ بال بھی بنے رہے، محمد بوٹا کو ہرجگہ کم زور بیک گرائونڈ کی وجہ سے زیادتی کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ محنتی اور مثبت ذہن کے انسان ہیں چناں چہ ہر مشکل سے نکل گئے، شادی ہوئی، اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازہ، یہ کمشنر انکم ٹیکس کے عہدے تک پہنچے لیکن جب سینئرز نے پروموشن کے معاملے میں ان سے زیادتی کی تو انہوں نے ریٹائرمنٹ سے پانچ سال قبل نوکری سے استعفیٰ دے دیا اور یہاں سے ان کی نئی زندگی سٹارٹ ہوگئی۔

محمد بوٹا کا پورا نام محمد بوٹا انجم ہے، میں ان سے برادرم ذوالفقار چیمہ کے ایک کالم کے ذریعے متعارف ہوا جس کے بعد ان کی کتاب "میاں چنوں سے ملائیشیا تک" منگوائی اور دو دن میں پڑھ لی، یہ کمال کتاب ہے، یہ ایک ایسے انسان کی جدوجہد کی کہانی ہے جسے زندگی نے کچھ نہیں دیاتھا لیکن اس شخص نے اپنی محنت سے زندگی کی چٹان سے دودھ کی نہر بنا لی، یہ اس وقت 78 سال کے ہیں، پاکستان سے مکمل نقل مکانی کر چکے ہیں، ملائیشیا میں رہتے ہیں، بزنس کرتے ہیں اور زندگی کے شان دار ترین دنوں کو انجوائے کر رہے ہیں تاہم ان کی زندگی کا ایک ایک صفحہ، ایک ایک موڑ حیران کن بھی ہے اور یہ ہم جیسے ناشکروں اور وسائل کی کمی کا رونا رونے والوں کے لیے طمانچہ بھی ہے۔

محمد بوٹا انجم کی کہانی یہ سبق دیتی ہے انسان اگر ہمت نہ ہارے، مسلسل محنت کرے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھے تو دنیا میں ہر سٹیٹس، ہر چیز بدل جاتی ہے، آپ انجم صاحب کا کمال دیکھیں، یہ 55 سال کی عمر میں استعفیٰ دے کر سڑک پر آگئے، جو جمع پونجی تھی وہ مختلف قسم کے کاروباروں میں ضائع ہوگئی لیکن انہوں نے اس کے باوجود ہمت نہیں ہاری، یہ بڑھاپے میں بھی لگے رہے، ان کا بیٹا ملائیشیا میں پڑھتا تھا، یہ اس کی گریجوایشن کی تقریب کے لیے ملائیشیا گئے، یہ ملک انہیں پسند آ گیا اور یہ خاندان کے ساتھ وہاں شفٹ ہو گئے، کرائے پر چھوٹی سی دکان لی اور کپڑے کا کام شروع کر دیا، تینوں باپ بیٹا کندھوں پر کپڑا اٹھا کر گلی گلی، شہر شہر پھرتے تھے، ایک دکان سے دوسری دکان پر دھکے کھاتے تھے، اللہ نے کرم کیا اور یہ کام یاب ہو گئے، ان کی دکان اب برینڈ بن چکی ہے، محمد بوٹا انجم نے اس دوران "آن لائین" سیل کی سکل بھی سیکھ لی، اس نے بھی ان کے کاروبار کو بہت ترقی دی، میں نے سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے ان کا نمبر تلاش کیا اور ان سے میرا رابطہ استوار ہوگیا، یہ حقیقتاً ایک حیران کن انسان ہیں۔
محمد بوٹا انجم جیسے لوگ اصل پاکستان ہیں، اللہ تعالیٰ نے اگر مجھے مہلت اور وسائل دیے تو میں ان جیسے لوگوں کی کہانیاں اکٹھی کرکے "ہیومین لائبریری" بنائوں گا تاکہ ملک کے ان کروڑوں نوجوانوں کو زندگی کا سرا مل سکے جو سائے میں بیٹھ کر کسی مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں، جو کبھی عمران خان، کبھی بلاول بھٹو اور کبھی مریم نواز سے امید وابستہ کر لیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں یہ زندگی اگر ہماری ہے تو پھر اس کے سارے مسائل بھی ہمارے ہیں اور ان کا حل بھی ہم نے ہی تلاش کرنا ہے۔

