22/02/2026
نذیر حسین شر ایڈووکیٹ کا دوٹوک اور للکار بھرا بیان
سندھ بار کونسل کی جانب سے متعدد سینئر وکلا پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کر کے نوٹس جاری کرنا نہ صرف غیر قانونی اقدام ہے بلکہ یہ کراچی بار کے انتخابات بروقت نہ کروانے جیسی سنگین نااہلی کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف سندھ بار کونسل کا وقار مجروح ہو رہا ہے بلکہ موجودہ کابینہ خود اپنے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
سندھ بار کونسل کی موجودہ کابینہ جس غیر جمہوری اور جابرانہ انداز میں وکلا کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے، وہ انتہائی قابلِ تشویش ہے۔ مجوزہ انتظامی کمیٹی کا مینڈیٹ صرف اور صرف مقررہ وقت پر کراچی بار کے انتخابات کرانا تھا۔ انہیں کسی قسم کے مالی معاملات یا بجٹ میں مداخلت کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔ بجٹ پر ہاتھ صاف کرنا ان کے دائرۂ اختیار سے تجاوز ہے، جس کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔
کراچی کے وکلا واضح الفاظ میں متنبہ کرتے ہیں کہ بار روم میں آ کر اونچی آواز میں بولنے یا دباؤ ڈالنے سے کوئی مرعوب نہیں ہوگا۔ وکلا برادری کسی سے خوفزدہ نہیں۔ آپ اپنی حدود اور اوقات کو یاد رکھیں۔
کراچی بار کے وکلا نے ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ چند مفاد پرست عناصر کو یہ ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ وکلا کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالیں یا اسے چوری کریں۔ اگر غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو بھرپور قانونی اور جمہوری ردِعمل دیا جائے گا۔
— نذیر حسین شر ایڈووکیٹ