Taiser Town Legal Help Line

Taiser Town Legal Help Line تئیسر ٹاٶن میں 80,120,240 اور 400 گز کے پلاٹس کی ضرورت ہے۔

02/04/2024
26/08/2023

کے۔الیکٹرک عوام کی پراپرٹی ہے لہذا اس پر عوامی قبضہ ہونا چاھیئے۔ بجلی عوام کا بنیادی حق ہے ریاست سمیت کسی اوباش، بدقماش اور غنڈے سرمایہ دار گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاھیئے کہ وہ عوام کے اس بنیادی حق پر قابض ہو کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالے اور اگر عوام کیساتھ یہ منظم ڈکیتی کی جارہی ہے تو یہ ایک انتہائی سنگین اور گھناؤنا جرم ہے جسکی سزا انتہائی سخت ترین ہونی چاھیئے۔ پاکستان کی عدالتیں اسکا نوٹس لینے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہیں جسکا بدترین خمیازہ ریاست چلانے والے ساڑھے تین کروڑ عوام بھگت رہے ہیں۔

ریاستی ملی بھگت سے ایک استحصالی عوام دشمن سرمایہ دار گروہ کراچی کے عوام کو پچھلے اٹھارہ برسوں سے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ یعنی عوام اپنا بنیادی حق جو کہ انھیں بلکل مفت ملنا چاھیئے وہ حق عوام اپنے گھر کی چیزیں فروخت کر کے حاصل کررہے ہیں۔ ظلم اپنی تمام حدیں پار کرچکاہے۔

عوام بہت بڑی طاقت ہوتے ہیں بس انھیں خوف کا بت توڑنا ہوتا اور بجلی پر قابض گروہ عوام میں موجود اس خوف کے بت کو توڑنے میں مدد دے رہا ہے انقلاب نہ سہی انارکی نے تو دستک دینا شروع کر دیا ہے۔ جنھوں نے عوام کے جسموں سے خون تک نچوڑ لیا ہے سر انکے بھی سلامت نہ رہیں گے اور حالات یہ بتا رہے ہیں کہ سروں کی فصل پک کر تیار کھڑی ہے۔

قوانین بنانے کا مقصد لوگوں کے حقوق کی حفاظت و پاسداری و پاسبانی ہوتا ہے لیکن جب طاقتور، عیار، مکار مظلوموں کے لئےقوانین ...
23/07/2023

قوانین بنانے کا مقصد لوگوں کے حقوق کی حفاظت و پاسداری و پاسبانی ہوتا ہے لیکن جب طاقتور، عیار، مکار مظلوموں کے لئےقوانین بے اثر کردیں اور پھر وہ قوانین طاقتور کو تحفظ فراہم کرنے لگ جائیں، ظالم کی ڈھال بن جائیں تو اسوقت میں جھاد فرض ہو جاتا ہے، پھر ایسے قوانین کے کپڑے اتار ڈالنا، اسے سرعام چوکوں چوراہوں پر ننگا کردینا فرض عین ہوجاتا ہے۔ پھر ایسے حالات میں اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے جزبہ، ولولہ، نئ امنگ، حوصلہ پیدا کرکے فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔

With the latest technological advancements, people have devised new ways of digital fraud. UrduPoint anchor Danish Hussain has interviewed such a Rickshaw dr...

دشمن سرحدوں کے اندر ہی ہیں:-آپ اگر اس پروگرام کو سنیں تو آپکے لئے یہ یقین کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ پاکستان پر ایک عفریت، ا...
23/07/2023

دشمن سرحدوں کے اندر ہی ہیں:-

آپ اگر اس پروگرام کو سنیں تو آپکے لئے یہ یقین کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ پاکستان پر ایک عفریت، ایک بلا ایک مستقل عذاب کی صورت میں مسلط ہیں اور یہ ہے وہ "قوت" جو پردے کے پیچھے سے کارفرما ہے۔ فیصل واووڈا اسی قوت کی ترجمانی کررہا ہے، فیصل واووڈا اسی قوت کی باتیں اس پروگرام میں کررہا ہے۔

کیا یہ پردے کے پیچھے کی قوت ملک دوست ہے؟ کیا یہ پردے کے پیچھے کی قوت ملک کی تعمیر وترقی کے لئے سود مند ہے؟ کیا پچھلے 75 برسوں سے اس پردے کے پیچھے کی قوت کے اعمال و افعال ملک و قوم کے مفاد میں تھے یا ہیں ؟ ان تمام سوالات کے جوابات خود ملکی معاشی و معاشرتی حالات دے رہے ہیں۔

