MRK & Co., Advocates and Legal Consultants.

MRK & Co., Advocates and Legal Consultants. MRK & Co. We also champion children's rights, ensuring their protection and access to justice. Choosing MRK & Co. Contact MRK & Co.

team has comprehensive Expertise Spanning Criminal Defense litigation, Narcotics Cases, Civil & Property Disputes, Commercial & Corporate transactions, Family laws, Rent Issues, Consumer Matters, as well as Special inTaxation Matters. Welcome to MRK & Co. || Advocates and Legal Consultants

At MRK & Co., we are committed to delivering comprehensive legal services with professionalism and integrit

y. Our experienced team provides expert guidance across a wide range of legal areas, including corporate and commercial law, litigation, real estate, family law, employment law, intellectual property, criminal defense, and advocacy for survivors of gender-based and domestic violence. means opting for a client-focused approach, where personalized legal strategies and clear communication are paramount. Our seasoned legal professionals are dedicated to achieving the best outcomes for our clients by staying ahead of legal trends and leveraging innovative solutions. We pride ourselves on our commitment to excellence, consistently delivering high-quality legal services that exceed expectations. Advocates and Legal Consultants today to discuss how we can assist you with your legal needs. Let us help you navigate the complexities of the legal landscape and achieve your goals with confidence and support. is your trusted partner in legal excellence.

2025 MLD 385 (Lahore)دوسری شادی بغیر اجازت کیس میں بریت کا فیصلہاس مقدمے میں شوہر پر مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ...
10/02/2026

2025 MLD 385 (Lahore)
دوسری شادی بغیر اجازت کیس میں بریت کا فیصلہ

اس مقدمے میں شوہر پر مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 6(5)(b) کے تحت یہ الزام تھا کہ انہوں نے پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی یونین کونسل کی اجازت کے بغیر کی، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ شکایت طلاق کے تقریباً ساڑھے تین سال بعد دائر کی گئی جس سے مدعیہ کی نیت مشکوک ہو گئی، مزید برآں یہ معاملہ خاندانی نوعیت کا تھا جو فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جبکہ مجسٹریٹ سیکشن 30 کے پاس اس کی سماعت کا اختیار موجود نہیں تھا، اس طرح پوری کارروائی کورم نان جیوڈیس ثابت ہوئی، لہٰذا ہائی کورٹ نے زیریں عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے شوہر کو بری کر دیا۔

جعلی فیس بک والی جولی، شیلا، رانو، جمالو ھو جائیں ھوشیار، کسی گھومے دماغ والے کو لڑکی بن کر چونا لگانے پر کوئی گھمن ان ک...
11/12/2025

جعلی فیس بک والی جولی، شیلا، رانو، جمالو ھو جائیں ھوشیار،
کسی گھومے دماغ والے کو لڑکی بن کر چونا لگانے پر کوئی گھمن ان کے گلے بھی آسکتا ھے۔

صدیق گھمن نامی ایک شہری کی فیس بک پر "شازیہ سعید" نامی دوشیزہ سے دوستی ہوگئی۔ باتوں باتوں میں شازیہ نے صدیق صاحب سے نیا موبائل فون گفٹ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ گھمن صاحب کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، تم اپنا ایڈریس بھیجو میں ابھی بھجواتا ہوں۔ شازیہ نے کہا "گھمن تو مروائے گا، میرے گھر موبائل بھجوا کر، یوں کر کہ فلاں TCS کے دفتر کورئیر کروادے میں خود وہاں سے ریسیو کرلوں گی"۔ گھمن صاحب نے نیا OPPO کا فون خریدا اور TCS کی "سیلف کولیکشن" سروس لی کہ یہ موبائل TCS آفس سے صرف شازیہ کو دیا جائے، اسکے عوض گھمن نے موبائل کے انشورنس چارجز بھی ادا کیے۔
چند روز بعد شازیہ نے صدیق گھمن کو فیس بک پر میسج کرکے بتایا کہ مجھے موبائل مل گیا ہ@طے۔ لیکن اس کے بعد رابطہ شابطہ ختم۔۔۔۔
کوئی رپلائی نہیں اور بالآخر گھمن صاحب بلاکڈ۔

