Karachi Bar Association - K.B.A

Karachi Bar Association - K.B.A Karachi Bar Association KBA
(1)

ایشیا کی سب سے بڑی بار Karachi Bar Association KBA ہے۔اس بار کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ پاکستان کی واحد بار ہے جو چار اضلاع پر مشتمل ہے۔ اور چاروں اضلاع کےوکلاء ووٹ ڈال کر جراچی بار کی کابینہ کا انتخاب کرتے ہیں

01/03/2026
01/03/2026

SBC, SHCBA and KBA announced for work suspension tomorrow (02-03-2026) on myterdom of Ayatollah Uzma, Imam Syed Ali Khamenei (RH) Supreme Leader of Iran 🇮🇷

01/03/2026

شہیدِ ولایت: رہبرِ کبیر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت، پورے عالمِ اسلام کا عظیم سانحہ
تحریر: خاکسار جاوید حلیم

"انا للہ و انا الیہ راجعون"

جب سورج مکمل طور پر طلوع ہوا تو تہران کی فضا میں گونجنے والی آواز نے پوری امت مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ آواز جس نے تین دہائیوں سے ظلم و استبداد کے خلاف آواز بلند کی، وہ آواز جس نے سامراجی استعمار کو للکارا، وہ آواز جس نے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کی، اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔
ہاں، یہ سچ ہے۔ عظیم رہبر، شہیدِ ولایت، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔سب سے بڑی مزاحمتی تحریک کے محرک کا ظلم اور جبر کے خلاف استقلال اتنا مضبوط تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کو ایک ہے ایک چھیاسی سالہ بزرگ کو شہید کرنے ان پر تیس سے زائد ہیوی بم چلانے پڑے۔

ان کی شہادت کی خبر پر آنکھوں نے یقین نہ کیا۔ کان اپنی سماعت پر قائل نہ ہوئے۔ لیکن جب ایرانی میڈیا نے بھی تصدیق کر دی، تہران میں چالیس دن کی سوگ کا اعلان کر دیا گیا، تو پھر شک کی کوئی گنجائش نہ رہی ۔

وہ 1939 میں مشہد کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ جب وہ محض چار سال کے تھے، تو قرآنِ پاک سیکھنا شروع کیا ۔ بچپن ہی سے علمِ دین سے ایسا لگاؤ تھا کہ آگے چل کر نجف اور قم جیسے مراکزِ علم سے فیضیاب ہوئے ۔ لیکن وہ صرف ایک عالمِ دین نہیں تھے۔ وہ ایک انقلاب کے معمار تھے۔

سنہ 1962 میں جب شاہِ ایران کی ظالم حکومت نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا، اُس وقت نوجوان علی خامنہ ای نے اپنے استاد، امام خمینی کے ساتھ مل کر ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ۔ اس جرم کی سزا میں انہیں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، اور جلاوطن بھی ہونا پڑا ۔

1981 کا وہ سیاہ دن، جب ان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ تہران کی ایک مسجد میں جب وہ خطاب کر رہے تھے، ایک ٹیپ ریکارڈر میں نصب بم پھٹ گیا ۔ دھماکے کی شدت ایسی تھی کہ ان کا دایاں بازو ہمیشہ کے لیے معذور ہو گیا، پھیپھڑوں اور آواز پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ۔

لیکن وہ مردِ مجاہد تھے۔ زخموں نے ان کے عزائم کو مزید پختہ کیا۔ یہی وہ واقعہ تھا جس نے انہیں ایک "زندہ شہید" کا مقام بخشا ۔

جب امام خمینی کا سایۂ عاطفت 1989 میں ایرانی عوام سے اٹھ گیا تو پورا ایران یتیم ہو گیا ۔ لوگوں کے ذہنوں میں ایک ہی سوال تھا: اب کون؟ کون اس کشتی کو طوفانوں سے بچائے گا؟ کون اس مشعل کو روشن رکھے گا؟

ارکان اسمبلی نے اس وقت ایک ایسے شخص کو منتخب کیا جسے خود بعد میں پتہ چلا کہ شاید ان کا کردار عارضی اور رسمی ہوگا ۔ لیکن قدرت کے منصوبے کچھ اور ہی تھے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے وہ کیا کر دکھایا جو شاید کوئی اور نہ کر سکتا تھا۔ انہوں نے انقلابِ اسلامی کو صرف زندہ نہیں رکھا، بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک عظیم قوت بنا دیا۔

ان کی قیادت میں ایران نے ایران عراق جنگ کے زخموں سے نکل کر خطے کی ایک سپر پاور کی حیثیت حاصل کی ۔ ان کی حکمتِ عملی، جسے وہ "مزاحمتی محاذ" کہتے تھے، نے لبنان سے لے کر یمن تک، شام سے لے کر غزہ تک مظلوموں کی آواز کو بلند کیا ۔

حزب اللہ، حماس، حوثی، عراق اور شام کی مزاحمتی تحریکیں سب انہی کی سرپرستی میں پروان چڑھیں ۔ ان کا ماننا تھا کہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کا درد ہے۔ اکتوبر 2023 میں جب غزہ پر ظلم ڈھایا گیا، تو ان کی آواز نے پوری دنیا میں حق کی ترجمانی کی اور سامراجی استعمار کے خلاف ڈٹے رہے

امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ان کی مخالفت صرف الفاظ تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی استعمار کے عزائم کو ناکام بنانے میں گزاری۔ جب 2018 میں امریکہ نے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کی، تو انہوں نے قوم کو سنبھالا اور مزاحمتی معیشت کا راستہ دکھایا ۔

اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی، جب دشمن نے ایران کے خلاف اپنے عزائم تیز کر دیے تھے، وہ ڈٹے رہے۔ چند ہفتے پہلے انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی آخری پوسٹ میں کہا تھا کہ جوہری توانائی ہمارا ناقابلِ تنسیخ حق ہے ۔ اور جب دشمن کی جنگی جہاز ایرانی سرحدوں کے قریب آئے، تو انہوں نے للکارا کہ یہ جہاز سمندر کی تہہ میں ڈوب سکتے ہیں ۔

۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر اسلامی انقلاب کا نظام کمزور پڑ گیا، تو ملک دوبارہ اسی ظلم و استبداد کا شکار ہو جائے گا جس سے وہ نکلا تھا ۔

یہ وہ انسان تھے جو کتابوں اور شاعری سے محبت کرتے تھے

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس خاموش طبع رہبر کو وکٹر ہیوگو کا ناول "لے میزرابل" بہت پسند تھا؟ انہوں نے خود اسے "دنیا کے ناولوں میں ایک معجزہ" قرار دیا تھا ۔ وہ شاعری اور باغبانی سے بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے ۔ وہ صرف ایک سیاستدان نہیں، بلکہ ایک درویش صفت انسان تھے جو سادہ زندگی گزارتے تھے ۔

ان کی شہادت سے لاکھوں دلوں میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ وہ خلا جو شاید کبھی پر نہیں ہو سکتا۔

Address

City Courts , Near Light House, M. A. Jinnah Road
Karachi
77500

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 13:30
Wednesday 08:00 - 13:29
Thursday 08:00 - 13:30
Friday 08:00 - 12:30
Saturday 09:00 - 13:30

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karachi Bar Association - K.B.A posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share