یہ بات بھی طے ہیکہ عوام اس کارفرما قوت سے مکمل بدظن ہیں اور اس سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ اس پردے کے پیچھے کی قوت نے اپنے خفیہ اقتدار کے دوام کے لئے پاکستان کی عوام کو تقسیم در تقسیم کئے رکھا ہے اسطرح پردے کے پیچھے کی یہ طاقت اپنے دیگر جرائم کے علاوہ اس انتہائی گھناؤنے اور قبیح جرم کی بھی مرتکب ہوئی ہے۔

سیاست سمیت پاکستان کا ہر شعبہ اس پردے کے پیچھے کی قوت کا غلام نظر آتا ہے۔ یہ بدی کی قوت سیاست کو اپنے سب سے مضبوط ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتیں اسکی غلام ہیں۔ عقل و شعور سے عاری، ناخواندہ، ان سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان مطلب پرست، مفاد پرست، جھوٹے، جرائم پیشہ اور درجہ انسانیت سے گرے ہوئے لوگ ہیں۔ میں ان کارکنان کو ان القابات سے اس لئے نواز رہا ہوں کیونکہ یہی سیاسی و مذہبی کارکنان اس پردے کے پیچھے کی بدی کی قوت کی first line of defense ہیں۔ کیا اس ملک میں ایسی سیاست اور ایسے سیاسی و مذہبی کارکنان کی موجودگی میں کسی مثبت تعمیری انقلاب کی توقع کی جا سکتی ہے؟

چونکہ میڈیا بھی اس پردے کے پیچھے کی بدی کی قوت کا غلام ہے لہزا وہ اس "خفیہ اور un registered سیاسی جماعت" کے ترجمانوں سے "اندر" کی خبریں عوام تک پہنچا نا اپنا فرض گردانتا ہے۔

شاید اب کوئی حقیقی تبدیلی اور انقلاب فطری عمل کے تحت ہی ظہور پذیر ہو سکے۔ موجودہ ملکی حالات اسکے اشارے بھی دے رہے ہیں۔ سسٹم کی بوسیدگی، اسکی ٹوٹ پھوٹ، طبقاتی کشمکش، حدوں کو چھوتی ہوئی مہنگائ، جہالت و غربت، اشرافیہ کی عیاشیاں اور پردے کے پیچھے کی بدی کی قوت کی ملک و ملت دشمنی آج نہیں تو کل انقلاب فرانس سے بھی زیادہ سخت انقلاب کی نوید بن کر نمودار ہوگی۔۔۔۔۔۔آپ اسے انارکی کہہ لیں لیکن اب یہ عمل ضروری ہوگیا ہے۔

Faisal Vawda Do tok Statement in Kiran Naz Program | Chairman PTI Cases | SA...

17/07/2023

*TAISER TOWN*
*ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کراچی *میں80,120,240,400گز پلاٹس کی فوری خرید و* *فروخت اور ارجنٹ پیمنٹ کے لیے رابطہ کریں.*

*اور نئ بیلٹنگ کی سلپ کنفرم فائلز پلاٹ نمبر اور ڈیمانڈ کے ساتھ رابطہ کریں*
One hour payment
TAISER LAND ASSOCIATES
Contact/WhatsApp:
0333 7297683
03142757789

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیںدو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیںاک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیںہم گردشِ دوراں س...
02/07/2023

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں
دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں

اک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں
ہم گردشِ دوراں سے بڑی چال چلے ہیں

🔴Forensic Criminal Investigation. TECHNIQUES OF HUMANIDENTIFICATION🔴فرانزک مجرمانہ تفتیش۔ انسان کی شناخت تکنیک🔵 ڈی این ا...
01/07/2023

🔴Forensic Criminal Investigation. TECHNIQUES OF HUMANIDENTIFICATION
🔴فرانزک مجرمانہ تفتیش۔ انسان کی شناخت تکنیک
🔵 ڈی این اے
🔵DNA

As with the other biometric methods of identification, DNA comparison relies on accessible antemortem data. However, unlike other modalities, familial relationship can be established even when antemortem data are not available.

In addition, like ridgeology (fingerprints), large
national databases are currently being established that can reduce the need for a presumptive identification, especially if the decedent has had contact with the justice system.