ہماری خشک اور بے آب زمین پر کوئی دوسرا آ کر کاشت کاری نہیں کرے گا، یہ کام آج یا کل بہرحال ہمیں ہی کرنا پڑے گا، محمد بوٹا انجم صاحب اس کی بہت بڑی مثال ہیں، یہ اگر سبزی بیچ کر، بس کنڈیکٹری کرکے سی ایس ایس کر سکتے ہیں اور 55 سال کی عمر میں نوکری کو ٹھوکر مار کر کام یاب بزنس مین بن سکتے ہیں تو ہم کیا کیا نہیں کر سکتے، ہمیں بس انجم صاحب جیسی ہمت اور حوصلہ چاہیے اور اپنے حالات تبدیل کرنے کی خواہش چاہیے اور اللہ بیڑا پار کر دے گا۔

تحریر: جاوید چوہدری

26/06/2026

😊دنیا کا انوکھا علاج😊
نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش آیا‘ امریکی

صدرلنڈن بی جونسن نے اسے وفد کا سربراہ بنا کر ماسکو بھجوایا‘ وہ کولڈ وار کا زمانہ تھا‘

نارمن ایٹمی تنصیبات کے خلاف تھا‘ اس کا خیال تھا یہ پہلے انسانیت اور پھر انسان کو کرہ ارض سے مٹا دیں گی‘ وہ بیک وقت انگریزی اور روسی زبانوں کا ماہر تھا لہٰذا صدر نے اسے انتہائی اہم وفد کا سربراہ بنا کر روس بھجوا دیا‘ یہ امریکا اور سوویت یونین کے درمیان جوہری توانائی پر پہلا رابطہ تھا اور اس کی تمام تر ذمہ داری نارمن کزنز پر تھی‘ دورہ بہت کام یاب رہا لیکن آخری دن ایک ایسی گڑ بڑ ہو گئی جس نے تمام کام یابیاں مٹی میں ملا دیں اور امریکا اور روس کے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔

نارمن کزنز آخری دن کانفرنس ہال کے لیے نکلا‘ اس کے ہوٹل اور کانفرنس ہال کے درمیان 20 کلومیٹر کا فاصلہ تھا‘ ڈرائیور وقت پر آ گیا‘ وہ وقت پر روانہ ہوا لیکن ڈرائیور اسے منزل کی مخالف سائیڈ پر بہت دور لے گیا وہاں پہنچ کر پتا چلا ہم غلط آ گئے ہیں‘ اس کے بعد کزنز کے ساتھ کیا ہوا‘

میں اس طرف آتا ہوں لیکن اس سے پہلے آپ کو نارمن کزنز کا تعارف کراتا چلوں‘ نارمن امریکن یہودی تھا‘ نیوجرسی میں پیدا ہوا‘ کولمبیا یونیورسٹی سے گریجوایشن کی اور نیویارک پوسٹ جوائن کر لی‘ وہ بعدازاں اخبار کا منیجنگ ایڈیٹر بن گیا‘ وہ ترقی کرتا ہوا 1942ء میں ایڈیٹر انچیف ہو گیا اور 1972ء تک اس پوزیشن پر رہا‘ وہ اپنے زمانے کے مشہور ترین امریکی صحافیوں میں شمار ہوتا تھا‘ جوہری تنصیبات کے خلاف تھا لہٰذا صدر نے اسے اہم ترین وفد کا سربراہ بنا کر روس بھجوا دیا لیکن اس دن اس کے ساتھ افسوس ناک واقعہ پیش آیا‘ ڈرائیورا سے مخالف سمت میں بہت دور لے گیا‘ جب ان لوگوں کو اندازہ ہوا تو بہت تاخیر ہو چکی تھی‘ وہ ہال کی طرف واپس مڑے لیکن ٹریفک میں پھنس گئے‘ وہ حساس انسان تھا اسے شدید ٹینشن ہوئی‘ وہ جب منزل پر پہنچا تو تقریب معاہدے کے بغیر ختم ہو چکی تھی اور وفد اسے نفرت سے دیکھ رہا تھا‘

