27/07/2026
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عقیدہ عذاب قبر اور مسلک پرستوں اس پوسٹ میں ہم آپ کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حقیقت میں ان کا قرآن و حدیث سے کتنا تعلقق ہے اور ان کے کتنے منہ ہیں۔قرآن و حدیث مردے کے سماع کی مکمل نفی کرتے ہیں لیکن یہ مسلک پرست جوتیوں کی چاپ سننے کی جو توجیہات اس موقف کے خلاف پیش کرتے ہیں ،وہ اس طرح ہیں:
’’۔۔۔ان آیات مذکورہ کے سوا اور بھی آیات ہیں جن سے مردوں کا عدم سماع ثابت ہوتاہے اور بجز حدیث قرع نعال سے مردوں کا ایک خاص وقت میں سننا ثابت ہوتا ہے جس وقت مردہ قبر میں نکیرین کے سوال کے جواب دینے کے لیے زندہ کردیا جاتا ہے اور اس وقت مردہ مردہ نہیں رہتا‘‘۔ (فتاوئے نذیریہ،ازمیاں نذیر حسین، بانی فرقہ اہلحدیث، حصہ اوّل، صفحہ ۶۷۰)
’’البتہ اس حدیث کے جواب میں اشکال واقع ہوتا ہے کہ مردہ واپس جانے والوں کی جوتیوں کی آواز بھی سنتا ہے تو اس کو بھی اوّل وقت کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے کہ جب منکر و نکیر قبر میں سوال کرنے کے لیے آتے ہیں اس وقت روح لوٹائی جاتی ہے اس وقت سن بھی لیتا ہے‘‘۔
( ایضاً صفحہ ۶۷۲)
دوسرا اہلحدیث مفتی کہتا ہے:
’’سوال و جواب کے وقت روح کو بھی قبر کی طرف لوٹایا جاتا ہے‘‘۔
(عقیدہ عذاب قبر،از ابو جابر عبد اﷲ دامانوی ، صفحہ ۲۷)
عالم فرقہ عبد الرحمن کیلانی فرماتے ہیں:
ت’’اب مشکل یہ ہے کہ مردہ کے جوتوں کی چاپ سننے کا واقعہ بخاری کے علاوہ بھی دوسری کتب صحاح میں جہاں بھی مذکور ہے تو ساتھ ہی منکر نکیر کے آنے اور سوال و جواب کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔گویا منکر و نکیر کے آنے سے تھوڑی دیر پہلے اس کی روح علیّن یا سجّین سے لوٹا کر اسے ہوش میں لایا جاتا ہے،تاکہ سوالوں کا جواب دے سکے‘‘۔ ( روح،عذاب قبر اور سماع موتیٰ، از عبد الرحمن کیلانی، صفحہ ۵۱)
اس مسئلے پر اہل تشیع بھی ان کے ہم عقیدہ ہیں:
’’۔۔۔ احادیث معتبرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبر میں سوال و جواب اور فشارِ قبر اسی بدن اصلی سے جو دنیا میں تھا متعلق ہوگا اور روح تمام بدن یا جسم کے کچھ حصے میں ( یعنی سینے تک، یا کمر تک جیسا کہ احادیث میں ہے) پلٹائی جاتی ہے تاکہ میت کو خطاب سوال کے سمجھنے اور جواب دینے پر قدرت حاصل ہوجائے‘‘۔ (معاد،ازآیت اﷲ عبد الحسین، صفحہ ۴۰،۴۱)
بحیثیت ایک مومن ہمارا عقیدہ ہے کہ اﷲ کے سچے رسول محمدﷺ کسی صورت میں بھی قرآن کے بیان کردہ عقیدے کے انکار میں کوئی بات کہہ ہی نہیں سکتے تھے۔ لیکن بانی