The best sources for DNA material are direct
reference samples from the decedent during
life. Direct reference samples are classified as
primary and secondary. Primary direct DNA
sources include blood, a tissue biopsy slide, a
pap smear, tooth remnants, and a hair sample
(with roots). Direct secondary DNA sources
include a toothbrush, comb, bedding, or
clothing. Indirect DNA reference samples are
those from biological relatives.

DNA testing requires more time, effort, specialized personnel,and higher cost than other identification methods. The degree to which human remains are fragmented or degraded determines the value of DNA analysis in the identification process. Intact, large body parts lend themselves to identification by less costly methods, such as
dental, radiographic imaging, and fingerprints.

However, DNA analysis may be the only viable
method for identifying severely fragmented or
degraded remains. The majority of forensic
DNA tests are performed on nuclear DNA using polymerase chain reaction (PCR) amplificationof the sample with short tandem repeat (STR)typing.

Simultaneous analysis of mitochondrial
DNA (mtDNA) may be necessary to improve
the identification process.

STRs are particularly informative when using
well-preserved soft tissue and bone samples andeven on degraded tissue and bone fragments if the DNA extraction process is optimized.

However, STRs alone are often not sufficient
for identification when samples are severely
compromised.

Forensic DNA analyses for human identification has seen a tremendous upsurge since the President’s DNA Initiative Program that beganin 2003.

The program provided funding,training, and further financial assistance to ensure that forensic DNA would reach its full potential in identifying missing persons. Fromthis program, the National Institute of Justice
(NIJ) now provides funding to have DNA
analyses performed on unidentified remains bythe Center for Human Identification at the University of North Texas or the FBI.

Once the analysis is complete, the profiles (if they are sufficient) are entered into the FBI’s CODIS system (Combined DNA Index System) and uploaded into the National DNA Index System.

🔴فرانزک مجرمانہ تفتیش۔ انسان کی شناخت تکنیک
🔵 ڈی این اے

شناخت کے دیگر بائیو میٹرک طریقوں کی طرح، ڈی این اے کا موازنہ قابل رسائی پر انحصار کرتا ہے۔ اینٹی مارٹم ڈیٹا تاہم، دیگر طریقوں کے برعکس، خاندانی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اینٹی مارٹم ڈیٹا دستیاب نہ ہو۔

اس کے علاوہ، رجولوجی (انگلیوں کے نشانات) کی طرح، بڑے قومی ڈیٹا بیس اس وقت قائم کیے جا رہے ہیں جو ایک مفروضہ شناخت کی ضرورت کو کم کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر متوفی انصاف کے نظام سے رابطہ ہوا ہے۔

ڈی این اے مواد کے بہترین ذرائع براہ راست ہیں۔
کے دوران مرنے والے سے حوالہ نمونے۔ زندگی براہ راست حوالہ نمونے کے طور پر درجہ بندی کر رہے ہیں بنیادی اور ثانوی. بنیادی براہ راست ڈی این اے ذرائع میں خون، ایک ٹشو بایپسی سلائیڈ، a پاپ سمیر، دانتوں کی باقیات، اور بالوں کا نمونہ (جڑوں کے ساتھ)۔ براہ راست ثانوی DNA ذرائع دانتوں کا برش، کنگھی، بستر، یا شامل کریں۔ لباس بالواسطہ ڈی این اے ریفرنس کے نمونے ہیں۔ وہ جو حیاتیاتی رشتہ داروں سے ہیں۔

ڈی این اے ٹیسٹنگ مزید وقت، محنت، خصوصی افراد کی ضرورت ہے، اور دیگر شناخت سے زیادہ قیمت طریقے جس درجہ تک انسان باقی رہتا ہے۔ بکھرے ہوئے ہیں یا انحطاط کا تعین کرتا ہے۔ شناخت میں ڈی این اے تجزیہ کی قدر عمل برقرار، جسم کے بڑے حصے خود کو قرض دیتے ہیں۔ کم مہنگے طریقوں سے شناخت کرنا، جیسے
ڈینٹل، ریڈیوگرافک امیجنگ، اور فنگر پرنٹس۔

تاہم، ڈی این اے کا تجزیہ ہی ممکن ہے۔ شدید بکھرے ہوئے یا کی شناخت کا طریقہ تباہ شدہ باقیات. فرانزک کی اکثریت ڈی این اے ٹیسٹ جوہری ڈی این اے پر استعمال کرتے ہوئے کئے جاتے ہیں۔ پولیمریز چین ری ایکشن (PCR) پروردن مختصر ٹینڈم ریپیٹ (STR) کے ساتھ نمونے کا ٹائپنگ مائٹوکونڈریل کا بیک وقت تجزیہ ڈی این اے (mtDNA) شناخت کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہو سکتا ہے۔
.