گھمن نے ہمت نہیں ہاری، TCS سے رابطہ کیا کہ تم نے شازیہ کو موبائل دیا تھا تو اسکا کوئی اتہ پتہ ہوگا وہ مجھے دیا جائے۔ TCS والوں نے ریکارڈ دیکھ کر بتایا کہ ہمارے پاس تو شازیہ نہیں بلکہ عامر نامی لڑکا آیا تھا کہ میں شازیہ کا بھائی ہوں، بہن دفتر نہیں آسکتی تو موبائل مجھے ریسیو کروا دیا جائے، ہم نے کروا دیا۔

گھمن اس پر تپ گیا کہ جب میں نے 'سیلف کولیکشن' سروس لیتے وقت یہ تاکید کہ تھی موبائل صرف شازیہ کو ہی دیا جائے تو پھر تم نے کسی اور کو کیوں دیا؟ گھمن نے TCS کو لیگل نوٹس بھجوا دیا۔

اس پر TCS نے شازیہ کے "بھائی" عامر کو پکڑا۔ جلد ہی عامر نے بتا دیا کہ "میں ہی 'شازیہ سعید' ہوں، میں نے ہی اس نام کی فیک آئی ڈی سے گھمن کو گھیرا اور موبائل منگوایا، یہ پکڑیں موبائل اور گھمن کو واپس کردیں"۔

کمپنی نے موبائل واپس کرنے کیلئے گھمن سے رابطہ کیا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے گھمن کو مزید غصہ آگیا، گھمن نے کمپنی سے موبائل کے علاوہ 24 ہزار روپے ہرجانے کا مطالبہ کر دیا کہ یہ کمپنی کی غلطی ہے، "سیلف کولیکشن" سروس کے تحت کمپنی صرف "شازیہ" کو موبائل دینے کی مجاز تھی، اگر وہ نہیں آئی تو موبائل مجھے واپس بھجوایا جاتا۔

کمپنی نے ہرجانہ دینے سے انکار کیا کہ غلطی تمہاری ہے جو تم نے ایک فیک نام کی آئی ڈی پر موبائل بھجوایا۔
صدیق گھمن نے کنزیومر کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا، عدالت نے مکمل ٹرائل کے بعد TCS کمپنی کو 24 ہزار انشورنس ہرجانے کے علاوہ مزید ایک لاکھ روپے گھمن صاحب کو ادا کرنے کا حکم دیا کہ گھمن کا جائز مطالبہ پورا نہ کرنے پر اسے مقدمہ کرنا پڑا۔

کمپنی نے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی، یہاں صدیق گھمن نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور اپنے ساتھ ہوئی زیادتی ثابت کی۔

ہائیکورٹ نے کمپنی کی اپیل خارج کرتے ہوئے کنزیومر کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔یوں گھمن کو شازیہ تو نہ مل سکی، البتہ سوا لاکھ ہرجانہ مل گیا۔!

🔹 سمری مقدمہ — آرڈر ###VII قواعد 1 و 2 ضابطہ دیوانیاگر مدعا علیہ جیل میں قید ہو تو سمن کی تعمیل جیل سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے (...
25/10/2025

🔹 سمری مقدمہ — آرڈر ###VII قواعد 1 و 2 ضابطہ دیوانی
اگر مدعا علیہ جیل میں قید ہو تو سمن کی تعمیل جیل سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے (آرڈر V رول 24) ہونی لازم ہے۔

🔹 عدالت کا فرض ہے کہ انصاف تک رسائی (Access to Justice) کو یقینی بنائے۔
مدعا علیہ کی قید کے علم کے باوجود یکطرفہ کارروائی کرنا منصفانہ ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

🔹 ٹرائل کورٹ نے مدعا علیہ کی نظربندی کے باوجود یکطرفہ کارروائی کی، جو قانونی غلطی (Error of Law) قرار پائی۔
نظرِ ثانی منظور ہوئی اور یکطرفہ کارروائی کالعدم قرار دے دی گئی۔

