31/03/2026
سات سال تک امّ رباب چانڈیو صرف ایک متاثرہ فریق نہیں رہیں بلکہ ایک علامت بن گئیں۔ ان کے والد، دادا اور چچا کے قتل کے بعد درج ہونے والا مقدمہ شروع دن سے ہی عام قتل کیس نہیں رہا کیونکہ ایف آئی آر میں ایسے سیاسی نام شامل تھے جن کی وجہ سے پورا مقدمہ عوامی توجہ کا مرکز بن گیا۔ مگر عدالت کے سامنے سوال سیاست نہیں بلکہ ثبوت تھا، اور یہی وہ مقام ہے جہاں اس کیس کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
استغاثہ کا مؤقف یہ تھا کہ ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت فائرنگ کر کے تین افراد کو قتل کیا۔ مقدمہ بنیادی طور پر عینی گواہوں کی شہادت پر کھڑا کیا گیا۔ عدالت نے سب سے پہلے انہی گواہوں کا جائزہ لیا کیونکہ پورا کیس انہی بیانات پر منحصر تھا۔ ججمنٹ میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی کہ جن گواہوں نے خود کو وقوعہ کا چشم دید گواہ بتایا، ان کے بیانات ایف آئی آر، 161 کے بیانات اور عدالت میں دی گئی گواہی میں مکمل یکسانیت نہیں رکھتے تھے۔
عدالت نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ وقوعہ کے وقت گواہوں کی موجودگی قدرتی محسوس نہیں ہوتی۔ بعض گواہوں نے اپنی موجودگی کی وجہ مختلف مراحل پر مختلف بتائی۔ ایک موقع پر وہ کسی اور مقصد سے وہاں موجود تھے جبکہ بعد کی گواہی میں ان کی موجودگی کی وجہ بدل گئی۔ فوجداری مقدمات میں گواہ کی موجودگی اگر مشکوک ہو جائے تو پوری شہادت کمزور ہو جاتی ہے، اور عدالت نے یہی نکتہ اٹھایا۔
شناخت کے معاملے میں بھی عدالت مطمئن نہ ہو سکی۔ ججمنٹ میں ذکر کیا گیا کہ شناختی عمل فوری اور محفوظ انداز میں نہیں ہوا۔ ملزمان پہلے ہی نامزد تھے جس کی وجہ سے شناختی کارروائی اپنی قانونی اہمیت کھو بیٹھتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں غلط شناخت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عدالت نے اس پہلو کو استغاثہ کے کیس کی بڑی کمزوری قرار دیا۔
عدالت نے میڈیکل اور آکولر ایویڈنس کے تقابل پر بھی بات کی۔ بعض گواہوں کے بیان کردہ فائر کے زاویے، فاصلے اور حملے کی نوعیت میڈیکل شواہد سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ جب عینی شہادت اور طبی شہادت میں ہم آہنگی نہ رہے تو قانون شک پیدا ہونے کو تسلیم کرتا ہے۔
تفتیشی عمل پر عدالت کی آبزرویشن خاص طور پر اہم تھی۔ فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے، اسلحہ کی ریکوری، اور فرانزک لنک قائم کرنے میں وہ مضبوطی موجود نہیں تھی جو ایسے سنگین مقدمے میں ضروری ہوتی ہے۔ کسی ملزم کو جرم سے جوڑنے والی آزاد اور سائنسی شہادت واضح طور پر سامنے نہیں آ سکی۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ استغاثہ کا مقدمہ بنیادی طور پر مفروضوں پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جبکہ فوجداری قانون مفروضوں نہیں بلکہ ناقابل تردید شواہد کا تقاضا کرتا ہے۔ ججمنٹ میں بار بار اس اصول کو دہرایا گیا کہ سزا صرف اسی وقت دی جا سکتی ہے جب عدالت کو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے پر مکمل یقین حاصل ہو جائے۔
یہاں وہ قانونی اصول سامنے آتا ہے جسے عام زبان میں اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ قتل نہیں ہوا یا متاثرہ خاندان جھوٹ بول رہا تھا، بلکہ عدالت نے یہ کہا کہ پیش کیے گئے شواہد ملزمان کے خلاف شک سے بالاتر معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اسی بنیاد پر benefit of doubt دیا گیا، اور فوجداری قانون کے مطابق معمولی سا بھی معقول شک ملزم کے حق میں جاتا ہے۔
فیصلہ سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بہت سے لوگوں نے اسے سیاسی اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دیا جبکہ کچھ قانونی ماہرین نے نشاندہی کی کہ عدالت کے سامنے وہی مواد ہوتا ہے جو تفتیش اور پراسیکیوشن فراہم کرتی ہے۔ اگر گواہوں کے بیانات میں تضاد ہو، شناخت مشکوک ہو اور فرانزک لنک کمزور ہو تو عدالت سزا برقرار نہیں رکھ سکتی چاہے مقدمہ کتنا ہی حساس کیوں نہ ہو۔
یہ مقدمہ دراصل پاکستان کے کریمنل جسٹس سسٹم کی ایک بنیادی حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔ عدالت کا کردار آخری مرحلہ ہوتا ہے، جبکہ مقدمہ اکثر اس سے پہلے ہی مضبوط یا کمزور ہو چکا ہوتا ہے۔ متاثرہ خاندان انصاف کے احساس کے ساتھ عدالت آتا ہے مگر عدالت صرف وہی فیصلہ دے سکتی ہے جو قانون اور ثبوت اجازت دیں۔
شاید اسی لیے یہ فیصلہ ایک بریت سے زیادہ ایک سوال بن کر سامنے آیا ہے: اگر الزام اتنا سنگین تھا تو ثبوت اتنے مضبوط کیوں نہ بن سکے، اور اگر ثبوت کمزور تھے تو سات سال تک انصاف کی امید کس بنیاد پر زندہ رکھی گئی۔ عدالت نے اپنا کام قانون کے مطابق کیا، مگر اس فیصلے نے ہمارے نظامِ انصاف کی کمزوریوں پر ایک بار پھر روشنی ڈال دی.