استعمال کرتے وقت STRs خاص طور پر معلوماتی ہوتے ہیں۔ اچھی طرح سے محفوظ نرم بافتوں اور ہڈیوں کے نمونے اور یہاں تک کہ انحطاط شدہ بافتوں اور ہڈیوں کے ٹکڑوں پر بھی اگر ڈی این اے نکالنے کے عمل کو بہتر بنایا گیا ہو۔

تاہم، اکیلے STRs اکثر کافی نہیں ہوتے ہیں۔سمجھوتہ شناخت کے لیے جب نمونے شدید ہوں۔


انسانی شناخت کے لیے فرانزک ڈی این اے کے تجزیوں میں اس کے بعد سے زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صدر کا ڈی این اے انیشیٹو پروگرام شروع ہوا۔

2003 میں پروگرام نے فنڈ فراہم کیا، تربیت، اور مزید مالی امداد اس بات کو یقینی بنائیں کہ فرانزک ڈی این اے مکمل طور پر پہنچ جائے گا۔ لاپتہ افراد کی شناخت کا امکان سے یہ پروگرام، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جسٹس این آئی جی اب ڈی این اے رکھنے کے لیے فنڈ فراہم کرتا ہے۔کی طرف سے نامعلوم باقیات پر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تجزیہ یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکساس یا ایف بی آئی میں انسانی شناخت کا مرکز۔

تجزیہ مکمل ہونے کے بعد، پروفائلز (اگر وہ ہیں۔ کافی) ایف بی آئی کے CODIS سسٹم (کمبائنڈ ڈی این اے انڈیکس سسٹم) میں داخل ہیں اور نیشنل ڈی این اے انڈیکس سسٹم میں اپ لوڈ کیا گیا۔

30/06/2023
پاکستان میں سائبر کرائم کا قانون کیا ہے اور اس کی کیا سزائیں مقرر ہیں .؟ جواب : عام افراد کے لئے سائبر جرائم اور ان کی س...
23/06/2023

پاکستان میں سائبر کرائم کا قانون کیا ہے اور اس کی کیا سزائیں مقرر ہیں .؟
جواب : عام افراد کے لئے سائبر جرائم اور ان کی سزاؤں کا جاننا بے حد ضروری ہے۔

1) کسی بھی شخص کے موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ تک بلا اجازت رسائی کی صورت میں 3 ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

2) کسی بھی شخص کے ڈیٹا کو بلا اجازت کاپی کرنے پر 6 ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

3) کسی بھی شخص کے فون، لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی صورت میں 2 سال قیدیا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

4) اہم ڈیٹا (جیسے ملکی سالمیت کے لیے ضروری معلومات کا ڈیٹا بیس) تک بلااجازت رسائی کی صورت میں 3سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

5) اہم ڈیٹا کو بلااجازت کاپی کرنے پر 5 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

6) اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 7سال قید، 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

7) جرم اور نفرت انگیز تقاریر کی تائید و تشہیر پر 5سال قیدیا 1کروڑ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

8) سائبر دہشت گردی:کو ئی بھی شخص جو اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچائے یا پہنچانے کی دھمکی دے یا نفرت انگیز تقاریر پھیلائے ، اسے 14سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

9) الیکٹرونک جعل سازی پر 3 سال قید یا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں

10) الیکٹرونک فراڈ پر 2سال قید یا 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

11) کسی بھی جرم میں استعمال ہونے والی ڈیوائس بنانے، حاصل کرنے یا فراہم کرنے پر 6ماہ قید یا 50ہزر جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

12) کسی بھی شخص کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے پر 3 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

13) سم کارڈ کے بلا اجازت اجراء پر 3 سال قید یا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

14) کمیونی کیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3سال قید یا 10 لاکھ جرماہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

15)بلااجازت نقب زنی( جیسے کمیونی وغیرہ میں) پر 2سال قیدیا 5لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

16) کسی کی شہرت کے خلاف جرائم:کسی کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