وہ اس کے بعد وفد کے ساتھ ائیرپورٹ پہنچا تو فلائیٹ فل تھی‘ دوسری طرف ان کے ویزے کی مدت ختم ہو چکی تھی بہرحال قصہ مختصر پورا وفد دو دن خوار ہو کر مختلف ملکوں سے ہوتا ہوا امریکا پہنچا‘ امریکی صدر بھی اس سے ناراض ہو گیا‘ وہ چند ہفتے شدید ٹینشن میں رہا‘

اس ٹینشن کے دوران اس کے پورے جسم میں دردیں شروع ہو گئیں‘ وہ ڈاکٹر کے پاس گیا‘ اس کا طبی معائنہ ہوا تو پتا چلا اسے

(Ankylosing spondylitis)

نام کی بیماری ہو چکی ہے‘ یہ آٹو امیون بیماری ہے جس میں انسان کا جسم اپنے آپ کو کھانا شروع کر دیتا ہے‘ ڈاکٹر نے کزنز کو بتایا تمہاری بیماری کا کوئی علاج نہیں‘ پانچ سو بیماروں میں سے صرف ایک مریض بیماری کے بعد دس سال زندہ رہ سکتا ہے‘ ہم تمہارا علاج نہیں کر سکتے‘ صرف ’’پین کلرز‘‘ کے ذریعے تمہارا درد کم کر سکتے ہیں‘ کزنز کے جسم میں اس وقت تک ناقابل برداشت درد تھا‘ وہ بستر پر کروٹیں بدلتااور آہ وزاری کرتا رہتا تھا‘ ڈاکٹر اسے روزانہ 38 دردکش گولیاں دیتے تھے لیکن درد اس کے باوجود کنٹرول نہیں ہوتا تھا‘ اسے ریسرچ کی عادت تھی لہٰذا اس نے ہسپتال کے بستر پر لیٹے لیٹے اپنی بیماری پر ریسرچ شروع کر دی‘

اسے پتا چلا پین کلرز اینڈ ریلین گلینڈ سے وٹامن سی ختم کر دیتی ہیں جب کہ ریکوری اور قوت مدافعت کا انحصار وٹامن سی پر ہوتا ہے‘ اس نے ڈاکٹروں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی لیکن ان کا جواب تھا ’’ڈاکٹر ہم ہیں‘ آپ نہیں‘ یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے‘‘ کزنز بہت جلد ہسپتال‘ ادویات اور ڈاکٹروں سے مایوس ہو گیا

چناں چہ اس نے اپنا علاج جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا‘ وہ ہسپتال سے نکلا اور ہوٹل میں مستقل کمرہ لے لیا‘ وہ کمرہ ہسپتال سے سستا بھی تھا اور آرام دہ بھی‘ اس نے پین کلرز بھی بند کر دیں جس کے بعد وہ ساری ساری رات درد سے تڑپتا رہتا تھا لیکن اس کے بعد اس نے پین کلرز کو ہاتھ نہیں لگایا‘ اس کے کمرے میں ٹیلی ویژن تھا‘ وہ سارا دن ٹی وی دیکھتا رہتا تھا‘ ان دنوں چارلی چپلن کی فلمیں چل رہی تھیں‘ اس نے ایک دن محسوس کیا وہ جب چارلی چپلن کی فلم دیکھتا ہے تو اس کا درد کم ہو جاتا ہے‘ اس نے اس تبدیلی کو نوٹ کرنا شروع کر دیا‘ اس نے دیکھا فلم کے دوران وہ قہقہہ لگاتا ہے جس کے ساتھ ہی درد ختم ہو جاتا ہے‘

اس نے مزید نوٹ کیا دس منٹ کے قہقہوں کے بعد اسے دو گھنٹے تک درد نہیں ہوتا‘

اس نے اس تجربے کو بار بار دہرایا‘ ہر بار رزلٹ وہی نکلا‘ یہ ایک حیران کن دریافت تھی‘ اس نے تحقیق کی تو معلوم ہوا