اگر کسی نے آپ کے چیک پے جعلے دستخط کی ھوں یا چیک لکھا ھو تو ایسے فراڈ کو آپ چیلیج کر سکتے ھیں۔اس سلسلے میں لاھور ھاء کور...
23/10/2025

اگر کسی نے آپ کے چیک پے جعلے دستخط کی ھوں یا چیک لکھا ھو تو ایسے فراڈ کو آپ چیلیج کر سکتے ھیں۔اس سلسلے میں لاھور ھاء کورٹ کا فیصلہ ملاحظہ فرمائیں
آرٹیکلز 59 اور 84، قانونِ شہادت آرڈر 1984ء
دستخط اور انگوٹھے کے نشان کا تقابلی جائزہ

جدید فرانزک (Forensic) ذرائع اور آلات کا استعمال سچائی تک پہنچنے اور اصولی انصاف (Substantive Justice) کو محض رسمی قانونی پیچیدگیوں (Procedural Technicalities) پر فوقیت دینے کے لیے ضروری ہے۔
عدالتی صوابدید (Judicial Discretion) کو اس طرح بروئے کار لانا چاہیے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں، خواہ مبینہ دستخط کنندہ (Alleged Signatory) فوت ہی کیوں نہ ہو گیا ہو۔جب کسی متنازعہ دستاویز (Disputed Document) کی صداقت ہی مقدمے کا بنیادی نکتہ بن جائے — خصوصاً جہاں جعلی سازی (Forgery) کا الزام ہو — تو عدالتوں پر یہ لازم ہے کہ وہ قانونِ شہادت آرڈر 1984ء کے آرٹیکلز 59 اور 84 کے تحت ماہرِ رائے (Expert Opinion) طلب کریں۔ایسے معاملات میں فرانزک موازنہ (Forensic Comparison) سے انکار کرنا انصاف کی پامالی (Miscarriage of Justice) کے مترادف ہے

Minimize your Stress and be a tax filer today. Contact our team for free Consultation and Advisory Services.
27/07/2025

Minimize your Stress and be a tax filer today.

Contact our team for free Consultation and Advisory Services.

Important Announcement from Pakistan Tax Bar Association (PTBA)Subject: Request for Extension for Corporate Tax Filers t...
01/06/2025

Important Announcement from Pakistan Tax Bar Association (PTBA)

Subject: Request for Extension for Corporate Tax Filers to Integrate with FBR’s E-Invoicing System

The Pakistan Tax Bar Association (PTBA) has officially submitted a request to the Federal Board of Revenue (FBR), urging an extension in the deadline for corporate tax filers to integrate with the Electronic Integrated System (E-invoicing).

Despite the government's commendable efforts for transparency and digital documentation under SRO 709(I)/2025, it has become practically impossible for many corporate entities to comply by 1st June 2025 due to technical and logistical challenges.

Multiple member bars across the country have raised serious concerns, highlighting that corporate tax filers are unable to complete integration in time.

📌 PTBA’s Request: Extend the deadline to 30th June 2025 to ensure:

1. Smooth and successful integration

2. Accurate and reliable data reporting

3. Compliance with the government’s digitalization policy

Why this matters: This extension will help support tax professionals, improve compliance, and strengthen the economic documentation drive without causing unnecessary penalties or disruptions.

PTBA stands united with the FBR in its mission for a transparent and digital tax regime and hopes for a positive response for the betterment of all stakeholders.

📢 FBR Extends Deadline for Sales Tax & FED Return – April 2025.Good news for taxpayers! FBR has officially extended the ...
31/05/2025

📢 FBR Extends Deadline for Sales Tax & FED Return – April 2025.

Good news for taxpayers!
FBR has officially extended the date of submission for Sales Tax and Federal Excise Return for the tax period of April 2025.

📝 New Deadline: 5th June 2025

Condition: Tax liability must be paid within the due date.

This extension provides a much-needed breather for businesses, consultants, and tax filers. Let's ensure compliance and avoid last-minute rush!

