09/06/2026
🚨 کیا آپ سے بھی کوئی سرکاری ملازم "چائے پانی"، "مٹھائی" یا "خرچہ پانی" کا مطالبہ کرتا ہے؟ 🚨
یاد رکھیں! سرکاری ملازم کا اپنے اختیارات یا سرکاری کام کے بدلے کسی بھی قسم کی رقم، تحفہ، مٹھائی یا مالی فائدہ طلب کرنا بدعنوانی (Corruption) اور رشوت ستانی (Bribery) کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
⚖️ قانون کیا کہتا ہے؟
✔ سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال قانوناً جرم ہے۔
✔ رشوت لینا اور رشوت کا مطالبہ کرنا قابلِ مواخذہ عمل ہے۔
✔ سرکاری ملازم عوامی خدمت کے لیے مقرر کیا جاتا ہے، نہ کہ ذاتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے۔
✔ بدعنوانی کے خلاف کارروائی قومی احتساب اور انسدادِ بدعنوانی کے قوانین کے تحت کی جا سکتی ہے۔
✔ بعض حالات میں تعزیراتِ پاکستان (Pakistan Penal Code) اور دیگر متعلقہ قوانین بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔
📌 اگر کوئی سرکاری ملازم آپ سے "چائے پانی" یا "خرچہ پانی" مانگے تو کیا کریں؟
✅ پرسکون رہیں اور غیر قانونی مطالبے کے سامنے جھکنے سے گریز کریں۔
✅ ممکن ہو تو گفتگو کے شواہد محفوظ کریں۔
✅ میسجز، واٹس ایپ چیٹس، کال ریکارڈنگ (جہاں قانون اجازت دے)، اسکرین شاٹس اور دیگر ثبوت محفوظ رکھیں۔
✅ رشوت کے مطالبے سے متعلق تاریخ، وقت، مقام اور متعلقہ شخص کا نام نوٹ کریں۔
✅ کسی بھی شکایت سے پہلے اپنے پاس موجود ثبوت منظم کریں۔
📍 شکایت کہاں کی جا سکتی ہے؟
✔ متعلقہ محکمے کے سربراہ یا افسرِ بالا کو۔
✔ صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (Anti-Corruption Establishment) کو۔
✔ قومی احتساب سے متعلقہ اداروں یا دیگر مجاز حکام کو (جہاں قانون لاگو ہو)۔
✔ متعلقہ شکایتی پورٹل یا محکمانہ شکایتی نظام کے ذریعے۔
⚠️ یاد رکھیں:
بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ آپ کی ایک شکایت اور فراہم کردہ ثبوت نہ صرف آپ کے حق کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
📞 کسی بھی قانونی رہنمائی کے لیے رابطہ کریں:
Ali Zain Jalbani
Advocate High Court
03015544077