اسے ٹینشن کی وجہ سے بیماری ہوئی تھی اور

قہقہہ اس کا علاج ہے‘

اسے یہ بھی معلوم ہوا

دنیا میں جو بیماری گندگی سے ہوتی ہے اس کا

علاج صفائی ہوتا ہے‘

جو خوراک سے ہوتی ہے وہ فاقے اور روزے سے ٹھیک ہو جاتی ہے‘

جو سستی سے ہوتی ہے اس کا علاج ایکٹویٹی اور حرکت ہوتا ہے ۔

چناں چہ دنیا کی تمام ٹینشنوں‘ ڈپریشنز اور اینگزائٹیز کا علاج مسکراہٹ‘ ہنسی اور قہقہہ ہے‘ آپ قہقہے لگاتے جائیں اور صحت مند ہوتے جائیں چناں چہ اس نے ہنسنا اور وٹامن سی لینا شروع کر دیا‘ وہ نہ صرف چند ہفتوں میں پائوں پر کھڑا ہو گیا بلکہ اس کے جسم سے بیماری کے اثرات بھی ختم ہونے لگے۔

نارمن کزنز نے اس کے بعد اپنا طریقہ علاج دوسرے لوگوں پر آزمانا شروع کر دیا‘ نتائج یکساں نکلے‘ لوگوں کا درد اور تکلیف ختم ہو گئی‘ اس نے باقاعدہ اعدادوشمار کے ساتھ آرٹیکل لکھا

اور یہ دنیا کے مشہور

میڈیکل جرنل آف میڈیسن کو بھجوا دیا‘ ایڈیٹر اس کے پروفائل‘ میڈیکل ہسٹری اور اعدادوشمار سے متاثر ہوا اور اس نے آرٹیکل شائع کر دیا‘

یہ اس میڈیکل جرنل کی ہسٹری کا پہلا مضمون تھا جو کسی نان ڈاکٹر یا نان میڈیکل سٹوڈنٹ نے لکھا تھا‘ آرٹیکل کے بعد نارمن کزنز

’’لافٹر تھراپی‘‘

کا بانی ہو گیا‘ یہ پہلا شخص تھا جس نے دنیا کو بتایا قہقہہ انسان کا درد ختم کر دیتا ہے‘ یہ دنیا کا بہترین پین کلر ہے‘ یہ پہلا شخص تھا جس نے بتایا ہنسی بھی علاج ہے‘ یہ انسان کی بے شمار بیماریاں ختم کر دیتی ہے‘ اسے انسانی زندگی میں خوراک اور ادویات جیسی اہمیت ملنی چاہیے‘ اس کا طریقہ علاج امریکا میں اتنا کام یاب اور مشہور ہو گیا کہ اسے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس نے پروفیسر کی نوکری کی آفر کر دی‘ اس نے یہ پیش کش قبول کر لی اور نیوجرسی سے لاس اینجلس شفٹ ہو گیا‘ وہ 1978ء سے 1990ء تک میڈیکل یونیورسٹی میں سائیکالوجی اینڈ بی ہیور سائنسز کے شعبے میں پروفیسر رہا‘ اس کا سبجیکٹ ’’انسانی رویوں کے صحت پر اثرات‘‘ تھا‘ وہ 1990ء میں فوت ہوا‘ اس وقت تک اس کے پہلے ہارٹ اٹیک کو 10 سال‘ آنتوں کے کینسر کو 26 سال اور دل کی بیماری کو 36 سال ہو چکے تھے لیکن اس کے باوجود وہ 75 سال زندہ رہا اور اس کی صحت عام لوگوں سے بہتر تھی‘

وہ پوری یونیورسٹی میں خوش ترین شخص تھا‘ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر صرف ایکسرسائز‘ اپنے کھیت کی قدرتی سبزیوں اور ہنسی کی مدد سے اپنے دل کا علاج بھی کر لیا‘ اس نے اپنے تجربات پر مبنی اناٹومی آف این النیس کے نام سے کتاب بھی لکھی جس پر بعدازاں فلم بھی بنی‘ آپ نے اگر فلم ’’منا بھائی ایم بی بی ایس‘‘ دیکھی ہو تو آپ کو اس میں میڈیکل کالج کے پرنسپل کا کردار ملے گا‘ یہ کردار بومن ایرانی نے ادا کیا‘ یہ اس کی زندگی کی پہلی بڑی فلم تھی جس نے اسے مین ایکٹر کی حیثیت سے متعارف کرایا‘ یہ کردار ڈاکٹر نارمن کزنز سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا تھا‘