Good step by the Chief Commissioner FBR RTO 2 Karachi.No one entered into the premises of the tax office without a power...
09/05/2025

Good step by the Chief Commissioner FBR RTO 2 Karachi.

No one entered into the premises of the tax office without a power of attorney/Vakalatnama signed by the taxpayer.

Now only professional people can enter.

ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے ڈائریکٹر محمد ریاض کھوسہ نے گارڈین اور وارڈز کی اپیل میں کامیابی کے ساتھ ایک ...
27/09/2024

ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے ڈائریکٹر محمد ریاض کھوسہ نے گارڈین اور وارڈز کی اپیل میں کامیابی کے ساتھ ایک سازگار آرڈر حاصل کر لیا ہے، جہاں دونوں فریقوں نے نابالغ کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مشترکہ معاہدہ کیا ہے۔ اس انتظام کے تحت، دادا دادی نابالغ سے ماں کے گھر ملیں گے، جب کہ والد، جو اس وقت بیرون ملک ہیں، جب بھی پاکستان میں ہوں گے، عدالت کے احاطے میں بچے سے ملاقات کریں گے۔ یہ قرارداد تمام فریقین کے حقوق کو یقینی بناتی ہے اور نابالغ کے فائدے کے لیے خاندانی روابط کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو تقویت دیتی ہے۔

غیرت کے نام پر قتل کے مقدمہ میں ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مستردیہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ میں دائر ہوا جہاں ...
31/08/2024

غیرت کے نام پر قتل کے مقدمہ میں ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد

یہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ میں دائر ہوا جہاں بلال سکندر نے اپنی بعد از گرفتاری ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ کیس کے حقائق کے مطابق بلال سکندر نے اپنی بہن رمشہ کو غیرت کے نام پر قتل کیا۔ یہ واقعہ 2 فروری 2024 کو سرگودھا کے علاقے بھگتانوالہ میں پیش آیا۔ اس مقدمے میں ایف آئی آر نمبر 99/2024 درج کی گئی تھی جس میں بلال سکندر پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 اور 311 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا۔

عدالت نے بلال سکندر کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے یہ فیصلہ کیس میں موجود شواہد، قانونی نظیریں اور اس طرح کے واقعات پر عدالتوں کے مشاہدات کی روشنی میں کیا۔

واقعہ کی گواہی آزادانہ گواہوں (پولیس کے اہلکاروں) نے دی، جنہوں نے موقع پر موجود رہتے ہوئے دیکھا کہ بلال سکندر نے رمشہ پر سیدھا فائر کیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے قتل کے شواہد اکٹھے کیے جن میں ایک خالی خ*ل اور پیسٹل شامل تھی۔

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ غیرت کے نام پر قتل کی کوئی قانونی یا اخلاقی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کے واقعات کو کسی قسم کی رعایت دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے اس کیس میں متعدد نظیریں (Precedents) استعمال کیں، جن میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے "محمد اکرم خان بنام ریاست" (PLD 2001 SC 96) کا حوالہ شامل ہے جس میں غیرت کے نام پر قتل کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
اسی طرح 2017 کے کیس "عمر دین بنام ریاست" ( YLR Note 378) کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں کہا گیا کہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں ضمانت دینے سے ایسے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
قانونی ترامیم:

عدالت نے 2016 کی ترامیم کا حوالہ دیا جس کے تحت غیرت کے نام پر قتل کو ایک خاص قسم کے قتل (Fasad-fil-Arz) کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔(ٹیم قانون دان) اس ترمیم کے تحت، غیرت کے نام پر قتل کے مجرم کو زندگی بھر کی سزا دی جا سکتی ہے، چاہے مقتول کے وارثین نے مجرم کو معاف بھی کر دیا ہو۔
نتیجہ:
عدالت نے بلال سکندر کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ غیرت کے نام پر قتل کے کیسز میں ملزم کی رہائی معاشرتی بدامنی اور خواتین کے خلاف تشدد کے مزید واقعات کو جنم دے سکتی ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی عدالت نے مقدمے کی جلد سماعت کا بھی حکم دیا تاکہ اس کیس کا فیصلہ جلد از جلد ہو سکے۔