17)کسی کی عریاں تصویر/ ویڈیو آویزاں کرنے یا دکھانے پر 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

18) وائرس زدہ کوڈ لکھنے یا پھیلانے پر 2سال قید یا 10لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

19) آن لائن ہراساں کرنے، بازاری یا ناشائستہ گفتگو کرنے پر 1سال قید یا یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا رونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

20)سپامنگ پر پہلی دفعہ 50ہزار روپے جرمانہ اور اس کے بعد خلاف ورزی پر 3ماہ قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

21) سپوفنگ پر 3سال قید یا 5لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

تئیسر ٹاؤن پلاٹس برائے فروخت0333 7297683
06/03/2023

تئیسر ٹاؤن پلاٹس برائے فروخت

0333 7297683

13/01/2023

پولیس کی تلاشی اور مس کنڈیکٹ کی بابت سزا
اپنے پولیس ملازم کو محکمہ اتنی باآسانی سے سزا نہیں دیتا بلکہ پولیس کے افسران بالا پی ایس پی اور پرموٹی یعنی کہ رینکر دونوں کے پاس جب درخواست جاتی ھے تو ماتحت الزام علیہا کو شیلٹر اور سپورٹ دیتے ہیں اس لئے پولیس ملازم جب بھی گڑبڑ کرے ون فائیو پر کال کر دیں اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا آفیشل موبائل نمبر بھی ضرور اور لازمی پاس رکھیں پی ٹی سی ایل پر بھی کال کر دی

پولیس ملازم کے خلاف درخواست معہ چشم دید گواہان جن کا باضابطہ اور باقاعدہ ذکر ھو کہ انہوں نے وقوعہ ھذا بچشمِ خود دیکھا اور اس درخواست کی پانچ نقول فوٹو کاپیاں کروا لیں جو آپ کو عدالت عظمٰی تک بھی کام دیں گی ۔ ظاہر سی بات جب محکمہ سزا نہیں دے گا تو اس ضمن میں عدالت ہائے میں کارروائی ہوگی

پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکلز 156 اور 155 پولیس ملازم کے مس کنڈیکٹ تلاشی و تشدد وغیرہ کو ڈیل کرتے ہیں
فاضل عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں یہ اصول طے کر دیا کہ شہریوں کو ہراساں کرنے اور ان کی تذلیل کرنے والے پولیس اہلکاروں کو تاحیات نوکری سے برخاست کیا جاوے
*2019 SCMR 944*

Exception From Personal Search
چیک پوسٹ پولیس ناکوں پر فاضل وکلاء اپنا بار کارڈ دکھا دیں تو پولیس فاضل وکلاء کی تلاشی نہیں لے سکتی
*CR. Misc No 267 /2020 G .B. Chief Court*

03/01/2023

#سٹے (STAY)کیا ہوتا ہے، کن صورتوں میں دیا جاتا ہے اور ختم کیسے کیا جاتا ہے؟

سٹے stay ہوگیا زمین پر سٹے ہوگیا، مکان پر سٹے ہوگیا، ہم میں سے اکثر نے یہ لفظ بارہا سنا ہے. آج میں آپکو بتاؤنگا کہ سٹے ہوتا کیا ہے۔ سٹے stay انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے روکنا. اب یہ نام سے ہی ظاہر ہو رہا ہے سٹے آرڈر کا مطلب ہوا کسی کو روکنا۔ قانون کی زبان میں سٹے آڈر سے مراد یہ ہے کہ عدالت ایک پارٹی کی درخواست پر کسی خاص پارٹی کو کوئی کام کرنے سے روک دیتی ہے. مثال کے طور پر الف نے ایک زمین پر مکان بنانا شروع کر دیا دوسرے شخص ب نے عدالت میں کیس کر دیا کہ الف جو مکان بنا رہا ہے وہ درحقیقت اسکی زمین ہے لہذا اس کو روکا جائے تو عدالت الف کو مکان بنانے سے روک دے گی کہ وہ زمین پر مکان مت بنائے کیوں کہ یہ کیس عدالت میں آگیا ہے اس کا فیصلہ ہو جائے تو اس فیصلے کو سٹے آرڈر کہتے ہیں