کزنز کی عادت تھی وہ ٹینشن اور اینگزائٹی کے عالم میں مسکرانا بلکہ قہقہے لگانا شروع کر دیتا تھا اور اس کے نتیجے میں اینگزائٹی یا ٹینشن اس کے دماغ اور جسم کو متاثر نہیں کر پاتی تھی‘ لافٹر تھراپی اس کا کمال تھا‘ آپ نے اکثر بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی فلموں میں لوگوں کو پارکوں میں گروپ کی شکل میں ہنستے اور قہقہے لگاتے دیکھا ہو گا‘ یہ ڈاکٹر نارمن کی ریسرچ کا نتیجہ ہے‘ اس کی ریسرچ کے بعد باقاعدہ لطائف کی کتابیں شائع ہونی شروع ہوئیں اور نفسیات دان مریضوں کو ہنسنے کی تلقین کرنے لگے‘ یہ نسخہ بھی آزمودہ ہے اور اس کے نتائج بھی حیران کن ہیں۔

آپ اگر ایس پی عدیل اکبر کے خودکشی کیس کا دوبارہ مطالعہ کریں تو آپ کو اس میں بھی ہنسی کا عنصر کم ملے گا‘ غیرضروری سنجیدگی انسان کے اندر گھٹن پیدا کرتی ہے‘ آپ دنیا کے کسی بھی سنجیدہ آدمی سے ملیں آپ کو یہ ہمیشہ درد کی شکایت کرتا ملے گا‘ اس کے بدن کے کسی نہ کسی حصے میں ضرور درد ہوگا‘ اس میں ٹینشن‘ اینگزائٹی اور ڈپریشن بھی ہو گا جب کہ قہقہے لگانے اور ہنسنے والے لوگ جلد صحت مند بھی ہو جاتے ہیں اور انہیں عام حالات میں درد اور تکلیف بھی کم ہوتی ہے‘ اس طرح زندگی کے منفی پہلو دیکھنے اور ہمیشہ مایوس رہنے والے لوگ بھی جلد بیمار ہو جاتے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ ان کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے چناں چہ میرا مشورہ ہے آپ کم از کم دن میں ایک گھنٹہ ضرور مسکرایا اور قہقہے لگایا کریں‘ مزاحیہ فلمیں دیکھا کریں‘ لطائف کی کتابیں پڑھا کریں اور ہنسنے اور قہقہے لگانے والے لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کریں‘ آپ کی بیماری‘ بیماری اور تکلیف ‘تکلیف نہیں رہے گی اگر آپ کے گھر یا ہسپتال میں بھی کوئی مریض ہے تو آپ اسے دس منٹ ہنسا کر دیکھ لیں‘ اسے دو گھنٹے درد نہیں ہوگا‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہنسی میں اتنی طاقت رکھی ہوئی ہے۔

مسکرائیں ہنسیں قہقہے لگائے

صحت مند ہو جائے

Author anonymous.

25/06/2026

Punjab Police, colonial leadership, operational tactics and lessons to be learnt:
————-
"تاریخ کا پہلا اور آخری جنازہ... جس میں شریک ہونے کے لیے انگریز سرکار نے مسلمانوں پر 'ٹیکس' لگا دیا تھا!"

یہ 1877 کی بات ہے، جب پنجاب کے ایک غریب لوہار کا جنازہ اٹھا تو انگریزوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ سرکار نے اعلان کیا کہ جو اس جنازے میں جائے گا، اسے 2 روپے (جو آج کے لاکھوں کے برابر ہیں) فیس دینی ہوگی۔ مگر پھر بھی 18 ہزار لوگوں کا سمندر امڈ آیا!

یہ جنازہ تھا پنجاب کے رابن ہڈ... نظام لوہار کا!