https://sys.lhc.gov.pk/appjudgments/2024LHC3700.pdf

𝐊𝐡𝐮𝐥𝐚 𝐢𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐀𝐛𝐬𝐨𝐥𝐮𝐭𝐞 𝐚𝐧𝐝 𝐅𝐮𝐧𝐝𝐚𝐦𝐞𝐧𝐭𝐚𝐥 𝐑𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐨𝐟 𝐚 𝐖𝐢𝐟𝐞: 𝐅𝐞𝐝𝐞𝐫𝐚𝐥 𝐒𝐡𝐚𝐫𝐢𝐚𝐭 𝐂𝐨𝐮𝐫𝐭.The Federal Shariat Court in a recent judgm...
13/06/2024

𝐊𝐡𝐮𝐥𝐚 𝐢𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐀𝐛𝐬𝐨𝐥𝐮𝐭𝐞 𝐚𝐧𝐝 𝐅𝐮𝐧𝐝𝐚𝐦𝐞𝐧𝐭𝐚𝐥 𝐑𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐨𝐟 𝐚 𝐖𝐢𝐟𝐞: 𝐅𝐞𝐝𝐞𝐫𝐚𝐥 𝐒𝐡𝐚𝐫𝐢𝐚𝐭 𝐂𝐨𝐮𝐫𝐭.
The Federal Shariat Court in a recent judgment has unequivocally held that the Right of Khula of a Wife is not only her fundamental right but it is also her absolute right which cannot be made contingent upon the consent of her husband.

The Court further clarified that when the wife is ready to surrender the dower in exchange for Khula, there is not reason for a court to delay the dissolution of marriage on the basis of Khula. The family courts must grant Khula to the woman without any delay in case she surrenders her dower willingly.

The Court further held that Badal e Khula (amount which is offered by a wife in exchange for Khula) cannot exceed the amount of dower. It shall be either equal to the amount of dower or less than that in certain exceptional cases where the wife successfully establishes maltreatment, ill-treatment or mistreatment on the part of her husband to some extent.
PLD 2024 Federal Shariat Court 9

     اس فیصلے کے مطابق پولیس اسٹیشن ڈائری، جسے "روزنامچہ" بھی کہا جاتا ہے، کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ لازمی طور پر دستی ریکار...
12/06/2024




اس فیصلے کے مطابق پولیس اسٹیشن ڈائری، جسے "روزنامچہ" بھی کہا جاتا ہے، کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ لازمی طور پر دستی ریکارڈ کے ساتھ رکھا جائے گا۔ غلط اندراج کی صورت میں متعلقہ افسر کو برطرف کیا جائے گا۔ سیشن جج کو ڈائریوں کی باقاعدہ جانچ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
Writ Petition No. 79470-H/2023

Detailed Overview:

A recent judgment emphasizes the critical role of the Station Diary in ensuring police accountability and transparency. Rule 22.45 of the Police Rules mandates the maintenance of a Station Diary to record daily events at police stations. This document is crucial for monitoring police activities and ensuring the protection of constitutional rights.

Key Directions Issued:

1. Mandatory Maintenance:
Every police station must maintain a Station Diary as per Article 167 and Rules 22.48 & 22.49.

2. Computerized Records:
A computerized record must be kept in addition to the manual record, with the manual record taking precedence in case of discrepancies.

3. Accountability for Wrong Entries: Wrong entries in the Station Diary could lead to dismissal of the responsible officer.

4. Proper Documentation:
Properly printed books with numbered pages must be used to avoid alterations.

5. Senior Officer Oversight:
Wrong entries should be crossed out with a single line and initialed by a senior officer.

6. Judicial Inspection:
District and Sessions Judges are empowered to inspect Station Diaries regularly to ensure compliance.

This judgment underscores the need for stringent adherence to legal protocols in maintaining Station Diaries to prevent misuse of police powers and protect individual rights.

Address

Suite No. 28/A, 2nd Floor, Fareed Chambers, Abdullah Haroon Road, Saddar Karachi
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MRK & Co., Advocates and Legal Consultants. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share