سٹے آڈر stay order کی اقسام ؟

سٹے آڈر کو اردو میں حکم امتناعی کہتے ہیں۔ اسکی دو اقسام ہیں، 1 حکم امتناعی عارضی جس کو Temporary Injunction کہتے ہیں۔ یہ سٹے آڈر جب تک عدالت ضروری سمجھے یا جب تک کیس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک یہ سٹے آڈر جاری رہتا ہے. اس سٹے آڈر کے دوران کوئی بھی فریق زمین گھر یا منقولہ جائیداد کو آگے بیچ نہیں سکتا یا فروخت نہیں کرسکتا. یہ فیصلہ عدالت دونوں پارٹیوں کو سن کر دیتی ہے.
اس کے علاوہ Temporary injunction کی ایک اور قسم ہے جس کو interim order بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں ہوتا یہ بالفرض دو پارٹیوں کے درمیان زمین کا تنازع تھا دوسری پارٹی اس پر تعمیرات یا آگے فروخت کرنے لگ جاتی ہے تو متاثرہ پارٹی فوراً عدالت میں دعویٰ دائر کرتی ساتھ فوراً سٹے آڈر کی درخواست دیتی ہے. اس میں عدالت فوراً سٹے کا حکم دے دیتا ہے دوسری پارٹی کو سنے بغیر۔ اسکی وجہ یہ ہے اگر دوسری پارٹی کو عدالت سمن کے ذریعے بلاتی ہے تو کئ دن لگ سکتے ہیں اس دوران دوسری پارٹی گھر تعمیر کر لے زمین پر یا فروخت کردے تو زیادہ مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں.اس لئے عدالت interim order میں ایک پارٹی کو سن کر سٹے آڈر دے دیتی ہے ساتھ دوسری پارٹی کو نوٹس بھجوانے کا حکم دے دیتی ہے تاکہ اگلی پارٹی کو بھی سنا جائے۔ یہ سٹے آڈر 7 دن کے لیے عموماً عدالت دیتی ہے.
دوسری قسم سٹے آڈر کی حکم امتناعی دوامی یا Perpetual Injunction کہلاتی ہے۔ یہ حکم ہمیشہ کے لئے ہوتا ہے اس کو عموماً فائنل آڈر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ آڈر عدالت دونوں پارٹیوں کو سن کر شواہد کی روشنی میں کرتی ہے Stay order کو ضابطہ دیوانی کا آڈر 39 ڈیل کرتا ہے.اس کے ساتھ Specific Relief Act کے سیکشن 54،53،52 ڈیل کرتے ہیں۔

سٹے آڈر کن صورتوں میں دیا جاتا ہے؟

سٹے آڈر ان صورتوں میں دیا جاتا ہے جہاں ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہو مثال کے طور پر کوئی شخص متنازعہ زمین پر گھر بنا رہے ہے یا گھر بنا ہوا ہے اس کو توڑ رہا ہے یا اگے فروخت کر رہا ہے ایسی صورتحال میں عدالت سٹے آڈر جاری کرتی ہے. یہ بات civil procedure code کے order 39 rule 1 وغیرہ میں بتائی گئی ہے۔

سٹے آڈر کو ختم کروانے کا طریقہ؟

ہمارے ہاں یہ غلط تاثر بن چکا ہے ایک دفعہ سٹے ہوگیا وہ ہمیشہ رہتا ہے جو کہ درست نہیں۔ سٹے کی بھی ایک معیاد ہوتی ہے۔ کچھ سٹے آڈر ایک کیس کی تاریخ سے لیکر اگلی تاریخ تک ہوتے ہیں اگر عدالت اگلی پیشی پر سٹے کو کنفرم نہ کرے تو وہ ختم ہوجاتا ہے یا جب تک عدالت میں کیس چلتا ہے تب تک سٹے رہتا ہے. سٹے آڈر کو ختم کرنے کے لیے متاثرہ پارٹی عدالت میں ضابطہ دیوانی کے آڈر 39 رول 4A کے تحت درخواست دے سکتی ہے جس پر عدالت شواہد کی روشنی میں سٹے ختم کرنے کا حکم دے سکتی ہے. ریونیو معاملات میں 6 ماہ تک سٹے کی معیاد ہے اگر عدالت 6 ماہ بعد سٹے کی تاریخ نہیں بڑھاتی تو سٹے خودبخود ختم ہو جائے گا.

محمد طارق حسین ایڈووکیٹ ھائیکورٹ
03337297683
03142757789

Address

Karachi
7478

Telephone

03337297683

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Taiser Town Legal Help Line posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Taiser Town Legal Help Line:

Share

Category