کہانی اس رات شروع ہوئی جب ایک ظالم انگریز افسر نے نظام کے گھر گھس کر اس کی بوڑھی ماں کو قتل اور جوان بہن کی بے حرمتی کی۔ نظام لوہار نے اسی رات اپنی بھٹی میں لوہا نہیں، اپنا غصہ پگھلایا۔ اس نے بہن کو محفوظ مقام پر بھیجا اور اگلے ہی دن تھانے کا دروازہ توڑ کر اس انگریز افسر کا سر دھڑ سے الگ کر دیا!

اس کے بعد نظام انگریزوں کے لیے موت کا فرشتہ بن گیا۔ اس نے چن چن کر انگریز افسروں (بشمول SSP رونالڈ) کو جہنم واصل کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران اس نے سوجھا سنگھ نامی ایک باغی کو پولیس سے چھڑایا، جس کی ماں نے نظام کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔

لیکن تاریخ گواہ ہے، شیر کبھی کتوں سے نہیں ہارتا، اسے ہمیشہ اپنوں کی غداری مارتی ہے!

سوجھا سنگھ ایک لڑکی کے عشق میں اندھا ہو گیا۔ جب نظام نے اسے روکا تو سوجھا نے 10 ہزار روپے اور 4 مربع زمین کے لالچ میں رات کے اندھیرے میں پولیس کو نظام کے ٹھکانے پر لے آیا۔

پولیس نے چھت پھاڑ کر حملہ کیا۔ نظام آخری گولی تک لڑتا رہا، اور جب گولیاں ختم ہو گئیں تو اس نے ہتھیار پھینکنے کے بجائے مسکرا کر کہا:

"پنجاب کا شیر، کتوں کے آگے سر نہیں جھکائے گا!" اور سینہ تان کر انگریزوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔

لیکن اس کہانی کا اصل کلائمکس اس کی موت کے بعد آیا!

جب سوجھا سنگھ کی بوڑھی ماں کو پتہ چلا کہ اس کے اپنے سگے بیٹے نے مخبری کر کے نظام کو مروایا ہے، تو اس بوڑھی شیرنی نے بھری پنچایت میں اپنے سگے بیٹے سوجھا سنگھ کے سینے کے پار برچھی کر دی! بیٹا تڑپتا رہا اور ماں نے چیخ کر کہا: "نظام پنجاب کا بیٹا تھا! تو نے غداری کی ہے، میں تجھے قیامت تک اپنا دودھ نہیں بخشوں گی!"

آج بھی قصور کے قبرستان میں نظام لوہار کی قبر پنجاب کی دھرتی کے اس بہادر سپوت کی گواہی دے رہی ہے

25/06/2026

“سی پی کے اپنے جدید ترین ہائی ٹیک مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے یومِ عاشورہ کے تمام جلوسوں کی مؤثر اور مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ سی پی کے پریڈی اور سولجر بازار کی ٹیمیں دن رات محنت کے ساتھ نشتار پارک، جلوس گاہوں اور تمام مرکزی راستوں کی مکمل کوریج کو یقینی بنا رہی ہیں۔

ہماری یہ کاوش صرف ایک مقصد کے لیے ہے — کراچی کو محفوظ، پرامن اور منظم شہر بنانا۔ جدید کیمروں اور کنٹرول سسٹم کی مدد سے ہر اہم مقام پر نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔

سی پی کے کا عزم ہے کہ کمیونٹی کے تعاون سے ہم اپنے شہر کو مزید محفوظ بنائیں گے۔ محفوظ کراچی — ہمارا مشن۔
Ali Soni
Iqbal

22/06/2026

رات کے 2 بج رہے تھے, چھت کے کنڈے سے موت کا پھندا لٹک رہا تھا۔ 18 سالہ نوجوان نے رسی گلے میں ڈالی، آنکھیں بند کیں اور کرسی کو لات مارنے ہی والا تھا کہ... دروازے پر ایک زور دار دستک ہوئی!

یہ نوجوان چیکو سلواکیہ کا تھا، جس نے خواب دیکھا تھا کہ دنیا کا ہر انسان اس کے بنائے ہوئے جوتے پہنے گا۔ اس نے 200 کراؤن اور 10 غریب ملازموں کے ساتھ ایک چھوٹی سی ورکشاپ کھولی۔ لیکن بڑی کمپنیوں کی سازشوں اور قرض نے اسے کچل کر رکھ دیا۔ مشینیں بک گئیں۔ آخری ملازم بھی بھوکے بچوں کی دہائی دے کر چلا گیا۔

وہ نوجوان خود کو ان 10 گھروں کا قاتل سمجھ کر خودکشی کرنے لگا تھا کہ دروازہ بجا۔ اس نے پھندا گلے سے نکالا اور دروازہ کھولا، تو سامنے اس کا آخری اور سب سے غریب ملازم 'جان' کھڑا تھا۔ وہ بخار سے کانپ رہا تھا۔

مالک کو لگا کہ جان اپنی رکی ہوئی تنخواہ مانگنے آیا ہے۔ لیکن جان نے کانپتے ہاتھوں سے ایک میلی سی پوٹلی میز پر رکھی اور کھول دی۔ اس میں تانبے کے چند سکے اور چاندی کی ایک سستی سی انگوٹھی تھی۔

"صاحب... یہ 187 کراؤن ہیں۔ میری بیوی نے اپنی شادی کی اکلوتی انگوٹھی بیچ دی ہے اور کہا ہے کہ صاحب کو ہارنے مت دینا!"

مالک کی چیخ نکل گئی: "پاگل ہو گئے ہو جان؟ تمہاری بیوی بیمار ہے، بچے بھوکے ہیں، اور تم..."

تب اس بیمار ملازم نے اس 18 سالہ لڑکے کے پاؤں پکڑ لیے اور ایسا جملہ کہا جس نے تاریخ بدل دی: "صاحب! جب میں سڑک پر جوتے پالش کرتا تھا، تو لوگ مجھے دھکے دیتے تھے۔ آپ نے مجھے کرسی پر بٹھایا، مجھے موچی نہیں بلکہ 'کاریگر' کہہ کر عزت دی۔ اگر آج آپ مر گئے تو میرے جیسے لاکھوں غریب پھر سڑک پر رل جائیں گے۔ یہ پیسے رکھیں، میں ساری زندگی مفت کام کروں گا، بس وعدہ کریں کہ آپ موت سے ہار نہیں مانیں گے!"

اس رات مالک نے خودکشی کا ارادہ ترک کر دیا۔ اگلی صبح اسی 187 کراؤن سے چمڑا آیا۔ جان بخار میں تپتا ہوا مشین چلاتا، اور مالک رات کو اسے دوائی پلاتا اور جوتے سیتا۔

پھر دنیا نے ایک ایسا معجزہ دیکھا جس کی مثال نہیں ملتی!

کچھ ہی سالوں میں وہ 18 سال کا لڑکا دنیا کا سب سے بڑا جوتا ساز بن گیا۔ اس کی دکانیں 70 ملکوں میں پھیل گئیں اور لاکھوں لوگ اس کے ہاں نوکری کرنے لگے۔

کیا آپ جانتے ہیں وہ 18 سالہ لڑکا کون تھا؟ وہ دنیا کے مشہور ترین برانڈ 'باٹا' (BATA) کا بانی، تھامس باٹا تھا!

1932 میں جب تھامس کا ہوائی جہاز کریش ہوا اور وہ دنیا سے چلا گیا، تب بھی اس کے عالی شان دفتر میں کرسی کے پیچھے، شیشے کے فریم میں پہلا جوتا اور 187 کراؤن رکھے تھے۔ جس کے نیچے لکھا تھا:
یہ سلطنت پیسے سے نہیں... ایک غریب ملازم کی وفا سے بنی ہے۔

18/06/2026

Amazing, none of us is aware of this,



#1978

Please check how much relief you will get.
12/06/2026

Please check how much relief you will get.

Address

LS-1, Shadman Lane, FL-12 , KDA Scheme 5, Opp West Wind Apartments Block 2, Clifton
Karachi
75500

Opening Hours

Monday 11:00 - 19:00
Tuesday 11:00 - 19:00
Wednesday 11:00 - 19:00
Thursday 11:00 - 19:00
Friday 11:00 - 19:00
Saturday 11:00 - 19:00

Telephone

+923219889999

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asif Razzak,PSP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share